تبدیلی کسے کہتے ہیں - حنا تحسین طالب

کیا سیاسی پارٹی اور حکمران کے بدل جانے کا نام تبدیلی ہے؟ کیا پیپلز پارٹی کے بعد نون لیگ اور اس کے بعد پی ٹی آئی کے آجانے سے ملک کے حالات بدل جائیں گے ؟
کیا واقعی ہم راه چلتے کچرا سڑکوں پر اس لئے پہینکتے ہیں کیا ہمارے حکمران جبرا ہم سے یہ کرواتے ہیں؟ کیا ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ چوری کی بجلی سے اپنے وسیع کاروبار کو وسیع تر کرلو, کنڈے کی بجلی پر چار چار اے سی لگاکر دنیا کو جنت بناؤ.. کیا وه بہی حکومتی نمائندے ہیں جو قبریں فروخت کرتے اور لاشعوں کی بےحرمتی کرتے ہیں! تبدیلی کیا محض خوشنما نعروں سے آجاتی ہے جس میں عام افراد کو کچہ نہ کرنا پڑے سوائے اپنے حکمرانوں کو بدلنے کے.. کتنا مزا آتا نا! اگر واقعی ایک حکمران کی تبدیلی سے ہمارے سارے دلدر دور ہوجاتے اور ہمیں خود میں کوئی تبدیلی نہ لانی پڑتی, کہا نیوں کی طرح ہماری بدبختی کے دیو کی جان بھی طوطے کی طرح ان حکمرانوں میں قید ہوتی تو ہم بہی ایک ہی بار جی کڑا کرکے ان حکمرانوں کی گردن مروڑ دیتے, پھر ہمارے سارے دلدر دور ہوجاتے اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے.., مگر افسوس! حقیقت اس سے بہت مختلف ہے, اس میں ہمیں بہی عملا اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے-

اگر آپ کو یاد نہیں تو میں آپ کو یاد دلاتی چلوں, انسانی تاریخ اور انبیاء کے قصص میں ایک تاریخی حقیقت بیان ہوئی ہےکہ برائی کی ابتداء اونچے طبقے میں ضرور ہوتی ہے مگر معاشرے میں اچہائی کا آغاز عموما نچلے طبقے سے ہواکرتا ہے.. تبھی وقت کے امراء ازراه تمسخر نچلے طبقے سے کہا کرتے تھےکہ تم وه لوگ ہو جنہیں اللہ نے ہمیں چہوڑ کر بہلائی کے لئے منتخب کرلیا ہے! کیا واقعی خاندانی سیاستیں بھی اسی لئے کی جاتی ہیں, ساس بہو ایک دوسرے کا حق اس لئے مارتے ہیں کہ حکمرانوں نے یہی تعلیم دی ہے!.., عورتیں اپنے سسرال سے بچوں کو دور کردیتی ہیں جوکہ ان کے خون کے رشتے ہیں, صرف اپنی ذاتی بغض کی بنا پر..نهکہ حکمرانوں کے جبر سے- عمارتوں کی تعمیر کے بعد ملبه سڑک پر ہم چھوڑتے ہیں, ہمارے حکمران نہیں, مردار جانوروں کی آلائش سے تیل تیار کرنے والے بہی عوام ہیں- ناپ تول میں کمی, دھوکه دہی, یہاں تککہ فیک اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو دہوکه دینا, جس کا کوئی حاصل وصول ہی نہیں, سوائے پست تفریح طبع کے- بد عنوان صرف حکمران ہی نہیں, اپنی اپنی سطح پر, اپنی اپنی وسعت کے مطابق اکثریت ہی بدعنوانی میں مبتلا ہے-

کیا واقعی ہم ایک امانت دار حکمران کے مستحق ہیں ؟ وه قوم جو دوسروں کی تحاریر تک چرا لیتی ہو! اب کوئی بتائے ایسی بداخلاقی کا کیا جواز ہو سکتا ہے, کیا یہ پیٹ کی مجبوری تھی جو اس چوری پر انسان مجبور ہو جائے.. ماه اگست میں ڈی پی تبدیل کرکے, پاکستانی پرچم کی تصویر لگا لینا, خوبصورت تحاریر, اشعار لکھنا, وطن کی محبت کے دعوؤں میں زمین آسمان ایک کرناکہ بقیا زمین ہی کیا آسمان بہی اس خطهء ارض پر رشک کرے, مگر یه وطن عزیز کی زمین ہی جانتی ہےکہ اس کی پیٹہ پر ہم عملا کیا کرتے ہیں! بات یہ نہیں کہ حکمرانوں کی اصلاح کی بات نہیں ہونی چاہیئے, بات یہ ہےکہ تبدیلی کے سچے خواہاں ہیں تو وہاں تو تبدیلی کی ابتداء کی جائے جہاں اختیار ہے, اور انسان کا سب سے زیاده اختیار اپنی ذات پر ہوتا ہے, پہر اپنے قریبی لوگوں پر.. سیاسی پارٹیز اور حکمرانوں کو ان کے چہروں کی سیاہی سے ضرور مطلع کریں مگر کبھی کبھار آئینہ دیکھ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں, کم از کم اس طرح انسان کو کبہی اپنے چہرے کی کالک بھی نظر آجاتی ہے-

ٹیگز

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.