ہم کہاں کے سچے تھے اورجماعت- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ایک کتاب میرے پاس جانے کب اور کیسے آ گئی۔ میں نے اپنی ڈھیر ساری کتابوں پر نظرڈالی تو یہ کتاب آنکھوں میں ٹھہر گئی۔ میں اس خاتون کو نہیں جانتا جس کا نام عمیرہ احمد ہے۔ کتاب کا نام اچھا لگا۔ ’’ہم کہاں کے سچے تھے۔‘‘ یہ اگر میری کتاب ہوتی تو اس کا نام ہوتا۔ ’’ہم کہاں جھوٹے تھے‘‘ میں نے کتاب الٹ کردیکھی مگر وہاں اس کی تصویر نہیںتھی۔ اس کا ایک تعارف تھا اور اس کی کتابوں کی فہرست تھی۔ چند عنوانات اچھے تھے۔مگر سب سے اچھا یہی لگا جو اس کتاب کا نام ہے۔

اس کی جو کتابیں ہیں۔ اُن کی تعداد 20 ہے۔ تقریباً ساری کتابوں کے نام اچھے ہیں۔ کتابیں بھی اچھی ہونگی۔ ’’تھوڑا سا آسماں‘‘ ’’میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے‘‘ ۔ ’’من و سلویٰ ‘‘ ’’تحریک ایک ستارہ ہے‘‘ ۔ لاحاصل۔ حرف سے لفظ تک‘‘۔ حاصل واپسی،‘‘ ’’دوراہا‘‘،’’چاند سے پہلے‘‘۔
عمیرہ احمد کے لئے پتہ چلا کہ انہوں نے مرے کالج سیالکوٹ سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد اپنے تحریری سفر کا آغاز مختلف ڈائجسٹوں سے کیا۔

اس کا کریڈٹ الطاف حسن قریشی کو جاتا ہے۔ انہوں نے پڑھنے اور لکھنے کا ایک سلیقہ لوگوں کودیا۔ یہ سلسلہ الطاف صاحب کے اردو ڈائجسٹ سے شروع ہوا۔ آج بھی ڈائجسٹ زیادہ پڑھنے جاتے ہیں۔ اس کا کریڈٹ الطاف حسن قریشی کوجاتا ہے۔
عمیرہ نے مختلف ٹی وی چینلزکے لئے سکرپٹ رائٹنگ بھی کی۔ سیریلز بھی لکھے۔ ان کی تمام کتابیں انگریزی میں ترجمہ کی جا رہی ہیں۔ ا س کا مطلب ہے کہ کتابیں اردو میں لکھی گئی ہیں۔ اچھی بات ہے اس کتاب کا انتساب اپنے پیارے شہرسیالکوٹ کے نام ہے۔
مجھے پہلی کیفیت میں یہ بات اچھی نہ لگی تھی وہ صیغہ واحد متکلم (میں) کے لئے مذکر کا استعمال ہے۔ کوئی خاتون لکھے ا ور اچھا لکھے۔ مگر اپنی تحریر میں مرد بننے کی کوشش کرے یہ اچھا نہیں ہے۔ مجھے یہ اچھا نہیں لگتا۔ مردانگی ہے تو عمیرہ کی کتاب کے اسلوب میں ہے۔ میں نے اس کتاب میں سب تحریروں کوافسانے سمجھ لیا۔ مگر یہ ناول ہے۔ اس میں شامل ایک تحریر ’’ہلال جرأت ‘‘ کو خود عمیرہ نے افسانہ کہا ہے جبکہ پیش لفظ اس جملے سے شروع ہوتا ہے۔ ہم کہاں کے سچے تھے۔میرا پہلا مکمل ناول ہے جس نے اپنی اشاعت کے ساتھ مجھے فوری طور پر مقبولیت دلوائی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ تحریریں جو بھی ہیں۔ مجھے پسند آئیں۔ نام میں کیا رکھا ہے۔

اس کتاب کا نام بھی اچھا ہے۔ ’’ہم کہاں کے سچے تھے۔‘‘

جو (ن) لیگ وغیرہ کے بڑے مشہور لوگ پی ٹی آئی سے ہار گئے‘ جیتنے والے سارے پی ٹی آئی کے تھے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی وزیرنہیں بنایا گیا۔ جو ہار گئے‘ ان کے نام دیکھئے۔ جیتنے والوں کا نام لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہارنے والوں میں عابد شیر علی‘ طلال چودھری‘ رانا افضل جو وزیرخزانہ تھا‘ ہار گیا۔ اس کے مقابلے میں جیتنے والا تو مستحق تھا مگر عمران خان کا معیار شاید کچھ اور ہے۔ یہ بھی تحریک انصاف کی انصاف کرنے والی خاتون سے پوچھنا پڑے گا۔ (ن) لیگ کا میاں منان بھی ہار گیا۔ حاجی اکرم انصاری‘ ان کے مقابلے میں جیتنے والا کوئی وزیرنہیں بنا۔ عمران خان کا بس چلتا تو اس آدمی کو وزیر بناتا جو اس کے مقابلے میں ہار گیا تھا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے جینوئن احتساب ہوا تو جیلیں زیادہ بنانا پڑیںگی۔ حوالاتیں کم پڑ جائیں گی۔ میں یہ بات مذاق میں کہہ رہا ہوں کہ اس میں جماعت اسلامی کے کتنے آدمی ہونگے۔ اس جملے کیلئے میں برادرم لیاقت بلوچ سے معذرت چاہتا ہوں۔
جماعت اسلامی کے دوست میری بہت عزت کرتے ہیں۔ میرا ایک ’’دوست‘‘ کہنے لگا (کیا جماعت اسلامی میں بھی دوست ہوتے ہیں۔) میں حیران ہوا اور تھوڑا سا غصہ بھی مجھے آیا۔ جماعت اسلامی میں لیاقت بلوچ ہیں۔ امیرالعظیم ہیں اور پھر بھی تم یہ بات کہتے ہو۔ برادرحافظ ادریس اگرچہ بالکل ’’جماعتیے‘‘ ہیں مگر ان جیسا دوست کم کم کہیںہوگا۔ دوست وہ ہے جو بے غرض ہو اور جس کے پاس خواہشوں جیسی کوئی چیز نہ ہو۔ حافظ ادریس گورنمنٹ کالج لاہور میرے کلاس فیلو تھے۔ ان جیسا درمند انسان کوئی نہ تھا۔ وہ ایک سچے راوین تھے۔ پورے سٹوڈنٹ بلکہ سٹوڈنٹ لیڈر۔ میری تمام ’’کارگریوں‘‘ پر انہوں نے کبھی اعتراض نہ کیا بلکہ نشاندہی بھی نہ کی جو انہیں پسند نہیں تھیں۔ اور میرے ساتھ روابط اور دوستانہ گرمجوشی میں کچھ کمی نہ آئی۔ ایسے لوگوں کی اکثریت جماعت اسلامی میں ہے۔ لوگ بہت اعتراض کرتے ہیں مگر اتنے اچھے لوگ کسی جماعت میں نہ ہونگے بلکہ جماعتوں خاص طورپر سیاسی جماعتوں میں اچھے لوگوں کی خطرناک حد تک کمی ہے۔ میں اس کیلئے خود کو معزز آدمی تصور کرتا ہوں کہ میں حافظ ادریس کا دوست ہوں۔ لیاقت بلوچ اور امیرالعظیم کا جماعت اسلامی میں ہونا ایک حیران کن مگر قابل فخر واقعہ ہے۔ لیاقت بلوچ کسی جماعت میں ہوتے تو یہ قابل ذکر بات ہوتی۔

کسی جماعت میں مشہور آدمیوں کا ذکر ہوتا ہے۔ جماعت میں اچھے آدمیوں کا ذکر ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایک جماعت بھی نہیں ہے جس کا موزانہ بھی جماعت کے ساتھ کیا جائے۔
مجھے معلوم نہیں کہ کس طرح جماعت کا ذکر شروع ہو گیا۔ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ جماعت میں دوستوں کا ذکر کروں۔ میں اتنے لوگوں کا نام کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں لے سکتا۔ ہر کوئی منہ اٹھائے جسں پارٹی میں جانا چاہے چلا جائے۔ جماعت میں اس طرح نہیں ہو سکتا اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا جو دوسری جماعتوں میںہوتا ہے اور ہوتا ہی رہتا ہے۔