پتا نہیں پاکستان ریلوے کون چلائے گا؟ بلاول بھٹو ذرداری

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور آصف زرداری کی ملاقات سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ نکلتا ہے، اپوزیشن جماعتیں مل کر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گی۔
میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ گرینڈ الائنس کی کوئی کوشش نہیں ہورہی، ایشوز پر سیاست کیلئے مشترکہ نکات ڈھونڈ رہے ہیں،مخصوص طاقتوں کی کوشش رہی ہے کہ پیپلز پارٹی کو بدنام کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر شیخ رشید میری سیاست پر تبصرہ کر رہے ہیں تو پتا نہیں پاکستان ریلوے کون چلائے گا؟حکومتی وزیر اپنے کام پر توجہ دیں، معیشت تباہ ہورہی ہے۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہیں،اتنی نااہل اور ناکام حکومت اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی، اپوزیشن انھیں ٹف ٹائم دے گی۔

جے آئی ٹی رپورٹ کا جواب نہ دینے پر بلاول کا کہنا تھا کہ سیاسی جج نہیں جنہیں جے آئی ٹی رپورٹ کا جواب دیں، جے آئی ٹی رپورٹ کا جواب صرف عدالت میں دیں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب ایک سال کا تھا تب سے سن رہا ہوں کہ آصف زرداری گرفتار ہونے والے ہیں، ہم دھمکیوں سے نہیں ڈرتے، جتنا بھی دباو ڈالیں، پورے خاندان کو جیل میں ڈالیں لیکن آئین پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔
پی پی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ حکومت نہیں چل رہی،پیپلزپارٹی ناتجربہ کار حکومت پر اپنا موقف اپنائے گی اور راستہ دکھائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اکیلے بھی اپوزیشن کرسکتی ہے، پہلے بھی ظلم کا سامنا کیا اور اب بھی کرسکتے ہیں،آصف زرداری وہ واحد سیاست دان ہیں جو پاکستان کی قوتوں کو ملا کر ساتھ لیکر چل سکتے ہیں،انہوں نے اپنی صدارتی مدت مکمل کی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف زرداری کی مولانا کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں،گرینڈ الائنس کی طرف نہیں جارہے،مسائل پر سیاست کر رہے ہیں،حکومت ہمارا مقابلہ انتخابات میں نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے کسی کی تعیناتی کی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ غیر جانبدار ہو اور سیاسی دباو میں نہ آئے، نیب ہو یا دیگر ادارے، حکومتی دباو میں کام کر رہے ہیں، مخصوص طاقتوں کی کوشش رہی ہے کہ پی پی کو بدنام کرنا ہے،یہ سب کچھ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی ہوتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دائمی صداقت - ہارون الرشید

پی پی چیئرمین نے کہا کہ آصف زرداری کی کردار کشی کی مذمت کرتے ہیں، آج بھی زرداری صاحب کیسز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں،وہ خود جے آئی ٹی میں پیش ہوئے اور جوابات دیے،ان کے جوابات جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل نہیں کئے گئے۔