کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں - عالم خان

ریاست مدینہ میں عمر بن عبد العزیز دجلہ اور فرات کے کنارے بھوک سے کتے کی موت کا اپنے آپکو زمہ دار سمجھتے تھے لیکن دور حاضر میں ریاست مدینہ کا مفہوم ہی بدل گیا اعظم خان سواتی کے فارم ہاؤس میں گائے داخل ہوتی ہے باجوڑ کے ایک غریب خاندان کو بچوں سمیت گرفتار اور تشدد کیا جاتا ہے، لیکن ریاست مدینہ کے سربراہ نہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہیں اور نہ اس کی بنیادی رکنیت منسوخ کرتے ہیں بلکہ عوام کے پر زور مطالبہ پر صرف وزارت لینے کا جعلی ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ کابینہ میں نام ابھی بھی موجود ہے۔

نقیب اللہ محسود ما وراے عدالت قتل کیا جاتا ہے حکومت نواز شریف کی ہے بہت زبردست سیاست کی جاتی ہے تحریک انصاف کے مرکزی قائدین احتجاجی کیمپوں میں پہنچ جاتے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں جوں ہی مدنی ریاست قائم ہوتی ہے سب خاموش ہو جاتے ہیں اور راو انور مجرم نہیں بلکہ ایک ہیرو کی طرح عدالت میں پیش ہوجاتا ہے مجال ہے کہ وہی لوگ انصاف اور قانون کی بات کریں جو نقیب اللہ شہید کے احتجاجی کیمپوں میں جا کر کرتے تھے۔

ملتان میں حکمران جماعت کے ایم پی اے مظہر عباس کی بکری چوری ہوجاتی ہے پولیس شک کی بنیاد پر ایک نوجوان پکڑتی ہے، اور تھانہ کے بجاے اس کو مزکورہ ایم پی اے صاحب کے ڈیرے پہ لے جاتے ہیں اور تشدد سے اسکو بھی ماوراے عدالت قتل کرتے ہیں، لیکن ریاست مدینہ کے صوبائی اور مرکزی سربراہ خاموش ہے۔

ساہیوال میں گاڑی رکتے ہی حساس اداروں اور کاؤنٹر ٹیررزم کے سکواڈ فائرنگ کرتے ہیں گاڑی میں موجود ایک تیرہ سالہ اریبہ سمیت دو مرد اور ایک خاتون قتل کیا جاتا ہے بعد میں ان کو اغوا کار اور داعش کے سرگرم کارکن ڈکلیر کیا جاتا ہے، لیکن وزارت داخلہ سمیت پوری حکومت خاموش ہیں۔

مانتے ہیں دہشت گرد تھے، لیکن عینی شاہدین کے مطابق کوئی مزاحمت انھوں نے نہیں کی تھی تاکہ آپ سیلف ڈیفنس کا کہہ کر معاملہ رفع دفع کرے یہ ماوراے عدالت قتل کیوں کیا گیا؟ ابھی اگر سوال اٹھاتے ہیں تو جوابات کچھ یوں ملیں گے. آپ پٹواری ہیں۔آپ کو پبلسٹی کا شوق ہیں۔یہ پہلی بار نہیں ہوا۔عمران خان سے تعصب ہے۔ شکریہ عمران کہ عوام میں شعور پیدا ہوا۔

اور اسی طرح ان گنت جملے آپکو ملیں گے لیکن کوئی بھی ظالم کو ظالم کہنے کی جرات نہیں کرتا بلکہ ہر کوئی دفاع میں مصروف ہے اور طاقت کے نشہ میں مست حکمرانوں کو پتہ بھی نہیں کہ ان کی حکومت میں کیا ہورہا ہے۔اگر ایک راو انور کو نشان عبرت بنایا جاتا تو آج ساہیوال میں چھوٹے بچوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین جان بخشی کی التجا کرتے ہوئے نہ مارے جاتے، اور نہ تیرہ سالہ اریبہ کو اغوا کار یا دہشت گرد قرار کر ماورائے عدالت قتل کیا جاتا۔

لیکن نقیب اللہ کے بچوں کو ریاست مدینہ میں انصاف نہیں ملا ان کے والد کا قاتل راو انور آزاد ہے جس سے اور راو انور پیدا ہو رہے ہیں اس لیے وہ کسی کو بھی دہشت گرد قرار کر قتل کرسکتے ہیں، امام ابن تمیہ کے یہ الفاظ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی ایک عادل کافر کی حکومت کی مدد کرتا ہے لیکن ایک ظالم مسلمان کی حکومت کی نہیں۔وہ دن دور نہیں کہ اللہ تعالی ان نا خلف حکمرانوں کے ہاتھوں سے یہ طاقت چھین لیں اور سابقین کی طرح ذلت اور رسوائی ان کا مقدر بنادیں اور جو لوگ خاموش ہیں یا ان ظالموں کا ساتھ دے رہے ہیں ان کو بھی اسی طرح ظلم اور بربریت کا شکار بنادیں۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.