سب کچھ ہرا کیوں؟ عا رف نظا می

نہ جانے ہمارے حکمران کس دنیا میں رہتے ہیں، ماہرین اقتصادیات پاکستانی معیشت کے حوالے سے فکر مند ہیں لیکن وفاقی کابینہ نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کردیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے یک زبان ہو کر پاکستانی معیشت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ کے مطابق اقتصا دی صورتحال دگرگوں ہے اور رواں مالی سال میں پاکستان کی شرح نمو 4.2 سے زیادہ نہیں ہو گی۔ زرمبادلہ کے ذخائر کا حال بھی پتلا ہے اور حکومت کے سابق ترجمان فرخ سلیم کے مطابق تو یہ ذخائر 11 ارب ڈالرمنفی میں ہیں اور دوست ملکوں سے مانگ تانگ کر کام چلایا جا رہا ہے۔ ایک اور ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی تازہ ترین رپورٹ میں اس بات پر مہر ثبت کر دی گئی ہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت درآمدات کو فنانس کرنے کیلئے بھی پیسے قریباً ختم ہو چکے ہیں۔ عالمی بینک نے رواں مالی سال کے لیے شرح نمو کو مزید گھٹا دیا ہے۔ اس کے مطابق یہ3.7 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی۔ گزشتہ مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح 5.8 فیصد تک پہنچ چکی تھی جو 13 برس میں ریکارڈ تھی۔

عالمی بینک کی ششماہی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں زراعت اور صنعت میں نمایاں ترقی کے باعث شرح نمو میں اضافہ ہوا، گزشتہ پانچ ماہ میں افراط زر اور شرح سود میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ لیکن نہ جانے حکومت کو ساون کے اندھے کی طرح سب کچھ ہرا کیوں نظر آ رہا ہے۔ ہمارے نوجوان وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار مصر ہیں کہ اپوزیشن کی جانب سے مہنگائی کے حوالے سے واویلا مچایا جارہا ہے جو بے بنیاد ہے۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت پیش کی کہ گزشتہ 3 ادوار حکومت کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران مہنگائی میں موجودہ حکومت سے زیادہ اضافہ ہوا تھا لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے اس عرصے کے دوران افراط زر میں صرف 0.4 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جو پالیسیاں مرتب کی گئی تھیں ان کے ثمرات ملنا شروع ہوگئے ہیں، دسمبر کے مہینے میں برآمدات میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ درآمدات میں 8.5 فیصد کمی بھی ہوئی ہے۔ تجارتی خسارے میں ایک ماہ کے دوران 54 کروڑ ڈالر تقریباً 19 فیصد کمی ہوئی ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری کی بڑھکوں کے پیچھے درون خانہ حکومت خود اس معاملے میں پریشان ہے۔ حکومت کے اندر سے ہی ایک موثر گروپ زور دے رہا ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کی چھٹی کرائیںکیونکہ معیشت ٹھیک کرنا ان کے بس کا روگ نہیں ہے لیکن خدشہ ہے کہ وزیراعظم اپنے نادان مشیروں کی سب اچھا ہے کی باتوں پر یقین کر کے معیشت کو کہیں تباہی کے دہانے پر ہی نہ پہنچا دیں۔

وزیراعظم عمران خان اپنے وزیر خزانہ پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنی حکومت کے ایوانوں سے ہی بھانت بھانت کی بولیاں سن رہے ہیں، ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا نہیں؟۔ لگتا ہے کہ عمران خان کی اقتصادی ٹیم میں ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔ 92 چینل پر میرے پروگرام ’ہو کیا ر ہا ہے‘ میں اکنامک ایڈوائزری کمیٹی کے سینئررکن جو ماضی کی حکومتوں میں سپیشل سیکرٹری خزانہ بھی رہ چکے ہیں، ڈاکٹر اشفاق حسین اس بات کے شدید مخالف تھے کہ حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام میں جائے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی آئی ایم ایف کے پروگرام میں گئی اور الیکشن ہار گئی۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) بھی آئی ایم ایف کے پروگرام میں گئی اور اس نے پہلی بار کامیابی سے آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کیا لیکن الیکشن ہار گئی اور عمران خان بھی آئی ایم ایف کے پروگرام میں گئے تو ان کا حشر بھی مختلف نہیں ہو گا۔ اگر حکومت کی اکنامک ٹیم میں اس قسم کے بزرجمہر شامل ہیں تو پھر خدا ہی حافظ ۔

حال ہی میںآئی ایم ایف کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کو اسلام آباد مدعو کر کے پوچھا گیا کہ حضور! آپ کی کیا رائے ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں جائیں یا نہ جائیں۔ ظاہر ہے جس نے اپنی ساری زندگی بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں گزاری ہے وہ اس سوال پر خاصے حیران ہوئے کیونکہ اس کا جواب عمران خان کو بھی معلوم ہونا چاہیے تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے اندر کوئی موثر لابی آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے کے خلاف ہے۔ حال ہی میں میری ایک اور ماہر معیشت جو اس اکنامک ٹیم کے ممبر ہیں سے ملاقات ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ جب ہم عملی طور پر آئی ایم ایف کی اکثر شرائط مان رہے ہیں تو اس کے پروگرام میں جانے میں کیا حرج ہے۔ لیکن سب سے پتے کی بات آئی ایم ایف کے ایک سابق عہد یدار ڈاکٹر ندیم الحق نے کہی کہ ہم اس کے حق میں ہیں کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانا چاہیے لیکن اگر نہیںجانا تواس کا بھی دوٹوک اعلان کردینا چاہیے کیونکہ ملائیشیا کے ترانوے سالہ وزیراعظم مہاتیر محمد جب پہلی مرتبہ برسراقتدار آئے تھے تو انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا فیصلہ کیا لیکن وہ درست اور مشکل فیصلے پر ڈٹ کر رہے اور اکانومی کوری سٹرکچر کیا، ان کا مشن اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرنا تھا اور وہ اپنے مشن میں کامیاب رہے۔

ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ پاکستان میں چین کے سفیر یائوجنگ نے چند روز قبل لاہور چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں اظہار خیال کیا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ چینی سرمایہ کار امریکہ سے مایوس ہو کر پاکستان کے بجائے کمبوڈیا اور بھارت جیسے ممالک میں سرمایہ کاری کیوں کر رہے ہیںاور ’سی پیک‘ میں ہونے کے باوجود پاکستان کو نظرانداز کررہے ہیں۔ انھوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ چینی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے اس لیے ہچکچاتے ہیں کہ یہاں حکومت کی تجارتی پالیسیاں کمزور ہیں، ٹیکس آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور ان میں چھوٹ بھی نہیں دی جاتی، اس کے علاوہ سرمایہ کاری کا ماحول بزنس فرینڈلی نہیں ہے۔ شاید ان کے ذہن میں مشیر تجارت رزاق داؤد کا وہ متنازعہ انٹرویو تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہم’سی پیک‘ کو ایک سال کے لیے روک کر ازسرنو جائزہ لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی حکومت کی پالیسیوں میں تسلسل نہیںہے جس کے باعث دیگرسرمایہ کار بھی دور رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ چینی سفیر نے انکشاف کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گوادر پورٹ تو بنادی لیکن’’آزاد اقتصادی زون‘‘ بنانے پر توجہ نہیں دی، جو ’سی پیک‘ کے تحت سرمایہ کاری لانے کے لیے بہت ضروری تھا اور جب تک ایسے زون نہ بنے سرمایہ کاری کہاں ہو گی۔

اگرچہ انھوں نے موجودہ حکومت کی برآمدات بڑھانے کی پالیسیوں کی تعریف کی لیکن تاحال تو 30 فیصد تک روپے کی قدر گرانے کے باوجود برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ ہمارے پاس کاٹن گرے کلاتھ، یارن اور چاول بیچنے کے سوا ہے کیا؟۔ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش درآمد شدہ کاٹن استعمال کر کے گارمنٹس کا بہت بڑا ایکسپورٹر بن چکا ہے اور اس کی شرح نمو 7.5 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایسے معاملات ہیں جو پل بھر میں ٹھیک نہیں ہوسکتے لیکن قوم کو یہ اعتماد تو دلایا جائے کہ ہم نے ملک کی اقتصادی پالیسیوں کو صحیح سمت گامزن کردیا ہے لیکن اس وقت تو ایسا اعتماد کرنے کی وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ حکومتی پالیسیاں ایک قدم آگے اور دوقدم پیچھے کے مصداق ہیں۔