عرب بہار اور شام، زمینی صورتحال کیا ہے؟ محمد طیب سکھیرا

شام انبیاء کی سرزمین رہی ہے، اسلام میں بھی خطہ شام کو خاص اہمیت حاصل ہے کہ آخری زمانے کی بہت سی بشارتیں شام سے متعلق ہیں اس لیے یہ بہت خاص خطہ ہے۔
2011ء سے شام کی صورتحال چٹخا دینے والی ہے، " عرب بہار " کے جھنڈے تلے شروع ہونے والی عوامی مزاحمتی تحریک سات سال بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہر قابل ذکر عالمی طاقت شام میں اپنے اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ چکی ہے، دنیا کے بہترین شہ دماغ شام کی شطرنج پر اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں، بہترین چالوں کے باوجود ہر کھلاڑی بری طرح پٹ رہا ہے، میدان آئے دن ہاتھ بدل رہا ہے، یوں تو اس کھیل کے درجنوں فریق ہیں لیکن بنیادی طور پر ہم اس کھیل کے کرداروں کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

پہلا فریق
روس، بشار الاسد، ایران، شیعہ ملیشائیں، الحشد الشعبی، البدر، مدافع حرم، فاطمییون اور زینبییون سمیت درجنوں شیعہ مسلح تنظیمیں ہیں، جن کا بنیادی مقصد بشار الاسد کی حکومت کا تحفظ ہے، اور یہ اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ بیرونی حلفاء میں سب سے پہلے ایران شام میں آیا، اول اول ایران نے فوجی مشیر بھیجے جو بشار الاسد کی فوج کو صائب مشورے اور تربیت فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے لیکن یہ کافی نہ ہوا اور بشار الاسد کی حکومت دن بدن سکڑتی چلی گئی تو پاسداران انقلاب کے القدس بریگیڈ کو میدان میں لایا گیا لیکن یہ بھی کافی نہ ہوا، تو القدس بریگیڈ کے مشہور کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو میدان میں لایا گیا۔ جنرل قاسم سلیمانی نے عراق و شام کے طوفانی دورے شروع کیے، اہل بیت اطہار کے مقدس مزارات کے دفاع کے نام پر خطے کے اہل تشیع کو اکٹھا کیا گیا، چونکہ اہل تشیع ان مقدس مزارات کو "حرم " کا درجہ دیتے ہیں، اس لیے "مدافع حرم" کے نام ہر تنظیم قائم کی گئی۔ صرف اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ افغانستان و پاکستان کے اہل تشیع کو بھی اس آگ میں جھونک دیا گیا، افغانستان کے ہزارہ شیعہ کو "فاطمییون" اور پاکستان ، بالخصوص گلگت و سکردو سے اہل تشیع کو "زینبییون" کے پرچم تلے منظم کیا گیا۔ اربوں ڈالر کی ایرانی سرمایہ کاری کی گئی، لیکن یہ بھی کافی نہ ہوا، روزانہ بیسیوں تابوت گھروں کو واپس آنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب سنی مزاحمت کار اور فری سیرین آرمی بشار الاسد کی حکومت کو ہر طرف سے گھیر چکے تھے۔ شام کا تقریبا % 70 فیصد رقبہ سنی مزاحمت کاروں کے قبضے میں تھا، شامی حکومت کو ہر جانب سے سخت عالمی دباؤ کا سامنا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ بشار الاسد حکومت چند دنوں کی مہمان ہے، ایسے میں شام اور ایران نے اپنے پرانے حلیف "روس" سے مدد کی درخواست کی۔ روس شاید خطے میں اپنے کردار کے لیے موقع کا منتظر تھا، یوں وہ "دولت اسلامیہ" کے خلاف جنگ کے نعرے پر شام میں آن وارد ہوا۔ دلچسپ بات ملاحظہ فرمائیے کہ روس "دولت اسلامیہ" کے خلاف جنگ کے نعرے پر شام آیا لیکن اس کی جنگ کا تمام تر رخ بشار مخالف سنی مزاحمتی قوتوں پر رہا۔ عملا یہ صورتحال ہے کہ یہ اتحاد ادلب کے علاوہ شامی حکومت سے چھینے گئے اکثر علاقے واپس لے چکا ہے۔

دوسرا فریق
ترکی، سنی مزاحمتی قوتیں مثلا احرار الشام، ہیئہ تحریر الشام، فیلق الشام سمیت اردن، سعودی عرب کی حمایت یافتہ بڑی تنظیمیں ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ قابل ذکر تعداد میں فری سیرین آرمی یعنی شامی فوج سے بغاوت کرنے والے مقامی مضبوط گروپ بھی ہیں۔ ان سب کا بنیادی مقصد شامی رجیم بشار الاسد کو ہٹا کر نیا نظام لانا ہے۔ 2011ء سے شروع "عرب بہار" ایک پرامن تحریک تھی لیکن جب اس پرامن تحریک کو شامی حکومت کی طرف سے بزور دبایا گیا تو نتیجتا "عرب بہار" کی یہ تحریک مسلح رخ اختیار کرتی چلی گئی۔ پہلے پہل عوام نے فوجیوں سے اسلحہ چھین کر مزاحمت شروع کی، آہستہ آہستہ شامی فوج کے سنی گروپ اس سے علیحدہ ہونے لگے، مقامی سنی مزاحمتی تنظیمیں وجود میں آنے لگیں، یوں ایک مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اس مسلح جدوجہد نے جلد ہی عروج پکڑ لیا، شام کا تقریبا % 70 فیصد رقبہ سنی مزاحمت کاروں کے ہاتھ آگیا۔ عملا یہ صورتحال بن گئی کہ شام میں اسلام پسند جہاد کے ذریعے اقتدار میں آتے نظر آنے لگے۔

شام القاعدہ اور اس کی ہمنوا تنظیموں کے لیے نرسری بن گیا۔ یہ عالمی قوتوں کو کب گوارا تھا نتیجتا سنی مزاحمت کار تنظیموں کو آپس میں لڑانے کے بھیانک کھیل کا آغاز کیا گیا۔ "خلافت" کے سبز باغ دکھائے گئے۔ ایک ایسی فضا بنادی گئی کہ سنی مزاحمت کاروں کو یہ باور کروایا گیا کہ "خلافت" کے اعلان کے لیے یہ سب سے موزوں ترین وقت ہے، چنانچہ ابوبکر البغدادی کی سرپرستی میں ایک گروہ القاعدہ سے الگ ہوا اور "دولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام" تشکیل دے دی گئی۔ چونکہ " دولت اسلامیہ " کی بنیاد خلافت پر رکھی گئی لہذا خلیفہ کی بیعت نہ کرنے والے "باغی" قرار پائے اور ان کا خون حلال قرار دے دیا گیا۔ یہ شامی جدوجہد میں ایک بھیانک دور کا آغاز تھا، دولت اسلامیہ کی تشکیل کے بعد اس سے دو اہم ترین مقاصد حاصل کیے گئے، ایک یہ کہ دولت اسلامیہ نے اپنے علاقوں میں خلافت کے اعلان کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام کئی ایک ویڈیو پیغام جاری کیے کہ اب چونکہ "خلافت علی منہاج النبوہ" قائم ہوچکی ہے، لہذا تمام مسلمانوں، بالخصوص بااثر مسلمانوں اور کسی بھی فن میں مہارت رکھنے والے مسلمانوں کے لیے اس "خلافت" کی طرف ہجرت کرنا فرض ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   طیب اردگان کی کامیابیاں - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ان پیغامات میں امریکہ و یورپ پر خاص توجہ مرکوز کی گئی۔ دولت اسلامیہ کی اس پروپیگنڈہ مہم کو تمام عالم اسلام بالخصوص امریکہ اور یورپ میں ایک خاص ٹون سے چلوایا بھی گیا۔ اندازہ کیجیے کہ سنسر شپ کے اس دور میں یہ پروپیگنڈہ ویڈیوز، بغیر کسی روک ٹوک انٹرنیٹ کے سرچ انجنز پر عام دستیاب تھیں۔ ان ویڈیوز میں خلافت علی منہاج النبوہ اور شریعت کے نفاذ کا لولی پاپ دیا گیا، نتیجتا امریکہ و یورپ کے دینی اساس پر قائم مخلص مگر سادہ لوح مسلمان شام پہنچنے لگے۔ دلچسپ امر ملاحظہ کیجیے کہ یہ وہ وقت تھا جب 9/11 کے بعد سے مسلمانوں کے ہمہ قسم اسفار پر خاص نظر رکھی جارہی تھی، لیکن شام کے اس سفر پر کسی قسم کی روک ٹوک نہ کی گئی، نتیجتا ہزاروں امریکی و یورپی مسلمان شام پہنچ گئے، چونکہ دولت اسلامیہ کی طرف سے "نفیر عام" کا اعلان کیا گیا تھا اور "نفیر عام" میں شرعا ہر ایک کے لیے ہجرت لازمی ہوتی ہے، حتی کہ شرعا بیوی اور بچوں تک کو خاوند و والدین کی اجازت کے بغیر نکلنا لازم ہوتا ہے، لہذا خواتین اپنے خاوندوں اور جوان بچے والدین کی اجازت کے بغیر اپنے اپنے ذرائع سے ترکی کے راستے شام پہنچ گئے اور امریکہ و یورپ میں ہزاروں مسلمان خاندان ایک نہ ختم ہونے والی اذیت کا شکار ہوگئے۔

ساتھ ہی ساتھ حکام کو ان پر مزید سختی روا رکھنے کا قانونی جواز بھی ہاتھ آگیا۔ جو لوگ اخلاص کے ساتھ شام پہنچے، ان کے ساتھ شروع میں تو بہت اچھا سلوک کیا گیا، انہیں دولت اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ویڈیوز میں "ہیرو" بناکر پیش کیا جانے لگا، وہ ویڈیوز میں آتے، امریکہ و یورپ کے مظالم بیان کرتے، ان کے مسلمانوں کے خلاف مظالم کی دہائی دیتے،
دولت اسلامیہ کے نظام کی تعریف کرتے، ہجرت مدینہ کی داستانیں سناتے، "دولت اسلامیہ" کو مسلمانان مغرب کے لیے واحد پناہ گاہ قرار دیتے، اپنے امریکی و یورپی پاسپورٹ کو آگ لگاتے، نتیجتا انہوں نے اپنے مزید دوستوں کو آنے پر قائل کیا۔

جب "ہجرت" کا یہ عمل مکمل ہوگیا اور جن مسلمانوں سے امریکہ و یورپ کو تھوڑا سا خطرہ بھی درپیش ہوسکتا تھا، ان سب کو شام کی طرف دھکیل دیا گیا تو اب کھیل کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ سخت گیر دولت اسلامیہ نے ان تمام مہاجرین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ نوجوان یورپی بچیوں کو زبردستی شادیوں پر مجبور کیا گیا، نوجوانوں کو تھوڑی سی عسکری تربیت کے بعد اپنے ہی مسلمان بھائیوں (دوسرے سنی مزاحمت کاروں) کے خلاف لڑائی میں زبردستی جھونک دیا گیا، ان کے بچوں کو خودکش حملوں کے لیے ابھارا جانے لگا، انکار کرنے والوں پر "حدود و قصاص" اور "تعزیرات" کا اطلاق کیا جانے لگا، لیکن جب تک ان امریکی و یورپی مسلمانوں کو ہوش آتا، وہ اپنے پاسپورٹ اپنے ہی ہاتھوں جلا کر اپنی واپسی کے تمام راستے مسدود کرچکے تھے۔ ان میں سے کچھ بشار کے بھیانک ٹارچر سیلز میں پہنچے، کچھ قیدی بن کر اب تک کردوں کے مظالم سہ رہے ہیں، جنہیں قید ہونا منظور نہ تھا انہیں زبردستی خودکش حملوں پر ابھارا گیا، یوں ریشم ، اطلس و کمخواب میں پلے ہوئے ہزاروں مسلمان یورپی بچے بچیاں تاریخ کا دردناک حصہ بنادیے گئے۔ اس کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ امریکی و یورپی عوام کو دکھایا گیا کہ دیکھو اگر اسلام یا شریعت نافذ ہوگئی تو اس طرح گردنیں کٹیں گی یوں امریکہ و یورپ کے معتدل لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کردیا گیا۔

اب ہم اس بھیانک کھیل کے دوسرے مرحلے کی طرف آتے ہیں۔ دولت اسلامیہ سے دوسرا اہم کام یہ لیا گیا کہ اسے بشار سے مقابلے کے بجائے سنی مزاحمت کاروں کے مقابل لاکھڑا کیا گیا۔ بنیادی سوچ تکفیری تھی کہ بیعت نہ کرنے والے اب مسلمان نہیں رہے، لہذا کافروں کا قلع قمع کرنے سے پہلے بیعت نہ کرنے والے "باغیوں" کا قلع قمع ضروری ہے، لہذا دولت اسلامیہ نےاحرار الشام اور تحریر الشام (سابقہ جبھہ فتح الشام) جیسے مضبوط سنی گروہوں پر جارحانہ حملے شروع کیے۔ اس موقع پر شیخ عطیۃ اللہ اور محمد الجولانی سمیت دوسرے شامی سنی قائدین نے یہ پالیسی اپنائی کہ چونکہ "خون مسلم" کی شریعت میں بہت حرمت ہے اور مسسلمانوں کا خون بہانے سے روکا گیا ہے، لہذا "خون مسلم" کو حتی الوسع بہنے سے روکا جائے، آپس میں لڑائی نہ لڑی جائے، تاکہ مسلمان کا خون بہانے کے گناہ کبیرہ میں ہمارے ہاتھ ملوث نہ ہوں اور ہم آپس میں کمزور نہ ہوں۔ اولا داعش کو سمجھایا جائے، اگر یہ نہ سمجھیں پھر بھی ہم پر حملہ کریں تو ان سے مقابلہ کرنے کے بجائے علاقہ چھوڑ دیا جائے کہ خون مسلم کسی بھی علاقے سے بڑھ کر ہے۔ اس پالیسی کا پہلے پہل تو فائدہ ہوا کہ فی الحال خون بہنے سے رک گیا لیکن داعش نے دھڑا دھڑ علاقوں ہر قبضے شروع کیے۔ یوں اکثر سنی مقبوضہ علاقے داعش کے زیر اثر چلے گئے، داعش کسی بھی حرمت کو خاطر میں نہ لائی، جب سنی مزاحمت کاروں نے یہ دیکھا کہ داعش تو کسی طور رکنے والی نہیں تو انہوں نے اس کے سامنے بند باندھنے کا ارادہ کیا، لیکن اب وقت گزرچکا تھا، داعش ایسی منہ زور ہوچکی تھی، جسے نکیل ڈالنا اب کسی تنظیم کے بس کی نہیں تھی۔

دوسری جانب جب داعش سے مقاصد حاصل کر لیے گئے تو "امن کے پیامبر" ممالک نے سلامتی کونسل کی میٹنگ بلائی اور "دنیا کے مصلحین" داعش کے خلاف جنگ کے لیے اکٹھے ہوگئے۔ یوں "جن" کو دوبارہ بوتل میں بند کرنے کا کام کیا جانے لگا۔ داعش نے یہاں ایک اور عجیب کام کیا۔ اگر انہیں بمباری، جنگی دباؤ یا کسی مصلحت کی وجہ سے کوئی علاقہ چھوڑنا پڑتا تو وہ بشار الاسد کی فوج کے لیے تو علاقہ چھوڑ دیتے، لیکن اپنے سنی مخالفین ( بزعم خود بغاۃ) کے لیے ہرگز کوئی علاقہ نہ چھوڑتے، یوں جو جو علاقے وہ چھوڑتے گئے وہ بشار کی فوج کے ہاتھ لگتے گئے۔ نتیجتا بشار مخالف سنی مزاحمت کار تنظیمیں صرف چند علاقوں تک محدود ہوگئیں، ساتھ ہی ساتھ داعش نے اپنے فدائی وقتا فوقتا سنی مزاحمتی تنظیموں کے اندر داخل کیے اور مرحلہ وار سنی تنظیموں کی پوری کی پوری قیادت کو شہید کردیا گیا۔ نتیجتا قیادت کے بحران اور باہمی اندرونی چپقلش نے سنی مزاحمتی تنظیموں کو اندر سے کمزور کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پیٹرول کا ایک قطرہ خون کے ایک قطرے سے زیادہ قیمتی ہے؟ صدر ایردوان

اب ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ بشار الاسد نے ایران اور اس کی ہمنوا تنظیموں کے ساتھ مل کر سنی مزاحمت کاروں کے خلاف ایک آپریشن شروع کی۔ اب عملا صورتحال یہ تھی کہ جب سنی مزاحمت کار بشاری افواج کا مقابلہ کرتے تو پیچھے سے داعش حملہ آور ہوجاتی۔ اس کا حل نکال بھی لیں تو روسی وحشیانہ بمباری کا کوئی حل سنی مزاحمت کاروں کے پاس نہیں تھا۔ یوں یہ چومکھی لڑائی لڑی گئی۔ درعا، حلب، قلمون، گولان کی پہاڑیاں، دمشق کے قریب مشرقی و مغربی غوطہ کے اہم مقامات سمیت اکثر علاقے سنی مزاحمت کاروں کے ہاتھ سے نکل گئے۔ وہ سنی مزاحمت کار جو دو سال پہلے تک شام کا % 70 فیصد رقبہ رکھتے تھے، اب سکڑتے سکڑتے صرف ادلب تک محدود ہوکر رہ گئے اور ان کے پاس شام کا صرف % 10 فیصد رقبہ رہ گیا۔

اس تمام قضیے میں ترکی کا کردار خاصا اہم رہا۔ ترکی نے نے ان سات سالوں میں مہاجرین کا بھاری بھرکم بوجھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ احرار الشام جیسی معتدل سنی مزاحمتی تنظیموں کی بھرپور امداد جاری رکھی۔ معتدل سنی مزاحمت کاروں کے ساتھ مل کر آپریشن "فرات کی ڈھال" کیا اور ترکی سرحد کے ساتھ ساتھ عفرین تک کے تمام علاقے دولت اسلامیہ سے واگزار کروائے۔ ساتھ ہی ساتھ روس کے ساتھ سفارتکاری کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور حلب سے انخلاء کے معاہدے کے بعد ادلب پر روسی و بشاری افواج کے آپریشن کو رکوایا اورموجودہ شامی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔

اب شامی قضیے کے تیسرے اہم فریق SDF یعنی کرد مزاحمتی تنظیم کی طرف آتے ہیں۔ ترکی کے مطابق یہ "YPG" نامی کرد تنظیم سے بنی ہے جو کہ نامور عالمی دہشت گرد کرد تنظیم "PKK" کا ہی نیا نام ہے۔ ہم SDF کو کردوں کا عسکری اتحاد بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ تقریبا 30000 جنگجوؤں پر مشتمل گروہ ہے۔ ان کے ساتھ یورپ، اسرائیل اور امریکہ کی حلیف قوتیں بھی گراؤنڈ پر موجود ہیں۔ دلچسپ امر ملاحظہ کیجیے کہ کرد عرب خطے میں واحد سب سے بڑی نسلی اقلیت ہیں جن کے پاس کوئی ریاست نہیں ہے۔ یاد رہے کرد مذہبا سنی العقیدہ ہیں، فاتح بیت المقدس صلاح الدین ایوبی بھی کرد نسل سے تھے، لیکن اب ان کردوں میں سیکولر اور الحادی فکر سے وابستہ لوگوں کی بھی چنداں کمی نہیں ہے اور ان میں قومیت پرستی کا یہ عالم ہے کہ ان کی خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لیتی ہیں، یہاں تک کہ خودکش حملے بھی کرتی ہیں۔

کرد دہائیوں سے اپنی آنکھوں میں کرد ریاست کا خواب سجائے جی رہے ہیں، موجودہ شامی کشمکش میں کردوں کے لیے امید کی ایک کرن جاگی ہے کہ وہ اپنی ریاست کی تشکیل کے خواب کو پورا کرسکیں۔ کرد شامی سرحدی علاقوں سمیت ترکی کے سرحدی علاقوں میں بھی اکثریت میں ہیں، وہ شام کے ساتھ ترکی کے علاقوں کو بھی اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں، جو ترکی کو ہرگز گوارا نہیں، اسی لیے ترکی شام میں کردوں کے خلاف عملا لڑائی کا حصہ ہے اور منصوبہ یہی ہے کہ کردوں کو شامی خطے میں ہی قابو کرلیا جائے تاکہ ترکی کے کرد علاقوں کو ان کے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ شام میں سنی شیعہ کشمکش کا سب سے زیادہ فائدہ کردوں نے اٹھایا، انہوں نے اس لڑائی میں خاموش مگر سب سے زیادہ منافع بخش کردار ادا کیا۔ انہوں نے فریقین میں سے جسے کمزور پایا اس کے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ اس دوران انہیں امریکہ و نیٹو کی فضائی شیلڈ کے ساتھامریکی تربیت اور اسلحہ بھی میسر رہا۔ امریکہ و نیٹو نے آخر میں کردوں کو داعش کے خلاف زمینی قوت کے طور پر بھی استعمال کیا۔ نتیجتا داعش کے اہم مقبوضہ علاقے بھی ان کردوں کے ہاتھ آگئے اوراب صورتحال یہ ہے کہ کرد شام کے انتہائی اہم تزویراتی اور تیل و گیس سے مالامال خطے پر قابض ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ کرد امریکی و یورپی اتحادی ہیں لیکن روس، بشار اور ایران کے ساتھ بھی کردوں کی گاڑھی چھنتی ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ شامی میلہ کردوں کے لیے ہی سجایا گیا ہے کہ اس جنگ میں سب سے محفوظ اور فائدہ مند کرد ہی رہے، کردوں پر امریکی سرمایہ کاری بے فائدہ نہیں ہے۔ یاد رکھیے کرد عرب خطے میں امریکہ کا "مستقبل" ہیں۔

ہم اگلی نشست میں امریکی انخلاء کے اعلان، اس کے شامی منظرنامے پر ممکنہ اثرات اور کھلاڑیوں کی ممکنہ چالوں کا جائزہ لیں گے۔ ان شاءاللہ