قاضی حسین أحمد (رح) کچھ یادیں کچھ باتیں - عالم خان

محترم جناب قاضی حسین احمد نور اللہ مرقدہ جماعت اسلامی کے (۲۲)سال امیر رہے، آپ دینی اور سیکولرز حلقوں کے علاوہ اندرون اور بیرون ملک میں یکساں مشہور اور محبوب تھے، ہنستا مسکراتا چہرہ آپ کی مخصوص شناخت تھا، پاکستان میں نظام کی تبدیلی اور احتساب کے لیے ایک توانا آواز کی حثیت سے معروف تھے، کارکنوں کے ساتھ لاٹھیاں کھانے والا واحد سفید ریش لیڈر تھے، آپ کے ساتھ کافی یادیں وابستہ ہیں جنہیں آج ان کی برسی کے موقع پہ دہرانا ضروری سمجھتا ہوں۔

قاضی صاحب کو ہمیشہ سکرین اور سٹیج پر دیکھا تھا لیکن آپکو قریب سے دیکھنے کا موقع اس وقت ملا تھا جب ہم جامعہ عالیہ احیاء العلوم بلامبٹ تیمر گرہ میں پڑھتے تھے، اور طلباء کے لیے صوبائی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وظیفہ کی ادائیگی میں انتظامیہ لیت ولعل سے کام لے رہی تھی، قاضی صاحب جلوس کی صورت میں باجوڑ تشریف لے جا رہے تھے لیکن انتظامیہ اجازت نہیں دے رہی تھی اس لیے وہ کچھ وقت کے لیے جامعہ احیاء العلوم تیمرگرہ میں ارکان اور کارکنان سے ملاقات کے لیے داخل ہوئے ہم نے موقع کو غنیمت پاکر اپنی فریاد تحریری صورت میں قاضی صاحب کو تھما دی جسے پڑھتے ہی اپنے پروگرام سے ہٹ کر فورا اٹھ کھڑے ہوگئے اور مائک پہ آکے اراکین جماعت سے جلالی لہجے میں خطاب کیا آپ کے دبنگ لہجے نے سامعین پہ سکتہ طاری کردیا آپ نے اسی وقت درویش صفت مہتمم اور ایم این اے مولانا احمد غفور (رح) سے نہ صرف پرسش کی بلکہ وظیفے کی فوری ادائیگی اور بعدآذان اس کی رپورٹ بھیجنے کا حکم دیا جس پر ایک ہفتے کے اندر اندر عمل کر دیا گیا۔

قاضی صاحب فصیح اللسان اور خون کو گرما دینے والا مقرر تھے، آپ کی فصاحت اور بلاغت کے آپ کے ناقدین بھی قائل تھے، آپ کو سامعین کی نفسیات کے مطابق گفتگو اور تقریر کرنے کی صلاحیت اللہ تعالی نے ودیعت کر رکھی تھی، اس کا عملی مظاہرہ مجھے اس وقت دیکھنے کو ملا جب شیر گڑھ میں جمعیت علماء پاکسان (ف) کی طرف سے اسیر مالٹا عزیر گل (رح) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا ہم اس وقت جامعہ مفتاح العلوم خوشحال گڑھ میں پڑھتے تھے شیخ القرآن و الحدیث مولانا صفی اللہ حفظہ اللہ کے حکم پر ہم بھی عزیر گل (رح) کانفرنس میں شریک ہوئے جب قاضی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی تو آپ نے تمہیداً اپنے نام “حسین أحمد” کا تاریخی پس منظر بیان کرنا شروع کیا اور اس میں اپنے والد محترم کی شیخ الہند حسین أحمد مدنی (رح) سے والہانہ محبت کے ساتھ ساتھ اپنے بچپن کے یادوں کا زکر کیا جس پر ساتھ بیٹھے جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکن ایک طرف پر جوش نعرہ بازی کر رہے تھے تو دوسری طرف یہ شکوہ کناں تھے کہ کاش آپ جماعت اسلامی میں نہ ہوتے۔

قاضی صاحب کو کئی قومی اور بین الاقوامی زبانوں پر عبور تھا آپ فارسی بہت اچھی طرح بولتے تھے جماعت اسلامی کے عالمی اجتماعات کے علاوہ ایران میں آپ کے بہترین فارسی تقاریر کا تذکرہ معروف صحافی حامد میر بھی کئی بار کرچکے ہیں، آپ شاعری کا کمال ذوق رکھتے تھے اقبال سے بے پناہ محبت تھی اس لیے ہر وقت آپ کے اشعار سے تقریر میں استدلال کرتے تھے اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد میں طالب علمی کے دوران ایک رات آپ سے ہاسٹل سبزہ زار میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پروگرام میں کلام اقبال سننے کا اتفاق ہوا تھا، وہاں پر موجود ملکی اور غیر ملکی سٹوڈنٹس آپ کے ذوق سخن پر انگشت بہ دندان تھے۔

پاکستان سے باہر ملائشیا، سوڈان ، مصر ، بوسنیا ، فلسطین اور ترکی میں آپکو ایک مدبر سیاستدان کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی امنگوں کا ترجمان مانا جاتا تھا، ترکی کے نجم الدین اربکان (رح) آپ سے بے پناہ محبت رکھتے تھے اس لیے آپ کے دور حکومت میں قاضی صاحب کا فقید المثال استقبال ترکی کی تاریخ کا حصہ ہے، ترک عوام قاضی صاحب کو نام سے کم اور “مجاہد بابا” کے نام سے زیادہ جانتے ہیں میں جب ترکی آیا تو اکثر اسلامسٹ ملاقات میں اقبال (رح) اور سید مودودی (رح) کے بعد قاضی صاحب ( مجاہد بابا) کے بارے میں پوچھتے تھے، اگرچہ مجھے ابتداء میں علم نہ تھا کہ مجاہد بابا کون ہے؟ جس پر اکثر ترک حیرت زردہ ہوتے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یونیورسٹی ڈنر پارٹی میں شہر کے مئیر سے میرا تعارف کرایا گیا تو اس نے لڑکھڑاتی انگریزی میں پوچھا ( Do you know Mujahid baba) میری خاموشی کو حیرت بھری نگاہ سے دیکھ کر قاضی قاضی کہنے لگا جب میں نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ خوشی سے بغل گیر ہوئے۔

قاضی صاحب عالم اسلام کے غم خوار سیاسی راہنما تھے یہی وجہ ہے کہ جس ملک کے دورے پر بھی ہوتے وہاں مقبوضہ مسلم علاقوں خاص طور پر کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے ضرور آواز اٹھاتے جس کی گواہی اپنے پرائے سب دیا کرتے تھے، آپ کی وفات سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام ایک شفیق راہنما سے محروم ہوگیا ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آپ کی جدوجہد قبول فرما کر بہ طور انعام جنت الفردوس اور آمت مسلمہ کو آپ کی نعم البدل قیادت سے نوازے۔ آمین

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.