مشروط اقتدار، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف - ابو محمد مصعب

اقتدار ایسی چیز ہے جو ’’شراکت‘‘ نہیں چاہتا۔ اللہ بھی اپنے اقتدار میں کسی کی شرکت برداشت نہیں کرتا۔ مانگے تانگے کا اقتدار، بھیک میں ملا اقتدار، کچھ لو اور کچھ دو والا اقتدار اور کسی کا مرہونِ منت اقتدار، کبھی بہتر نتائج نہیں دے سکتا۔ اللہ کے بعد زمین پر حکومت ایسی چیز ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی طاقت ور نہیں ہوتا۔ لیکن ایسی حکومت جو بھیک میں ملی ہو یا کسی بابے کے مزار پر ماتھا رگڑنے سے ملی ہو، یا کسی طاقتور گروہ کی طرف سے شرائط و شروط کے ساتھ ملی ہو، کبھی فلاح کا باعث نہیں بن سکتی۔ ایسے حکمرانوں کو ’’صدر‘‘ یا ’’وزیراعظم‘‘ کے القاب دینے کے بجائے ’’کلرک‘‘ یا ’’منشی‘‘ کہنا زیادہ بہتر رہے گا۔

اقتدار کی پیشکش اللہ کے نبیﷺ کو بھی کی گئی تھی۔ جب اسلام کی بڑھتی طاقت سے عاجز آ کر اہلِ قریش نے حضورﷺ کو پیشکش کی کہ آپ چاہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنائے دیتے ہیں یا جس عورت سے چاہیں نکاح کروا دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ، لیکن آپﷺ نے یہ آفر یہ کہہ ٹھکرا دی کہ اگر میرے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے پر سورج رکھ دیا جائے تب بھی میں اپنی دعوت سے باز نہ آؤں گا اور اپنا کام جاری رکھوں گا۔

اس کی کیا وجہ تھی؟ یہی کہ آپﷺ کو بخوبی علم تھا کہ کسی کا دیا ہوا اور مرہونِ منت انقلاب کوئی ثمر نہ دے گا۔ لہٰذا آپﷺ نے اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھی جب تک ہر سرکش قوت کو اپنی دعوت و تبلیغ سے یا تو تسخیر نہ کر لیا یا پھر کچل کر نہ رکھ دیا۔

مشروط انقلاب کی پیشکش جماعت اسلامی کو بھی ہو چکی ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے اشارتاََ کنایتاََ بھی اور برملا بھی اس کا اظہار کیا تھا۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی کے انکار پر سوڈان کے اس وقت کے معروف مذہبی رہنما، ڈاکٹر حسن ترابی کو بھی ضیاء الحق صاحب نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے طور پر استعمال کیا کہ وہ کسی طرح جماعت کو اس کے لیے آمادہ کریں۔ لیکن جماعت چوں کہ بخوبی یہ بات سمجھتی تھی کہ کسی آمر کے سائے میں رہ کر، یا مشروط اقتدار کے ذریعے ملک میں کوئی نظریاتی یا جوہری تبدیلی نہیں لائی جا سکتی، لہٰذا، جماعت نے، ڈاکٹر حسن ترابی صاحب سے بصد احترام معذرت کر لی۔

میں سیاست کا ادنیٰ طالب علم ہوں اور بچپن سے سیاست میں اتنی دلچسپی ہے کہ جب نیٹ نہیں تھا تو بھی روزآنہ اخبار پڑتھا تھا اور اگر کسی جگہ پانچ چھ اخبار رکھے مل جاتے تو سب کے سب پڑھ ڈالتا تھا۔ بلکہ معروف فقرہ، ’چاٹتا تھا‘ کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔ سیاسی ہفتہ وار اور ماہانہ میگزینز بھی زیادہ سے زیادہ کنگھالتا تھا۔ اب بھی رات کے دو بجے ہی کیوں نہ وقت ملے، لیکن تمام بڑے اخبارات پڑھ کر سوتا ہوں۔

بھٹو صاحب کی حکمرانی کو میں نے اپنے لڑکپن میں دیکھا ہے اور ضیاء الحق کا دؤر بھی یاد ہے۔ میاں نواز شریف کا ’’گملے‘‘ میں اُگنا بھی آنکھوں کے سامنے کا واقعہ ہے۔ جونیجو کی مسلم لیگ، اعجازالحق کی مسلم لیگ، چٹھ اور چوھدری شجاعت وغیرہ کی مسلم لیگز، اصغر خان کی تحریکِ استقلال، نوابزادہ نصراللہ خان کی سیاست، ضیاءالحق کے طیارے کا حادثہ اور پھر بے نظیر کی دھواں دھار واپسی، سب پردہءِ دماغ پر نقش ہے۔

سیاست سے میری اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ میں اس کی اہمیت کو سمجھتا ہوں۔ پرانے وقتوں میں شاید سیاست کی اتنی اہمیت نہ ہو لیکن اب کسی ملک کا کوئی شہری اس کی اثرات سے بچ نہیں سکتا۔ شخصی آزادیاں صلب ہو چکی ہیں اور سب کچھ حکومتوں کے کنٹرول میں جا چکا ہے۔ آپ کے تمام ملکی وسائل اور قومی دولت، آپ کا طرزِ زندگی، آپ کا تعلیمی نصاب و نظام، آپ کا معاشی نظام، دولت کی گردش کے تمام طریقے، سب کچھ حکومتوں کے کنٹرول میں جا چکا ہے۔ حتیٰ کہ رمضان و عید کا چاند دیکھنا اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا نہ پلانا، کچھ بھی آپ کے اختیار میں نہیں رہا، سب سرکار کی صوابدید پر منحصر ہے۔ ایسے میں اگر کوئی طومار خان چار دوستوں کے درمیان بیٹھ کر فخریہ دعویٰ کرے کہ اسے سیاست سے چڑ ہے یا وہ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا تو اس سے بہتر تھا کہ وہ یہ کہے کہ وہ ’’مرد‘‘ نہیں ہے۔ ایسے شخص کو آپ انتہا درجے کا جھوٹا، احمق، بزدل، منافق یا مطلبی کہہ سکتے ہیں جس کے اندر یا تو اتنی ہمت نہیں کہ لوگوں کے سامنے اپنا مافی ضمیر کھول کر بیان کرے یا پھر وہ جھوٹا اور منافق ہے جو جھوٹ بول کر لوگوں کے سامنے خود کو ’’نیوٹرل‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تیسر ا امپا ئر کیو نکر انگلی اٹھا ئے گا؟ عارف نظامی

میں نے بھٹو صاحب کے دؤر کو اس وقت دیکھا تھا جب وہ رو بہ زوال تھے اور اپنا اقتدار بچانے کی سر توڑ کوششوں میں تھے۔ یہاں تک کہ اپنے شدید ترین سیاسی و نظریاتی حریف، جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی کے پاس بھی اچھرہ لاہور چل کر گئے۔ لیکن بھٹو صاحب پر یہ وقت اچانک نہیں آ گیا تھا۔ ان پر ایک وقت ایسا بھی گزرا تھا کہ انہوں نے اپنے چاروں طرف کی تمام قوتوں کو زیر کر لیا تھا۔ فوج کے اندر ان کا اتنا رعب بیٹھ چکا تھا کہ وہ کھڑے کھڑے جرنیلوں اور فوجی سربراہوں کو فارغ کر دیتے تھے اور اپنی پسند کے فوجی سربراہ مقرر کرتے تھے۔ لیکن بھٹو صاحب نے اپنی طاقت اور اقتدار پر اس گرفت کو، نیز چاروں صوبوں میں یکساں عوامی حمایت کو اپنی ذاتی آمریت میں بدل کر رکھ دیا، تا آں کہ وہ وقت بھی آگیا جب ان کے ہاتھ میں کچھ نہ رہا۔ ان کے عروج کے دور کے لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھٹو صاحب اس پوزیشن میں آ چکے تھے کہ اقتدار ان کے سامنے کامل سپردگی کے ساتھ ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔

گزشتہ سال، پچیس جولائی کو اقتدار حاصل کرنے والے عمران خان صاحب کی حکومت کو اب تقریباََ چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ قوم نے ان کی کارکردگی، سمت، ترجیحات اور نتائج دیکھ لیے ہیں۔ الیکشن سے قبل جو سنہرے خواب انہوں نے قوم کو دکھائے تھے، ان کی تعبیر کس قدر حاصل ہوئی، سب کے سامنے ہے۔ آپ نے کئی پی ٹی آئی سپورٹرز کو ان سے شکوہ کناں اور مایوس ہوتے دیکھا ہوگا۔ یہ مایوسی فطری ہے، جس کا اظہار میں نے الیکشن سے قبل بھی کیا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خواب جتنے بڑے دکھائے جاتے ہیں، امیدیں جتنی بللند ہوتی ہیں، مایوسی بھی اتنی ہی شدید ہوتی ہے۔ لیکن بہت کم لوگ اس کی وجوہات جانتے ہوں گے۔ آئیے میں آپ کو اس ناکامی کی دو اہم وجوہات بتاتا ہوں۔

اوّل: نیم کے بیج سے آم کا پودا اگانے کی کوشش: سب جانتے ہیں کہ خان صاحب نے جلدی بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور ہر صورت الیکشن جیتنے کی خاطر، ’الیکٹبلز‘ برانڈ کا کچا پکا مال خرید لیا۔ جب کہ دعویٰ یہ تھا کہ وہ کھرے مال کے بیوپاری ہیں اور رہیں گے۔ پرانی پارٹیوں سے انہی لوگوں کو لے لیا گیا جو پچھلی کئی دہائیوں سے پارٹیاں بدل بدل کر اقتدار میں رہتے چلے آ رہے تھے۔ ایسے لوگوں کا ہدف ہمیشہ سے صرف اور صرف اقتدار ہوتا ہے۔ ملک کی خدمت یا دیانتداری سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ اب آئے روز کوئی نہ کوئی کٹا کھلتا رہتا ہے اور پھر حکومت کا اکثر وقت ایسے افراد کی صفائیاں دیتے گزرتا ہے۔ بھلا جو پیسہ خرچ کرکے، بلکہ انویسٹ کرکے پارلیمنٹ یا وزارت تک پہنچا ہو، کیا وہ اپنا پیسہ، بمع سود واپس نہ لے گا؟ یہاں پہنچ کر، یہ مفروضہ بھی غلط ثابت ہوا کہ اگر اوپر والا (یعنی پارٹی سربراہ) درست ہو تو باقی بھی درست ہو جاتے ہیں۔ (حالانکہ پارٹی کے اندر، جماعت اسلامی کی طرز پر اخلاقی و نظریاتی تربیت کا کوئی مربوط و منظم بندوبست سرے سے موجود ہی نہ ہو) تو پھر ایسے معجزے کی توقع کس بنیاد پر رکھی گئی تھی؟ یہ اپنی جگہ ایک اہم سوال ہے جو اب بھی ویلڈ ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر : بھارت اب پاکستان پر دعویٰ کرنے والا ہے- میر افسر امان

دوئم: مشروط اقتدار: یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ سول بالادستی کی جو چھڑی قوم سے بھٹو صاحب کے جانے کے بعد چھینی گئی تھی، وہ اب تک اسے واپس نہیں ملی۔ لہٰذا، بادشاہ گروں کو سسٹم چلانے کے لیے چہرے درکار ہوتے ہیں۔ پرانے چہرے اگر بدنام ہو جائیں تو نئے چہرے متعارف کروانا مجبوری بن جاتی ہے تا کہ ’اسٹیٹسکو‘ بحال رہے عوامی غیض و غضب کا رخ وقتاََ فوقتاََ موڑا جاتا رہے۔ چلتے نظام کو چلانا اور پرانے نظام کو جاری و ساری رکھنا بہت سے حلقوں کی مجبوری ہے۔ کیوں کہ ملکی اقتدار پر ان کی گرفت کی ضمانت اور خود ان کی اپنی بقا کا راز اسی میں پنہاں ہے۔ ہوا یہ کہ سرِدست کوئی دوسرا چہرہ موجود نہیں تھا۔ بارات آئی ہوئی تھی۔ لڑکے والے کسی بات پر ناراض ہو کر واپس جا چکے تھے۔ دلہن کے باپ نے وہیں پر آئے ہوئے مہمانوں ہی میں سے ایک نوجوان کو پکڑا اور نکاح کے لیے تیار کر لیا۔ لڑکا بھی حیرن، مہمان بھی پریشان۔

خان صاحب کے ساتھ بھی کچھ اسی طرح ہوا۔ وہ اور ان کی ٹیم اقتدار کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھی۔ لیکن شریفوں کی مسلسل ضد کی وجہ بیک ڈور مذاکرات ناکام ہوگئے۔ بارات واپس چلی گئی۔ مجبوراََ خان صاحب کو فوراََ نہلا دھلا کر دولھا بنا کر اقتدار کے ساتھ بیاہ دیا گیا۔

اب حالت یہ ہے کہ ان کے پاس جو حکومت ہے وہ دراصل مشروط، محدود اور ڈھلمل ہے۔ وہ کوئی بڑا قدم اٹھانے کی پوزشین میں نہیں کیوں کہ ان کی کرسی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔

خان صاحب! اگر آپ واقعی ملک و قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ کر گزریے جو پچھلے حکمران نہ کر سکے۔ پولیس کو بندے دے پتر بنائیے، عدل کا بول بالا کیجیے، عدلیہ نامی ’رضیہ‘ کو غنڈوں سے آزاد کروائیے، سول سپرمیسی اور عوام کی حاکمیت بحال کیجیے، جاگیرداروں اور مافیاز کے خلاف ڈٹ جائیے اور وہ سب کر ڈالیے جن کا وعدہ آپ الیکشن سے قبل عوام سے کیا کرتے تھے۔ یوں آپ عوام کے دلوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جائیں گے ورنہ صدرفضل الٰہی، محمد خان جونیجو اور میر ظفراللہ جمالی جیسے حکمرانوں کی لسٹ میں شامل ہونے کے لیے تیار رہیے۔ یاد رکھیے، کہ معاملات اسی ڈگر پر چلتے رہے جس پر پچھلے چھ ماہ سے چل رہے ہیں تو یہ آپ کا آخری چانس ہوگا، قوم بھول کر بھی آپ کو دوسرا موقعہ نہ دے گی۔

اور اگر آپ کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں، آپ کی زبان بندی کی جائے، آپ کے ہاتھ پاؤں باندھے جائیں تو ایسے اقتدار اور ایسی کلرکی کو جوتے کی نوک پر رکھ اُڑا دیجیے، عوام میں واپس آ جائیے اور ایسی بھرپور قوت کے ساتھ دوبارہ حکومت بنائیے کہ’ کسی‘ کی منت سماجت نہ کرنی پڑے، اور نہ یہ خوف ہو کہ آپ کی کرسی کی ایک ٹانگ کھینچ ڈالی جائے گی۔