جنگیں ایمانی قوت سے جیتی جاتی ہیں - عالم خان

زندگی میں دو مرتبہ نذرانہ روزے رکھے ہیں اور دونوں بچپن میں رکھے ہیں۔ ایک مرتبہ جب ایمل کانسی کو نواز شریف دور میں امریکہ کے حوالہ کرنے کے بعد امریکہ سے نومبر (۲۰۰۲) میں خبر آئی کہ ایمل کانسی کو زہر کا جان لیوا انجیکشن لگایا جائے گا، تو آپ کی حفاظت اور امریکہ کے چنگل سے آزادی کے لیے نذرانہ روزہ رکھا تھا۔ اور ایک مرتبہ جب عالمی دہشت گرد امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے خود ساختہ حملے کے بعد افغانستان پر حملہ کرنے کا اعلان کیا اور ہر قسم کے جنگی سازوسامان سے لیس جنگی بیڑوں اور جہازوں کی تصاویر میڈیا میں جاری کیں جو افغانستان پر حملے کے لیے پینٹاگون کی اجازت کے منتظر تھے، اس وقت اپنے افغانی بھائیوں کی حفاظت اور امریکہ کی شر سے محفوظ رکھنے کے لیے تین روزے رکھے تھے، کیونکہ چودہ پندرہ سالہ دیہاتی نوجوان اللہ کے حضور دعا کرنے کے سوا اور کیا کرسکتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ عیاں ہورہا تھا کہ یہ میڈیا وار ہے اور ہمیں ان کے زریعے مرعوب رکھا جا رہا ہے ورنہ امریکہ سے پہلے اپنے وقت کی سپر پاور روس بھی انتہائی غرور کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوئی تھی جہاں سے نکلنے کے لیے پھر اسکو بھی راستہ نہیں مل رہا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے نظر میں جنگوں کی کامیابی کا دارو مدار جدید ٹیکنالوجی اور فوجی سازوماسان ہے لیکن تاریخ کے اوراق میں اس کے برعکس حقائق موجود ہیں، سن (۲ھ) میں لڑی گئی کفر اور اسلام کی پہلی فیصلہ کن جنگ غزوہ بدر کی مثال لیجیئے ایک طرف مسلمانوں کی تعداد (۳۱۳) اور دوسری طرف کفار کی تعداد (۱۰۰۰) جو مسلمانوں کے مقابلے میں بہترین اسلحہ سے لیس تھے لیکن اس کے باوجود شکست کھا گئے، اور مسلمانوں کو اللہ تعالی نے فتح کے ساتھ مال غنیمت سے بھی نوازا جو ریاست مدینہ کی معاشی تاریخ میں اپنی حثیت رکھتا ہے، اور جب سن (۸ھ) میں رسول اللہ کے قاصد حارث بن عمیر الأزدي کو قیصر بصری نے شہید کیا تو جزیرہ العرب کے علاوہ سلطنت روم کے عسائیوں کی دو لاکھ کے قریب فوج سے تین ہزار مسلمان فوجیوں نے موتہ کے مقام پر جنگ لڑی اور (١٤) فوجیوں کی شہادت پر دو لاکھ رومی اور غسانی فوج کو شکست دے کر عرب قبائل پر اپنا دھاک بٹھا دی۔

اسی کے بعد (۱۳ھ ) میں ایک اور تاریخی جنگ لڑی گئی جس کو معرکہ یرموک کہا جاتا ہے مسلمانوں کی جنگی قیادت سیف اللہ خالد بن ولید (رض) کرتے تھے جو اپنے (۳٦) ہزار فوجیوں کے ساتھ وقت کی سپر پاور بازنطینیوں کے خلاف میدان میں اترے تھے جنکی تعداد دو لاکھ (٤٠) ہزار تھی لیکن اس کے باوجود انھوں نے شکست کھائی اور مسلمان فوج نے جزیرہ العرب سے نکل کر پیرس کے سرزمین پر قدم رکھا۔

یہی صورتحال سن (۱۳) میں بھی رہی جب سعد بن ابی وقاص (رض) کی قیادت میں (۳۰) ہزار کی فوج ایرانیوں کے مشہور جرنیل رستم کے مقابلے میں میدان میں اتری، اور بہترین جنگی حکمت عملی کی بدولت نہ صرف دو لاکھ ایرانی فوجیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ان کا جرنیل رستم بھی قتل ہوا، تاریخ اس جنگ کو (جنگ قادسیہ) کے نام سے یاد رکھتا ہے۔

اس کے بعد سن (۹۲ھ) میں اموی دور خلافت میں طارق بن زیاد (رح) کی قیادت میں (۱۲) ہزار مسلمان فوجی یورپین فوج کے سپہ سالار روڈریک (لذریق) کے ایک لاکھ فوج سے وادی لکہ کے مقام پر ٹکرا گئے اور ان کو شکست دینے کے بعد یورپ کا کافی حصہ خلافت امویہ کی حدود میں داخل ہوا، اور اسی طرح مسلمانوں کے خلافت کی حدود میں فرانس کے زیرتسلط علاقوں کو داخل کرنے کے لیے عبد الرحمن الغافقی کو (۳۰) فوج کے ساتھ چار لاکھ فرنگی فوج کے ساتھ لڑنا پڑا اور ان کو کثرت اور قوت کے باوجود ان کے سر زمین پر شکست دی، اس عظیم تاریخی جنگ کو جنگ بلاط الشہداء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس تاریخ کو مسلمانوں نے معرکہ ملاذ کرد اور حطین میں دہرایا تھا اوّل الذکر میں (٤٠) ہزار مسلمانوں کا مقابلہ (٤٦٣ھ) میں دو لاکھ رومی فوجیوں سے اور ثانی الذکر میں (٢٥) ہزار مسلمانوں کا مقابلہ (٥٨٣ھ) میں (٦٣) ہزار سے صلیبی فوجیوں سے ہوا تھا جس میں روم اور صلیبی قوتوں کو نہ صرف شکست ہوئی تھی بلکہ صلیبیوں کے زیر قبضہ مسلمان علاقوں کو بھی آزاد کیا گیا تھا۔

یہ وہی تاریخی حقائق ہیں جن سے آج کا ماڈرن تعلیم یافتہ نوجوان نسل لاعلم ہے اور اس کی نظر میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس امریکہ سے لڑنا ناممکن ہے، اس لیے وہ افغانستان، عراق اور شام میں امریکہ کے وجود سے مرعوب ہے اور امریکہ کے جنگی اور فوجی قوت سے اتنا متاثر ہے کہ امریکہ کی شکست کی بات کرنے والوں کو بے وقوف اور جاہل سمجھتا ہے، اس کی بنیادی وجہ اس کا اپنی اسلامی تاریخ سے جہالت ہے، اگر وہ تاریخ کے دریچوں میں دیکھتا تو ان کو پتہ لگ جاتا کہ جنگیں صرف مادی قوت اور تعداد سے نہیں بلکہ ایمانی قوت سے لڑی اور جیتی جاتی ہیں اور اس کو وقت نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ امریکہ کا دہشت گردی کے نام پہ مسلمانوں پہ مسلط کردہ جنگ امریکہ ہار چکا ہے، اور مسلمانوں کی سر زمین سے اس کا نکلنا مجبوری بن گئی ہے، اس لیے وہ ان کے ساتھ مزاکرات کے لیے تیار ہیں جن کو دہشت گرد کہہ کر افغانستان، عراق اور شام میں آمن قائم کرنے کے نام پر لاکھوں مسلمانوں کو بے گھر، لاکھوں کی تعدا میں شہداء، بیواؤں اور یتیموں کا تحفہ دے گئی۔