حویلیاں طیارہ حادثہ؛ پاورٹربائن کی بروقت مرمت نہ ہوناوجہ قرار

کراچی: حویلیاں کے قریب گر کرتباہ ہونے والے پی آئی اے طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔

سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے رپورٹ میں انجن سمیت دیگر مبینہ تیکینکی وجوہ کی نشاندہی کردی۔ ذرائع کا کہناہے کہ فضائی حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے حویلیاں کے قریب گرنے والے قومی ایئرلائن کے اے ٹی آر طیارے کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ مرتب کردی، تحقیقاتی رپورٹ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی نگرانی کے عمل میں کوتاہی جبکہ پی آئی اے کے شعبہ میں ٹینس اینڈ کوالٹی ایشورنس کی غفلت ولاپرواہی ظاہر کی گئی ہے، ابتدائی رپورٹ میں طیارے میں اہم تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، طیارے کے انجن کے بلیڈ کو 10 ہزار گھنٹے استعمال کے بعد بھی تبدیل نہیں کیا گیاجبکہ طیارہ ساز کمپنی کے سروس بلیٹن کی رو سے ان خرابیوںکوہنگامی بنیاد پر دور کیا جانا تھا۔

واضح رہے کہ قومی ایئرلائن کے اے ٹی آر طیارہ7دسمبر2016کو چترال سے اسلام آبادکے لیے روانہ ہواتھا۔ پرواز پی کے661میں 47افراد سوارتھے،جوحادثے کا شکار ہوئے،ترجمان پی آئی اے نے اس بات کی تصدیق کی کہ سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کی جانب سے انھیں مذکورہ رپورٹ موصول ہوچکی تاہم اس میں ایس آئی بی نے فی الحال حتمی بات نہیں کی بلکہ سفارشات اور تجاویز دی ہیں۔ یاد رہے کہ طیارہ حادثے میں معروف گلوکارجنید جمشید بھی جاں بحق ہوئے تھے۔