مدینہ جیسی ریاست میں جنگل کا قانون - روشن آراء

سنا ہے جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے
تو وہ اور کچھ نہیں کھاتا۔

یہ تو تھا خیال معروف شاعرہ زہرہ نگاہ کا، مگر انسان وہ معاشرتی حیوان ہے جس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا، شاید اسی بنا پر یہ انسانی معاشرہ جنگل سے بھی بدتر ہوچکا ہے، جہاں انسان کے خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ مدینہ جیسی ریاست میں انسانیت سسک رہی ہے۔


کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

ہم ہی قتل ہو رہے ہیں ہم ہی قتل کر رہے ہیں


مقام افسوس یہ ہی نہیں ہے بلکہ مقامات آہ فغاں اور بھی ہیں۔ جی جناب! وطن عزیز پاکستان میں جہاں سب چلتا ہے کا دور دورہ ہے، یہاں قانون اور انصاف عرصہ دراز سےگمشدہ ہے، اور اس متاع گمشدہ کی تلاش ہنوز جاری و ساری ہے۔ جناب حضرت علی ؑکا قول ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا نظام کسی طور نہیں چل سکتا۔


ہم ہی ظالم اور ہم ہی مظلوم ہیں

ہم کہ جو انصاف سے محروم ہیں


محکمہ پولیس کے کارہائے نمایاں سے کماحقہ ہر پاکستانی بخوبی واقف ہے۔ اب یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ بدعنوانی، رشوت ستانی اور جرائم کے فروغ میں محکمہ پولیس اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا، مگر متعلقہ محکمے کے افسران و ارباب اختیار بسا اوقات چشم پوشی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر نقیب اللہ کے مجرم راؤ انوار جیسے ضمیر فروش قاتلوں کو قرار واقعی سزائیں بر وقت دی جاتیں، تو آئے روز اس قسم کے درد ناک واقعات ہرگز جنم نہیں لیتے اور یوں آج مقتول خلیل کے گھر میں صفحے ماتم نہ بچھی ہوتی، اہل خانہ سینہ کوبی نہ کر رہے ہوتے، یوں ہر آنکھ اشک بار نہ ہوتی۔ جن ریاستوں میں راؤ انوار جیسے قاتلوں کی عزت ہوتی ہے، وہاں جنگل کا قانون رائج ہوجاتاہے، وہاں انسان اور انسانیت قتل کر کے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دی جاتی ہے۔


وہ حادثہ جو ابھی سر سے گذرا ہے

دیکھیے کب شعور سےگذرے


سانحہ ساہیوال پر چشم فلک نمناک ہے۔ فضا سوگوار اور پوری قوم غمزدہ ہے۔ یہ سانحہ ۱۹ جنوری ہفتے کی صبح ساہیوال کے علاقے اڈہ قادر آباد پر رونما ہوا تھا کہ جہاں ایک شریف خاندان بورے والا میں ہونے والی اپنے عزیز کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور سے روانہ ہوا۔ کون جانتا تھا کہ خوشیوں کی جانب رواں دواں یہ سفر ساہیوال پہنچ کر سفر آخرت میں تبدیل ہوجائے گا کہ اچانک سی ٹی ڈی کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں چار نہتے شریف شہریوں کو اندھا دھند فائرنگ کرکے موت کی گھاٹ اتار دیا جائے گا، آن واحد میں ہنستا بستا گھرانہ لہولہان ہوکر ہمیشہ کے لیے ویران ہوجائے گا، اس سانحہ میں ڈرائیور ذیشان کو دس گولیاں، والد خلیل کو تیرہ گولیاں، والدہ نبیلہ بی بی کو چار گولیاں اور تیرہ سالہ بہن اریبہ کو چھ گولیاں مارتے ہوئے انسانیت کو پوری طرح کچل دیا گیا۔ پھر بھی شرم ان کو مگر نہیں آتی کہ مقتولین پر وحشیانہ انداز سے فائرنگ کرنے کے بعد گاڑی کی ڈگی سے سامان کے تھیلے نکالے جس میں کپڑوں کے علاوہ نقدی اور زیور بھی موجود تھا، ظلم کی اس المناک داستان کے بعد لوٹ مار کرنے والے یہ سی ٹی ڈی اہلکار کسی بھی طور انسان کہلوانے کے لائق ہیں؟ ایک لمحے کے لیے بھی ان کے ہاتھ نہیں کانپے، خوف خدا سے دل نہیں لرزا، معصوم بچوں کو دیکھ ان کا دل نہیں تڑپا، یاخدا زمین شق کیوں نہ ہوئی آسمان کا کلیجہ کیوں نہ پھٹا یہ منظر دیکھ کر افففففف۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، کتنی ہی آنکھوں کے سامنے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے سفاکانہ تاریخ رقم کی۔

اور اس پر ستم بالائے ستم سانحہ ساہیوال کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ایف آئی آر انکاؤنٹر کرنے والے اہلکاروں کے خلاف درج کی جاتی جو اس سفاکیت میں ملوث تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا جو خواب دکھایا تھا، وہ چکناچور ہوگیا۔ عمران خان صاحب حضرت عمر فاروقؓ کا قول بہت ذکر کرتے ہیں کہ دریائے فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی مرا تو ذمہ دار عمر ہوگا، عمران خان صاحب یہ دریائے فرات کے کنارے مرنے والا کتا نہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والے شریف شہری تھے، جن کا خون پانی کی طرح بہادیا گیا اور اس صدمے کی تاب نہ لاکر ماں بھی تمہاری مدینہ جیسی ریاست سے کوئی گلہ شکوہ کیے بنا خاموشی سے منہ موڑ گئی۔ گویا یہ محض چار لوگوں کا جنازہ نہیں بلکہ پانچ لاشے ہیں جوزمین کے سپرد کیے گئے ہیں۔ محکمہ پولیس جسے تحفظ کی ضمانت ہونا چاہیے تھا، وہ عوام کے لیے خوف کی علامت بن کر رہ گیا ہے۔ لوگ اب کہتے ہیں کہ پولیس سے بچاؤ، جس کے ذمہ دار ارباب اختیار ہیں کہ جنہوں نے پولیس کے محکمے پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا اور پولیس اہلکار بدمست ہاتھی کی طرح معصوم شہریوں پر چڑھ دوڑتے ہیں، جیسے چاہتے ہیں اپنے اختیارات تلے روندتے چلے جاتے ہیں اور حکومتی اراکین، وزراء، سیاستدان محض مذمت کے بیانات دے کر خانہ پری کر دیتے ہیں اور پھر رات گئی بات گئی کے مصداق فائلیں بند اور پھر کسی نئے حادثے تک گہرا سکوت تاری ہوجاتا ہے جو کسی بڑے حادثے کے بعد ٹوٹتا ہے۔

مگر کہتے ہیں نہ کہ جہاں سے ہماری سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے اس پاک ذات کی قدرت شروع ہوجاتی ہے جو بہترین انصاف کرنے والا ہے اور خون اپنی گواہی خود دیتا ہے۔ سانحہ ساہیوال کے مقتولین کا لہو بھی پکار پکار کر اپنے قاتلوں کی نشاندہی کر رہاہے، بہت ہوگیا اب بس کرو۔ پاکستان میں اب جنگل کا قانون نہیں چلے گا، مدینہ جیسی ریاست میں جان کا بدلہ جان اور خون کا بدلہ خون ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کنٹینر پر چڑھ کر بلند بانگ دعوے کیا کرتے تھے کہ عوام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہم متلاشی ہیں اس عمران خان کے جو مظلوم پر ظلم کیے جانے پر آواز بلند کرتا تھا اور انصاف دلانے کی بھرپور کوشش کرتا تھا۔ محض اہلکاروں کو حراست میں لینا کافی نہیں ہے، اس کے پیچھے چھپے ان بڑے مگرمچھوں کو بےنقاب کیا جائے، جن کے حکم اور ایماں پر یہ آگ و خون کا گھناؤنا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پوری قوم سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، مگر حکومت وقت اور ارباب اختیار سے سوال ہے قتل کیوں ہوتے تھے؟ قتل کیوں ہو رہے ہیں؟ اور آخر بےگناہ افراد کب تک قانون اور انصاف کے نام پر قتل ہوتے رہیں گے؟