آہ ! اردو بازار ، کراچی - مجیب الحق حقی

آئیں اور ماتم کی تیّاری کریں:
اس لیے کہ ہم اپنی تاریخ کے ایک درخشاں ورثے کو اپنے ہاتھوں نالہ بُرد کر نے والے ہیں، اس لیے کہ ریاست کے ستونوں پر منقّش کرسیوں پر براجمان افراد کی سوچ دیمک زدہ ہوگئی، اس لیے کہ ہمارے لیڈران کرام اب اوسط سے بھی کم تر ظرف کے خوگر ہیں، اس لیے کہ شاید ہمارے ضمیر مادّی فوائد کی ہوس میں مفلوج ہو چلے ہیں، کیونکہ زندہ قومیں تو اپنی آزادی اور استحکام کے سفر کی نشانیوں کو سینے سے لگاتی ہیں ، مگر ہم کیا کرتے ہیں؟

۱۹۵۲ میں کے ڈی اے کے آرکیٹکٹ احمد علی صاحب کی مرتّب کردہ خاکہ توسیع کراچی greater karachi Plan میں وسطی شہر کی پلاننگ میں ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹ کی افادیت بتائی گئی ہے (صفحہ ۴۱۔۴۲)۔ اس کے بعد ہی اردو بازار کی تعمیر ہوئی۔ ریاست نے ۱۹۵۵ میںتعلیم کے فروغ میں سہولت کے لیے کراچی میں بیچ شہر میں نالے کے اوپر کتب فروشوں کے لیے ایک مارکیٹ بنائی جو کرائے پر تاجروں کو دی گئیں تاکہ طالب علموں کو سہولت ہو۔ اس مارکیٹ کے اطراف اور قرب وجوار میں، ڈائو میڈیکل کالج، اردو کالج،سندھ مدرسۃالاسلام،ایس ایم کالج،ڈی جے کالج، این ای ڈی یونیورسٹی، این جے وی اسکول، ماما پارسی اسکول، بی وی ایس اسکول، سینٹ پیٹرک کالج، جیکب لائن اور سینٹ جوزف کالج و اسکول جیسے بے مثال ادارے واقع تھے اور ہیں۔ ان کے طلبا و طالبات اسی اردو بازار سے کتب اور دوسری تعلیمی ضروریات حاصل کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس بازار کے باہر دکانیں کھلتی گئیں اور اردو بازار ایکسٹنشن کہلائیں۔ آج اردو بازار کے شمال اور جنوب میں کئی سو گز تک تعلیم سے متعلق ادارے تجارت کر رہے ہیں۔ قدیم اردو بازار آج بھی اپنے بازو پھیلائے مونٹیسوری سے لیکر یونیورسٹی لیول کی کتابوں کے علاوہ دینی، تفریحی اور عام کتابوں کا شہر میں واحد مرکز ہے۔ آج بھی پورے کراچی سے طلبا وطالبات اسی مارکیٹ میں آتے ہیں کیونکہ یہ علاقہ سستی کتابوں کا حب ہے۔ پورے سندھ اور ملک کے دوسرے شہروں میں میڈیکل ، کمپیوٹر، انجینرنگ اور دوسرے تمام موضوعات کی کتب کی ترسیل کا مرکز ہے۔

یہ بازار جس نالے پر بنا ایک کشادہ نالہ ہے جو چند سال قبل سے پہلے کبھی بارش میں بند نہیں ہوا۔ بارشوں میں شہر میں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے پر شہریوں کی تشویش پر انتظامیہ نے نالے میں رکاوٹوں کا عذر بھی پیش کیا۔ غالباً اسی بنیاد پر انتظامیہ نے نالے پر تعمیر شدہ عمارتوں کو صفائی میں رکاوٹ کا ذمّہ دار بتایا۔ اسی موقف کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے مفاد عامہ میں نالے پر تعمیر تمام عمارتوں کو ہٹانے کا حکم جاری کیا۔ یہاں صرف یہ نکتہ غور طلب ہے کہ نالے پر اردو بازار کے علاوہ دور تک مختلف مارکیٹیں، کراس کرتی سڑکیں موجود ہیں تو جہاں سے نالہ زیر زمین ہوتا ہے تو وہاں پر آہنی جال لگاکر کوڑے کو روکنا کس کی ذمّہ داری تھی؟ اردو بازار کے پاس ویمن کالج میں داخل ہونے والا نالہ بالکل کھلا ہے اس میں ٹنوں کے حساب سے غلاظت کے ڈھیر کا موجود ہونا کس کی نا اہلی ہے؟ گجرو نالا کھلا ہے اس میں ڈھیروں کوڑا پڑا رہتا ہے وہ کیوں نہیں اٹھتا؟ یعنی کھلے نالوں میں تو زیادہ رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں۔

اب آئیں اردو بازار کی طرف۔ ابھی کئی سال پہلے بارش کے بعد اردو بازار سے متّصل روڈ توڑ کر صفائی ہوئی اورڈیڑھ سال تک یہ کھلا رہا، کیا ایسا دوبارہ نہیں کیا جاسکتا؟ ساری عمارت کو گراکر نالے کو کھول کر آس پاس کی آبادی کو تعفّن کی فضا مین جھونک دینے سے کیا مقصد حاصل ہوگا، عقل سمجھنے کی کوشش ہی کر سکتی ہے۔ عمارت کو ڈھا کر نالے کو کھلا کرنے کے بعداردو بازار سے متصل سوبھراج میٹرنٹی ہسپتال میں نومولود بچّے بدبو میں کن کن بیماریوںکے سامنے ایکپوز ہونگے کیا اس پر ارباب اختیار نے غور کیا؟ اردو بازار کے بالکل قریب ویمن کالج کا ایک حصّہ اسی نالے پر تعمیر ہوا ہے کیا وہ کلاسیں بھی ڈھادی جائیں گی؟ اور پھر کیا اس تعفّن میں قوم کی بیٹیاں ڈھاٹے باندھ کر بیٹھیںگی۔ ذرا سوچیں کہ ارباب اختیار کی سوچ کتنی مضحکہ خیز ہے ۔ عدالت کے فیصلے پر آنکھ بند کرکے عمل کرنے سے پہلے اس کے عواقب پر غورکرنا انتظامیہ کا کام ہے اور اس سے عدالت کو مطلع کرنا بھی ان کا کام ہے کیونکہ عوام کی صحت کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنا ان کی ذمّہ داری ہے۔ یہ بات بھی مدّ نظر رکھنی تھی کہ اردو بازار کے کرایہ دار ریاست سے معاہدہ کرکے بیٹھے تھے کسی انفرادی فرد سے نہیں، اور اس صورت میں ریاست ایک عام مالک کی طرح عمل نہیں کرسکتی کیونکہ اس نے جو جائیداد کرائے پر دی ہے وہ عوام کی ملکیت ہے اور ریاست اس کی محافظ و رکھوالی کی ذمّہ دار۔ اس کو ماں اور بیٹے میں معاہدے کی صورت دیکھنا ہوگا۔ ایسی صورت میں اردو بازار اور دوسری مارکیٹوں کے کرایہ داروں پر عام کرایہ داری قوانین کے اطلاق میں نرمی ہوگی۔ جائیداد واپس لینا ریاست کا حق ہے لیکن اس ضمن میں اخلاقی طور پر ریاست کو سختی اور سفّاکی کے بجائے نرمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دس سے پچاس سالہ قائم تجارتی اداروں کو تین دن میں خالی کرنے کا نوٹس حیران کن ہے۔ یہ کتنا پریکٹیکل ہے آپ خود سوچ لیں۔

سوال یہ ہے کہ گریٹر کراچی کی منصوبہ بندی میں شامل ایک اہم عمارت کو جو آذادی کے بعد ہماری تعلیمی جدّو جہد کے بموجب تاریخ کا حصّہ ہو کر ہمارا ورثہ بن چکی ہے اس کو دوسری تجارتی عمارتوں کی صف میں لاکر منہدم کیسے کیا جاسکتا ہے ۔ یہ ہماری اپنی تاریخ اور تعلیم سے بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اردو بازار سے ہر اس شخص نے استفادہ حاصل کیا جس نے کراچی میں تعلیم حاصل کی اور اس وقت بھی کراچی میں تعلیم کی ترقّی کی پہچان اردو بازار کی مثال علم و حکمت کے ایک مخزن کی سی ہے جو بازو پھیلائے ہر خاص و عام کو گلے لگاتا ہے لیکن عاقبت نا اندیش انتظامیہ اس کے جسم کو بازو سے الگ کرکے گندے نالے کی نظر کرنے پر سفاکیت کی حد تک کمر بستہ ہے!
تو ہے کوئی اقتدار کے دالانوں میں جاگتا اورکھلا کان جو ایک تاریخی ورثے کی آخری چیخ پر اس کی مدد کو دوڑے، ہے کوئی؟

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.