جنگوں میں الجھی اقوام… (آخری قسط) نذیر ناجی

دسمبرمیںطیب اردوان کو ٹرمپ کی جانب سے پیغام موصول ہوا‘امریکہ نے شام میں فوجی دستے بھیجنے سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لے لیا‘ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ پہلے ہی اپنے آپ میں ایک سوال تھاکہ 2000امریکی دستے شام میں کیا کرپائیں گے؟ ایرانیوں نے بھی بشارالاسد کی تحریک کو کافی حد تک سہارا دیاہوا تھا۔اسلامی ریاست کے خلاف جنگ میں تیسری قوت پیدا ہو جاتی اور جنگ کا دورانیہ مزید بڑھنے کے خدشات تھے۔شامی فورسز کو ترکش کرد شدت پسندوں کے حملوں کا سامنا تھا۔اسد کی خواہش تھی تمام معاملات کواحسن طریقے سے حل کرکے پورے علاقے پر حکومت رٹ قائم کی جائے ۔خواہ‘ وہ طاقت کے استعمال یا مذاکرات سے ہوپائے۔

امریکہ اور روس دونوں ممالک کے ذاتی مفاد ات شام سے جڑے ہوئے ہیں‘کیونکہ اس کی حمایت حاصل کر کے ترکی پر اپنا اثرورسوخ کوبڑھایا جاسکتا ہے۔ماسکو اور واشنگٹن دونوں ممالک شامی فورسز ‘کردوں اور ترکوں کو اس بات پر آمادہ کرنے لگے کہ وہ سب بڑے پیمانوں پر ہتھیاروں کے استعمال سے پرہیز کریں‘کچھ علاقے شام کو واپس کریں اور کچھ کردوں کو دینے پر دبائو بڑھانے لگے ‘ تاکہ کرد اپنے ان علاقوں میں اپنی حکومت اور اجارہ داری قائم رکھیں ۔اس سے شام کی خود مختاری سبوتاژ تو ہوتی‘ مگر دیرپا امن قائم ہو پانا ممکن تھا۔جنگ بندی کے اس عمل سے کرد اور شامی دونوں حملوں سے محفوظ رہیںگے اور بھاری مقدار میں اسلحہ بھی استعمال نہ کر سکیں گے ۔

نائیجریا ‘فروری 2019ء میں نئے صدارتی انتخابات کرانے جا رہا ہے۔مارچ میں مختلف صوبوں کے گورنرز کا انتخاب ہوگا۔یہ انتخابات کس قدر متنازعہ ہوتے ہیں‘ کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔نائیجرین تاریخ خونی تصادم اور نسلی تعصب پسندی سے بھری پڑی ہے۔صدارتی انتخابات میں محمد بہاری اور سابق نائب صدر عتیق ابوبکر کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تصور کیا جارہا ہے۔بہاری‘ حکمران جماعت 16سال اقتدار پرقابض رہی‘ جب تک ابوبکرڈیموکریٹک پارٹی طاقت میں نہ آئی تھی۔ دونوں میں تنازعات گزشتہ سال جولائی میں اس وقت بڑھے‘ جب الیکشن اور سکیورٹی ایجنسیز کودئیے گئے فنڈز کے حوالے اجلاس منعقد ہوا۔جگہ جگہ احتجاج کاسلسلہ شروع ہوا ۔ اپوزیشن نے ان فنڈز کو احتجاج کرنے والوں اور ووٹرزکے لیے خطرہ قرار دیا۔جواز بنایا گیا کہ 2011ء کے الیکشن میں ان فنڈز کا غلط استعمال کر کے اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔حالات اس وقت بھی کشیدہ ہوئے جب شمالی علاقہ جات میں بوکوہامہ باغیوں اور حکومتی فوجی دستوں میں گھمسان کی جنگ جاری رہی۔نائیجریا کے مغربی علاقوں کی سرحد دیگر افریقین ممالک سے جڑی ہے۔ان علاقوں میں عیسائیوں کی اکثریت آباد ہے۔مسلمانوں اور عیسائیوں کی لڑائی عرصہ دراز سے چلی آرہی ہے۔ پچھلے الیکشن میں بھی 1500کے قریب لوگ مارے گئے‘ان لڑائیوں میں مقامی سیاست دانوں کا ہاتھ مانا جاتاہے ‘کیونکہ الیکشن مہم میں وہ غیرپارلیمانی اور تعصب پسندانہ زبان کا استعمال کرتے ہیں۔رواں سال ہونے والے الیکشن سکیورٹی فورسز کے لیے بہت بڑا چیلنج ہیں ۔

پانچ سال قبل سوڈانی جنگ میں 4 لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے‘ستمبر میں سوڈانی صدر سلوا کیر اور ان کے حریف سابق نائب صدر ریک مارچر‘ نے2022ء تک کوئی بھی متنازعہ بیان نہ دینے پر اکتفا کیا ہوا ہے اور اسے باقاعدہ معاہدے کی شکل دی ہے۔
یوکرائن کی جنگ اختتام پذیر ہونے کو ہے ۔ جنگ کا آغاز 2014ء میں روسی مداخلت سے ہوا ‘ جب روس نے ریاست کریمیاء میں علیحدگی پسند باغیوں کی حمایت شروع کردی تھی‘جنگ کی آگ چھوٹے علاقوں سے پھیلتی ہوئی مزیدبڑھتی گئی‘یہاں تک کہ روس اور مغربی طاقتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا‘نومبر میں روس اور یوکرائن کے درمیان آزو (سمندر) میں جھڑپ بھی ہوئی ‘جہاں روس نے ''کرچ ‘‘کی جانب راہداری کو فوجی قوت سے بند کردیا‘دونوں جانب سے عسکری حکام مذاکرات کے سوا کوئی اور حل تلاش نہ کرپائے‘اس جھڑپ میں روسی جنگی جہازوں نے یوکرائنی کشتیوں کو نشانیہ بنایا‘اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان 2003ء میں معاہدہ طے پایا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کی سمندری حدود کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔روس نے الزام عائد کیا کہ یوکرائنی کشتیاں اپنی حدود پار کرکے روسی علاقوں میں گھس آئی تھیں‘ جس کی بنا پر یہ کارروائی کی گئی۔دوسری جانب یوکرائنی صدر کی جانب سے کہا گیا کہ ایسا صرف مارچ2019 ء میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیاہے۔ یوکرائنی صدرکا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسی صورتحال جمہوریت کو ختم کرنے اور مارشل لاء لگانے کے لیے پیدا کی جارہی ہے ۔

جن امکانی و جاری جنگوں کا ذکر کیا گیا ہے‘ وہ عالمی نقشے پر کوئی خاص ردوبد ل کی وجہ نہیں بنے‘بیشتر قابل ذکر ممالک جغرافیائی‘مالیاتی ‘صنعتی اور فوجی اعتبار سے خصوصی اہمیت نہیں رکھتے ۔ بہت سے تصادم اب یاد ماضی بن چکے ہیں ۔جب چھوٹے ملکوں کی کشمکش میں بڑے ملک کود پڑتے تھے‘ کوئی بڑا ملک چھوٹے ملکوں کے جھگڑوں میں مداخلت سے گریز کرتاہے؛ اگر کوئی بڑا ملک خود تنازعے میں ملوث ہوتا ہے‘ تو وہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت ہے‘ وہاں جغرافیائی جھگڑوں کے علاوہ مذہبی‘ لسانی تنازعات کسی بھی انداز میں نئے تصادموں کو جنم دے سکتے ہیں۔ اصل میں رواں صدی کے وسط میں بڑی طاقتوں کے باہمی فیصلوں کو تصادم کے بغیر طے کرنے کا رجحانات نمایاں ہوں گے۔