کسی غمگسار کی محنتوں کا خوب میں نے یہ صلہ دیا - حمیرہ خاتون

اللہ اکبر ، اللہ اکبر۔ اذان کی آواز بلند ہوئی۔ "یار ، ٹیپ بند کر دو۔ اذان ہو رہی ہے۔" فیصل نے چھت پر سے آواز لگائی۔ وہ لائٹیں لگانے میں مصروف تھا۔
کل گھر میں سیرت النبی ﷺ کا بڑا پروگرام تھا۔ تو وہ سب کزنز گھر سجانے اور انتظامات میں مصروف تھے۔
"عباد، دیکھو، فیصل شاید کچھ کہہ رہا ہے؟ " اسلم نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا جو کہ پودوں کی تراش خراش میں مصروف تھا۔
تیز آواز میں اسپیکر پر نعت کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی " مولا یا صلی وسلم داعی من ابدا علی حبیب کے خیراخلق کلہ من " ایسے میں قریبی مسجد کی اذان کی آواز کہاں سنائی دیتی ۔ وہ تو فیصل چھت پر تھا تو اس نے سن لی۔
"کیا ہوا فیصل بھائی؟ "عباد نے وہیں سے آواز لگائی۔
"یار ، ٹیپ بند کر دو۔ اذان ہو رہی ہے۔ "فیصل نے چیخ کر کہا۔
"حرا، ، ٹیپ بند کر دو۔ اذان ہو رہی ہے۔" عباد نے وہیں سے آواز لگائی۔
جب تک اذان ختم ہو چکی تھی۔ حرا اپنے کمرے سے نکل کر لائونج تک آئی جہاں سے اسپیکر لگائے گئے تھے۔ اس نے ٹیپ بند کر کے سنا۔اس نے کچھ دیر سنا۔ کوئی آواز سنائی نہیں دی۔ "فیصل بھائی کے تو کان بجتے ہیں۔ "حرا نے دوبارہ ٹیپ کا بٹن کھول دیا۔

بی اماں کے تینوں بیٹے شادی شدہ تھے مگر اسی بڑے سے گھر میں ساتھ رہتے تھے۔ چارمنزلہ گھر میں سب کے اپنے اپنے پورشنز تھے۔ کام اور خرچے کا کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ دو بیٹیاں تھیں جن کی شادی کر دی تھی۔ بی اماں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آتو گئی تھیں مگر دل وہیں بستا تھا۔ بات بات میں ہندوستان کا ذکر نکال لیتیں۔ ہر تہوار بڑ ے اہتمام سے مناتیں۔ ماہ ربیع الاول میں وہ محفل سیرت النبی ﷺ کا انعقاد کرتیں۔ خاندان کے سب لوگ مدعو کیے جاتے۔سیرت النبی وﷺ پر تقاریر ہوتیں۔ نذرانہ عقیدت پیش کیا جاتا۔ دوسرے دن پورا گھر جگمگا رہا تھا۔ سبز اور سفید روشنیوں سے لان بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ میزوں پر سفید کور کے درمیان سرخ گلابوں کے گلدستوں نے خوشبو پھیلائی ہوئی تھی۔ مہمان خواتین کو موتیے کے پھولوں کے مہکتے گجرے پیش کیے گئے تھے۔ نواسیاں اور پوتیاں سفید لباس ، گلابی اور سبز دوپٹوں میں ملبوس اپنی خوبصورت آوازوں میں نعتیں پڑھنے میں مگن تھیں۔ سریلی آوازیں مائیک پر دور دور تک جا رہی تھیں، عصر کی اذان کی آواز بلند ہوئی تو کچھ دیر کے لیے پروگرام روک دیا گیا۔ اختتام کی جلدی مچاتے عصر کی نماز نکل گئی۔

پروگرام ختم ہوتے ہوتے مغرب ہو گئی۔ پروگرام کے بعد چائے کا انتطام تھا۔چائے پینے میں مگن نماز مغرب کا وقت کب کا گزر گیا۔ کسی کو فکر نہ ہوئی۔ بڑا بیٹا کھانے کے انتظامات میں مصروف تھا۔ دوسرا بیٹا کے ذمے ڈیکو ریشن تھا۔وہ برتنوں اور پانی کے انتظامات میں اندر باہر ہو رہا تھا۔ تیسرے بیٹے کے ذمے بجلی کا انتظام تھا۔ وہ لائٹوں کی سجاوٹ، جنریٹر کے انتظامات میں پریشان پھر رہا تھا۔ لڑکے اپنے بڑوں کے ہاتھ بٹانے یہاں وہاں بھاگ رہے تھے۔ خواتین دوسری خواتین کے ساتھ گھر کے مسائل ڈسکس کرنے میں مصروف تھیں۔ لڑکیوں کو ا پنی ہی سجاوٹ کی آرائش کی فکر تھی۔ کھانا لگا یا جا چکا تھا۔ لان بجلی کے قمقموں سے روشن تھا اور عرق گلاب کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔کھانے کی مختلف ڈشوںکو چکھنے اور اپنی اپنی پلیٹوںکو بھرنے میں مصروف عشاء کی اذان کسی کو سنائی نہ دی تھی۔

یہ بابرکت محفل اس عظیم اور بابرکت ہستی کی یاد میں تھی جس کی آنکھوں کی ٹھندک نماز میں تھی ۔ جنھوں نے بیماری کی حالت میں ، یہاں تک کے جنگ کے دوران بھی نماز نہیں چھوڑی ۔ جس امت محمدیہ ﷺ کے لیے آپ ﷺ فکرمند رہا کرتے تھے، وہی امت آج چراغاں۔ جشن، میلاد اور مجالس میں مگن ہو کر ان کا اصل پیغام بھلا چکی ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ ہر سال اس مبارک دن پر کسی ایک سنت کو اختیار کیا جاتا اور سال بھر کے لیے اس پر عمل کیا جاتا۔ اس طرح ہر سال ایک ایک سنت اختیار کر کے ہی اچھے امتی بن جاتے ۔ کاش! !
کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا
جو میرے غم میں گھلا کیا، اسے میں نے دل سے بھلا دیا
جو جمال روح حیات تھا، جو دلیل راہ نجات تھا!
اسی راہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا

Comments

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون کو پڑھنے لکھنے سے خاص شغف ہے۔ بچوں کی بہترین قلم کار کا چار مرتبہ ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ طبع آزمائی کے لیے افسانہ اور کہانی کا میدان خاص طور پر پسند ہے۔ مقصد تعمیری ادب کے ذریعے اصلاح ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.