اُردو اور فارسی کے روابط، ایک تحقیقی کام - میر افسر امان

’’اُردو اور فارسی کے روابط‘‘ پر یہ تحقیقی مقالہ ڈاکٹر پروفیسر محمدعطاللہ خان یوسف زئی صاحب کا ہے، جس پر جامعہ کراچی نے انھیں ۲۰۰۲ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی تھی۔ اس کتاب کو لکھنے کے لیے سیکڑوں کتابوں کو ڈاکٹر صاحب نے کھنگالاہے، جن کا حوالہ کتاب کے پانچوں بابوں کے آ خر میںدرج کر دیا گیا ہے۔یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کی مالی معاونت سے شائع ہوئی۔ اس کی اشاعت سلسلہ مطبوعات انجمن ترقی اُردو پاکستان کے تحت اوّل ۲۰۰۹ء میںہوئی، اشاعت دوم ۲۰۱۷ء میں ہوئی ۔اس کے مطبع فضلی بک اُردو بازار، کراچی ہیں۔یہی کتاب ہمارے زیر مطالعہ رہی ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اُردو زبان بارے جتنا مواد اس کتاب میں جمع کیا ہے،اس سے لگتا ہے کہ یہ کتاب اُردو زبان کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس شاندار کاوش کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے اُردو کی ترقی کے لیے بڑے ا ہم کام کیے ہیں کیونکہ اُردو کی ترایج و ترقی سے اُنہیں گہری دلچسپی رہی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرصاحب ایک عرصہ سے سے اُردو شارٹ ہینڈ کے آسان اور موزوں طریقے کی تشکیل کے لیے کوشاں رہے ۔ بلا آ خر ۱۹۷۷ء میں ایک نیا طریقہ وضع کیا۔ جسے وزارات تعلیم(نصاب) اسلام آباد نے ماہرین کی سفارش پر تدریس کے لیے منظور کیا۔ جیسے انگلش ٹائپنگ سیکھنے کے لیے انگریزی کے سارے الفاظ (a quick brown fox jumps over the lazy dag) میں سمو دیے گئے ہیں۔ ایسے ہی اُردو میں ٹائپ کی مشق کرنے کے لیے ایک ایسا جملہ بھی وضع کیا ہے جو اُردو کے پورے حروف تیجی اور ان کی اشکال پر مشتمل ہے، وہ جملہ یہ ہے’’اگر آپ ضابطہ زور و ثبات پر عمل کریں تو ذلت سے بچ جائیں، خوش ظفر قوت ژال اور ڈٹ کر لڑنے کاحوصلہ و غیرت پیدا ہو‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے ’’اُردو زود نویسی کا ارتقاء‘‘(شارٹ ہیڈ) اور ’’قانونی دستاویز نویسی‘‘ پر کتب بھی تصنیف کی ہیں۔پروفیسر کلیم الدین احمد کی انگریزی کتاب (IDOLS) کا ’’ اصنام‘‘ کے نام سے اُردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ڈکٹر رفیق مرزاصاحب کی انگلش کتاب (the prophet & the mankind) کا اُردوترجمہ ’’رسول اکرمؐ اور بنی نو انسان‘‘ کیا۔ جناب منظر عارفی نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مضمون جو دو ماہی’’ سربکف ‘‘کراچی کے نومبر ۲۰۱۱ء کے شمارے میں شایع ہوا ہے،لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی تالیف’’اُردو زود نویسی‘‘ دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ کسی نئے فن کو معرضِ وجود میں لانے کی مشکلات کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے سنگلاخ چٹانوں کو کاٹ کر نئے راستے بنانے کا کام انجام دیا ہے۔ ۲۳؍ جولائی ۲۰۱۰ء آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں’’ اُردو فارسی کے روابط‘‘ کی تقریب رونمائی، دانشور،شاعراور ادیب پروفیسر سحر انصاری صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ انصاری صاحب نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک بڑا زخیرہ کتاب کی صورت میں دے دیا ہے۔۳۱جولائی۲۰۱۰ ء کوانجمن ترقی اُردو’’ اُردو فارسی کے روابط‘‘ کتاب کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ اس پروگرام کی صدارت انجمن ترقی اُردوکے صدر جناب آفات احمد خان نے کی۔ اس میں پروفیسر افتخار اجمل شاہین صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی ادبی اور تخلیقی صلاحتوں اور خدمات پر ڈاکٹر صاحب کو’’ خاموش سپاہی‘‘ قرار دیا۔۱۵ ؍اگست ۲۰۱۰ء کو جنگ سنڈے میگزین کا تبصرہ نگار لکھتا ہے کہ مصنف نے اپنا مقالہ بڑی محنت تحقیق اور تلاش کے بعد تحریر کیا ہے۔’’ اُردو فارسی کے روابط ‘‘کے مختلف پہلوں کا بھر پور جائزہ پیش کیا ہے جو یقیناً قابل تحریف ہے۔ڈاکٹر محمود الرحمان صاحب نے بھی ڈاکٹر صاحب کو اُردو کا’’ ایک سپاہی‘‘ قرار دیا ہے۔ وہ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ میری دانست میں پورے پاکستان میں’’ اُردو زود نویسی‘‘ پر اپنی نوعیت کی پہلی تصنیف ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب نے ڈاکٹر صاحب کے لیے کہا کہ انتہائی محنت اور کاوش کے بعد اردو مختصر نویسی کے لیے نئے نئے اصول منضبط کر کے اس طور پر اشارات و علامات وضع کیے ہیں۔پروفیسر افتخار اجمل شائین صاحب نے اپنے مضمون جو’’ نکھار ‘‘انٹر نیشنل میگزین میں شایع ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو ’’اُردو کا خاموش مجاہد‘‘کہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیںکہ ڈاکٹر صاحب نے اُردو کے لیے اتنے کام کیے کہ جن کو دیکھ کر خوشگوار حریت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے تین سال تک ریڈیو پاکستان میں جزوی مترجم کی حیثیت سے کام کیا۔ قومی اسمبلی میں سات سال تک ترجمے کا کام انجام دیتے رہے۔ درجہ ششم اور ہشتم کے لیے نصابی کتابوں کے مصنفین میں شامل رہے۔ اُردو نصاب کی نظرثانی کمیٹی کے رکن رہے۔ رسالہ نیوی نیوز میں بھی جذوقتی مدیر کی حیثیت سے اپنے خدمات انجام دیں۔

کتاب اُردو فارسی کے راوبط پرتبصرہ کرنے سے پہلے کچھ اپنی مظلوم قومی زبان اُردو پر بات کر لیتے ہیں۔ہماری طرف سے منادی عام ہے اور ہم ہر خاص و عام کو بھی مطلع کرتے ہیں کہ اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ قائد اعظمؒ کے چودہ نکاتمیں اس کی دفعہ گیارہ تھی’’ اُردو زبان اور رسم الخط کی حفاظت کرنا‘‘ بانی پاکستان قائداعظم ؒ نے پاکستان بننے کے بعد ڈھاکہ میں ۲۴؍ مارچ ۱۹۴۸ء کو فرمایا’’ اس صوبے میں دفتری استعمال کے لیے اس صوبے کے لوگ جو زبان چائیں منتخب کر سکتے ہیں یہ مسئلہ خا لصاً صرف صوبے کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہوگا۔ البتہ پاکستان کی سرکاری زبان،جو مملکت کے مختلف صوبوں کے درمیان افہام و تفہیم کا ذریعہ ہو، صرف ایک ہی ہو سکتی ہے اوروہ اُردوہے ، اُردو کے سوا اور کوئی زبان نہیں‘‘۔پھر ۱۹۷۳ء کے آئین میں بھی اُردو کو پاکستان کی قومی سرکاری زبان مانا گیا۔

۱۹۸۸ء تک پندرہ برس کی مہلت دی گئی۔ مسلمانانِ برصغیر کی تحریک پاکستان اسی زبان میں برپاہ کی گئی تھی۔جب ہندوستان کے سارے صوبوں میںانتخابات جیتنے کے بعد، ہندوئوں نے ہندی کو ہندوستان کی قومی زبان قرار دیا تو مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کا تعصب کھل پر سامنے آ گیا۔ پھراُردو ہندوستان کے مسلمانوں کی زبان بن کر سامنے آئی۔اُردو ساری دنیا میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔یہ دنیا کی زبانوں میں دوسری بڑی زبان ہے۔اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق تمام ممالک میں اکثریت کی زبان کو اس کی قومی زبان مانا گیا ہے۔ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب صدر نشین مقتدہ قومی زبان’’ روز نامہ جنگ لاہور‘‘ سے ایک گفتگو میں ۵؍ مارچ ۱۹۸۸ء فرمایا ’’ ہمارے ادارے نے اُردو کے نفاذ کے سلسلے میں جو تیاری کے ہے وہ پوری اور مکمل ہے۔ اس وقت اگر حکومت اُردو نافذ کرنا چاہے تو اس کے نفاذ کے لیے کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئے گی‘‘ اسی بات کو مقتدرہ نے اپنے خط نمبر ۶۰؍ ۸۵ (الف) مورخہ ۲۹جون ۱۹۸۶ء بنام کابینہ ڈویژن حکومت پاکستان( ضمیمہ ۲۰) میں لکھ کہ’’ مقتدرہ وہ تمام بنیادی اور ضروری کا مکمل کر چکا ہے جو نفاذ کے عمل میں اہم ضمیمے کی حیثیت رکھتا ہے‘‘ سب سے پہلے بلوچستان میں گورنر غوث بخش بزنجو صاحب نے ۶؍ مئی کو اعلان کی کہ ۸؍ مئی سے صوبہ بلوچستان کی دفتری زبان اُردو ہو گی۔ اس کے بعد ارباب سکندر خان خلیل صاحب نے صوبہ سرحد( اب خیبر پختونخوہ) میں اُردو زبان بطور دفتری زبان کا اعلان کیا۔پھر پنجاب کے وزیر اعلی ملک معراج خالد صاحب نے بھی اعلان کیا کہ پنجاب میں ایک سال کے اندر تمام دفاتر کی زبان اُردو ہو گی۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت اُردو بولنے ،سمجھنے اور لکھنے کے باوجود اس حق سے اب تک محروم ہیں۔ پاکستان میں اُرود کے نفاذ میں انگریزی زبان رکاوٹ ہے۔ کیوں کہ انگریز جاتے وقت کچھ کالے انگریز اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ جو اُردو کو قومی زبان رائج ہونے میں رکاوٹ ہیں۔پاکستان کے بیروگریٹس، جن کو’’ انجمن اتحاد‘‘ سی ایس ایس افسران کا نام دیا جانا چاہیے۔ ان کے بچے انگریزوں آقائوں کے مشنری اسکولوں سے انگلش میڈیم میں پڑھ کر آتے ہیں۔پاکستان کے ۹۸ فی صد بچے اُردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔کالے انگریزوں نے نظامِ حکومت چلانے کے لیے مقابلے کے امتحانات، سی ایس ایس، پی سی ایس اور آئی ایس ایس بی انگلش میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے اُردو میڈیم کے ہونہار بچے فیل ہو جاتے ہیں۔ بیروگریٹ ، اعلی فوجیوں،سرمایا داروں اور وڈیروں کے، فر فر انگریزی بولنے والے بچے اس مقابلے کے امتحانات میں پاس ہو جاتے ہیں۔

اُردو فارسی روابط کتاب کے’’ حرفے چند‘‘ مشہور دانشور،ادیب، شاعر اور صحافی ،جمیل الدین عالی مرحوم میں فرماتے ہیں کہ انجمن کی روایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُردو اور فارسی کے رشتوں کو مزید ہموار کرنے کے لیے انجمن کی اس اشاعت کو بھی پسند کیا جائے گا۔برصغیر میں مسلمان سندھ کے راستے ۷۱۱ء بمطابق ۹۳ھ آئے۔ عرب جرنل محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دی اور آریائوں کی طرح یہیں بس گئے۔پھر ایک رابطہ کی زبان ہندوی کا وجود عمل میں آیا۔۱۰۰۵ء میں محمود غزنوی نے ملتان اور اُچ پر قبضہ کر کے قرامطہ( اسماعیلیوں) کا غلبہ ختم کیا۔ پھر صوفایا کرام آئے اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ لسانی روابطہ میں اہم کردار ادا کیا۔ ۱۲۰۶ء میں قطب الدین ایبک میں برصغیر میں مسلم سلطنت کی باقاعدہ بنیاد رکھی ۔زبانیں زمام و مکاں کی تبدیلیوں سے ہمیشہ متاثر ہوتی ہیں۔دہلی میں مسلم ہندی رابطے سے ایک نئی زبان تیزی سے تشکیل پذیر ہونے لگی۔ بابرکے زمانے سے مسلمانوں کی عام زبان فارسی تھی۔ لوگوںکے ملنے سے ایک مرکب زبان کا چلن ہو گیا جو رابطہ کا کام دیتی تھی۔ یہ نہ فارسی تھی نہ قدیم ہندی۔ اس کو پہلے صوفیا نے اپنا وسیلہ اظہار بنایا۔ آگے چل کر یہ زبان ہندوی،کھڑی بولی یا اُردو کا نام دیا گیا۔ یہی اُردوزبان آج کی رائج زبان ہے۔

اس کتاب کے پیش آہنگ میں دانش ور ،ادیب اورشاعرپروفیسر سحر انصاری صاحب لکھتے ہیں کہ اُردو ایک مخلوط زبان ہے۔ اس کا تعلق زبانوں کے آریائی خاندان سے ہے اس میںہندی کے علاوہ عربی، فارسی، ترکی، پرتگالی، انگریزی اور فرنسیسی زبان کے الفاظ بھی دخیل الفاظ کے طور پر موجود ہیں۔ دیگر زبانوں سے اخذ و استفادے کا یہ عمل ہنوز جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔تاہم اُردو پر زیادہ فارسی زبان کا اثر ہوا ہے۔اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ ایک مدت تک سرکاری زبان فارسی رہی۔ علما بھی فارسی کو ذریعہ اظہار بناتے رہے۔ فارسی زبان میں شعر و ادب اور علوم و فنون کا خاصا ذخیرہ بر صغیر پاک و ہند کے ادیبوں اور مصنفوں کا مرہون منت ہے۔ صاحب کتاب ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اُردو پاکستان کی قومی، برصغیر میں رابطے کی، اپنے بولنے والوں کے لحاظ سے عالم اسلام کی سب سے بڑی اور دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے۔ اس زبان کی تشکیل میں بہت سی بولیوں اور زبانوں کا حصہ ہے۔ برصغیر میں جنتی بھی قومیں آئیں وہ افغانستان اور ایران کے راستے آئیں۔برصغیر میں آریا سے لے کر مسلمانوں کے ساتھ آنے والی زبان، اصلاً فارسی تھی۔ آریہ کی مقدس کتاب وید کی زبان قدیم ایران کی مقدس اوستا کی زبان میں گہری مماثلت ہے۔ لہٰذا برصغیر کی چار ہزار برس کی تاریخ میںلسانی اعتبار سے فارسی کو برتری حاصل ہے۔ اُردو زبان کی تعمیر و تشکیل میں سب سے بڑا کام مختلف زمانوں کی فارسی کا ہے۔ مگر انگریز نے برصغیر پر اپنے تسلط قائم ہوتے ہی فارسی کی سرکاری حیثیت کو ختم کر دیا۔زبان جملہ علوم کی ماں ہے۔پاکستان میںاُردو قومی زبان نہ ہونے اور مقابلے کے امتحان انگریزی میں ہونے کی وجہ سے ملک کے ۹۴ فیصد بچے ترقی کی دھوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں چھ باب باندے ہیں۔ باب اول میں فارسی اُردو کے تاریخی روابط بیان کیے ہیں۔کیونکہ مسلمان جرنل محمد بن قاسم سندھ کے راستے برصغیر میں راجہ داہر کو شکست دے کر برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔ لہٰذا عربی اور سندھ روابط ہوئے۔ مسلم افواج میںرومی،ایرانی،ہندی،اور دیگر اقوام کی زبان و ثقافت پر عربی اثرات پڑے۔ یہ زبانیں اُردو بن گئیں۔ایک روایت کی مطابق اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ کا علاج ہندوستان کے ایک زط(جٹ) نے کیا تھا۔جو مسلمان ہو کر مدینہ میں بس گیا تھا۔حضرت علیؓ کی ایک روجہ محترمہ خولہ حنفیہؓ سندھ کی تھیں۔ وہاں اہل ہند کی آمد رفت ہوتی تھی۔ باب دوم میں لسانی روابط میں لکھتے ہیں فارسی اور سنسکرت ہند آریائی خاندان سے تعلق رکھتیں ہیں۔اس لیے جدید فارسی اور اُردو کی اصل ایک ہی ہے۔باب سوم میں دستوری(قواعد کے) روابط میں لکھتے ہیں کہ اُردو قواعد،فاسری قواعد کے زیر اثر مرتب ہوئی اور فارسی و نحو نے عربوں کی تقلید کی ہے۔ اُردو فاسری دونوں زبانیں ہند آریائی ہیں۔باب چہارم ادبی روابط میں لکھتے ہیں کہ اُردو شاعری فارسی کے زیر اثر پروان چڑھی۔اُردو انگریزی ادب کی خوشہ چینی کی۔ اُردو شاعری پر ہنددیت کااثر غالب تھا۔ اُردو شاعری کا آغاز صوفیائے کرام سے ہوا۔ امیر خسرو فارسی اور ہندی دونوں زبانوں کو ملا کر شعر کہتے تھے۔فارسی زبان کے الفاظ اُردو میں در آئے۔اُردو میں ہندی فارسی کے اثرات ملتے ہیں۔پاکستانی اُردو پر عربی وفارسی اور بھارتی اپردو پر سنسکرت کے اثرات زیادہ ہورت جا رہے ہیں۔باب پنجم میں امکانی روابط پر بات کی گئی ہے۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارا قومی مفاد اسی میں ہے کہ ہم غیر ملکی زبانوں کے حصول میں عربی اور فارسی کی طرف زیادہ توجہ دیں، کیوں کہ اُردو زبان کی تعمیر و تشکیل میں ان کا بڑا حصہ ہے۔مسلمانوں کی عربی، فارسی اور اُرود زبانیں ہیں ۔ اس لیے او آئی سی ملت اسلامیہ کے لسانی رابطے کی اہمیت کو محسوس کریں۔ان زبانوں کے لسانی روابط کو وسیع تر کریں۔باب ششم حرف آخرمیں لکھتے ہیں کہ برصغیر میں مسلمانوں کے عہد زریں کی یاد گار اُرود زبان ہے۔آریوں سے قبل زبان دراویدی تھی۔ پھر سنسکرت نے اس کی جگہ لے لی۔ہندوی رابطے کی زبان تھی آگے چل کر یہ ریختہ بنیاس کو ابو فضل نے زبانِ روزگار کہا۔ یورپی مورخین نے اسے ہندوستانی کے نام سے یاد کیا۔ یہ زبان اُردو معلی کے نام سے موسوم ہوئی اور بلا آخر یہ اُردو کہلاتی ہے۔

صاحبو! پروفیسر ڈاکٹر محمد عطا اللہ خان نیازی صاحب زیر تبصرہ’’اُردو اور فارسی کے روابط‘‘ کتاب کے علاوہ’’ اُردو زرود نویسی‘‘( شارٹ ہینڈ) کا ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے۔ پہلے انگریزی مختصر نویسی کی پیروی میں ،اُردو زبان کے رسم الخط کے بر خلاف بائیں سے دائیں کو لکھی جاتی تھی۔ اب ڈاکٹر صاحب نے اسے دائیں سے بائیں طرف لکھنا وضع کیاہے۔ زیر تبصرہ کتاب پر ڈاکٹر محمود الرحمان صاحب نے’’ اُردو کا ایک سپاہی‘‘ کہا ۔ جمیل الدین عالیٰ صاحب نے تحریفی کلمات کہے۔ ’’ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب نے سنگلاخ چٹانیں کاٹنے والے کا خطاب دیا۔پروفیسر سحر انصاری صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے ’’قابل تحسین ‘‘کارنامہ سر انجام دیا۔ پروفیسر افتخار اجمل شاہین نے ڈاکٹر صاحب کی ادبی عملی اور تحقیقی خدمات پر’’ اُردو کا ایک خاموش سپاہی‘‘ کہا۔اس کے علاوہ مبین مرزا صاحب،سرور جاوید صاحب، پروفیسر انوار احمد زئی صاحب،پروفیسر جان علام صاحب،شہاب قدوائی صاحب نے اور نہ جانے کس کس نے ڈاکٹر صاحب کی اُردو کی خدمات پر تحریفی کلمات کیے۔ ہمارے ارباب اختیار گانے بجانے ، کھیل تماشے، خدا بیزار کیمونسٹوں اور سیکولر صحافیوں کو صدارتی ایوارڈ سے نوازتے رہتے ہیں۔ کیا پاکستان کی قومی زبان کی خدمات پر ڈاکٹر صاحب صدارتی انعام کے مستحق نہیں۔جواب ہے یقیناً ہیں۔ ارباب اقتدار کو ڈاکٹر صاحب جیسے خاموش سپاہیوں کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔