نفرت نہیں، محبت کیجیے! - عابد محمود عزام

انسان فطری طور پر محبت پسند ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا میں ہر سو انسان کی لگائی ہوئی نفرت کی آگ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ملکوں سے لے کر افراد تک سب نفرت کی آگ جلانے میں مشغول ہیں۔اگر انسان اپنے فطری جذبۂ محبت کو جذبۂ نفرت پر حاوی کرنے کے لیے اپنے اندر سے ہر قسم کے منفی رویوں کو ختم کرنے اور مثبت رجحانات پر اپنی طبیعت کو مائل کرنے کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنی محبت کی طاقت سے نفرت کی آگ پر قابو نہ پاسکے۔ نفرت کی آگ بجھانے کے لیے پہلے ہر انسان کو خود اپنے ماحول سے پیدا شدہ منفی رجحانات کا خاتمہ کرنا اور اپنی زندگی کو مثبت رجحانات کے تابع کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اپنے دل کو دوسروں کی نفرت کی آگ سے محفوظ رکھ کر دنیا کو محبت کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔

انسان نفرت اپنے ارد گرد کے ماحول سے کشید کرتا ہے، اس لیے ہر انسان کو اپنی زندگی میں ایسے دوست و احباب کا انتخاب کرنا چاہیے جو نفرت سے نفرت اور محبت سے محبت کرتے ہوں، تاکہ معاشرے سے نفرت کا خاتمہ ہو اور زیادہ سے زیادہ محبت پھیلے اور منفی ذہنیت کے ایسے افراد سے مکمل اجتناب و کنارہ کشی کی جائے جو ہمیشہ نفرت پھیلانے کے منصوبے بناتے رہتے ہوں۔ انسان میں فطری جذبات و احساسات میں سے محبت سب سے اہم جذبہ ہے۔ محبت کا جذبہ ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔

اسلام بھی انسان کو محبت پھیلانے کا حکم دیتا ہے۔ ایک مسلمان محبت کا پیکر ہوتا ہے۔ وہ لوگوں میں نفرت کے کانٹے نہیں، بلکہ پیار و الفت کے پھول بانٹتا ہے۔
محبت فاتح عالم ہے۔ محبت دلوں کو اسیر کرتی ہے۔ محبت زندہ قوموں کا شعار ہے۔ محبت دلوں کو حیات بخشتی ہے اور انسان کو شادمان اور خوشحال کرتی ہے۔ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو استاد و شاگرد دونوں کے دلوں پر مساوی طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تربیت اولاد میں محبت کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ محبت لوگوں میں میل ملاپ اور یکجہتی کا سبب ہے۔ اگر محبت کا جذبہ نہ ہوتا تو کوئی بھی انسان کسی دوسرے کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہ ہوتا اور ہمدری اور ایثار و قربانی جیسے لفظوں کا وجود نہ ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   نفع بخش سودا - آسیہ پری وش

محبت انسان کی فطرت میں شامل اسی طرح کا ایک جزو ہے، جس طرح سانس لینا، کھانا کھانا، پانی پینا، سونا، جاگنا، انسانی فطرت کے جزو ہیں، ہم ہر انسان سے بحیثیت انسان محبت کرتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے عزیزوں اور رشتے داروں سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے گھر والوں سے، ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی بچوں سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے گھر، گلی، گاؤں، شہر اور ملک سے محبت کرتے ہیں۔ محبت ایک فطری جذبہ ہے، جس کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام فطرت کا ترجمان ہے، اس لحاظ سے محبت کا اسلام سے گہرا تعلق ہے۔

جس طرح اسلام دوسر ے اعمال کا حکم دیتا ہے، اسی طرح اسلام فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں محبت کا حکم بھی دیتاہے، جو اللہ نے ہمارے دلوں میں القاء کی ہے۔ اسلام ہمیں محبت کرنے اور اس کو ترقی دینے کے لیے ہمدردی اخوت، بھائی چارہ، ایثار وقربانی جیسے مواقع بھی فراہم کرتا ہے جن پر عمل پیرا ہو کر آپس میں محبت بڑھتی ہے۔ محبت انسان کی فطرت میں شامل ہے، لیکن اس فطرت کا اظہار خدا، رسول، مذہب، والدین، اولاد، بیوی، شوہر اور محبوب میں سے ہر ایک کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ اصولِ محبت میں توازن اور اعتدال کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ محبت میں جس کا جتنا حق ہے، اسے اس مقام پر ہی رکھا جائے اور اسلام نے جو درجہ بندی کی ہے اس کی پابندی کی جائے۔

سب سے اہم خدا تعالیٰ کی محبت کو پانا ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لیے اس کے احکامات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔ مخلوق سے محبت کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہی ہے، کیونکہ مخلوق کو خدا تعالیٰ کا کنبہ کہا گیا ہے اور مخلوق سے محبت کرنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ ہی تو فرماتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ نفرت کے جذبات کو رفع کر کے محبت کے جذبات کو فروغ دے۔اگر خدا کی محبت حاصل کرنا چاہتا ہے تو خدا کی مخلوق سے محبت کرے۔

ٹیگز

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.