شام کے بچوں کى یہ تصويريں - سعيداللہ

شام کے مظلوم مسلمان انتہائى لاچارى اور بے بسى کى حالت ميں دنيا کے 57 مسلم ممالک کى طرف آس لگائے ہوئے ہيں۔ ان کے بچوں نے والدين سے اور اپنے سکول ميں يہ سيکها تھا کہ دنيا ميں 58 اسلامى ممالک ہيں , دنيا کى اکثر دولت اور وسائل ہم مسلمانوں کے پاس ہيں اور انھيں بتايا گيا تھا کہ بعض اسلامى ممالک تو قوت اور عسکريت کے لحاظ سے مضبوط ترين ممالک ميں شامل ہيں۔

وہ دوسرے مسلم ممالک کے بچوں کى طرح خوش تھے کہ ہم مسلمانوں کى ايک برادرى ہے, ہم پر تو کبھى کوئى مصيبت آ ہى نہيں سکتى، کيوں کہ کوئى بھى دشمن اس قدر قوت رکھنے والى امت کى طرف ميلى آنکھ سے ديكھنے کى جرأت نہيں کر سکتا۔ ليکن ۔۔۔ ليکن انھيں کيا خبر تھى کہ لفظ "امت" جو بولا اور لکھا جاتا ہے، حقيقى دنيا ميں اس کا وجود ناپيد ہو چکا ہے۔

نا اہل فقيہوں اور خود غرض حکمرانوں نے ہميں اپنے اپنے مفاد کے ليے ٹکڑوں ميں بانٹ رکھا ہے, کسى مرے ہوئے شخص کى ميراث کى طرح ہميں آپس ميں تقسيم کر رکھا ہے اور ہم ميں سے ہر ايک اپنے وطن، حکمران اور اپنے فرقے کے مذہبى پيشوا کا بت پوج رہا ہے۔ نبى پاک صلى اللہ عليہ وسلم کا فرمان "امت ايک جسم کى مانند ہے" کتابوں ميں قيد رہ گيا ہے۔

يقيناً يہ بچے اپنے بڑوں سے امت کے حکمرانوں کى بے حسى کے بارے پوچھ چکے ہوں گے اور ان کے بزرگ آنکھوں کے چلکتے پيالے سنبھالتے ہوئے انھيں "آزمائش، آخرت، جنت اور رب کى نصرت" جيسے الفاظ سے مطمئن کر چکے ہوں گے۔ مگر ان کے بزرگوں کو بھى يہ علم نہيں ہے کہ بے حس اور خود غرض حکمران تو مدد کرنے سے رہے يہاں تو تعصب اور فرقہ پرستى نے فکرِ وحدتِ امت کو اس قدر معدوم بنا ديا ہے کہ کسى مسجد ميں بھى ان کے ليے نہ دعا ہوتى ہے اور نہ ان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف قنوت نازلہ پڑھا جاتا ہے۔

لاکھوں لوگ ابدى نيند سُلا ديے گئے مگر نہ ہمارى نيند ميں خلل آيا نہ ہمارى خوشياں پھيکى پڑيں نہ کسى نے ان پر ظلم کرنے والے ظالموں کے خلاف احتجاج کيا.