کسے سنیں - ایمن طارق

کبھی سوچا کہ ہم کسی کی سنتے کیوں ہیں ؟ کتنی دیر سنتے ہیں ؟ سنتے بھی ہیں یا صرف اس کے چپ ہونے کا انتظار کرتے ہیں کہ ہم بول سکیں ؟
یا اس لیے کہ ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ وہ کس کیفیت کا شکار ہے ؟ یا سننا اور نہ سمجھنا ہماری عادت بن گئ ہے ؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے متعلق اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ہم سننے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں ؟ سننا واقعی کیا ہے ؟؟
کسی کو دیکھنا ؟ اس کو سنتے ہوے اس کے متعلق اندازے قائم کرنا ؟ اس کو جواب دینے کے لیے اپنے دماغ میں الفاظ اور جملوں کو ترتیب دینا ؟؟
ہم کتنا سنتے ہیں اور کتنا بھول جاتے ہیں آیے ٹیسٹ کرتے ہیں ۔۔

ایک الفاظ کی لسٹ کسی کے ہاتھ میں دیں اور اس سی کہیں کہ آپ کے سامنے دہراے اور آپ صرف توجہ سے وہ الفاظ لکھیں اور جب وہ خاموش ہو جاۓ تو آپ پین اٹھا کر وہ الفاظ پیپر پر لکھیں جو آپ کو یاد رہ گے ؟
شاید آدھے یاد ہوں ۔۔شاید آدھے سے کچھ زیادہ ۔۔شاید پہلا اور آخری لفظ۔۔۔۔یا وہ الفاظ جو آپ کو مانوس لگتے ہوں ۔۔۔۔
یا ہو سکتا ہے کہ ایسے کچھ الفاظ جو سامنے والے نے کہے ہی نہ ہوں اور آپ نے لکھ لیے ہوں ۔۔اس چھوٹے سے دماغی ٹیسٹ کا نتیجہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ ہم اپنی عمومی زندگی مین بھی لوگوں کو سننے کا دعوی کرتے ہیں لیکن مکمل بات یاد رکھنا بہت مشکل ہے جو کہ فطری بھی ہے اور ہر انسان کی میموری الگ ability رکھتی ہے ۔ کبھی کبھی ہم کسی کی پہلی بات یاد رکھ پاتے ہیں اور سننے والی یہ ملاقات میں ہمارا دماغ کہیں اور ہی سیر کے لیے روانہ ہو جاتا ہے ۔۔ جس کا اثر اگر چہرے پر نظر آجاۓ تو سنانے والا آپ کی غائب دماغی کا اندازہ کر کے خاموش ہو سکتا ہے ۔

اور کبھی ہم وہ سن لیتے ہیں جو کسی نے کہا ہی نہیں ہوتا کیونکہ ہم سنتے ہوے اندازے قائم کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔۔
یعنی سننے کا عمل اتنا آسان نہ ہوا تو چلیں آئیں اپنی تربیت کرتے ہیں کہ ہم اگر کسی کو توجہ دے کر اس کی بات سنیں گے تو ان غلطیوں سے بچیں گے جن سے سننا نہ سننا برابر ہو جاتا ہے اور کوشش کریں گے کہ سنیں تو ایسے کہ جیسے سننے کا حق ہے ۔۔

ٹیگز

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.