وزیرشذیر اور عمار یاسر- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

تلہ گنگ سے عمار یاسر نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ ایسا واقعہ ہے جو برسوں کے بعد ہوتا ہے۔ میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں میرے بڑے بھائی مرحوم پروفیسر محمد اکبر خان نیازی اُن کے معترف تھے ا ور مداح بھی تھے۔ بڑے بھائی کی وفات پر وہ تلہ گنگ گھر پر تشریف لائے تھے۔ ان سے سرسری سی ملاقات ہوئی تھی۔ آج بھی اُن سے بات چیت نہ ہو سکی۔ اُن کے فون آپریٹر کاشف سے بات ہوئی مگر ان کے بقول چودھری صاحب گھر سے باہر نکل گئے تھے۔ دس بجے کے وقت گھر سے باہر وہ کیا کرنے گئے تھے۔ برادرم عمار یاسر چودھری پرویز الٰہی کے لئے اچھے جذبات رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں وزارت کے لئے عمار یاسر کا نام چودھری صاحب نے تجویز کیا ہو گا۔

عمار یاسر ایک جینوئن متوازن مخلص اور دردمند سیاسی ورکر اور لیڈر ہیں۔ ان کا اتنے عرصے سے چودھری صاحبان ا ور ق لیگ میں ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ وہ بہادر آدمی ہیں۔ تلہ گنگ میں ان کی شہرت ایک اچھے اہل اوروفا حیا والے سیاسی لیڈر کے طور پر ہے۔ چودھری پرویز الٰہی ہمیشہ ان کی عزت کرتے ہیں۔ ایسے ہی سیاسی لوگ ہیں جن کی وجہ سے چکوال اورتلہ گنگ میں بات اب تک چودھری صاحبان کی بنی ہوئی ہے۔
اس موقعے پر اُن کی طرف سے استعفیٰ بہت اہمیت کی بات ہے۔ اپنے معاملات میں بے جا مداخلت اور روک ٹوک کو واضح طور پر بیان کرنے کے لئے انہوں نے کسی مصلحت اور ہچکچاہٹ کا اظہار نہیں کیا۔ میں ذاتی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار کے لیے بہت اچھے خیالات اور جذبات رکھتا ہوں تو پھر وہ خود تحقیقات کرائیں کہ آخر وہ حالات اور وجوہات کیا ہیں جو دل والے اور اہلیت والے اچھے سیاسی لوگوں کو وزیراعلیٰ کے قریب نہیں رہنے دینا چاہتے۔ اس حوالے سے کئی سول افسران اور بیوروکریٹس کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کچھ لوگ وزارتوں حکومتوں سے بے نیاز ہوتے ہیں۔

تلہ گنگ میں جو عزت مقام اور احترام میں نے عمار یاسر کے لیے لوگوں کے دل میں دیکھا ہے۔ ا س کا تصور بھی لاہور میں بیٹھے ہوئے لوگ نہیںکرسکتے۔ بہرحال جس جرأت سے عمار یاسر نے استعفیٰ دیا ہے، اس کے لیے محترم المقام وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو غور کرنا چاہئے۔ ان کے آس پاس کے لوگ ان کو جس ا نداز میں گمراہ کر رہے ہیں ا ور ان کے لیے مشکلات پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ آگے چل کر اُن کے لیے پریشانی کا باعث ہونگے۔ بیوروکریسی کی چالوں سے انہیں ہوشیار رہنا چاہئے۔ میں نے ایک دفعہ مذاق میں بیورو کریسی کو بُرا کریسی کہہ دیاتھا۔ میں یہ سن کر خوش ہوا تھا کہ وہ شاید پہلے وزیراعلیٰ ہیں جن کی اہلیہ محترمہ بہت پڑھی لکھی اور دانشور خاتون ہیں۔ وہ کہیں پروفیسر ہیں ۔ وہ علم و دانش کے حوالے سے اچھی شہرت کی حامل ہیں۔ میں برادرم عمار یاسر کے تذکرے میں اُن کا ذکر خیر نہیں کرنا چاہتا۔ مگر میرے لیے یہ ایک خوشگوار حیرت کی بات تھی کہ ایک بہت دورآباد کے علاقے کی خاتون جو وزیراعلیٰ پنجاب کی اہلیہ ہیں، پروفیسر ہیں، باقاعدہ لیکچرز دیتی ہیں۔

مگر ایک بہت اچھے انسان عمار یاسر کا وزیر ہونا پنجاب حکومت اور پاکستان حکومت کا ایک کریڈٹ ہے۔ مگر اب عمار یاسر کا استعفیٰ اتنا ہی بڑا ڈس کریڈٹ ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے جو بیان جاری کیا ہے۔ وہ بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے جو ہمیں سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ مگر شاید ہم نے قومی معاملات میں سوچ و بچار کرنا چھوڑ دیا ہے۔
وہ کون لوگ حکومت کے دفتروں میں بیٹھے ہیں جو کسی بہتر آدمی کو کام ہی نہیںکرنے دیتے۔ بے جا مداخلت کیوں ہوتی ہے۔ ایک آدمی کو وزیر بنایا گیا ہے تو پھر اُسے کام بھی کرنے دیں۔ ا گر اُس نے دفتروں میں بیٹھے ہوئے افسران کی تجاویز کے مطابق کام چلانا ہے تو ا س تکلف کا کیا فائدہ ہے۔ اپنے کام میں کسی روک ٹوک کا ذکر عمار یاسر نے کیا ہے۔ تو یہ روک ٹوک کرنے والے کون ہیں۔ ان دفتری لوگوں کو سب جانتے ہیں مگر تاثر یہ دیتے ہیں کہ جیسے وہ اُن کو نہیں جانتے۔ جب سے پاکستان بنا ہے اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ا س صورتحال کا مقابلہ کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ استعفیٰ دے دیا جائے اور یہ معاملہ اسی طرح چلتے رہنے دیاجائے۔

عمار یاسر جیسے دل و دماغ والا بہادر آدمی کبھی کبھی سیاست میں آتا ہے۔ اصولوں پر استعفیٰ دینا بہت بڑی بات ہے۔ عمار یاسر کا تعلق ق لیگ یعنی چودھری لیگ سے ہے۔ کیا چودھری پرویز الٰہی اپنے ایک دل والے ساتھی کے لئے کوئی سٹینڈ لیں گے۔ ان کو پنجاب حکومت بننے سے بھی پہلے عمران خان نے سپیکر پنجاب اسمبلی بنا دیا تھا۔ اب تک چودھری صاحب یہ خوبصورت اختیارات انجوائے کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بُزدار چودھری صاحب سے کئی معاملات میں مشورہ کرتے ہیں۔ عمار یاسر کے استعفیٰ کے بعد ہم منتظر ہیں کہ چودھری صاحب کا ردعمل کیا ہے۔

اب تک یہ بھی معلوم نہیں ہو رہاکہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا۔ وہ یہ قدم چودھری صاحب کے مشورے کے بغیر نہیں اٹھا سکتے ۔ میں نے فون کیا توعمار یاسر کے نمبر سے کسی نے فون اٹھایا اورکہا کہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے استعفیٰ دیا ہے؟ برادرم فیاض الحسن کا بیان نظر سے گزرا ہے۔ وہ بھی موجودہ حکومت میں وزیر شذیر ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے وزیر شذیر کا لفظ پہلی بار استعمال کیا تھا۔ تو وہ بہت خوش ہوتے تھے۔ ان کی طرف سے شاباش مجھے آج بھی یاد ہے۔ مگر فیاض الحسن اور خاص طور پر عمار یاسر ایسے آدمی نہیں کہ جنہیں وزیر شذیرکہا جا سکے۔