معیشت کے دروبام- ھارون الرشید

کشمکش اور مقابلے کی اس دنیا میں ہر قوم اپنا بوجھ خود اٹھاتی ہے۔ زمانے بدل گئے ، انحصار کی نفسیات سے چھٹکارا پائے بغیر سرخروئی کا دن معیشت کے در و بام پہ طلوع نہیں ہو سکتا۔
زرِ مبادلہ کے ہولناک بحران سے نمٹنے کے لیے سول اور ملٹری لیڈرشپ نے جو جنگ لڑی، اس کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی ۔ بحران ٹل گیا ، ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا مگر معیشت اپنے پائوں پہ کھڑی نہیں ہو رہی ۔ سال بھر میں جمع ہونے والا ٹیکس بس اتنا ہوتا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کا کچھ حصہ لوٹا دیا جائے اور سود واپس کر دیا جائے یا پھر دفاع کے تقاضے پورے کر لیے جائیں ۔ حکومتی اخراجات اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے پھر سے وہی کشکول۔
بتایا جاتاہے کہ دبئی کے ولی عہد شیخ محمد پانچ دن سے پاکستان میں تھے ۔ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ رحیم یار خان پہنچے ۔ ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا اور ابتدائی بات چیت کی ۔ پھر ہوائی اڈے پر وزیرِ اعظم نے ذاتی طور پر استقبال کیا اور خود گاڑی چلا کر انہیں ایوانِ وزیرِ اعظم لے گئے؛ چنانچہ سعودی عرب اور چین کی طرح 6.2 بلین ڈالر کا وہ پیکیج ملا جس سے پاکستانی معیشت کو سانس لینے کا موقع میسر آیا ہے۔

کپتان کا مذاق اڑایا گیا کہ کشکول اٹھائے دنیا بھر میں وہ بھیک مانگتا پھر رہا ہے ۔ اس کے سوا وہ کیا کرتا؟
نواز شریف کا دستور یہ ہے کہ دھڑا دھڑ غیر ملکی قرض سمیٹتے ہیں ۔ بڑے بڑے منصوبے ، ایک تو اس لیے کہ خود نقد داد پائیں ۔ ثانیاً اس شعبدہ بازی سے ترقی کا تصور اجاگر ہوتا ہے ۔ اورنج ٹرین ایک بڑی مثال ہے ، تین سو ساٹھ ارب روپے خرچ ہوں گے۔ ہر سال کم از کم بارہ ارب روپے کا خسارہ۔ لاہور ، ملتان اور راولپنڈی اسلام آباد کی میٹرو، جن کا کسی نے مطالبہ نہ کیا تھا‘ قومی معیشت کے گلے میں پڑا ڈھول ہے، اتارا جا سکتا ہے نہ بجایا جا سکتا ہے۔ جتنی شدید ملک کو زرِ مبادلہ کی ضرورت ہے، اتنی ہی بے دردی سے ضائع کیا جاتا ہے۔
سٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر کا حجم بیس ارب ڈالر سے کم ہوا تو کاروبارِ معیشت ڈھے پڑے گا ۔ غضب خدا کا ، سمندر پار پاکستانی اب بھی دس بلین ڈالر حوالہ اور ہنڈی سے بھیجتے ہیں ۔ کیوں اس سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکتا ۔

یہی رقوم بینکوں کے ذریعے کیوں نہیں آ سکتیں ؟ کرنسی کا کاروبار کرنے والی کمپنیاں باہر سے موصول ہونے والا روپیہ لوگوں کے گھروں تک پہنچاتی ہیں ۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ پاکستانی بینکوں میں الگ سے ایسے کائونٹر قائم کیے جائیں ، جہاں وصول کرنے والے آسانی سے وصول کر سکیں ۔ ڈالر کی شرحِ مبادلہ میں اگر ایک آدھ روپے کا فرق ہے تو حکومت ہی کیوں ادا نہیں کر دیتی؟ نجی اداروں کی شراکت سے ایسا طریقِ کار کیوں وضع نہیں کیا جاتا کہ روپیہ دروازے تک پہنچایا جا سکے۔ ایک ڈیڑھ روپے کے فرق کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ فیصد منافع ادا کرنا ہو گا ۔ قومی خود داری کو دائو پر لگانے سے یہ بدرجہا بہتر ہے ۔ پھر یہ پیسہ خود پاکستانیوں کے ہاتھ میں جائے گا ۔ عام ضرورت مند شہری اس سے مستفید ہوں گے ۔ نئی ٹیکنالوجی نے سرمایے کی منتقلی آسان کر دی ہے ۔ کیوں ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے؟ جدید ایجادات سے استفادہ کیے بغیر کوئی معیشت مضبوط اور مستحکم نہیں ہو سکتی۔ گزرے ہوئے کل میں نہیں، زندگی آج کے دن میں بسر کی جاتی ہے۔

تاریخ کے چوراہے پہ لمبی تان کر سوئی ہوئی قوم اور پے در پے خود غرض اور نالائق حکمران۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے افرادی قوت کی برآمد مسلسل زوال پذیر ہے ۔ اوسطاً پانچ لاکھ پاکستانی ہر سال سعودی عرب جایا کرتے ۔ امسال یہ تعداد ایک لاکھ رہ گئی ۔ پچھلے برس تین لاکھ پاکستانی ہنر مند اور مزدور امارات گئے ۔ 2018ء میں ایک لاکھ پچھتر ہزار۔ ابھی تین ہفتے قبل امارات کا ایک سرکاری وفد وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملا ۔ العمار سمیت ، جو دنیا کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنیوں میں سے ایک ہے ، چھ کاروباری اداروں کے سربراہ اس میں شامل تھے ۔ سرکاری اعلامیے نے اطلاع دی کہ وزیرِ خارجہ نے پاکستانی آم اور سبزیوں کی برآمد بڑھانے پر زور دیا ہے ۔ اللہ کے بندو، بنیادی طور پر پاکستان اور امارات کا لین دین صرف دو چیزوں پر مشتمل ہے ۔ تیل کی درآمد اور افرادی قوت کی بر آمد۔
2007ء میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد پاکستان تشریف لائے تھے۔ مشاہد حسین اور محمد میاں سومرو کی موجودگی میں سینیٹر انور بیگ نے ان سے درخواست کی کہ پاکستانی مزدوروں پہ عائد پابندی ختم کی جائے ۔ کویت کا اعتراض یہ تھا کہ نیم خواندہ لیبر منشیات کی سمگلنگ میں استعمال ہوتی ہے ۔ پاکستان کو کویت نے پیشکش کی کہ وہ آلات فراہم کر دیں گے کہ آسانی سے ممنوعہ اشیا کا سراغ مل سکے ۔ اس پیشکش پہ کوئی کارروائی نہ کی گئی ۔ افرادی قوت فراہم کرنے والے ادارے مسلسل شور مچاتے رہے ۔ تب نواز شریف قطر اور سعودی عرب تشریف لے گئے مگر اس بے نیازی کے ساتھ کہ متعلقہ وزیر کو ساتھ لے گئے اور نہ کوئی تحریری سمجھوتہ کیا ۔ واپس آئے ، قوم کو خوش خبری سنائی اور لسّی پی کر سو رہے۔

قطر کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اب نسبتاً بہتر ہیں مگر ان تعلقات سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا ۔ امیر سے وزیرِ اعظم عمران خاں نے بات چیت کی اور طے پایا کہ ایک لاکھ پاکستانیوں کو ملازمتیں وہ فراہم کریں گے ۔ حضور نوکری حکومت نہیں ، کاروباری ادارے دیا کرتے ہیں۔ متعلقہ وزارت کو بھاگ دوڑ کرنا ہو گی ۔ افرادی قوت برآمد کرنے والی ایک ممتاز شخصیت نے مجھے بتایا کہ چند سال قبل وہ قطر گئے تو نواز شریف کے مصاحبین میں سے ایک سیف الرحمٰن سے ملے۔ ان سے کہا : کاروباری سرگرمیوں میں امیرِ کویت آپ کے سرپرست ہیں ۔ براہِ کرم پاکستانی افرادی قوت درآمد کرنے کے لیے ان سے بات کیجیے ۔ ''چھوڑو جی‘‘ انہوں نے کہا ''اس چکر میں مت پڑیے، کوئی بڑا کام بتائیے‘‘۔ شریف خاندان اور ان کے درباریوں کو بڑے کاموں سے شغف ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی مارکیٹ میں بھارت ، پاکستان ، سری لنکا ، بنگلہ دیش، نیپال اور تھائی لینڈ کے درمیان ایک سخت مقابلہ برپا رہتا ہے ۔ کبھی ہم نے کوئی ایسا نظام وضع نہیں کیا، جو مستقل طور پر عرب دنیا کی ضروریات کا تخمینہ لگا کر ہنر مند مزدور اور کاریگر پیدا کرے۔ ذوالفقار چیمہ نے کچھ کر دکھایا تھا‘ لیکن ایک دن وہ چلے گئے ۔ اس کے باوجود کہ عمران خان ان کے مداح ہیں، اس طرح دار افسر کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ اورنگزیب عالمگیر نے کہا تھا: کاروبارِ حکومت ان لوگوں کے بل پہ چلایا جاتا ہے، اپنی سب صلاحیت جو یکسوئی کے ساتھ فرائض کی بجا آوری میں جھونک دیں۔
پاکستان کی کم کوشی کا فائدہ بھارت نے اٹھایا ۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی وزرا اور ماہرین کی ٹیم لے کر دبئی، قطر اور سعودی عرب گئے۔ ایک کے بعد دوسرا معاہدہ ان سے طے کیا۔ جنابِ عمران خان نے یہ عظیم ذمہ داری زلفی بخاری نامی ایک نوجوان کو سونپ رکھی ہے، جو کبھی لندن میں ان کے میزبان ہوا کرتے تھے۔

معیشت کو بچانا ہے تو بڑی گاڑیوں، خوراک اور میک اپ کے سامان سمیت کچھ عرصے کے لیے اشیائے تعیش کی درآمدات کم کرنا ہوں گی۔ ترسیلاتِ زر بڑھانے کے لیے یکسوئی سے کام کرنا ہو گا ۔ سرکاری اخراجات میں کمی لانا ہو گی۔ بے یقینی کا خاتمہ کر کے کاروباری طبقات کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔
کشمکش اور مقابلے کی اس دنیا میں ہر قوم اپنا بوجھ خود اٹھاتی ہے۔ زمانے بدل گئے ، انحصار کی نفسیات سے چھٹکارا پائے بغیر سرخروئی کا دن معیشت کے در و بام پہ طلوع نہیں ہو سکتا۔