لائسنس ٹو کِل! نصرت جاوید

میری نسل کے لوگوں نے جو صحافت سیکھی ہے اس میں ذاتی جذبات کو قابو میں رکھنا لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی آپ کی دی خبر یا لکھا ہواکالم چھپنے سے پہلے چند لوگوں کی نگاہ سے گزرتا تھا۔ وہ سخت گیر منصف کی طرح ہم ایسے رپورٹروں کے بیان کردہ حقائق کا جائزہ لیتے۔’’مبینہ‘‘ کی سہولت ہوتے ہوئے بھی ان سطروں کو کاٹ دیا جاتا جن کے استعمال سے کسی شخص کی بے جواز بدنامی کا امکان ہوتا۔ زبان وبیان کے ضمن میں جذباتی بیان بازی کی بہت درشتی سے دل شکنی ہوتی۔ اصرار ہوتا کہ حقائق کو جیسا کہ وہ نظر آتے ہیں بیان کرنے تک محدود رہا جائے۔

ایسی تربیت کی مشق میں کئی برس گزارنے کے بعد ہمارے ہاں جب ٹی وی چینلز آئے تو ان میں نظر آنے والی صحافت کو ہضم کرنا میرے لئے تقریباََ ناممکن ہوگیا۔یہ دریافت کرنے میں بہت وقت لگا کہ جدید دور کے تقاضے میری جوانی کے ایام سے مختلف ہیں۔ ٹی وی سکرین سنسنی خیز ڈراموں کی طلب گار ہوتی ہے۔ اس کے لئے روایتی خبر لکھنے والا انداز اختیار کیا جائے تو بات نہیں بنتی۔ یہ بھی تسلیم کرنا پڑا کہ ٹی وی سکرینوں پر نظر آتی چیخ وپکار فقط پاکستان تک محدود نہیں۔ نام نہاد مہذب ممالک میں بھی ٹی وی صحافت معاملات کو فٹ بال کی دو ٹیموں کے مابین ہوئے ایک وحشی مقابلے کی صورت پیش کرتی ہے۔ابھی صحافت کے اس چلن کو پوری طرح ہضم نہیں کرپایا تھا کہ سوشل میڈیا آگیا۔ Citizen Journalismنے احتیاط کے سارے بندھن ملیامیٹ کردئیے۔ اسی کی بدولت Fake Newsکی بدعت بھی متعارف ہوئی جس نے دنیا بھر میں بے پناہ افراد کو دیوانہ بنارکھا ہے۔ اسے بھی جدید دور کا تقاضہ گردانتے ہوئے برداشت کرنے کی عادت اپنانے کی کوشش میں مصروف رہتا ہوں۔

ہفتے کی شام مگر اپنے دونوں فون بند کرنے کو مجبور ہوگیا۔پنجاب میں CTDکے چند اہلکاروں نے ’’دہشت گردوں‘‘ کو جس انداز میں نشانہ بنایا اسے برداشت کرنا ناممکن ہوگیا۔ فیس بک، ٹویٹر اور Whatsappکے ذریعے ’’دہشت گردوں‘‘ کے بچوں کی تصاویر اور بیانات میرے لئے ایک لمحے کو دیکھنا بھی ناممکن ہوگیا۔ ٹیلی فون آف کرکے دل دہلا دینے والے واقعہ سے شترمرغ کی طرح ریت میں سردباکرفرارکی راہ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھنے بیٹھا تو کافی دیر تک ہاتھ میں قلم پکڑے سادہ صفحات کے سامنے بیٹھا رہا۔ کوشش تھی کہ پنجاب میں ہوئے واقعہ کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی اور موضوع پر لکھتے ہوئے ڈنگ ٹپایا جائے۔ راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر چسکے دار مواد فراہم کرنے میں بہت فیاض ہیں۔ ان کا ایک بیان تھا جس کی تفصیلات میں جاتے ہوئے ایک نہیں دو تین کالم لکھے جاسکتے تھے۔

مثال کے طورپر وہ چاہتے ہیں کہ بلاول، آصف علی زرداری نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو بنیں۔ان کی اس خواہش کو بنیاد بناتے ہوئے سوال اٹھایا جاسکتا تھا کہ کیاوہ پیپلز پارٹی کے جواں سال رہ نما کو مستقبل کے کسی تارا مسیح کے ہاتھوں پھانسی پر لٹکنے کو تیار کرنا چاہ رہے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی دل کانپ اٹھا۔ اسے باعثِ موضوع بنانا نامناسب لگا۔’’شبھ شبھ‘‘ لکھنے کی خواہش میں یہ بھی یاد آیا کہ موصوف نے نہایت دھڑلے سے یہ پیش گوئی کی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ آئندہ کچھ دنوں میں ہمارے وزیر اعظم عمران خان صاحب سے افغانستان مسئلے کا حل جاننے کے لئے پاکستان آنے کو مجبور ہوجائے گا۔ ان کے اس دعوے نے بخدا ذہن میں کئی مناظر کو فلم کی طرح چلایا۔ یہ بھی خیال آیا کہ گزشتہ چند دنوں سے ہمارے وزیر اعظم بھی امریکی صدر کی طرح اپنے ورکنگ ڈے کا آغاز اپوزیشن کی طعن وتشنیع والے ایک ٹویٹ سے کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس ضمن میں جاری ہوئی ان کی آخری ٹویٹ میں دل موہ لینے والا ایک قدرتی منظر تھا۔

اسے دکھاتے ہوئے عمران خان صاحب نے حیرانی کا اظہا کیا کہ ان کے چند سیاسی مخالفین اپنے نام ECLسے نکلواکر باہر جانے کو بے چین کیوں رہتے ہیں۔ وہ پاکستان میں موجود زندگی کی خوب صورتیوں سے وطن میں رہتے ہوئے لطف اندوز کیوں نہیں ہوتے۔ کاش انہوں نے یہ ٹویٹ اپنی جماعت کے سندھ سے ابھرے ایک اہم رہ نما-لیاقت جتوئی- صاحب کے ECLمیں ہونے کے باوجود غیر ملکی دورے پرروانہ ہونے سے پہلے لکھ دی ہوتی۔ ان کے چہیتے زلفی بخاری کو بھی چند ماہ قبل ECLسے اپنا نام نکلوانے کے لئے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑا تھا۔ بخاری صاحب برطانوی شہری ہیں۔ اپنی زندگی کے زیادہ برس انہوں نے وطن سے باہر بتائے۔ شاید پاکستان میں موجود قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کا وہ اپوزیشن کے کئی رہ نمائوں سے کہیں زیادہ حق رکھتے ہیں۔ ایمان داری کی بات مگر یہ ہے کہ یہاں تک لکھنے کے بعد خود کو ملامت کرتا یہ خیال ذہن میں ابھرا کہ میں ایک تلخ واقعہ کی سنگینی سے توجہ ہٹانے کے لئے یاوہ گوئی سے کام چلارہا ہوں۔

مناسب یہی ہے کہ سرجھکا کر اعتراف کرلیا جائے کہ ’’دہشت گردی‘‘ یا ’’احتساب‘‘ دو ایسے فریضے ہیں جن سے نبردآزما ہونے والے افراد اور اداروں کو انگریزی محاورے والا Licence to Killمیسر ہے۔ ان کے مواخذے کی کوئی راہ موجود نہیں کیونکہ ریاست نے اپنے تئیں ان افراد اور اداروں کو انتہائی اہم اور نیک فریضہ ادا کرنے پر مامور کررکھا ہے۔ مجھ جیسے دو ٹکے کے صحافی ان اہم فریضوں پر مامور افراد کے مواخذے کی ہمت،سکت اور قوت نہیں رکھتے۔ اپنی پریشانی کا اعتراف کرنا مگر واجب ہے۔ بہت دیانت داری سے تسلیم کرتا ہوں کہ ہفتے کے روز پنجاب میں ہوئے واقعات کی سوشل میڈیا کے ذریعے ابھری کہانی نے میرے ذہن کو جکڑ کر مائوف کردیا ہے۔ میں اس کے اداس کن اثر سے خود کو آزاد کرنے کی تمام تر کاوشوں کے باوجود بری طرح ناکام رہا ہوں۔ ماتم گزاری کے سوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا۔ اس دکھ کو مگر خاموش رہتے ہوئے تنہائی میں برداشت کرنا ہوگا۔