پالتو کتا کا رکھنا جائز ہے؟ ایک صاحب علم کی ایمان افروز تحریر - مفتی منیب الرحمن

گزشتہ سال امریکہ کے سفر کے دوران میں نے ڈی این اے کو حتمی اور قطعی حجت قرار دینے والوں کے لیے امریکی اور جرمنی عدالتوں کے فیصلے پیش کیے کہ اس میں غلطی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہاں یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ ڈی این اے میں کسی شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس کی قطعیت پر یقین لازمی ہے۔ میں نے انہی صفحات پر ’’علم نبوت کی کرنیں‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا تھا اور اس میں نبی کریم ﷺ کی اُن احادیثِ مبارکہ کا حوالہ دیا تھا، جن کی آج سائنس تصدیق کر رہی ہے۔ اُس کالم میں، میں نے کتے کے لعاب کی ناپاکی اور شکار کے لیے رکھنے کے جواز پر بات کرتے ہوئے لکھا تھا: بعض ماہرین کہتے ہیں: ’’شکار کے پیچھے تیزی سے بھاگتے ہوئے کتے کا لعاب خشک ہوجاتا ہے‘‘۔ بعد میں ایک صاحب نے مجھ سے سوال کیا: ’’اہلِ مغرب بکثرت کتے پالتے ہیں، وہ کتے انہیں چاٹتے بھی ہیں ،اینمل پلینٹ میں بھی اس کے مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں، وہ کتے کو صاف ستھرا رکھتے ہیں، میڈیکیٹڈ خوراک دیتے ہیں، خصوصی ویکسینیشن کرتے ہیں، تو اس کی بابت کیا کہیں گے‘‘۔ ظاہر ہے : ایک مسلمان کا شعار یہی ہونا چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کے احکام کو بلا چون وچرا تسلیم کرتے ہیں، اگر اُن کی حکمت ہماری سمجھ میں آجائے تو یہ ہماری عقل کی سعادت ہے اور نہ آئے تو یہ ہماری عقل کی نارسائی ہے، وحی ربانی اور صاحبِ وحی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے فرامین کل بھی حق تھے، آج بھی حق ہیں اور قیامت تک حق رہیں گے۔ تاہم میں نے امریکہ میں ایک مایۂ ناز اسپیشلسٹ ڈاکٹر صاحب سے رابطہ قائم کیا، جو اپنے شعبے میں انتہائی نامور ہیں اور ان کا قرآن وحدیث کا بھی وسیع مطالعہ ہے، چنانچہ میں نے اُن سے عقلی اور سائنسی وجوہ کی بابت رہنمائی طلب کی، ان کا یہ ایمان افروز جواب پڑھیے:

’’میرا بنیادی عقیدہ اور طرزِعمل دو چیزوں پر منحصر ہے، ایک یہ کہ جو میں سوچ رہا ہوں یا کہہ رہا ہوں یا کر رہا ہوں، وہ میرے ایمان سے کیا تعلق رکھتا ہے اور اس پر کیا اثر کرسکتا ہے۔ دوسری یہ کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا: و ہی حتمی، قطعی اور کافی و شافی دلیل ہے، اس پر کوئی مزید دلیل طلب کرنا ذوقِ ایمانی کے منافی ہے، خواہ وہ دلیل عقلی مسلّمات، تجربے اور مشاہدے پر مبنی ہو۔ میں اپنے حلقۂ احباب میں بھی انہی باتوں کی تلقین کرتا رہتا ہوں۔ سائنس کو دین کی اساس یا ثبوت بنانا خطرے سے خالی نہیں ہے، کیونکہ سائنس اور انسانی تجربات حالات اور وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، مگرقرآن نے جس دینِ کامل کا اعلان کیا ہے، اس میں قیامت تک تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا اور اس پر یقین مسلمان ہونے کی کسوٹی ہے۔

میں اس سلسلے میں اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں، آج سے تقریباً چالیس سال قبل امریکہ میں میری ایک مصری مسلمان سے واقفیت ہوگئی، اس نے مجھے کھانے کی دعوت پر اپنے گھر بلایا، میں جب وہاں پہنچا تو میرے سوا کوئی اور مہمان نہیں تھا۔ جب کھانا میز پر لگ گیا تو میں نے اپنی عادت کے مطابق اس سے دریافت کیا کہ یہ گوشت کیسا ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ میں بالعموم اہلِ عرب کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط نہیں برتتے تھے، غالباً یہ طویل یورپین غلامی کا نتیجہ ہے۔ اس نے بڑے آرام سے جواب دیا کہ یہ Ham (سور کا گوشت) ہے۔ میرے دل و دماغ میں اشتعال پیدا ہوا، مگر میں نے بڑے تحمل سے کہا: میں اسے نہیں کھا سکتا، کیونکہ یہ مسلمان کے لیے حرام ہے۔ اس مصری نے مجھ سے کہا: ’’میں بھی تو مسلمان ہی ہوں اور عربی بھی خوب جانتا ہوں۔ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں پر خنزیر حرام کردیا گیا تھا، کیونکہ اس میں بہت سی بیماریاں تھیں، مگر اب تو سائنسی ترقی کے سبب پالتو سوروں کو اُن بیماریوں سے پاک کر دیا گیا ہے اور امریکی حکومت سور کے گوشت کی باقاعدہ تحقیق کر کے سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے، سور کا وہی گوشت بیچا جاسکتا ہے جو مضرِصحت نہ ہو۔ اس عرب بھائی نے کہا: میں کافی عرصے سے سور کھا رہا ہوں اور مجھے کوئی بیماری نہیں لگی‘‘۔

الغرض میں کھانا کھائے بغیر اس مصری کے گھر سے واپس چلا آیا، اس کے بعد میری اس سے کبھی ملاقات نہ ہوئی، مجھے تو اب اس کا نام بھی یاد نہیں، مگر یہ سانحہ میرے ذہن میں آج بھی ایسے ہی تازہ ہے، جیسے ابھی واقع ہوا ہو۔ پس حلال کیا ہے، حرام کیا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ نے جو کچھ فرما دیا، وہ حرفِ آخر ہے، ہمارے لیے وہ حتمی کسوٹی ہے، اس کی بابت بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہیے۔ (نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے، جس چیز کے دینے کو تم پر واجب کیا ہے، اس سے منع کرنے اور جس چیز کو لینے سے تم کو منع کیا ہے، اس کے طلب کرنے ، تمہارے فضول بحث کرنے، بکثرت سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو ناپسند فرمایا ہے۔ (صحیح البخاری:2408)،راقم الحروف)‘‘۔

میں عبادات کے معاملے میں سائنسی یا کسی اور قسم کی اختراع اور دلیل کو قطعاً غلط جانتا ہوں، وہ عبادت ہی نہیں جو رسول اللہ ﷺ کے تعلیم فرمائے ہوئے طریقے سے ایک فیصد بھی ہٹ کر ہو، ایسے ہی میں قطعی حرام اور حلال میں اسی کا قائل ہوں۔ میں دنیاوی معاملات میں سائنس، انسانی تجربات اور حالات سے مکمل فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، بلکہ ان کے استعمال کی تلقین کرتا ہوں۔ عبادات اور قطعی حلال وحرام کے معاملے میں تبدیلی کو اپنی سوچ اور خواہش کی پیروی سمجھتا ہوں اور اس پراس آیت کا اطلاق کرتا ہوں: ’’کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو خدا بنا رکھا ہے۔ (الجاثیہ:23)‘‘ ۔

ایک مسلمان کا عبادات اور قطعی حلال اور حرام کے بارے میں سائنسی ثبوت مانگنا بھی اسی کے تحت آتا ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول مکرم ﷺ کے صریح احکام کے بجائے اپنی عقل اور خواہش کی تسلی چاہتا ہے۔ اُسے اس کی پرواہ نہیں کہ آج کی سائنس اگر کل تبدیل ہوگئی، تو کیا جس سائنسی دلیل کو آج جواز بنایا ہے، کل اس کو ترک کر کے نئی سائنسی دلیل تلاش کرے گا یا اسلام کے حکم کو اس کے مطابق تبدیل کردے گا۔ میں ایک ماہر امراضِ چشم ہوں اور ہمارے شعبے میں سائنسی تحقیق اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کہ جو میں آج سے چند سال قبل کرتا تھا، آج نہ وہ اوزار، نہ وہ مشینیں اور نہ وہ دوائیاں استعمال ہو رہی ہیں اور چند سالوں میں یقینایہ بھی قصۂ پارینہ ہوجائیں گی، سائنس کے ہر میدان کا یہی حال ہے، سو سائنس ایک ایسے دین کی کسوٹی یا دلیل نہیں بن سکتی جس کی خصوصیت اِکمال و اِتمام و دوام یعنیPerfection ،Completion اور Eternity ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا مسلمان دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں؟ پروفیسر جمیل چودھری

کسی بھی چیز پرماہرانہ رائے دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص اُس چیز کی انواع و صفات کا عالم ہو۔ کتے کی انواع تو سب کو معلوم ہیں، مگر آپ کے سوال کے جواب کو مفید تر بنانے کے لیے بہتر ہوگا کہ کتے کی صفات کا اسلامی نقطہ نگاہ سے ذکر کر دوں۔ اس لحاظ سے احادیثِ مبارکہ اور اسلامی روایات کی روشنی میں کتے کے چند حوالے میرے ذہن میں آتے ہیں:

(۱) ایک کتا پیاس کی شدت سے ہلکان ہو رہا تھا ، ایک گناہگار شخص اورایک فاحشہ عورت نے اس کو سخت پیاس کی حالت میں پانی پلا دیا، تو اللہ غفور ورحیم نے اس کو بخش دیا۔ حدیثِ مبارک میں ہے: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (پچھلی امتوں میں )ایک شخص راستے پر پیدل جا رہا تھا، اس کو شدید پیاس لگی، اس نے ایک کنواں دیکھا، وہ اس میں اترا اور پانی پی کر باہر آیا۔ پھر اس نے ایک کتا دیکھا، پیاس کی شدت سے اس کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی اوروہ (اپنے جگر کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے) کیچڑ کو چوس رہا تھا۔ اس شخص نے (دل میں ) سوچا: اس کتے کو بھی اتنی ہی شدید پیاس لگی ہے جتنی (تھوڑی دیر پہلے) مجھے لگی ہوئی تھی، پھر وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھرا، پھر اس موزے کو اپنے منہ سے پکڑا (اور کنویں سے باہر آکر) اس کتے کو پانی پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل کی قدر افزائی فرمائی اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا ہمارے لیے ان جانوروں میں بھی اجر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! ہر تر جگر والے (یعنی ذی حیات کو راحت پہنچانے) میں اجر ہے، (بخاری:6009)‘‘۔ نیز ایسا ہی ایک واقعہ صحیح البخاری: 3321 میں ایک فاحشہ عورت کے حوالے سے مذکور ہے کہ پیاس سے بلکتے ہوئے کتے کو پانی پلانے سے اس کی مغفرت ہوگئی۔

دوسرا کتا وہ ہے جو شکار کرنے، مویشیوں، کھیتی باڑی اور گھر بار کی حفاظت کرنے میں انسان کا مدد گار ہوتا ہے۔ تیسرا وہ کتا جس کو رسول اللہ ﷺ نے شیطان کہا ہے اور مارنے کا حکم فرمایا: ’’کالے سیاہ کتے کو مارو جس کی آنکھ پر دو نقطے ہوتے ہیں، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (مسلم: 1572)‘‘۔ چوتھا اصحابِ کہف کاوہ خوش نصیب کتا جس کاسورۃ الکہف آیات: 19 و 22 میں مختلف انداز سے نو مرتبہ ذکر آیا ہے۔ اسی کی بابت شاعر نے کہا:


پسرِ نوح با بداں بنشست

خاندان نبوتش گم کرد

سگِ اصحابِ کہف روزے چند

پئے نیکاں گرفت، مردم شد


ترجمہ:’’حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بُروں کی صحبت اختیار کی، تو خاندان نبوت کی نسبت سے محروم ہوگیا، کیونکہ قرآن نے کہا: (ترجمہ:)’’اے نوح! وہ تمہارے اہل سے نہیں ہے، اس کے کرتوت برے ہیں، (ہود:46)‘‘، جبکہ اصحابِ کہف کے کتے نے چند روز صالحین کے قدموں میں بسر کیے تو باکمال ہوگیا ( کہ قرآن میں اس کا ذکر بار بار توصیفی انداز میں آیا)۔ علامہ عبدالرحمن جامی نے کہا:


سَگَتْ را کاش جامیؔ نام بُودے

کہ آید بر زبانت گاہے گاہے

ترجمہ:’’کاش آپ کے کتے کا نام جامی ہوتا تو جب کبھی آپ اپنے کتے کو بلاتے تو میرا نام جامی آپ کی زبانِ مبارک پر آجاتا (اور یہ میرے لیے سعادت ہوتی)‘‘۔ شیخ سعدی، امام احمد رضا قادری اور مولانا محمد قاسم نانوتوی کے کلام میں بھی رسول اللہ ﷺ سے اظہارِ عقیدت ومحبت اور رشتۂ وفا کو ظاہر کرنے کے لیے کتے کا استعارہ موجود ہے۔

آپ کے استفسار سے مجھے یہی لگتا ہے کہ آپ کا سوال شوقیہ طور پر کتا پالنے کی طرف ہے اور عموماً سوالات اور مباحث اس کے متعلق اٹھتے ہیں، کیونکہ مغربی تہذیب کو اپنانے کا رجحان دن بدن مسلمان ملکوں میں بھی بڑھ رہا ہے ،میں شوقیہ کتا پالنے کو سخت حرام اور گناہ جانتا ہوں ،اگر علماء اور دینی رہنمائوں نے اس میں کسی بھی بنا پر ڈھیل دینی شروع کردی تو شوقیہ کتا رکھنا اتنا عام ہوجائے گا کہ مسلمانوں کے دل سے اس کے گناہ ہونے کا تصور ہی نکل جائے گا، وہی ہوگا جو مسلمانوں نے داڑھی کا حال کر رکھا ہے، بلکہ احکامِ شریعت پر مضبوطی سے کاربند رہتے ہوئے عوام کو اس کی ممانعت کے شرعی احکام بتائے جائیں، اس کے لیے سائنسی دلائل دینے سے اجتناب کریں۔ تاہم علماء کے لیے سائنسی دلائل کا جاننا مفید ہے، کیونکہ انہیں ہر طرح کی ذہنی سطح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، ان دلائل کو کتا پالنے کی ممانعت کی دلیل کے طور پر تو استعمال نہ کیا جائے، تاہم ان کو بیان کر کے شوقین مزاج لوگوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی جاسکتی ہے، جس کی اساس یہ احادیثِ مبارکہ ہیں:
’’حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں ،جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کی حفاظت کر لی اور جو شخص شبہات میں ملوث ہوگیا، وہ اس چرواہے کی طرح ہے جو شاہی چراگاہ کے گرد اپنے مویشی چراتاہے، خدشہ ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائیں گے، سنو! ہر بادشاہ کی ایک ممنوع چراگاہ ہوتی ہے ،سنو! اس زمین میں اللہ کی ممنوع چراگاہ اس کے حرام کیے ہوئے کام ہیں، سنو! جسم میں گوشت کا ایک ٹکرا ہے، جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اور جب اس میں فساد ہو تو پورا جسم فاسد ہوجاتا ہے ،سنو ! وہ دل ہے، (بخاری:52)‘‘۔(2) ’’ حضرت سعد بیان کرتے ہیں : نبی ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی زمین میں طاعون کی خبر سنو تو اس زمین میں مت داخل ہو اور جب کسی سرزمین میں طاعون کی وبا پھیل چکی ہو اور تم وہاں پرموجود ہو، تو وہاں سے نہ نکلو، (بخاری:5728)‘‘۔ طاعون زدہ بستی سے نکلنے کی ممانعت کی حکمت یہ ہوسکتی ہے کہ اس بیماری کے جراثیم سے باہر کے لوگ محفوظ رہیں ، نیز موت تو اُسے ہی آئے گی جس کی اجل آچکی ہے ،لیکن مرنے والوں کی تجہیز وتکفین ، جنازہ اور تدفین اُن کی ذمے داری ہے جو زندہ رہ جاتے ہیں،احتیاط کا حکم تو قرآنِ کریم میں بھی ہے : ’’اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو ،بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (البقرہ:195)‘‘

جسمانی لحاظ سے تو اس کا مطلب ہوگا کہ خود کشی مت کرو اور روحانی اعتبار سے اس کا ایک مفہوم حضرت ابو ایوب خالد بن زید نے بیان فرمایا:’’ مسلمان نقصان دہ چیزوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرے‘‘، یعنی ایسی چیزوں میں ارادتاً نہ پڑے جو نقصان پہنچاتی ہیں ، شوقیہ کتا پالنے میں احتیاط انسان کوممکنہ خطرات سے محفوظ رکھتی ہے ۔ آپ نے بتایا کہ کتے کے شکار کا حلال ہونا بعض ماہرین کی رائے میں اس لیے ہے کہ شکار کے وقت کتے کا لعاب خشک ہوجاتا ہے ،مجھے یہ قبول کرنے میں بہت ہچکچاہٹ ہے۔ میرے اور ہر مسلمان کے لیے اتنا کافی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کے شکار کو جائز کہا اور اللہ تعالیٰ نے کتے کو مُکَلِّبِیْن (شکاری جانوروں)میں شامل فرمایااور قرآنِ کریم میں اس کا وصف تربیت یافتہ یا سِدھایا ہوا بتایا ہے، فقہ میں اس کی شرائط کا تفصیلی بیان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

میرا معیارِ عقیدت تو یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہوتا :’’ کتے کے منہ میں چمچہ ڈال کر اسے چاول کھلاؤ‘‘، تو میں ایسا ہی کرتا، گو میں خود سائنس دان ہوں، کیونکہ جو ہستی مخصوص لوگوں کے لیے اونٹوں کا پیشاب پینے کوذریعہ شفا بناسکتی ہے،وہ چاہے توکتے کے لعاب کے متعلق بھی کہہ سکتی ہے، لہٰذا کتے کا شکار فقط اس لیے جائز ہے کہ اس ہستی نے ایسا کہہ دیا اوربس!۔ماہرین کا یہ کہنا کہ شکار کرنے کے وقت کتے کا لعاب خشک ہوجاتا ہے، ایسے دلائل پر بحث علماء تک ہی محدود رہنی چاہیے ، عوام کواس میں مبتلا کرنے سے وہ ذہنی انتشار کا شکار ہوسکتے ہیں، چنانچہ حضرت علی نے فرمایا:’’لوگوں سے (صرف) ایسی احادیث بیان کرو ، جن کو وہ سمجھ لیں، کیا تم یہ پسند کروگے کہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی جائے، (بخاری:127)‘‘۔

اب میں ان باتوں کی طرف آتا ہوں جو علماء اگر چاہیں تو لوگوں کو ممانعت کی دلیل کے طور پر نہیں، بلکہ محتاط رہنے کی غرض سے بتا ئیں۔ اولاً تو کتے سے کئی لوگوں خاص کر بچوں کوحساسیت یا الرجی یا Reaction ہوجاتا ہے اور اس سے اور بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، مثلاً : دمہ وغیرہ اور کتا اگرگھر کے اندر ہے تو ہر جگہ حتی کہ باورچی خانہ تک میں اس کے بال بکھر جاتے ہیں۔ کتا مختلف مہلک بیماریوں کا باعث بنتا ہے ،بلکہ بہت سی بیماریوں کے جرثومے کے لیے اسٹاک کا کام دیتا ہے،یہ جرثومے اس کے لعاب، پیشاب وپاخانہ کے ذریعے انسانوں میں داخل ہوتے ہیں، مثلاً فیتہ کیڑے کی ایک بیماری (Coenurosis) انسانوں میں ایسے پھیلتی ہے کہ کتے کا پاخانہ مٹی میں مل جاتا ہے اور اس مٹی میں بچے کھیلتے ہیں تو وہاں سے فیتہ کیڑے کے انڈے ان کے دماغ اور آنکھوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔کالے بخار (Kala Azar) کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا، اس کا ذخیرہ (Reservoir) بھی کتا ہے۔ ایک دفعہ ہندوستان کی ریاست بہار میں یہ بیماری ایک لاکھ آدمیوں کو لاحق ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے 4000 اموات ہوئیں۔میں نے خود بھی بچوں میں آنکھوں کی بیماری کئی بار دیکھی جو کبھی اندھا کردیتی ہے، اس کو Taxocara کہتے ہیں اور چونکہ یہ کتوں سے پھیلتی ہے، اس لیے اس کا نام [english] Taxocana Canis یعنی کتوں کا Taxo Cara رکھ دیا گیا ہے۔

ایک اور بیماری ایسی ہے جس میں آنکھ، دماغ ، پھیپھڑے اور دوسرے جسمانی حصوں میں چھوٹے چھوٹے غباروں کی طرح کی خطرناک Cysts بننی شروع ہوجاتی ہیں اور ان اعضاء کو تباہ کردیتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے لیے مشکل یہ بھی ہے کہ اگر ایک Cyst کو نکالنے کے دوران اس کی دیوار پھٹ جائے تو درجنوں اورقسم کے Cyst مریض کے جسم میں پھیل جاتے ہیں ۔ میں نے آنکھ کے اندر ایک بیماری Echinococcosis کی بابت پاکستانی ڈاکٹروں کی معلومات کے لیے ایک آرٹیکل بھی لکھا تھا، اس کا دوسرانام [english] Hydatidcyst بھی ہے اور بھی کئی بیماریاں کتے سے پیداہوتی ہیں، جن میں سے سب سے مشہور Rabies ہے جو کہ انتہائی خطرناک اور مہلک بیماری ہے۔ اس کا تعلق کتے سے اتناقریب ہے کہ عربی میں اس کا نام ’’دَائُ الْکَلْب ‘‘ اور فارسی میں ’’ جنونِ سگ گزیدگی ‘‘ہے، پاکستان میں یہ ہلکائو یا باولے پن کے نام سے موسوم ہے۔بعض کتے یک دم اور بلا وجہ بہت ظالم اور وحشی ہوکر انسانوں پر حملہ کردیتے ہیں،ایسے میں وہ بعض اوقات تو اپنے مالک اور اس کے بچوں تک کا خیال نہیں کرتے ،میں نے ایسے بہت سے واقعات کا مشاہدہ کیا ہے جن میں کتے نے گھر کے بچے پر وحشیانہ حملہ کرکے چہرے کو ایسے چیر پھاڑ دیا کہ گھنٹوں کی جراحی کے بعد بھی اس کو بالکل صحیح نہ کیا جاسکا۔ میں نے ایک ایسے بچے کو دیکھا جو کہ میرے ہسپتال کی ایک نرس کا بیٹا تھا، مجھے اس پر چار گھنٹے کے قریب جراحی کرنی پڑی اور تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب ٹانکے لگانے پڑے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کے لوگوں کو شوقیہ کتے پالنے کی وبا سے محفوظ رکھے ۔ اگر میری اس تحریر کا مطالعہ کرنے کے بعد بھی آپ کے ذہن میں کوئی اشکال باقی ہو ،تو مجھے لکھیں‘‘۔

یہ میں نے اس لیے لکھا :یہ کسی مولوی یا مفتی کی تحریر نہیں ہے ،بلکہ ایک ایسے ماہر سائنس دان اور سرجن کی تحریر ہے ،جس نے امریکہ میں طب کے میدان میں نام پایا ہے ،اُن کے بے شمار تحقیقی مضامین طبی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں اور آنکھ کے علاج کا ایک ڈاکٹرائن اُن کے نام سے موسوم ہے ۔لیکن ان کا تفسیر وحدیث کا مطالعہ بہت وسیع ہے اور ڈاکٹر صاحبان اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنلز پر مشتمل اُن کا حلقۂ درس بھی ہے ،ایسے ہی لوگوں پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے:


خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا ،خاکِ مدینہ ونجف

جس کی بصیرت اور بصارت نے خاکِ مدینہ سے فیض پایا ہو ، اُسے مغربی تہذیب کی چکاچوند مرعوب نہیں کرسکتی ، وہاں کی تہذیبی بربادی کا وہ کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے رہتے ہیں اوراس سے قرآن وسنت اور دینِ اسلام کی حقانیت پر اُن کا ایمان اور مضبوط ہوتا ہے ،جب کہ ہم یہاں بیٹھے اُن سے مرعوب ہوتے رہتے ہیں ۔ کاش ! جس طرح ہمارے اَسلاف نے ماضی میں فلسفۂ یونان کا مطالعہ کیا، اُس کی گہرائی میں اترے اور پھر اُسی کے اصول وضوابط کو استعمال کرتے ہوئے اس کا رد کیا۔ آج بھی ہمیں چاہیے کہ دہشت گردی کی ملامت سے نکل کر علم کے ہتھیار کو استعمال کریں اور ایمان وایقان کو اپنی روحانی طاقت بنائیں ،علامہ اقبال نے کہا تھا:


خودی کا سرِّ نہاں، لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغ ،فَساں لا الہ الا اللہ

ترجمہ:خودی کا راز ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ میں پوشیدہ ہے ،خودی یعنی توحید پر ایمان تلوار ہے اور لا الٰہ الا اللہ پر ایمان اس کی دھار ہے اور مولانا حسن رضا خان نے کہا ہے:


وہاں کے سنگ ریزوں سے، حسن کیا لعل کو نسبت

وہ ان کی رہگزر میں ہیں، یہ پتھر ہیں بدخشاں کے