بندہ مومن - زبیر منصوری

گاڑی وزیر اعظم ہاوس کے گیٹ پر رکی پروٹوکول کا ایک افسر قریب آیا اس نےقاضی حسین احمد صاحب کو سلام کیا گاڑی کے اندر دیکھا،اپنے ہاتھ میں موجود لسٹ کو دیکھا،پھر احترام سے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا سر یہ آپ کے ساتھ کون ہیں ؟
وہ متانت سے اپنی بارعب آواز میں بولے : “یہ میرے سکریٹری ہیں “
افسر ذرا دیر رکا جھجکا اور بولا : سر وہ ان کا نام میرے پاس درج نہیں ہے ...
قاضی صاحب نے ذرا تیز آواز سے فیصلہ کن لہجہ میں کہا : “لیکن یہ میرے ساتھ ہی ہوتے ہین ،میرے ساتھ اندرجائیں گے “
افسر نے ایک لمحہ کی خاموشی کے بعد گارڈ کو اشارہ کیا اور گاڑی وزیراعظم ظفر اللہ جمالی سے ایک اعلی سطحی ملاقات کے لئے اندر چلی گئی۔۔۔
وہ بندہ مومن اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوتاتھا
ہمیشہ مضبوط لہجے اور آھنگ کے ساتھ
دیر تک اور دووور تک ساتھ ہمیشہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طویل سفر کے بعد وہ سرد رات میں تھکے ہارے پشاور میں اپنے گھر پہنچے تھے ایسے میں کہ جب گرم بستر سے زیادہ کچھ اور درکار نہیں ہوتا انہیں اپنے ساتھ آنے والے سکریٹری کی فکر تھی خود ارام سے پہلے اسے لے جا کر گرم کمرے میں ٹہرایا اور کچھ دیر بعد دروازے پر پھر دستک ہوئی تو وہ بڑا آدمی ہاتھ میں تولیہ اور واش روم کی چپل لئے کھڑا تھا ... یہ لے لیں آپ کو ضرورت ہو گی
وہ بندہ مومن اپنے ساتھیوں کے ساتھ واقعی محبت کرتا تھا
بے غرض محبت
واقعی ان کا خیال رکھتا تھا
ان کے لئے فکر مند رہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس خوشگوار صبح نوشہرہ سے روانہ ہوئے تو راستے میں اخبار کی خبروں پر نظر ڈال رہے تھے ایک خبر پر نظر پڑی تو چہرہ سرخ ہو گیا لکھا تھا
قاضی حسین احمد کے عزیز کی نوشہرہ بازار میں تجاوزات
فورا بولے میری طرف سے متعلقہ حکام کو خط لکھو کہ قانون کی کوئی خلاف ورزی ہوئی ہو تو کسی رعایت کے بغیر کاروائی کی جائے۔۔
بعد میں معلوم ہوا یہ محض کسی رپورٹر کی شرارت تھی
وہ بندہ مومن انصاف پسند تھا
چاہے اس کی زد اپنوں بلکہ بہت زیادہ اپنوں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔۔۔
.....................................................................................................................

وہ پشاور میں سات کنال کا گھر اللہ کے لئے چھوڑ کر منصورہ منتقل ہوئے دس برس سکریٹری رہے مگر سکریٹری جنرل کا گھر استعمال نہ کیا . بائیس برس امیر رہے
مگر امیر جماعت کا گھر استعمال نہیں کیا
وہی دوکمرے کا سادہ سا فلیٹ اور بس۔۔! اور بڑے گھر دوسروں کے لئے وقف کر دئیے۔۔
مجھے یاد ہے پشاور میں پاپولر ایکسرے سے کئی بار منافع کے نوٹوں کی گڈیاں میں لایا مگر اپنی ذات کے لئے وہ تین سادہ کپڑوں ہی کو پسند کرتے رہے
سفید شلوار قمیض اور واسکٹ ۔۔!
“بندہ مومن” کا باقی سب راہ اقامت دین کی نذر
وسائل وقت توانائی صلاحیت سب کچھ۔۔۔
“خوداختیار کردہ فقر” کا راستہ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ
قاضی کا راستہ قرار پایا۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہانزیب کالج سوات میں پڑھاتے رہے اور پھر دعا کی کہ مولا کریم "بس تیرے دین کی لئے وقف ہونا چاہتا ہوں راستہ تو ہی بنا "
چنانچہ جاب چھوڑ کر پشاور لوٹے میڈیکل کے کاروبار سے وابستہ ہوئے اور اللہ نے نہایت شفیق اور محبت کرنے والے ڈاکٹر بھائی کے ساتھ ایسی” مواخات” قائم فرما دی کہ پھر زندگی بھر معاش سے بےنیاز ہو کر بس اسی کام میں خود کو کھپا دیا۔۔۔!
وہ بندہ مومن پرندوں کی طرح توکل کرنے والا انسان تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ مسیحا جس کی قوم نے قدر نہ کی ۔ ابو محمد معصب

کوئٹہ سے نکلے کئی گھنٹے ہو چکے تھے
پہاڑی راستے کی ٹوٹی پھوٹی سڑک اور دووور دالبندین کا لمبا سفر۔۔۔
تھک کر چاغی پہاڑوں کے دامن میں ایک خوبصورت نخلستان کے چشمہ پر رکے، سستائے ، نماز ادا کی وہاں شفاف پانی کے بہتے جھرنے کے پاس وضو کرتے ہوئے میں نے کہا : قاضی صاحب اس ویرانے کی خاموشی میں آپ کا کہیں سنایا ہوا ایک مصرعہ بے طرح یاد آرہا ہے
سنا دوں ؟
مسکرا کر پیر پانی میں بھگوتے ہوئے بولے سناو : میں نے کہا ایک بار آپ کہیں ایسے ہی دور دراز سفر پر تھے اور فون پر آپ کی صاحبزادی نے بتایا کہ وہ ان دنوں گھر آئی ہوئی ہیں تو آپ نے خوشی سے بھرپور آوز میں کہا
واہ
“ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے”
وہ قہقہ لگا کر ہنسے اور بولے بہت برموقعہ یاد دلا دیا
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور کی ایک سڑک پر کار دوڑتی جا رہی تھی
راستہ میں ایک اہم موضوع زیر بحث تھا گاڑی میں سوار دو دیگر بزرگ محتاط سی آراء پیش کر رہے تھے زیر بحث معاملہ میری حدود کار سے بھی باہر تھا اور سمجھ سے بھی ذرا بڑا مگر میری صحافیانہ رگ پھڑکی اور میں نے بےکار کا تبصرہ شروع کر دیا
سب نے کچھ دیر تحمل سے سنا میں چپ ہوا تو ذرا دیر کی خاموشی کے بعد بظاہر کسی کو مخاطب کئے بغیر انہوں نے بلند آواز سے حدیث کے الفاظ دہرا دئیے
من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ
گویا شفقت سے تنبیہ کر دی کہ جس بات سے تعلق نہ ہو اس میں دخل نہ دینا ہی بہتر ہوتا ہے
ساتھیوں کی تربیت کے لئے وہ بندہ مومن کسی تربیت گاہ کے منتظر نہ رہتے تھے
.........................................................................................

کرک کے راستے میں مغرب کا وقت ہو گیا
سر راہ ایک بڑے مدرسہ میں نماز کے لئےرک گئے وضو کرنے لگے تو مدرسہ کے نوجوانوں نے دیکھ لیا سب کے چہروں پر خوشی پھیل گئی خبر امام صاحب تک خبر پہنچا دی گئی انہوں نے قاضی صاحب کا اکرام کیا جوں ہی نماز مکمل ہوئی سینکڑوں تندومند جوان اور صحتمند طلبہ گلے ملنے اور ہاتھ ملانے کو بیتاب تھے مگر ان کے دانا استاد کو قاضی صاحب کی صحت کا خیال تھا انہوں نے ہدایت کی کہ سب لائن لگا لین صرف نرمی سے ہاتھ ملائیں اور آگے بڑھ جائیں ۔۔۔
کسی طرف سے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ ایک دیوبندی مدرسہ ہے اور قاضی صاحب جماعت اسلامی کے سربراہ
سب سے ملے چائے اور کھانے کی مخلصانہ دعوت سے معذرت کی اور روانہ ہو گئے

ایسی ہی کچھ الفت مولانا شاہ احمد نورانی کے ساتھ دیکھی ای سیون اسلام آباد کے دفتر جماعت ورہائش گاہ پر یہ دونوں بزرگ یوں ملتے تھے گویا سگے بھائی ہو بوسہ لیتے تحائف اور خوشبو کے تبادلے کرتے گھنٹوں گھر کے ایک گوشے میں بیٹھے نہ جانے کیا رازونیاز کرتے اور میں اور عطا الرحمن بھائی ان کی اس محبت کو مسکرا کر دیکھتے رہتے مولانا نے خود قاضی صاحب سے کہا ایک میرا انس ہے اور ایک آپ کا بیٹا انس آپ نے میرے بیٹے کا اپنے بیٹے کی طرح ہمیشہ خیال رکھنا ہے اور پھر مجھے یاد ہے قاضی صاحب نورانی صاحب کی وفات کے بعد بھی جب بھی کراچی آئے انس نورانی سے تعلق رکھا شفقت فرمائی۔۔
بندہ مومن مرجع خلائق ہوتا ہے اور وہ تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   قاضی حسین أحمد (رح) کچھ یادیں کچھ باتیں - عالم خان

میری درخواست پر قاضی صاحب نے اسامہ رضی بھائی اور آفاق بیگ بھائی سے مجلس عمل کی صوبائی حکومت کے لئے ایک ابلاغی منصوبہ بنوایا قاضی صاحب کی شدید خواہش تھی کہ کسی طرح یہ روبہ عمل آ جائے وہ مسلسل وزیر اعلی درانی سے اس کی بابت بات کرتے پوچھتے اور اکثر ڈانٹ کر وقت دلواتے مگر کیا کیا جائے وہاں براجمان ایک بند ذہن کے روایتی سے صاحب نے ہماری ہر کوشش کو کامیابی سے وقت گزار کر ضائع کروا دیا
کچھ نہ کیا جا سکا
قاضی صاحب چاہتے ہوئے بھی ریاست کے صوبائی وسائل کو مجلس عمل کی کارکردگی کے ابلاغ کے لئے استعمال نہ کروا سکے۔۔۔!
بندہ مومن کھلے ذہن سے ہر راستہ اور طریقہ کو بروئے کار لاتا ہے چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام خمینی کے پوتے مصطفی کو خبر ہوئی کہ قاضی صاحب ایران تشریف لائے ہیں تو وہ تہران کی اس ضیافت میں دور سے اٹھ کر آیا اور سلام عرض کیا
شوری ایران کے بزرگ ترین رکن جہاز کی سیڑھیوں پر لاٹھی کے سہارے ٹھنڈ میں کھڑے ہمارا استقبال کر رہے تھے قُُم کے جید علما نے اپنے شہر بلا کر دعوت کی ایران کے سفر کے راستہ میں چند گھنٹوں کے لئے دبئی رکے تو رن وے کے قریب سرکاری کارین موجود تھین عمرے کو گئے تو شاہی محل میں ٹہرائے گئے اربکان ہر برس بلاتا اور اپنے ساتھ رکھتا تھا حسن ترابی اور سوڈان کے صدر مین تنازعہ ہوا تو قاضی صاحب صلح کے لئے بلوائے گئے .
بندہ مومن بھلا آفاق و امت سے کم کب سوچتا ہے؟

بائی پاس ہوئے تیسرا چوتھا دن تھا
وزیراعظم سے لے کر عام ریڑھی والے تک سب ہی فکر مند تھے دعاوں کے فون آ رہے تھے عیادت کے خواہشمند اجازت کے طلب گار تھےمیں ڈاکٹرز ہاسپیٹل لاہورمیں روم کے باہر بیٹھا سارا سارا دن لوگون کو تسلیاں دیتا تھا سکھر سے آگے کسی دیہات سے ایک کارکن کا فون آیا اور وہ کال ملتے ہی سسکیوں سے رونے لگا میں اسے تسلی دے رہا تھا اور وہ ٹوٹی پھوٹی اردو میں سندھی لہجے میں بول رہا تھا
"سائیں قاضی صاب ہمارے سر پر سایہ ہیں ان کو کچھ نہیں ہوناچاہئیے وہ ٹھیک ہین ناں ؟ اللہ ہماری زندگی بھی انہیں لگا دے سائیں مجھے پتہ ہے مین ان سے بات نہیں کر سکتا بس میرا سلام کہہ دینا ۔۔
اسے حوصلہ دے کر فون بند کیا تو سامنے سے اٹینڈنٹ کا سہارا لئے چلتا ہوا ایک بائی پاس کا مریض قریب پہنچ چکا تھااس نے بمشکل قوت جمع کرکے قاضی صاحب کی صحت پوچھی اور فرط جذبات سے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں بولا میں ایک نظر دور سے دیکھ نہیں سکتا ؟
میں نے معذرت کی تو دعائیں دیتا ہوا چلا گیا

یہ جنرل پرویز مشرف سے معرکہ آرائیوں کے دن تھے وزیر اعظم جمالی عیادت کو پہنچے تو اغا جان نے بستر پرکہنی ٹکا کر اٹھنے کی کوشش کی ،جمالی صاحب ذومعنی انداز سے مسکراتے ہوئےبولے " نہیں قاضی صاحب آپ بس اب ارام ہی کریں "
وہ بندہ مومن پوری قوت جمع کر کےاٹھ بیٹھا اور برجستہ کہا " نہیں آپ کے لئے تو میں اب بھی اٹھ سکتا ہوں "
وزیراعلی چوہدری پرویز الہی سمیت سب کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔۔۔
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا۔۔۔۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.