آمدنی کی نئی تقسیم کیلیے قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل نو

اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی نے قومی محاصل کی صوبوں میں تقسیم کا فارمولا طے کرنے اور آئینی ترمیم کے بغیر صوبوں کے حصے میں کمی کیلیے قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل نو کردی ہے۔

اس ضمن میں گزشتہ روز جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 10رکنی نئے مالیاتی کمیشن کے سربراہ وزیر خزانہ اسد عمر ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کے علاوہ پرائیویٹ ممبران میں سے پنجاب سے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، سندھ سے اسد سعید،خیبر پختونخوا سے مشرف رسول سیان، بلوچستان سے محفوظ علی خان شامل ہیں جبکہ وفاقی سیکریٹری خزانہ آفیشل ایکسپرٹ کے طور پر این ایف سی کے ممبر ہونگے۔ذرائع کے مطابق پرانے این ایف سی کے تحت صوبوں کا حصہ 57.5 جبکہ وفاق کا 42.5 فیصد ہے۔

7 ویں قومی مالیاتی کمیشن میں 2010 میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 9 ویں این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل اپریل 2015 میں ہوئی تھی۔ اسکی پہلی تشکیل نو فروری 2016 میں اس وقت کی گئی جب پنجاب نے اپنے تکنیکی ممبر کو تبدیل کیا۔ اب حالیہ تشکیل نو گذشتہ 4 سال میں دوسری دفعہ کی گئی ہے جب تمام صوبائی حکومتوں نے اپنے ارکان تبدیل کیے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے این ایف سی میں صوبوں کے حصے میں 6 سے 8.2 فیصد کمی کی تجویز دی تھی۔

علازوہ ازیں آئی ایم ایف نے بھی حالیہ مذاکرات میں صوبائی کوٹے میں کمی کا کہاتھا۔ وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ نیا مالیاتی کمیشن قابل تقسیم۔قومی محاصل کی صوبوں میں تقسیم کیلیے نئے این ایف سی ایوارڈ کو حتمی شکل دے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے قانون کے مطابق ہر 5سال بعد نئے مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا اعلان ہونا ہوتا ہے جو کہ نہیں ہوپارہا اور صوبوں کو پرانے این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابل تقسیم محاصل کے پول سے حصہ فراہم کیا جارہا ہے۔ یہ کمیشن قومی محاصل کی صوبوں میں تقسیم کے فارمولے کا تعین کرے گا اور اس طے شْدہ فارمولے مطابق محاصل کی تقسیم ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت نافذ العمل پرانے این ایف سی کے تحت قومی محاصل میں صوبوں کا حصہ زیادہ ہے جبکہ وفاق کا حصہ کم ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی اختلافات کو بھی اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کے تحت محاصل کی تقسیم سے جوڑا جارہا ہے اور قومی محاصل میں وفاق کا حصہ بڑھانے اور صوبوں کا کم کرنے کی تجویز بھی آئی ہے جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اب یہ کمیشن تشکیل پاگیا ہے جس میں نئے این ایف سی ایوارڈ کا تعین کیا جائے گا۔