حافظ عمار یاسر کا استعفیٰ کس دباؤ کا نتیجہ ہے؟ امجد طفیل بھٹی

پنجاب حکومت میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے ایم پی اے حافظ عمار یاسر جو کہ تلہ گنگ کے حلقہ پی پی 24 سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے کو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی کابینہ میں وزارت معدنیات کا قلمدان سونپا گیا۔ لیکن محض چند مہینوں کے بعد ہی وزارت سے مستعفی ہونے والے وہ واحد وزیر ہیں، جو یہ کہہ کر مستعفی ہو گئے کہ انہیں آزادی سے کام نہیں کرنے دیا جارہا بلکہ ان کے پاس اپنی وزارت کے اختیارات اس قدر محدود ہیں کہ وہ ایک کلاس فور کے ملازم کو ٹرانسفر بھی نہیں کر سکتے۔ وہ اس طرح اپنی وزارت کے امور کو بخوبی نہیں چلا سکتے جب ان کے کام میں بے جا مداخلت ہورہی ہو۔

خیر یہ توحافظ صاحب کا اپنا مؤقف ہے مگر علاقائی سطح اور قومی سطح پر اس ایک استعفیٰ کی وجہ سے طرح طرح کی چہ مگوئیاں بھی جاری ہیں، ہر خاص وعام اپنے حساب سے تجزیہ کر رہا ہے ، بعض لوگ اس کو پی ٹی آئی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ہتھیار کہہ رہے ہیں تو بعض لوگ حافظ صاحب کی وزارت میں ان کی اپنی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں ،جبکہ ان کے بعض سیاسی مخالفین محض پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں کہ حافظ صاحب کو وزارت کے امور نمٹانے میں مسائل کا سامنا تھا، اس لیے انہوں نے استعفیٰ دیا۔ مگر یہاں یہ بات اہم ہے کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ اپنی پارٹی قیادت کو بھجوایا ہے ناں کہ حکومت پنجاب کو۔ اس لیے ابھی تک استعفیٰ کی منظوری کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اب آتے ہیں حافظ صاحب کے استعفیٰ کی چند ممکنہ وجوہات کی جانب جو کہ اس استعفیٰ کا سبب ہو سکتی ہیں۔

1) سب سے پہلی ممکنہ وجہ تو وہی ہو سکتی ہے جو کہ حافظ صاحب نے استعفیٰ کے بعد اپنے بیان میں فرمائی ہے یعنی انہیں آزادی سے کام نہیں کرنے دیا جارہا بلکہ بے جا مداخلت کے ذریعے ان کے کام میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔

2) دوسری ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ خود اپنی وزارت سے مطمعن نہ ہوں یعنی اس وزارت کے ذریعے وہ اپنے حلقے کے عوام کی بہتر طریقے سے خدمت نہ کرسکتے ہوں۔

3) تیسری ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انکے حلقے کے عوام کا دباؤ ہو کہ انکے کام کرانے میں حافظ صاحب کی وزارت آڑے آتی ہے یعنی وہ حلقے کے عوام کو مطلوبہ وقت نہ دے سکتے ہوں۔

4) چوتھی ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے حافظ صاحب کی ڈیمانڈ کسی اور وزارت کی ہو لیکن انہیں زبردستی یہ وزارت سونپ دی گئی ہو۔

5) پانچویں ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ استعفیٰ محض ایک سیاسی چال ہو اور مسلم لیگ ق کی قیادت پی ٹی آئی کی حکومت سے اپنے مطلوبہ مطالبات منوانا چاہتی ہو۔

6) چھٹی ممکنہ وجہ جو کہ حافظ صاحب کے استعفیٰ کا سبب ہو سکتی ہے وہ یہ کہ وزارت کے امور حافظ صاحب سے نہ سنبھالے جارہے ہوں مگر اسکے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ پاکستان کے سیاسی نظام میں کبھی بھی وزیر یا مشیر کی مطلوبہ مہارت نہیں دیکھی جاتی کہ کون سا وزیر یا مشیر اپنی وزارت کے حساب سے تعلیم یافتہ ہے بھی سہی یا نہیں۔

ایک بات جو اس استعفیٰ کو لے کر سب سے زیادہ زیر بحث آ رہی ہے وہ ہے اس استعفیٰ کا وقت ، یعنی کہ جہاں ایک طرف تمام اپوزیشن جماعتیں مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اتحاد کرنے جارہی ہیں اور پی ٹی آئی حکومت دباؤ کا شکار ہے ایسے وقت میں یہ استعفیٰ صرف اور صرف ایک سیاسی ہتھیار ہے جس کے ذریعے مسلم لیگ ق اپنے مطالبات منوانا چاہ رہی ہے۔

لیکن حافظ صاحب کے استعفیٰ کی جو بھی وجہ ہو حلقے کے عوام بالخصوص حافظ صاحب کے ووٹرز اور سپورٹرز کافی پریشانی میں مبتلا ہیں کہ کہیں ان کا یہ سیاسی رہنما بھی پرانے سیاسی رنگ میں رنگ تو نہیں گیا کہ جہاں ذاتی مفاد کی جنگ میں عوامی مسائل کو نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ حافظ صاحب کو کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے حلقے کے عوام کو اعتماد ضرور لینا ہوگا ورنہ آنے والے وقت انکے لیے سیاسی طور پر مشکل بھی ہوسکتا ہے کیونکہ جو شخص عوام کے اعتماد پر پورا نہ اترے تو پھر عوام کے پاس مخالف سمت میں جانے کا آپشن بھی موجود ہوتا ہے۔ اور ہاں حافظ صاحب کو کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اپنے پس ماندہ حلقے کے مسائل کو ذہن میں ضرور رکھنا ہوگا کیونکہ علاقے کے تمام کے تمام مسائل جوں کے توں پڑے ہیں۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.