سردار صاحب سے ایک ملاقات- خالد مسعود خان

ڈیرہ غازیخان کے سرداروں کا پتا نہیں چلتا کہ کون حقیقی سردار ہے اور کون صرف لکھنے کی حد تک سردار ہے۔ درجن بھر لغاریوں کو تو میں جانتا ہوں کہ وہ سردار لکھتے بھی ہیں اور کہلواتے بھی ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ ''سردار‘‘ کا نام لیں تو ایک بڑی توپ چیز کا تصور ذہن میں آتا ہے اور بزداروں کے اصلی سردار‘ یعنی سردار فتح محمد خان بزدار جو کہ پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کے والد ہیں‘ بیٹے کی وزارت اعلیٰ سے پہلے بھی گو کہ سردار ہی تھے‘ لیکن ایسے سردار کہ سرداروں کا سارا تصور ہی ملیا میٹ ہو جائے‘ نہ کرو فر‘نہ قلعہ نما گھر‘ نہ لینڈ کروزرٹائپ گاڑیوں کا قافلہ‘ نہ باڈی گارڈوں کی رجمنٹ اور نہ ہی علاقے میں کوئی خاص رعب داب۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ سردار فتح محمد خان بزدار کوئی درویش ٹائپ کے سردار ہیں‘ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ سچ مچ کے ذرا غریب قسم کے سردار ہیں۔

بنگلے‘ گاڑیاں‘ باڈی گارڈ اور کروفر کے لیے پیسہ چاہیے اور سردار صاحب کا اس سلسلے میں ہاتھ خاصا تنگ تھا۔ آدھا گھر بذات ِخود نوکری پیشہ تھا۔ ظلم و ستم کی بھی کوئی کہانی ان سے وابستہ نہیں‘ علاوہ ان مقتولین کے جو الیکشن کے جھگڑے میں ان کے ذمے ڈال دئیے گئے؛ حالانکہ حقیقت میں وہ یا ان کا خاندان اس خونیں جھگڑے میں براہ راست ملوث نہ تھا۔ نیب میں دی گئی ان کے بیٹے کے خلاف درخواستیں بھی ایسی کہ پڑھ کر ہنسی آئے۔ بطورِ تحصیل ناظم تونسہ ٹرائبل ایریا سردار عثمان بزدار پر بھی نوکریاں بیچنے‘ گھوسٹ ملازم رشتہ داروں اور دوچار پانی کی سکیموں میں خورد برد کے علاوہ اور کوئی بڑا الزام نہیں تھا۔

قارئین! معاف کیجئے میں کہاں کا کہاں نکل گیا۔ بات ڈیرہ غازیخان کے سرداروں کی ہو رہی تھی۔میں اپنے ڈیرہ غازیخان کے کئی دوستوں کو ''سردار صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ وہ سارے واقعتاً سردار ہیں‘ بلکہ ان میں سے کئی نہایت ہی مرنجان مرنج قسم سادہ طبیعت لوگ ہیں‘ مگر میں صرف ان کی عزت افزائی اور اپنی محبت کے ا ظہار کیلئے ان کو سردار صاحب کہہ کر مخاطب کرتا ہوں۔ ویسے میرے ایسے تمام دوست‘ جنہیں میں از راہِ محبت بھی سردار کہہ کر مخاطب کرتا ہوں بلوچ ہیں‘ معزز ہیں‘ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے مالک ہیں اور لطیف کھوسہ سے کہیں زیادہ معقول لوگ ہیں۔ اس لیے ان کیلئے یہ خطاب‘ ان پر سجتا بھی ہے۔ میرے ان دوستوں میں دریشک بھی ہیں‘ گورچانی بھی ہیں‘ کھوسہ بھی ہیں‘ کھتران بھی ہیں‘ قیصرانی بھی ہیں اور بزدار بھی۔ ویسے بھی جب لطیف کھوسہ اپنے آپ کو سردار لکھنا شروع کر دے‘ آپ کسی کو سردار کہہ لیں‘ کوئی بات نہیں۔

گزشتہ ہفتے سردار صاحب سے اپنے اسی دوست کے ہاں ملاقات ہوئی‘ جہاں ہمیشہ ہوتی ہے۔ سردار صاحب‘ میرے براہ راست دوست نہیں ‘بلکہ ایک بہت ہی عزیز دوست کے دوست ہیں‘ اس طرح وہ بلاواسطہ نہ سہی‘ بالواسطہ قسم کے دوست ہیں۔ نہایت دھیمے مزاج کے‘ ہنس مکھ‘ زندہ دل‘ معقول گفتگو کرنے والے ''بیبے آدمی‘‘۔ اس لفظ ''بیبے‘‘ میں بہت کچھ آ جاتا ہے۔ کہا اور ان کہا‘ سب کچھ۔ سردار صاحب بزدار ہیں اور اس حوالے سے سردار عثمان بزدار کے چاہنے والے بھی۔ میں نے کبھی نہ تو دریافت کیا ہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی از خود بتایا ہے کہ ان کی عثمان بزدار سے اگر عزیزداری ہے تو کیا ہے اور رشتہ داری ہے تو کتنی قریبی‘ لیکن ان کی باتوں سے‘ عثمان بزدار سے محبت کے اظہار سے اور اس کیلئے نیک جذبات سے اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ ان کے خاصے قریبی عزیز ہیں۔ اب آپ حیران ہونگے کہ وہ میرے کیسے دوست ہیں کہ جس کے بارے میں مجھے علم ہی نہیں کہ وہ عثمان بزدار کے کیا لگتے ہیں؟ تو اس کی کئی معقول وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ سردار عثمان بزدار پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر فائز ہونے سے پہلے ایسی شخصیت ہرگز نہ تھے کہ ان کا کوئی عزیز رشتہ دار کسی کو ان کے بارے میں غائبانہ تعارف کرواتے ہوئے آپ کو بتاتا کہ وہ سردار عثمان بزدار کا رشتہ دار ہے۔ ویسے بھی کئی بزدار مالی حالات کے حوالے سے ان سے کہیں زیادہ آسودہ تھے۔ سوشل حوالوں سے ان سے زیادہ معروف تھے‘ ان سے زیادہ پڑھے لکھے اور معقول تھے؛ حتیٰ کہ ہمارے یہ دوست ''سردار صاحب‘‘ بھی ان سے زیادہ اچھی‘ سلجھی ہوئی اور پڑھے لکھوں والی گفتگو کرتے ہیں۔

انہوں نے اب بھی کبھی اظہار تو نہیں کیا‘ لیکن مجھے یقین ہے کہ انہوں نے عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے سے پہلے‘ کبھی ان کو
اس قابل بھی نہیں سمجھا ہوگا کہ وہ ان کے حوالے سے اپنا بھی تعارف کرواتے ہوں۔گزشتہ ہفتے ان سے ملاقات ہوئی تو وہ مجھ سے گلہ کرنے لگ گئے کہ آپ نے سردار عثمان بزدار کے خلاف کالم لکھا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ تھوڑی تصحیح کرلیں۔ میں نے ان کے خلاف قطعاً کچھ نہیں لکھا۔ وہ کہنے لگے؛ اگر وہ کالم ان کے خلاف نہیں تھا (سردار صاحب‘ اس کالم کا ذکر کر رہے تھے‘ جو میں نے عثمان بزدار کے بارے میں اس روز لکھا تھا‘ جس روز وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد ہوئے تھے) تو پھر خلاف لکھنا کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: ایک بار سعادت حسن منٹو نے غلام محمد خان لونڈ خوڑکے بارے میں لکھا کہ وہ شراب پیتے ہیں اور مجرا دیکھتے ہیں۔ منٹو کے کسی بدخواہ نے غلام محمد لونڈ خوڑ صاحب کو کہا کہ منٹو نے آپ کے خلاف مضمون لکھا ہے۔ لونڈ خوڑ صاحب کو بڑا جلال آیا اور انہوں نے کہا وہ منٹو کی ایسی تیسی کر دیں گے۔ دو چار روز بعد ان کو کسی نے بتایا کہ منٹو رائل پارک میں بیٹھے ہیں۔ غلام محمد لونڈ خوڑ پستول بردار‘ وہاں جا پہنچے اور پوچھا: منٹو ونٹو کون ہے؟ منٹو صاحب بھی اپنی طرز کے ہی ایک آدمی تھے۔ کہنے لگا: میں ہوں۔ غلام محمد خان لونڈ خوڑ نے پوچھا :تم نے میرے بارے میں کیا لکھا ہے؟ منٹو نے کہا کہ میں نے لکھا ہے: آپ شراب پیتے ہیں اور مجرا دیکھتے ہیں۔ خان صاحب نے پوچھا اور کیا لکھا ہے؟ منٹو نے کہا اور کیا لکھنا تھا؟ بس یہی لکھا ہے۔ خان صاحب بڑے اچھے موڈ میں واپس چلے گئے اور شکایت لگانے والے کو کہا کہ تم تو کہتے تھے‘ منٹو نے میرے خلاف لکھا ہے۔

اس نے تو میرے خلاف کچھ نہیں لکھا۔ شکایت لگانے والے نے کہا کہ اس نے آپ کو شراب نوش اور مجرا دیکھنے والا کہا ہے۔ خان صاحب ہنسے اور کہنے لگے۔ شراب تو میں پیتا ہوں اور مجرا میں دیکھتا ہوں۔ اس نے تو جو لکھا ہے ‘سچ لکھا ہے۔ بھلا میرے خلاف کب لکھا ہے؟ خلاف تو وہ ہوتا ہے‘ جو خلاف از واقعہ ہو۔ سچ لکھنا کب خلاف ہوتا ہے؟
میں نے پوچھا: سردار صاحب! کیا کوئی بات غلط تھی؟ کچھ خلاف از واقعہ تھا؟ سردار صاحب ‘ہنسے اور کہنے لگے: چلیں خلاف نہ سہی‘ مگر حق میں بھی تو نہیں تھا۔ میں نے پوچھا: کیا کچھ غلط لکھا تھا؟ کہنے لگے :نہیں‘ غلط تو کچھ نہیں تھا‘ لیکن اسے تو صرف دکھاوے کیلئے بٹھایا گیا ہے۔ آپ اس کے بارے میں کیوں نہیں لکھتے ‘ جس نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ میں نے کہا: عثمان بزدار اس زبردستی پر آواز اٹھائے‘ میں اس کے ساتھ ہوں گا۔ سردار صاحب قہقہہ مار کر ہنسے اور کہنے لگے: بھلا وزارت اعلیٰ ملنے پر کوئی ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہے؟ میں نے کہا :پھر ایسی باتیں سننی پڑیں گی۔ سردار صاحب کہنے لگے: وہ سادہ آدمی ہے اور یہ عہدہ اس کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ بڑا ہے‘ وہ تو زیادہ سے زیادہ تحصیل ناظم بننے کے لائق تھا‘ جو وہ بن بھی گیا تھا۔ اس سے زیادہ کی اس کی استعداد ہی نہیں تو آپ اس سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا: تو وہ پھر واپس تونسہ کیوں نہیں چلا جاتا؟ سردار صاحب کہنے لگے: آپ خود کہتے ہیں کہ اس ملک میں پٹواری اپنی مرضی سے عہدہ نہیں چھوڑتا‘ کجا کہ کوئی وزارت اعلیٰ چھوڑ دے۔

پھر وہ کہنے لگے: میٹرک کے طالبعلم کو اگر کوئی ایم اے کا پرچہ پکڑا دے تو غلطی کس کی ہے؟ میں نے کہا: اگر میٹرک کے طالب علم کو ایم اے کا پرچہ پکڑا دیں اور وہ اسے حل کرنے کی کوشش بھی شروع کر دے تو پھر غلطی سرا سر میٹرک والے طالبعلم کی ہے۔ سمجھدار طالب تو میٹرک کے پرچے میں بھی اگر آؤٹ آف کورس دو سوال بھی آ جائیں تو پیپر چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے‘ آپ کا طالبعلم پی ایچ ڈی کا تھیسس لکھنے کی ناکام کوشش میں لگ گیا ہے۔سردار صاحب پھر ہنسے اور کہنے لگے۔ بہرحال آپ زیادتی کر رہے ہیں۔ آپ کو اس غلط سلیکشن پر وزیراعلیٰ کے نہیں‘ عمران خان کے خلاف لکھنا چاہئے کہ یہ سلیکشن عمران خان نے کی ہے ‘اس کے پاس نہ اختیار ہے اور نہ ویژن۔ وہ صرف دکھاوے کا وزیراعلیٰ ہے۔ میں نے کہا: دوسرے لفظوں میں ''ڈمی‘‘ وزیراعلیٰ؟ سردار صاحب کہنے لگے: حقیقت یہی ہے؛ اگر وہ بااختیار اور کسی قابل ہوتا عمران خان کو بار بار لوگوں کو عثمان بزدار بارے یہ نہ کہنا پڑتا کہ وہ بااختیار وزیراعلیٰ ہے۔ اختیار بتانے کا محتاج نہیں ہوتا‘ نظر آ جاتا ہے۔ میں یہ بات سن کر آہستگی سے کمرے سے کھسک آیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں سردار صاحب یہ نہ کہہ دیں کہ یہ باتیں کالم میں نہیں لکھی جا سکتیں۔ قبل اس کے کہ اب کالم ضائع ہوتا میں وہاں سے کھسک گیا۔ اب اللہ جانے سردار صاحب ‘اس پر کیا کہتے ہیں‘ بہرحال اب جو ہوگا دیکھا جائے گا۔