ڈی جے بینڈ والی شادیاں اور نکاح خواں بیچارے - محمد عاصم حفیظ

مقبوضہ کشمیر سے آنیوالی یہ چھوٹی سی خبر واقعی قابل غور ہے۔ آج کل کا ایک اہم مسئلہ شادی ہالز میں نکاح خواں کو کرائے جانیوالے طویل انتظار اور اس دوران تیز موسیقی اور باراتیوں کے بھنگڑے اور ناچ گانے سے متعلق تھا۔ ہمارے ہاں کسی بزرگ کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے کہ وہ مسجد کے مولوی صاحب کو پابند کریں۔ اب وہ بزرگ کئی گھنٹے پہلے ہی مولوی صاحب کو فون کرکے بلا لیتے ہیں۔ ہر فون پر بات یہی ہوتی ہے کہ بارات تو بس پہنچنے ہی والی ہے۔ شاید انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اور ہی مصروف نہ ہو جائیں۔ اب بیچارے مولوی صاحب کو بلا کر ایک کونے میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ ان کا کوئی واقف نہیں ہوتا اور ویسے بھی اس "خوشی" کے موقع پر کون دین کی باتیں کرنا چاہے گا؟ سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مہمانوں کا استقبال اور میل ملاقات۔

مسئلہ آج کل باراتوں کے لیٹ ہونے اور شادی ہالز کی جانب سے ڈی جے سسٹم کی تیز آواز میں میوزک لگانے کا ہوتا ہے۔ مولوی صاحب کو بھی یہ سب گانے سننا پڑتے ہیں۔ اسی دوران ایک دو گننٹے کے انتظار کے بعد جب بارات آتی ہے تو نوجوان خوب رقص بھنگڑوں اور ہلے گلے کا اودھم مچاتے ہیں۔ خوشی کا موقع ہوتا ہے جی کون روکے گا۔ آتش بازی ہوتی ہے اور فائرنگ بھی۔ ساتھ ساتھ مخصوص انڈین گانے۔ یہ سرگرمیاں بھی ایک آدھ گھنٹے جاری رہتی ہیں۔ سب چیزوں سے فارغ ہو کر نکاح کی فکر ہوتی ہے۔ مولوی صاحب کو کونے سے ڈھونڈ کر اسٹیج پر لایا جاتا ہے۔ نکاح ہوتا ہے۔ شکر ہے اس دوران میوزک بند کر کے احسان کر دیا جاتا ہے۔ نکاح ہوتے ہی مولوی صاحب کی جان چھوٹتی ہے۔ خاندان کا کوئی بزرگ انھیں رخصت کرتا ہے اور معمولی معاوضہ بھی دے کر احسان جتلایا جاتا ہے۔ یہ تلقین کرنا بھی نہیں بھولتے کہ نئے جوڑے کو اپنی خصوصی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گا۔ نکاح کے لئے جانے والے علمائے کرام ہی اس اذیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں - عمارہ خان

خبر یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علمائے کرام نے اس صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ایسی شادی تقریبات میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں میوزک، رقص اور بھنگڑوں کا اہتمام کیا گیا ہو۔ اگر واقعی کچھ علمائے کرام ایسی تقریبات میں جانے سے انکار کر دیں تو صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔ اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔