زندگی کا آخری پڑاؤ- ایاز امیر

لاہور مزدوری کے لیے جانا پڑتا ہے ورنہ اِس عمر میں تو گاؤں ہی بھلا لگتا ہے۔ لاہور میں تین دن قیام کے بعد اکثر اوقات سیدھا گاؤں ہی آ جاتا ہوں۔ وہاں مزے کے دن گزرتے ہیں۔ شامیں بھی کوئی بُری نہیں ہوتیں۔ اِس موسم میں شام کے وقت آگ جلائی جاتی ہے اور کچھ سامانِ راحت بھی میسر ہو جاتا ہے۔ اور انسان کی ضرورت کیا ہے؟
ایک پرابلم دیہات میں ضرور ہے۔ ہر دیہہ میں مسجدوں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ اِس سے ویسے تو مجموعی اخلاقیات پہ کوئی اثر نہیں پڑا۔ عیب کرنے والوں میں اضافہ ہوا ہے‘ کمی نہیں۔ میرے بنگلے کے پیچھے ایک مسلک کی عبادت گاہ ہے‘ جس کے روح رواں ہمارے ایک رشتہ دار ہیں۔ اِن کی اذان گو لمبی ہوتی ہے اور کئی دفعہ تو خاصی لمبی لیکن کوئی سُر اور لے کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کچھ فاصلے پہ دوسرے مسلک کی مسجد ہے جس کا نام زمانہ قدیم سے ہمارے خاندان کے نام سے منسوب ہے۔ اِس کے لاؤڈ سپیکر پہ ہمارے ایک نوجوان کا قبضہ ہے۔ پانچوں وقت وہی اذان دیتا ہے اور اذان کی ادائیگی میں سُر نام کی چیز قریب سے نہیں گزرتی۔

دونوں عبادت گاہوں کے منتظم مکمل خیال رکھتے ہیں کہ اذان کے وقت لاؤڈ سپیکر فُل والیم پہ ہوں۔ میٹھی اور آہستہ اذان دینے کا رواج ہمارے معاشرے سے ختم ہو چکا ہے۔ اکابرین دین کو اِس بارے میں سمجھانے والا کوئی نہیں۔ مسجد کے قریب واقع چند گھروں سے شکایات آتی ہیں کہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر کا رُخ عین اُن کے صحن کی طرف ہے۔ لیکن پھر وہی بات کہ ان کو سمجھائے کون؟ جہاں تک خود سمجھنے کی بات ہے وہ تو بالکل عبث ہے۔
لاہور جاتے تو مزدوری کیلئے ہیں لیکن اِس یاترا کے اور بھی چند فوائد ہیں۔ چونکہ ٹی وی پروگرام کیلئے جمعہ‘ ہفتہ، اتوار لاہور رہنا پڑتا ہے تو شادیوں میں حاضری کے وبال سے جان بچ گئی ہے۔ شادیاں عموماً ہفتہ یا اتوار کو ہوتی ہیں‘ اور ہمارے پاس معقول اور سچا بہانہ ہے کہ اوہو ضرور حاضری دیتے‘ لیکن کیا کریں مجبوری ہے، اُس دن لاہور ہوں گے۔ نہیں تو پہلے عذر پیش کرنا مشکل ہوتا۔ اور تو کوئی کمائی پتہ نہیں ہماری قوم نے کرنی ہے یا نہیں لیکن جتنا وقت خوشیوں اور غمیوں میں ہمارے ہاں برباد ہوتا ہے‘ اِس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔ شادیاں بھی ایسی بور کہ خدا کی پناہ۔ وہاں جا کے منہ لٹکائے سُوکھے ہونٹوں سے بیٹھنا پڑتا ہے۔

گفتگو بھی کسی سے کتنی کی جا سکتی ہے۔ پھر جب کھانا لگتا ہے تو بوریت کے مارے لوگ کھانے پہ ٹوٹ نہ پڑیں تو کیا کریں؟ اِس روش کی وجہ بد تہذیبی سے زیادہ بوریت ہے۔ سکھوں یا دیگر مذاہب کی شادیاں ہوں تو کچھ پینے پلانے کو مل جاتا ہے اور جہاں ایسا رواج ہو وہاں بوریت کہاں آتی ہے۔ لیکن ہم صراطِ مستقیم پہ چلنے والے ہیں۔ اگلے جہان میں شاید آسانیاں پا لیں‘ لیکن اِس جہان کو ہم نے بہت بور بنا دیا ہے۔ میں جب قبلہ مولانا طارق جمیل کو دیکھتا یا سُنتا ہوں تو دِل میں ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ بیان کرنا آسان نہیں۔ یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جوایسے مولانا صاحبان کو شادیوں میں بلاتے ‘ اور اُن سے وعظ سُنتے ہیں۔ کس موقع پہ کیا کرنا ہے‘ شاید ہماری اجتماعی عقل سے باہر ہے۔
ایک زمانہ تھا جب گاؤں میں رہنا عملاً نا ممکن تھا۔ گاؤں میں بیٹھ کر صحافت تو کم از کم نہیں کی جا سکتی تھی۔ نہ ٹیلی فون‘ نہ بجلی۔ انٹرنیٹ تو تب تصور سے باہر کی چیز تھی۔ لیکن اَب یہ تمام آسانیاں موجود ہیں۔ گاؤں میں ہوں تو مالٹے اور کینو کے پودوں کے درمیان چہل قدمی کر کے کالم ڈکٹیٹ کراتا ہوں‘ اور کوئی چکوال میں بیٹھے‘ کمپیوٹر پہ اُسے لکھ رہا ہوتا ہے۔ ایسی چیزیں اَب ہی ممکن ہیں۔ نہیں تو ایک زمانے میں صحافت کرنے کیلئے اسلام آباد، لاہور یا کراچی میں رہنا ناگزیر تھا۔

اَب سڑکوں کا جال بھی بچھ چکا ہے۔ میں نے گاؤں کے گھر سے اسلام آباد جانا ہو تو ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ لاہور یہاں سے ڈھائی تین گھنٹے کی مسافت پہ ہے۔ یہ بھی غور طلب بات ہے کہ بے تُکی ڈویلپمنٹ نے اسلام آباد کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ اَب تو وہاں ٹریفک اِتنی بے ہنگم ہو گئی ہے اور کئی سیکٹرز اِتنے بُرے لگنے لگے ہیں کہ وہاں جانے کو دل ہی نہیں کرتا۔ لاہور مختلف ہے۔ ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود اُس کا تاریخی حُسن مکمل برباد نہیں ہوا۔ لیکن وہاں بھی جب جاتا ہوں تو کوشش ہوتی ہے کہ مال کے اُس ٹکڑے سے دُور نہ جایا جائے جو چیئرنگ کراس سے جم خانہ کلب تک پھیلا ہوا ہے۔ حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ ایم ایم عالم روڈ کی خوبصورتیوں سے دور ہی رہوں۔ میرے لیے ڈیفنس جانا تو ایسا ہے کہ کسی اور شہر کی طرف جا رہا ہوں۔ پرانا شہر اَچھا لگتا ہے جو کہ مال سے لے کر اندرونِ شہر تک ہے۔ لیکن ہم نے اُس کا بُرا حال کر دیا ہے۔ ٹریفک تو کسی کے کنٹرول میں رہی نہیں۔ اُوپر سے کسر شریفوں نے پوری کر دی‘ جن کی میٹرو بس اور اورنج ٹرین لاہور کے منہ پہ بد نُما داغوں سے کم نہیں۔ مُغل، سکھ اور انگریز لاہور کو خوبصورتی دے گئے۔ ہماری نسلوں نے لاہور کی بد نُمائی میں اپنا پورا حصہ ڈالا۔ لیکن کیا کیا جائے۔ ہمارے محافظانِ منبر کی طرح ہمارے حکمران بھی لا علاج ہیں۔

ایک اور چیز کے لیے بھی لاہور جانا ضروری ہوتا ہے۔ وہاں سے کچھ سپلائے شپلائے لے آتے ہیں۔ ہم پنجابی ہر لفظ کو توڑ کے دہراتے ہیں: سپلائے شپلائے، سکاچ واچ وغیرہ وغیرہ۔ مشہور لکھاری سردار خشونت سنگھ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ کسی غیر ملکی دورے سے لوٹتے تو دِلی ایئر پورٹ پہ کسٹم حکام‘ جو ظاہر ہے اُنہیں پہچانتے تھے‘ ہمیشہ پوچھتے ''سردار جی کوئی سکاچ واچ لیائے او؟‘‘ اِس نوعیت کی سپلائز کیلئے ضروری لاہور جانا پڑتا ہے کیونکہ چکوال جیسے شہروں میں دو نمبری کا راج ہے۔ جب میں ایم این اے تھا‘ کرسچیئن بھائیوں کا ایک وفد مجھے ملنے آیا‘ اِس شکایت کے ساتھ کہ پولیس بڑا تنگ کرتی ہے۔ میں نے اُنہیں کہا کہ یار دیکھیں‘ آپ بھی تو زیادتی کرتے ہیں۔ دو نمبری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ پتہ نہیں بوتلوں میں کیا کچھ ڈال دیا جاتا ہے۔ ملاوٹ کرنی ہی ہے تو پانی ڈال لیا کریں۔ اُس سے صحتیں تو برباد نہیں ہوں گی۔ ہمارے بھائیوں میں سے ایک نے باہر جا کے کہنا شروع کر دیا کہ دیکھو جی ہمارے ایم این اے کہہ رہے ہیں کہ پانی ملا کے ایک بوتل کی دو یا تین بنا لیا کریں۔ یعنی کوئی نیک مشورہ بھی دے تو اُسے بگاڑنے میں یار دوست کمی نہیں کرتے۔

غالب نے کیا کہا تھا کہ اُنگلیاں فگار ہوئیں حکایاتِ خونچِکاں لکھتے لکھتے؟ ہم نے کون سی حکایات لکھنی ہیں لیکن اُنگلیاں تھک گئی ہیں یہ لکھتے لکھتے کہ ایشین ٹائیگر تو بنیں گے اپنے وقت پر لیکن فی الحال جو چھوٹی موٹی چیزیں کر سکتے ہیں‘ وہ تو کر لیں۔ لاہور میں اکثر چہل قدمی کیلئے باغ جناح چلا جاتا ہوں۔ وہاں ایک دو چائے کے ڈھابے بنے ہوئے ہیں اور اُن کے سامنے وہی پلاسٹک کے کپوں اور شاپروں کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ فٹ پاتھ پہ واپس آتا ہوں تو چڑیا گھر کے مین دروازے کے عین ساتھ پلاسٹک شاپروں کا ڈھیر لگا ہوتا ہے۔ صوبے بھر میں پلاسٹک شاپر پہ پابندی لگانے کی ہمت نہیں تو کم از کم باغِ جناح اور چڑیا گھر جیسی جگہوں میں تو اِس کا تدارک ہو جائے۔
پسِ تحریر: پچھلے کالم میں چکوال قبضہ کیس کے حوالے سے کہا تھا کہ آر پی او راولپنڈی غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ لیکن پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر صاحب کی طرف سے جب اُنہیں ہدایات ملیں‘ تو اُنہوں نے جاری کنسٹرکشن روکنے کا فوراً کہا۔ شاید میرے سمجھنے میں کچھ غلطی ہو گئی۔ اس کیلئے میں معذرت خواہ ہوں۔