عمیر کو بھی قتل کر دو - اختر اورکزئی

میں عمران خان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، ساہیوال کے واقعے کا جتنا ہم سب کو دکھ ہے انہیں بھی اتنا ہی ہے اور اس معاملے میں وہ "سیاست دان" نہیں اک عام انسان ہیں۔ میں اپوزیشن کے قائدین کو ذاتی طور پر تو نہیں جانتا لیکن ان کے مزاج اور مسخ شد فطرت سے واقف ضرور ہوں کہ انہیں اس واقعے کا دکھ ہو نہ ہو، اس امر کا ادراک ضرور ہے کہ کس طرح اس واقعے کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا رنگ دیا جائے اور مخالفت کا مواد بہم پہنچایا جائے۔ اس منافقت اور دوغلے پن میں اسلام کے نام سے سیاست و سیادت کے پتے کھیلنے والے نمائندگان مذہب سب سے زیادہ مجرم ہیں۔ جو وقت کے جھوٹوں، ضمیرفروشوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ اس واقعے کو کچھ ایسا رنگ دینا چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ فوج کی مشاورت، موجودہ حکومت کی قیادت میں ہوا۔ آج کی اپوزیشن کو اس نوع کے دل خراش واقعات کا بڑا ہی انتظار رہتا ہے۔ غیر محسوس انتظار ۔۔! انھی ہنگاموں سے ان کا سیاسی وجود برقرار ہے۔

ردعمل کی تیسری نوعیت عام عوام کی ہے۔ وہ دکھی ہیں، انہیں افسوس ہے، انہیں کچھ نہیں پتہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ ہاں وہ اتنا جانتے ہیں، یہ جو بھی ہوا، نہایت برا ہوا۔ ہر آنکھ اشک بار ہے، دکھی ہے۔ میں بھی "عوام" ہوں، میں تجزیہ بعد میں کرتا ہوں، فطری ردعمل پہلے ظاہر کرتا ہوں کہ جو کچھ ہوتا ہوا دکھائی دیا، یہ بہت برا ہوا۔ دونوں امکانات پر غور کریں، نتیجہ اس سے مختلف نہیں ہے کہ یہ درندگی ہے۔ وہ دہشت گرد تھے تو متعلقہ ادارے نظم و حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے، پیچھا کرتے، پکڑتے اور کیفر کردار تک پہنچاتے۔ یہ کوئی خلا کا سفر نہیں ہے جس کے لیے بہت ہی مشق کی ضرورت ہو، دنیا کے عام ممالک میں بھی ڈاکو، چور اور قاتل کو پکڑنے کے بےشمار طریقے معروف و مروج ہیں، جس سے دفع مضرت کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔

یہ صورت ممکن نہ تھی تو کیا ممکنہ ظالم کو عارضی طور پر ڈھیل دینا یقینی مظلوم کو مار دینے سے زیادہ بہتر نہ تھا۔ دہشت گرد نہ تھے تو اس غیر انسانی سلوک کو ہم کیا نام دے سکتے ہیں۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب مہذب ہوتے ہوئے بھی پتھر اٹھانا چاہتے ہیں، آپ غلیظ گالیاں دینا چاہتے ہیں۔ اگر آپ نے فیصلے اسی طرح سڑک اور گلی میں بندوق ہی کی زبان سے کرنے ہیں تو نظام ریاست، تعلیم و تربیت، قانون و عدالت کا بکواس بند کیوں نہیں کردیتے۔

جب سے ملک چھوڑا ہے، غم والم کے مظاہر سے کنارہ کرتا ہوں، ٹی وی نہیں دیکھتا، کوئی پاکستانی اخبار نہیں پڑھتا، تلخی مزاج کم کرنے کی یہی اک ہاری ہوئی تدبیر ہے کہ آنکھیں ہی بند کی جائیں، خوں ریزی ، ظلم درندگی کی جو تصویریں دل ودماغ میں چپک کی گئی ہیں، انہیں زائل کرنا چاہتا ہوں، البتہ سوشل میڈیا سے مفر نہیں۔ یہاں بھی اس نوع کے واقعات پڑھنے سے پہلوتہی کرتا ہوں لیکن کچھ تصویریں موبائل کے سکرین پرگویا خون کے دھبے چھوڑ جاتی ہیں۔ تب دکھ کا یہ زہر ردعمل کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔

میں امریکہ کے جس شہر میں رہتا ہوں، یہاں دیگر حصوں کے مقابلے میں پختونوں کی تعداد کم ہے۔ پھر ایسے گھرانے جو غم و خوشی کے مواقع پر اکھٹے ہوں، مسجد اور اسلامک سنٹرز سے وابستہ ہوں اور بھی کم ہیں۔ میری پہچان پختونیت ہے اور میں اپنے پختونوں کی محبت اور تحسین کے لیے خود کو ہمیشہ مقروض تصور کرتا ہوں۔ یہی چیز مجھے انہیں یہاں ڈھونڈنے پر مجبور کرتی رہتی ہے۔ میرے اک دوست نے مجھے اک مہمند ایجنسی کے ایسے پختون کے بارے میں بتایا جنہیں جس دن امریکی شہریت ملی، اسی لمحے انہوں نے لینڈ سیکورٹی آفس کے باہر پاکستانی پاسپورٹ کو آگ لگا دی تھی۔ میں اس کی کہانی جاننا چاہ رہا تھا۔ ہم اس کے گھر گئے ، باہر آ کر ہمارا استقبال کیا، ہمیں اپنے دروازے پر دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوئے، انہیں اتنی خوشی ہوئی کہ سلام و استقبال چھوڑ کر کسی دیوانے کی طرح دونوں ہاتھوں کے رحیل پر سر رکھ کر رونا شروع کیا۔ کہا، میری ہمیشہ خواہش رہی، کبھی آپ سے ملاقات ہو۔ میں نے تصور بھی نہ کیا تھا کہ تقدیر میری دعا کو دہلیز پر لائے گی۔

قصہ مختصر، میں نے وطن کی مٹی پر درس دینے کی کوشش کی تو اس نے میری بات کو بدلنے کی کوشش کی۔ لگتا تھا جیسے وہ اس موضوع پر کسی سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا۔ میری بات کا تکرار دیکھ کر انہوں نے مجھے ٹوکا اور کہا، مفتی صاحب، میں نے تمھیں ہمیشہ سچ بولتے ہوئے سنا ہے، میں چاہتا ہوں آج بھی سچ ہی بولیں، کتاب سے باہر آئیں اور غیر کتابی حقیقت پر بحث کریں، جن سے زندگی کی ہر زندہ حقیقت جیتے جی چھن گئی ہو، انھیں آپ کتاب کے مردہ حوالوں سے نہیں بدل سکتے۔ میں اس کا منہ دیکھتا رہ گیا، وہ بولتا چلا گیا۔

آپ جس" پاکستان " کو جانتے ہیں، اس میں آپ ٹی وی اینکر تھے، اچھے عہدے پر فائز، اپنے شعبے کے کنٹرولر تھے، اچھی خاصی تنخواہ ملتی تھی، چھوٹی موٹی شہرت بھی حاصل تھی، لیکن یہ مٹی کی پوری حقیقت نہیں ہے، یہ سکے کے دونوں رخ نہیں ہیں۔ آپ سونے کا ترازو لے کر ٹماٹر و آلو نہیں تول سکتے۔ میں جس پاکستان کو جانتا ہوں، وہ اس سے بہت مختلف ہے۔ اس میں میرے ضعیف ابو کو درخت کی شاخ سے الٹا لٹکایا جاتا ہے، انہیں اتنا مارا جاتا ہے کہ خوف سے کئی مہینے اس کی زبان لرزتی ہے، پھر اسی عالم میں رات کے کسی حصے میں ہمیشہ کی نیند سو جاتے ہیں۔ میری سات سالہ بچی کو جو سکول جاتے ہوئے اکثر کہا کرتی، ابو مجھے باہر جانے سے ڈر لگتا ہے کو اغوا کیا جاتا ہے، جس کا آج بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔ میرے پانچ سالہ بچے کو جسے ننھے ہاتھوں میں دس روپے دے کر میں نے دودھ لینے بھیجا تھا، راستے میں گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے کہ تم کرفیو میں گھر سے باہر کیوں نکلے۔ میری ٹانگوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں، جس سے آج بھی معذور ہوں۔ کیا اس کے باوجود تم مجھے حب الوطنی کا بھاشن دوگے؟ میں سنتا گیا ، وہ بولتا چلا گیا۔

میرے پاس اس کی باتوں کا کوئی واضح جواب نہ تھا۔ اسے ہر حادثہ ازبر تھا، وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود لفظوں میں درد، عصمت، ننگ، خوں و بارود کی نقشہ کشی کرسکتا تھا۔ ان کی باتوں میں اتنا درد تھا کہ میں ذات کے ہر کونے میں اس کا کرب محسوس کرسکتا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے مجھے لگا کہ، ہاں اس کا ہر ردعمل درست ہے، اس کا ہر لفظ حقیقت۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر امریکہ ہی ہمیشہ کے لیے آباد نہیں ہوا بلکہ اس نے ماضی کی ہر نشانی کو مٹانے کی ضد پال رکھی ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کو خاک، آگ، دھوئیں میں اڑانا اسی تسلسل کا حصہ تھا۔

آج کئی دنوں بعد ان کی کال آئی۔ کہا، نیند نہیں آ رہی۔ کیا آپ کسی ایسی فلم کے بارے میں بتا سکتے ہیں، جس میں کسی ملک کے خلاف خود عوام کی عدالت لگی ہو اور وقت کی اشرافیہ کو سر راہ ننگا کر کے زمیں پر گھسیٹا جارہا ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی ویڈیو ہے جس میں پاکستان کے کسی اہلکار کو پکڑ کر مارا پیٹا، گولیوں سے چھلنی کرکے دکھایا جا رہا ہو؟ میں نے ان سے کہا، اتنے دنوں بعد پھر کس بات کی ہوک اٹھی، مندمل ہوتے زخم کیوں کر تازہ ہوئے۔ انہوں نے ساہیوال کی ویڈیو بھیج دی۔ اور میرے سارے لفظ خطا ہوئے۔ وہ شاید سونے سے پہلے پہلے انصاف ہوتا ہوا دیکھنا چاہ رہا تھا اور اس کے ذہن میں یہی اک صورت تھی کہ ان جیسے واقعات کے ایک اور رخ کو دیکھا جائے اور خود کو اطمینان دلایاجائے۔ میں خود بھی جب شیر کی درندگی دیکھتا ہوں تو شجاعت کے تمام تر حوالوں کے باوجود مجھے اس سے نفرت ہوجاتی ہے، پھر چند ایک ویڈیوز ضرور ایسی دیکھتا ہوں جس میں کسی بپھرے بھینسا نے شیر کو قاتل سینگوں پر اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا ہو۔ کسی گینڈے نے اس میں سینگ پرویا ہو یا ہاتھی نے اسے سونڈ میں لپیٹ کر ہوا دکھائی ہو۔ گویا وہ مجھے اپنے انتہائی ردعمل کا جواز بخش رہا تھا، وہ مجھے بتانا چاہ رہا تھا کہ ساہیوال کے اس عمیر کو کون حب الوطنی کا بھاشن دے گا۔

ہاں! یہ عام ردعمل تھا۔ جس کا گھر بار آج جائے، ابو، اماں ، چھوٹی بہن اور بھائی کو چھلنی ہوتے ہوئے جیتے جی دیکھے، اسے دنیا کا کوئی ارسطو و بقراط مٹی سے محبت کا سبق نہیں پڑھا سکتا۔ جانتا ہوں، یہ عام ردعمل صحت مند نہیں ہے، اس کی بنیاد پر فوج، جو اپنا قبلہ درست کرنے کی راہ پر گامزن ہے، اور ایسی حکومت کو جو ملک کے ڈوبتے اداروں میں روح پھونکنے کی اپنی سی کوشش کر رہی ہے، کو مورد الزام ٹھہرانا شعوری تجزیہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر ان جیسے حادثات کے وقوع کے سد باب کے لیے منظم حکمت عملی نہ اپنائئی گئی تو اس کا خمیازہ کئی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ جزوی واقعات کے اس تسلسل میں ہم جس حقیقت کو مسلسل نظر انداز کررہے ہیں، وہ ہمارا فرسودہ اور ازکار رفتہ ملکی سسٹم ہے جو گندے خوں کی طرح ہمارے پورے سماج کو اپنی فرسودگی سے زہر آلود کرتا رہا ہے۔ خون صالح نہ ہو تو جسم کے مختلف حصوں پر پھوڑا پھنسیاں نکلتی ہیں، ہم وجوہات پر غور کرنے کی بہ جائے، عارضی ردعمل پر ہی گزارا کرلیتے ہیں۔ زخم چاٹتے رہ جاتے ہیں،اور ناسور بڑھتا چلا جاتا ہے جوں جوں دوا کرتے ہیں۔
اس واقعے پر غور کرتا ہوں، پس ماندگاں کے ذہنی کرب و نفسیاتی کیفیت کا جائزہ لیتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

سوچتا ہوں، اس بچی کو قندیل، روبین اور رانی بننے سے اب کون روکے گا۔ آج کے عمیر کو بیس سال بعد کے لڈو بدمعاش، موچا، بھبھو لاٹ بننے سے کون روکے گا۔ سوچتا ہوں، کچھ لوگ جو کہتے ہیں کہ ان بچوں کو زندہ چھوڑنا اتنا ہی غلط تھا جتنا ان کے ماں باپ کو مارنا ظلم تھا۔ اب ان لاشوں کو یہ رہتی زندگی۔ اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھریں گے۔ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔

میں نے چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کیں، جلال کو عمیر کی جگہ رکھا۔ آنکھیں کھولیں، تو دیواروں پر خون اترتا دکھائی دیا۔ آنکھیں بند کیں خود کو عمیر کی جگہ رکھا۔ پندرہ منٹ کے بعد مہمند ایجنسی کے دوست کو کال کر کے کہا: "جلال! میں غلطی پر ہوں، تم ٹھیک کہتے ہو۔۔"

میں نے ساہیوال کی کہانی میں رنگ بھرنے کے لیے جلال کا حوالہ نہیں دیا کہ خون کا اپنا رنگ بہت گہرا ہوتا ہے، بلکہ محرومی، ظلم و بربریت کی یہ داستان گلی گلی جنم لے رہی ہے۔ مہمند ایجنسی ہی پر کیا منحصر ہے، کرم ایجنسی، باجوڑ، سوات اور وزیرستان میں دلخراش حادثات کا اک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جسے نہ تو فلمایا جاسکتا ہے اور نہ ہی لفظوں میں قید کیا جاسکتا ہے۔ بھلا احساس و اذیت کا بھی کوئی چہرہ ہوتا ہے۔

میرے ملک کے حکمران اور افواج پاکستان کے سربراہ سے گزارش ہے کہ محرومیوں کی انتہا، نحیف لفظوں، مدھم آوازوں کے پیچھے اٹھتے طوفانوں کا تیور بروقت محسوس کریں، تو یہ اس جغرافیہ پر بڑا احسان ہوگا کہ آگ پر دھرے بند پریشر ککر کی آہنی دیواریں اس کے اندر بڑاس کو زیادہ دیر تک نہیں روک سکتیں۔ اب ہم جہاد، مذہب اور قانون کے پردے میں مزید سانحوں کے متحمل نہیں ہیں۔

تکلف برطرف، مگر یہی اک صورت ہے تو کھل کر میدان سجاؤ، بچوں کو زندہ نہ چھوڑو، اس سے تکلیف کا احساس اور بڑھ جاتا ہے۔ ذوہیب ہو، صالح ہو، بہرام ہو، نبیلہ ہو یا فواد، ننھے سینے میں بارود اتار دو کہ مرنے والے تو شاید، مگر یہ بچے یقینی دہشت گرد ہوتے ہیں، بیس سال بعد کے دہشت گرد۔ بچی کو اور ....... اور اس کے بھائی عمیر کو جاں سے مار دو۔گولیاں چلاؤ، تب تلک جب تک یقین نہ آئے کہ ان کے پرخچے اڑ گئے ہیں، تب تک جب تک ایک سانس بھی باقی ہو۔

سوری عمیر! تم دس،گیارہ سال کے معصوم بچے ہو، جانتاہوں، مگر ہمیں بیس سال بعد کے عمیر سے ڈر لگتا ہے۔


میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو

مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو

دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہو

وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو

ہم کو جو ملا ہے وہ تمھیں سے تو ملا ہے

ہم اور بھلا دیں تمھیں کیا بات کرو ہو

یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو

جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو