تحریک حریت جموں و کشمیر ۲۰۱۹ء کا کیلنڈر - سہیل بشیر کار

کوئی بھی ایسا گھر نہیں جس میں کیلنڈر نہ پایا جاتا ہو۔ روز مرہ کی جو چیزیں ہر گھر میں پائی جاتی ہیں ان میں ایک کیلنڈر بھی ہے۔ کیلنڈر کا استعمال زمانہ قدیم سے کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلا کیلنڈر قریب دس ہزار سال پہلے بنایا گیا جو کہ شمسی تقویم پر مشتمل تھا۔ حبیب الرحمٰن خان صابری لکھتے ہیں: ’’ معاشرتی ضرورتوں اور مذہبی رسموں کو سامنے رکھ کر دنوں کو زمانوں میں متحد کرنے یا سائنسی احتیاجوں میں ہفتوں، مہینوں اور برسوں کو مجتمع کرنے کے طریقہ کو تقویم کہتے ہیں۔ البتہ مصر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پہلی بار شمسی کیلنڈر کی تشکیل کی۔کلنڈر کی ضرورت ہر فرد کو پڑتی ہے، ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے اہم واقعات کا ریکارڈ محفوظ رکھے۔ اپنے حال اور مستقبل کے ارادوں کی اچھے سے منصوبہ بندی کی بات ہو یا مذہبی عبادات کی ادائیگی کا معاملہ ہو ،دنوں اور مہینوں کے حساب کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے۔ ہرگھر اور روزانہ استعمال کے سبب کلینڈر کی اہمیت اور افادیت اور زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اسی اہمیت نے کلینڈر کو فروغ اور آمدن کا ایک کامیاب وسیلہ بھی بنا دیا ہے۔ مختلف کاروباری ادارے اپنے کاروبار کے فروغ کے لیے کیلنڈر چھاپتے ہیں۔ ادھر کچھ عرصہ سے مذہبی، غیرسرکاری رضاکار تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں بھی کیلنڈر کی اشاعت کرتے رہتے ہیں، تاکہ یہ کلنڈر ان کے اپنے مقاصد کی تکمیل میں معاون ثابت ہو سکے۔ سال نو کی آمد سے پہلے ہی کیلنڈر کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور مختلف کانسپٹ کو مختلف ادارے اپنے کلینڈر کے ذریعے لوگوں کے سامنے لانے کی گاہے کامیاب اور گاہے ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اب تو مختلف اداروں، تنظیموں اور کاروباری اداروں نے اتنے کیلنڈر شائع کرنے شروع کیے ہیں کہ لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ انہیں کہاں آویزاں کریں۔

یوں تو راقم کی نظر سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری کیلنڈروں پر پڑی۔ تاہم تحریک حریت کا کیلنڈر دیکھ کر خوش کن احساس دل میں پیدا ہوا۔ تحریک حریت کا قیام ۷ اگست ۲۰۰۷ء میں ہوا۔اپنے بلند قامت موسس جناب سید علی شاہ گیلانی کی وجہ سے پہلے دن سے ہی یہ تنظیم سماج کے ہر طبقہ میں اپنا اثر بنانے میں کامیاب رہی۔ یہ تنظیم ہمہ جہت کام کرتی ہے، دعوتی، اصلاحی، علمی، سماجی خدمت اور سیاسی میدان میں بھی۔ اس تنظیم نے جہاں روز اول سے کشمیر کے لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے، وہی اس تنظیم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ علمی بنیادوں پر بھی قابل قدر کام کر رہی ہے۔مذکورہ تنظیم نے اس سلسلے میں کئی اچھی اور معیاری کتابیں بھی خوبصورت طباعت کے ساتھ شائع کی ہیں جن کی علمی دنیامیں کافی پذیرائی ہوئی۔گزشتہ کئی سالوں سے تحریک حریت اپناکیلنڈر شائع کرتی آرہی ہے۔اس سال بھی انہوں نے کیلنڈر شائع کیا۔ کیلنڈر کو اعلی پیپر پر شائع کیا گیا ہے۔ ہر صفحہ پر قرآنی آیت کے ترجمہ کے علاوہ ایک خوبصورت کوٹیشن کو جگہ دی گئی ہے۔ کیلنڈر میں شمشی ماہ اور تاریخ کے ساتھ ساتھ قمری ماہ اور تاریخ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس سے امت مسلمہ کو کافی فائدہ مل سکتا ہے۔

کیلنڈر میں ہر اسلامی تہوار کا بھی ذکر ملتا ہے۔ مذکورہ کیلنڈر کی خاص بات یہ ہے کہ بہت سی اسلامی شخصیات کے یوم پیدائش اور یوم وفات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی رواں تحریک کے دوران پیش آئے تاریخی واقعات کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ ۲۷ اکتوبر کی تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ اس تاریخ کو ہندوستانی فوج کشمیر میں وارد ہوئی۔ ۵ فروری کا ذکر بطور یوم یکجہتی آپ کو ملے گا۔ کلنڈر میں کئی ایسے شہداء کے یوم وفات کا حوالہ دیا گیا جو کہ رواں تحریک میں شہید ہوئے،جیسے11 فروری کی تاریخ کے تحت درج ہے یوم شہادت شہید محمد مقبول بٹ۔ اسی طرح 9 فروری کو یوم شہادت محمد افضل گورو۔ 8 جولائی کو یوم شہادت برہان وانی۔ کیلنڈر میں ہندوستان میں منائے جانے والے تہواروں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ حکومت کشمیر کی طرف سے نوٹیفائڈ تعطیلات کو بھی ہائی لائٹ کیا گیا ہے۔ اس کیلنڈر کے ہر صفحہ پر میقات الصلوۃ بھی آپ کو ملے گا۔ اس سے کشمیر کے مسلمانوں کو بالعموم اور خواتین کو بالخصوص صحیح نماز کا وقت جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔ الغرض یہ کیلنڈر کشمیر کے حوالے ایک طرح کاتاریخی دستاویز ہے۔

مستقبل میں کیلنڈر میں بہتری لانے کے لئے چند گزارشات پر عمل کیا جائے تو کلنڈر اور بہتر،دیدہ زیب اورمعلوماتی ہوسکتا ہے، جیسے:
ہر صفحہ میں جو کوٹیشن ہے اس کو ہٹا دیا جائے اس سے اہم تر مواد جلی حروف میں نظرآئیں گے۔ اسی طرح بہت سے اہم واقعات درج ہونے سے رہ گئے ہیں مثلاً کنن پوشپورہ واقعہ، گاو کدل قتل عام، سوپور قتل عام وغیرہ،اسی طرح بہت سی اہم شخصیات کے یوم شہادت کو بھی لکھنے کی ضرورت ہے چاہیے، ان کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو۔ مناسب رہے گا کہ سید مودودی اور سید قطب شہید کے ساتھ ساتھ کیلنڈر میں کشمیر کے اولیاء اور بزرگانِ دین کا بھی ذکر ہو۔ تحریک حریت ہر مکتب فکر کی ایک نمائندہ سیاسی جماعت ہے۔ چند مخصوص شخصیات سے متعلق ایام کا ہی ذکر اگر آپ کو ملے تو محسوس ہوتا ہے کہ تحریک حریت اپنے تعارف اور اپنی نمائندگی کو محدود کر رہی ہے۔ اس تاثر کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ کوشش یہ رہنی چاہیے کہ ہر مکتبہ فکر تحریک حریت کو اپنی نمائندہ جماعت تصور کرے اور تحریک حریت کی طرف سے کسی بھی اجرا شدہ مواد کو اپنا جان کر حاصل کرے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ جو رتبہ کشمیر میں جموں و کشمیر بنک کو حاصل ہے اس کا مقابلہ اب تک کوئی نہیں کر سکا، اس کی بنیادی وجہ چھٹیوں کے بارے میں جموں و کشمیر بنک کا کیلنڈر سب سے زیادہ معتبر تصور کیا جاتا ہے لیکن ایک معتد بہ تعداد لوگوں کی ایسی بھی ہے جو شرعی نقط نظر کی بنیاد پر بنک کیلنڈر رکھنے سے احتراز برتتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ کیلنڈر کا اجرا کرنے والے جو بھی دوسرے ادارے ہیں، وہ تعطیلات کے پہلو کو سنجیدگی سے لیکر سرکاری چھٹیوں کو صحیح سے اپنے کلینڈر میں جگہ دیں۔ راقم کی رائے ہے کیلنڈر شائع کرنے سے پہلے وہ اچھی طرح تعطیلات کی فہرست مرتب کیا کریں۔ حکومت کی طرف سے ہر سال کے اخیر میں آئندہ سال کی تعطیلات کی لسٹ مشتہر کی جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کیلنڈر اس لسٹ کے شائع ہونے کے بعد ہی شائع کیے جائیں۔ بہرحال کیلنڈر کی تیاری میں تحریک حریت کی طرف سے انتہا درجہ کی محنت کی گئی ہے، اس قدر خوبصورت کیلنڈر کو شائع کرنے کے لیے مرتب مبارکباد کے مستحق ہیں۔

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.