ساہیوال کی متاثرہ بچوں سےمکالمہ-عالم خان

اللہ گواہ ہے کہ ساہیوال واقعہ کے بعد اپنے آپ سے لڑتا رہا کہ اس پر لکھوں یا انتظار کروں کہ ریاست مدینہ ثانی میں انہیں انصاف ضرور ملے گا. لیکن جب آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرتا ہوں تو ہسپتال میں موجود ڈر سے سہمی ہوئی بچی کی تصویر آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے جو ہاتھ میں فیڈر لیے ہوئے بے بس کھڑی ہے اور سوال کرتی ہے انکل آپ کیوں نہیں لکھتے ؟ حکومتی اداروں نے مجھے، میرے بھائی اور بہن کو آزاد کیا ہے، اور آپ خاموش ہیں۔

جی بیٹا ! کہاں سے آزاد کیا .!!!
تو وہ گویا ہوجاتی ہے، انکل ساہیوال کی ایک شاہراہ پر ہماری گاڑی رکتی ہے ہاتھوں میں اسلحہ تھامے ہوئے کچھ لوگ قریب آکر ابو سے بات کر رہے تھے، ابو امی اپنی اور ہماری جان بخشی کی التجا کر رہے تھے اور انھوں نے سیدھی فائرنگ شروع کر دی تو آمی نے چیختے ہوئے ہمیں اپنے گود میں چھپایا کچھ پتہ نہیں چلا بس چند منٹوں کی بات تھی کہ امی خاموش ہو گئیں اور ان بہادروں نے ہمیں آمی کی گود سے آزاد کر دیا ، اور پھر ہمیں قریب ایک پٹرول پمپ پہ چھوڑ کر چلے گئے۔

اغوا کاروں سے بچوں کی بازیابی کی یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتى ہے اور بچوں کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے جہاں ان کے کپڑوں سے خون کو صاف کرنے کے لیے نرس اگے بڑھتی ہے تو دو معصوم بہنوں کے ساتھ موجود ان کاچھوٹا سا بھائی کہتا ہے آپی رہنے دیجیے کوئی بات نہیں یہ مما کی خون کی چھینٹے ہی ہیں، جی ہاں ! یہ اس ماں کا گرم خون ہے جو اپنی گود میں ان بچوں کو چھپا کر خود سفاک گولیاں کا نشانہ بن رہی تھی، جہاں سے ان بچوں کو باحفاظت بازیاب کرایا گیا۔

جب میں اس بچی کی تصویر سے کہتا ہوں بیٹا کل میں نے لکھا ہے وہ پھر اپنے معصوم چہرہ اور آنکھوں سے مجھے کہتی ہے کم ازکم اس پر تو لکھیں کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اگر مقتولین بے گناہ نکلے تو مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔

"ہمیں اس معاوضہ سے امی ابو خریدنے ہیں"

بزدار صاحب سے پوچھ کر بتائیں کہ آپ کے اس معاوضہ سے ہم امی اور ابو کہاں پہ خرید سکتے ہیں؟ کیونکہ ہمیں پوری رات نیند نہیں آئی۔ اگر آئی تو صرف ماما اور بابا کی چیخیں، بے رحم گولیوں کی ترٹراہٹ، اور اریبہ بہن کی سسکیوں کی آوازیں.

تھوڑی ہمت کی اور قلم اٹھایا
کہ لکھتا ہوں لیکن کیا لکھوں؟

ہسپتال بینچ پہ ساتھ بیٹھی دوسری بہن بھی لرزتی ہوئی آواز میں کہنے لگی انکل مدنی ریاست کے سربراہ عمران خان کے بارے میں پتہ چلا کہ جب سے انھوں نے ہماری تصاویر دیکھیں تو وہ صدمہ میں ہیں اور سنا ہے ٹویٹر پر ہماری کفالت کی زمہ داری کی بات بھی کی ہے۔

میں نے کہا بیٹا وہ بہت رحم دل انسان ہیں، جب ماڈل ٹاون کا واقعہ ہوا تو وہ بہت چیخ رہے تھے کہ گولیاں سامنے سے چلی ہیں اور وقت کے حکمرانوں سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر رہے تھے لیکن شائد آپ لوگوں کی گاڑی پہ پیچھے سے فائرنگ ہوئی ہو، اس لیے وہ خاموش ہیں. تینوں بچوں نے قسمیں کھانی شروع کیں کہ انکل یقین نہیں آتا تو گاڑی کے فرنٹ شیشہ دیکھ لیں بابا اور ماما کے ساتھ اریبہ کی جسم بھی دیکھ لیں سب نے سینے پہ گولیاں کھائی ہیں اللہ کی قسم ہم پر بھی بالکل سامنے سے گولی چلائی گئی ہیں.

مجھ سے رہ نہ گیا اور ان بچوں کی تصویروں کو ڈیلیٹ کرنا چاہا
کہ اندر سے اواز آئی!
جی ہاں ضمیر کی اواز !
کب تک خاموش رہو گے
کل آپ کو بھی پاکستان جانا ہے اللہ نہ کرے آپ کے بچے بھی اسی طرح بازیاب کرائے جاسکتے ہیں اور بالآخر میں نے قلم اٹھا کر ان سے کہا کہ اچھا
بچو !!
اتنا لکھتا ہوں!!
کہ اگر آپ لوگوں کو انصاف نہیں ملا
تو اس ظالم نظام سے میں باغی ہوں
ہاں میں باغی ہوں

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.