کیا نظر بد واقعی لگ جاتی ہے؟

کوئی بھی شخص کسی کو نظر بد سے کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا کیوں کہ نظر مخلوق ہے اور کوئی بھی مخلوق مافوق الاسباب نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتی ۔نظر لگانا کسی بھی انسان کے اختیار میں نہیں ہے ، عام طور پر مشہور ہے کہ نظر لگ جاتی ہے اور نظر بد سے لوگوں کو بیمار کیا جاسکتا ہے ،عمارتیں گرائی جاسکتی ہیں عمارت میں دراڑیں ڈالی جا سکتی ہیں ،دودھ کو پھاڑا جا سکتا ہے حالانکہ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔قرآن کریم میں نبی ﷺسے اعلان کرایا گیا ہے کہ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا کہہ دو میں نہ تمہارے کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہوں اورنہ کسی بھلائی کا جب نبی آخرالزماں محمد کو نفع نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں ہے تو دوسرے انسان کو نفع نقصان پہنچانے کا اختیار کیسے مل سکتا ہے؟ نفع نقصان کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے قرآن کریم میں مشرکین مکہ کے متعلق ہے کہ وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ [٦٨:٥١] اور بالکل قریب تھا کہ کافر آپ کو اپنی تیز نگاہوں سے پھسلا دیں جب کہ انہوں نے قرآن سنا اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے نظر بد ثابت کرنے کے لیے قرآن سے غلط استدلال بعض لوگ اس آیت سے نطر بد کی تاثیر ثابت کرتے ہیں حالانکہ مطلب واضح ہے کہ یہ کافر محمد ﷺکو بری اور قہر آلود نگاہوں سے دیکھتے ہیں کیوں کہ قرآن مجید کا سننا مشرکین مکہ کو ناگوار گزرتا تھا اور نبی کو قرآن سنانے سے باز رکھنے کے لئے ڈراتے تھے.

تفسیر ثنائی میں اس آیت کی تفسیر یوں ہے "تیرے زمانے کے منکرین بھی کم ایسے شدید الغضب ہیں کہ جب نصیحت سنتے ہیں تو ایسے آگ بگولہ ہوتے ہیں کہ دیکھنے والے کو یقین ہو جائے کہ قریب ہے کہ گھور گھور کر اپنی نیلی پیلی آنکھوں کے خوف سے تجھے تیرے عزم مصمم سے پھسلادیں اور بجائے اس کے کہ اپنے جوش کو جنون کہتے ہیں کہ تحقیق یہ رسول مجنون ہے جو کبھی کہتا ہے کہ معبود سب کاایک ہے کبھی کہتا ہے کہ مر کر اٹھنا ہے کبھی کچھ کبھی کچھ، حالانکہ وہ قرآن کی تعلیم دیتا ہے جو تمام دنیا کے لوگوں کے لئے نصیحت ہے نہ اس میں کوئی بات خلاف عقل ہے نہ خلاف نقل ہاں! ان کی کج طبائع کے خلاف ہے" ((تفسیر ثنائی جلد ۸ ص ۹۵ درج بالا آیت میں مشرکین مکہ کی محمد اور قرآن سے دشمنی کا نقشہ کھینچا گیا ہے نہ کہ نظر بد کی تاثیر کا اثبات۔ یعنی جب یہ کافر قرآن سنتے ہیں جب نبی توحید کی دعوت دیتاہے تو یہ گھور گھور کر دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تجھے پریشیرائز کریں اور تجھے تمہارے مشن سے ہٹادیں۔ سادہ سی بات ہے یہاں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ آپ کو نظر لگا سکتے ہیں آپکو بیمار کر سکتے ہیں یا آپ کو گرا سکتے ہیں بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ چاہتے یہ ہیں کہ محمد کو اپنے مشن سے ہٹا دیں یہی توحید کی دعوت ان کو ناخوشگوار گزرتی ہے .

یہی نقشہ سورہ جن آیت ۲۹ میں بھی کھینچا گیا ہے وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا [٧٢:١٩] اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لئے تیار ہو گئے غور کریں یہاں بھی نبی سے کہا گیا ہے کہ جب آپ توحید کی دعوت دیتے ہیں تو یہ چاہتے ہیں کہ آپ پر ٹوٹ پڑیں ان کو یہ توحید پسند ہی نہیں ہے ایک اور مقام پر اللہ کہتے ہیں کہ ان کی کوشش یہ ہے کہ وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا [١٧:٧٦] اور یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سر زمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکیں گے مشرک اور کافر لوگوں کی ایک اور حالت اللہ بیان کرتے ہیں " وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمُنكَرَ ۖ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا " اور جب ان کو ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرین حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں اور ایسا محسُوس ہوتا ہے کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات سناتے ہیں ۲۲:۷۲ آج کے دور میں بھی آپ دیکھ لیں حق کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہوتے ہیں حق کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے حق پرستوں کو بدنام کرنے کی انتہائی کوشش کی جاتی ہے۔

اگر کافر نبی کو نظر بد لگا سکتے ہیں تو کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں کافر کے پاس اختیار کہاں سے آیا؟ اللہ تو اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا؟اور کیا اللہ کافروں کی مدد کررہاتھا معاذاللہ کے ہاں واقعی نبی کو نقصان پہنچایا جائے؟ یہ سوال بہت اہم ہے کہ کافروں کے پاس اختیار کہاں سے آیا کہ وہ کسی کو اپنی آنکھوں سے گرادے بیمار کردے؟ نبی کے پاس اختیار نہیں ہے تو کافروں کے پاس اختیار کہاں سے آیا؟ " قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا [٧٢:٢١] " "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا" ایک اور آیت سے غلط استدلال جب یعقوب کے بیٹے مصر جا رہے تھے تو یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کہا کہ اے بیٹوں آپ لوگ مصر جارہے ہیں میں آپکو ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ یعقوب نے کہا اے میرے بیٹو! تم سب ایک ہی دروازہ سے داخل نہ ہونا الگ الگ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ یہاں اپنے باطل عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ یعقوب ؑنے اس لئے اپنے بیٹوں سے کہا کہ ایک دروازے سےسارے مت جانا ورنہ کوئی آپکو نظر بد لگا دینگے حالانکہ ایسی کوئی بات اس آیت میں اور پورے قرآن میں بیان نہیں ہوئی ہے یہ اپنی طرف سے کہا جاتا ہے کہ یعقوبؑ نے اس خیال سے اپنے بیٹوں سے کہا۔

یہ بالکل خالص اپنی طرف سے کہا جاتا ہے،یہ قرآن کی بات نہیں ہے حالانکہ بادشاہ کی پلاننگ سے بچنے کے لئے انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ ایک دروازے سے داخل مت ہونا اور دوسری بات یہ کہ یہاں نظر بد کے قائیلین سے یہ بات پوچھنی چاہئے کہ کیا نظر بد صرف اکھٹے گروپ کو لگ سکتی ہے یا ایک اکیلے فرد کو بھی لگ سکتی ہے ؟ جب اکیلے فرد کو بھی بقول قائیلین نظر بد لگ سکتی ہے تو پھر ان کو جدا جدا کرنے سے کیا فائدہ ؟ لہذا بات ظاہر ہے کہ اس آیت سے نظر بد کا اثبات سرے سے ہی غلط ہے وہاں نظر بد کی کوئی بات ہی نہیں کہی گئی ہے ۔

مفسر تدبر قرآن نے لکھا ہے کہ "چوں کہ قحط کا زمانہ تھا جس میں چوری ،ڈکیتی اور اس نوع کے دوسرے جرائم بہت بڑھ جاتے ہیں اسی وجہ سے یعقوب ؑنے ان کو رخصت کرتے وقت ہدایت فرمائی کہ شہر میں جب داخل ہونا تو ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قدیم زمانہ میں بیرونی حملوں سے حفاظت کے لئے ہر قابل ذکر شہر کے گرداگر فصیل اور ہر سمت سے داخل ہونے کیلئے متعین دروازے ہوتے تھے یعقوب نے یہ ہدایت ممکن ہے اس اندیشہ سے فرمائی ہو کہ کہیں یہ لوگ شہر کے شریروں اورغنڈوں کی توجہ کا ہدف نہ بن جائیں ایک ہی وقت میں ایک ہی دروازہ سے گیارہ ذی وجاہت خوش شکل اور باوقار بھائیوں کا اپنے قافلے سمیت شہر میں داخل ہونا ایک جالب توجہ چیز ہو سکتی تھی اور اس کا بھی امکان تھا کہ کچھ شریر لوگ ان کے پیچھے لگ جائیں کہ ان کے پاس مال زیادہ ہوگا اور اس طمع میں ان کے نقصان پینچانے کے درپہ ہو جائیں .

اس ہدایت کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ تنبیہ فرمادی کہ یہ ایک تدبیر ہے جس کو اپنی دانست میں بہتر سمجھ کر میں تمہیں اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں اس تدبیر کو ہرگز ہرگز اس معنی میں نہ لینا کہ یہ تمہیں اس تقدیر سے بچا سکے گی جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے وہ اپنی جگہ اٹل ہے ،اصل اختیار اللہ ہی کا ہے ،میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے"۔۔(تدبر قرآن ج ۴ ص ۲۴۱) اب بات کیا بیان ہوئی ہے اور نادانوں نے یعقوبؑ سے کیسی شرکیہ بات منسوب کی ہے۔ اوراسی آیت میں یعقوبؑ کا وہ عقیدہ بھی بیان ہوا ہے کہ وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۖ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ [١٢:٦٧] "میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرے" یعقوب کا عقیدہ نظر بد پر نہیں تھا بلکہ اللہ کی ذات پر تھا دیکھیے کتنی خوبصورت بات اللہ کے نبی نے کہی ہے کہ حکم صرف اللہ کا ،میرے پاس بھی اختیار نہیں ہے میں صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں "ایک ضعیف روایت " نظر بد کے بارے میں جو روایت بیان کی جاتی ہے وہ ضعیف ہے۔ اس روایت کا راوی صحیح نہیں ۔اس راوی کا نام عبدالرزاق ہے ابوداود نے کہا کہ عبدالرزاق معاویہ رض کے حق میں بد گوئی کرتا تھا ،عباس عنبری نے کہا ۔۔۔۔۔ وہ بہت جھوٹا ہے اور ،عبدالرازاق جھوٹا تھا اور حدیث چوری کرتا تھا۔ (تہذیب التہذیب جلد 6 ص 281)

دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ یہ روایت قران کے بھی خلاف ہے۔ أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ کان اور آنکھوں کا مالک کون ہے،؟ سورہ یونس ایت 31 مطلب یہ ہے کہ ان انکھوں کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے یہ اختیار آنکھوں کے پاس نہیں ہے اور نہ اللہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا [١٨:٢٦] "اور(اللہ) اپنے حکم میں کسی کو بھی شریک نہیں کرتا" قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ "کہہ دیجیے (اے نبی ﷺ) کہ میں اپنے لیے نفع و نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا" 07:188 جب نبی ﷺ کے پاس اختیار نہیں تو مجھے اور آپ کو اور بے شمار آنکھوں والوں کے پاس اختیار کہاں سے آیا؟ مافوق الاسباب دنیا کی کوئی ہستی نہ نفع دے سکتی ہے نہ نقصان۔ یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ کوئی انسان مافوق الا سباب اپنی انکھوں سے نہ کسی فائدہ دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ مخلوق کے پاس اختیار نہیں۔ اگر انکھوں میں اثر ہے پھر ہم اتنی لاکھوں کی فوج کیوں رکھتے کیوں اتنا اس پر خرچ کرتے ۔ توحید کو سمجھے اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ مخلوق کے پاس مافوق الاسباب اختیار نہیں ہے مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ "ان(مخلوق) کو کوئی اختیار نہیں"28:68 نظر بد کے قائیلین سے اپیل نظر بد کی تاثیر کے قائیلین سے ہمدردانہ اپیل ہے کہ اگر نظر میں نفع نقصان کی تاثیر ہے تو نصف صدی سے عالم اسلام کیلئے ناسور کی حیثیت رکھنے والے اسرائیل کو نظر بد لگا کر صفحہ عالم سے کیوں مٹا نہیں دیا جاتا؟

کیوں لاکھوں فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے یہیودیوں کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے ؟ کیوں بھارت کو نصف صدی سے کشمیریوں کی جان ،مال اور آبرو لوٹنے کے لیے آزاد چھوڑا ہوا ہے ؟ نظر بد لگا کر کیوں اس سے بدلہ نہیں لیا جاتا؟ کیوں امریکہ اور برطانیہ کو عالم اسلام میں جب اور جہاں چاہے کھلی دہشت گردی کرنے کی ڈھیل دی جارہی ہے ؟ نظر بد کی تاثیر کاکوئی کیوں انہیں اپنی نظر بد کے ذریعے لگام دے کر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا ؟ کیوں بوسنیا ،برما ،افغانستان وغیرہ میں امت مسلمہ پر عرصہ حیات تنگ ہونے اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جانے کا شرم ناک نظارہ دیکھ کر بھی نظر بد کی تاثیر کا کوئی قائل غیرت نہیں کھاتا؟

ٹیگز