44 سال پہلے! عطا ء الحق قاسمی

ایک زمانے میں مَیں خود کو کالم نگاری کی روایت کے مطابق ’’میں‘‘ کی بجائے ’’ہم‘‘ لکھا کرتا تھا۔ میں نے سوچا لکھتا تو ’’میں‘‘ ہوں، تو پھر ’’ہم‘‘ کون ہوتے ہیں جو خوا مخواہ میری کاوش میں حصہ دار بن جاتے ہیں، تاہم 1970کی دہائی میں لکھے گئے کالموں کے درج ذیل اقتباسات میں مَیں نے خود کو ’’ہم‘‘ ہی لکھا ہے لیکن خدا کی قسم میرے کالموں کے یہ اقتباسات میرے ہی ہیں۔

ناقابلِ انتقال

بسوں اور لاریوں کی ٹکٹوں پر جلی حروف میں’’ناقابلِ انتقال‘‘ لکھا نظر آتا ہے۔ ہمیں اس دعوے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ارباب اختیار سے اتنی گزارش ضرور ہے کہ وہ صرف ٹکٹوں کے سلسلے ہی میں’’ناقابلِ انتقال‘‘ کی گارنٹی نہ دیں بلکہ اس فہرست میں بیچارے مسافروں کو بھی شامل کریں جو سفر کے دوران’’ناقابلِ انتقال‘‘ والی ٹکٹ جیب میں رکھنے کے باوجود آئے روز انتقال کرجاتے ہیں اور یہ لوگ اس بہانے اگلے روز اپنی تصویریں اخباروں میں شائع کراتے ہیں۔ (8دسمبر 1975ء)

بے نیازی

بانو بازار میں انگوٹھیاں، جوتیاں اور چاٹ سب ہی کچھ ملتا ہے لیکن گزشتہ روز ہم نے یہاں اونٹ فروخت ہوتے بھی دیکھا ہے اور حیرت سے آنکھیں ملی ہیں۔ یہ بات ہم بطور لطیفہ نہیں کہہ رہے بلکہ درحقیقت بانو بازار کے نکڑ پر سائیکل اسٹینڈ کے قریب یہ عجیب الخلقت مخلوق رنگ برنگی ریشمی چادروں میں لپٹی کھڑی تھی اور اس کے قریب کھدر کے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ساربان تھا۔ اردگرد سے گزرنے والی خواتین بڑے اشتیاق سے اونٹ کو دیکھتی تھیں اور وہ ان سب سے بےنیاز بیزاری کے عالم میں تھوتھنی آسمان کی طرف اٹھائے کھڑا تھا۔ اگر اونٹ کی عمر طویل ہوتی ہے تو جان لیں کہ اس کی طوالت عمری کی وجہ خواتین سے یہی بے نیازی ہے۔ (11دسمبر 1975ء)

سفید پوش

’’سفید پوش وہ ہے جو ماسی برکتے کے تنور سے کھانا کھا کر نکلے اور فائیواسٹار ہوٹل کے باہر خلال کرتا پایا جائے۔ (20اکتوبر 1975ء)

ش سے شاعر

گزشتہ کرفیو کے دنوں میں ایک شہر میں حالات خاصے سنگین تھے۔ کرفیو کے اوقات میں ایک شاعر کے دروازے پر دستک ہوئی جس پر اس نے گھبرا کر بلکہ ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا تو سامنے ایک شاعر دوست کو کھڑا پایا۔ اس نے بغل میں بیاض دابی ہوئی تھی۔ دروازہ کھولنے والے نے کرفیو کے اوقات میں اپنے اس دوست کو سامنے پایا جس کا گھر بھی دوسرے محلے میں تھا اور جس کے پاس کرفیو کا پاس بھی نہ تھا تو وہ بہت حیران ہوا۔ اس حیرانی کے عالم میں اس نے اپنے اس شاعر دوست سے آمد کا مقصد دریافت کرنا چاہا مگر پیشتر اس کے کہ وہ کچھ کہتا شاعر دوست نے کہا’’ملک صاحب کے ہاں مشاعرے میں نہیں چلنا؟ ‘‘ اس پر اس نے اپنی ہنسی ضبط کی اور پوچھا’’ کیسے چلیں، کرفیو لگا ہوا ہے اور ڈیوٹی پرمتعین فوجیوں کو کسی کو سڑک پر دیکھتے ہی ڈائریکٹ گولی چلانے کا حکم ہے۔‘‘ کوئی ایسی بات نہیں، شاعر دوست نے جواب دیا’’گلیوں گلیوں میں سے نکلتے ہوئے پہنچ جاتے ہیں!‘‘ (20اگست 1977ء)

کیپ لیفٹ

ان دنوں اگر کوئی ’’لیفٹ‘‘ کی بات کرے تو اس پر پولیس کا اہلکار ہونے کا گمان گزرتا ہے کیونکہ اب صرف پولیس والے’’کیپ لیفٹ‘‘ (Keep left)کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔ (30دسمبر 1977ء)

برقع پوش خطوط

پردے کی کئی قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے جس کے مطابق بعض بزرگ خطوط میں بھی بیبیوں کو برقع اوڑھا دیتے ہیں، تاہم گزشتہ روز اس نوع کا ایک خط ہم ایسے ’’نامحرم‘‘ کے ہاتھ لگ گیا جس کی عبارت کچھ یوں تھی کہ ’’عزیزہ پ ، ر سے کہنا کہ وہ غ، ل کے پاس جائے اور اس سے پوچھے کے ر ، ن نے ابھی تک خ، ل سے مل کر س، ر سے ش، ہ کا کام کروایا ہے یا نہیں؟

بعد از خرابی بسیار ہماری تحقیق کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ یہ عزیزہ پ ر دراصل پروین ہے جس سے کہا گیا ہے کہ وہ غ، ل یعنی غزالہ کے پاس جائے اور اس سے پوچھے کہ ر، ن یعنی رخسانہ نے ابھی تک خ، ل یعنی خالدہ سے مل کر س، ر یعنی سرفراز سے ش، ہ یعنی شہناز کا کام کروایا یا نہیں؟ (28جولائی 1977ء)

طوالتِ عمر

اخبارات میں اس نوع کی خبریں آئے دن شائع ہوتی رہتی ہیں جن میں بتایا گیا ہوتا ہے کہ دنیا کے فلاں ملک میں ایک شخص سوا سو یا ڈیڑھ سو سال کی عمر پاکر گزشتہ روز اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔ خبر کے ساتھ عموماً بزرگ کی اس طوالت عمری کی وجہ بھی بتائی ہوتی ہے، مثلاً کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ موصوف نے پیدائش کے دس منٹ بعد ہی ’’ایکسکیوزمی‘‘ کہہ کردائی سے اجازت طلب کی تھی اور چھڑی پکڑ کر واک کو نکل گئے تھے۔ اس کے بعد ساری عمر ان کا یہی معمول رہا کہ صبح شام پانچ چھ میل کی چہل قدمی ضرور کرتے تھے۔ طوالت عمر کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ موصوف ہر کام وقت پر کرنے کے عادی تھے۔ سوتے وقت پر تھے، جاگتے وقت پر تھے اور کھانا وقت پر کھاتے تھے، حتیٰ کہ موصوف کسی سیاسی جماعت میں بھی ٹھیک وقت پر شریک ہوتے تھے اور ٹھیک وقت پر اس سے علیحدگی کا اعلان کرتے تھے۔ (2نومبر 1975ء)