اخلاق و اوصاف نبویؐ - پروفیسر جمیل چودھری

سیرت نبویؐ ایک بحر ذخاّر ہے۔صحیح بات یہ ہے کہ اس کا تعلق نہ کسی ایک ماہ اور نہ کسی ایک دن سے ہے۔سال کے تمام دن ،تمام اوقات اور ہرطرح کے حالات میں ہم اس مینارہ نورسے فائدہ حاصل کرکے زندگیوں کوتابناک بنا سکتے ہیں۔اب تک سیرت کے ہر پہلو پر اہل شوق نے اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔دنیا میں شاید ہی کوئی زبان ہو جس میں سیرت النبیؐ پر کتب کا اچھا خاصا ذخیرہ موجود نہ ہو۔یہ کام ہرزمانے میں ہوتارہا ہے۔دنیا کے ہرکونے میں ہورہا ہے۔ اور تاقیامت جاری رہے گا۔ دنیا میں کوئی اور شخصیت ایسی نہیں ہے۔جس کا اس طرح بھر پور اور جامع تذکرہ ہوا ہو۔معروف مفکر مائیکل ہارٹ نے بھی100۔ماثر ترین شخصیات کی فہرست میں نبی اکرم ؐ کو درجہ اول میں رکھا ہے۔

اپنی23سالہ نبوی زندگی میں جیسا بھر پور اورمکمل انقلاب ان کی جدوجہد سے عرب میں آیا ایسا انقلاب نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد اب تک دیکھا گیا۔اس انقلاب میں ان کی زندگی کے باقی پہلوؤں کے علاوہ اخلاق و اوصاف کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔نبویؐ اخلاق و اوصاف کو ہر قلم کار نے اپنے اپنے انداز سے بیان کیا ہے۔حتیٰ کہ صرف اس ایک پہلو پر بھی بڑی بڑی کتابیں موجود ہیں۔آج ہم انہی اخلاق و اوصاف نبویؐ کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی بجائے ایک بڑے قلم کار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

الرحیق المختوم ایسی کتاب ہے جو سیرت نبوی ؐپر لکھی جانے والی ہزاروں کتب میں اول قرار پائی تھی ۔اخلاق و اوصاف بنویؐ کے بارے وہ فرماتے ہیں ـ
"نبی اکرمﷺ فصاحت و بلاغت میں ممتاز تھے آپؐ طبیعت کی روانی،لفظ کے نکھار، فقروں کی مضبوطی، معانی کی صحت اور تکلف سے دوری کے ساتھ ساتھ جو امع الکلام سے نوازے گئے تھے۔آپ ؐکو نادر حکمتوں اور عرب کی تمام زبانوں کا علم عطاہوا تھا۔چنانچہ آپؐ ہر قبیلے سے اسی کی زبان اور محاوروں میں گفتگو فرماتے تھے۔آپؐ میں بدویوں کا زور بیان، قوت تخاطب، شہریوں کی شائستگی موجود تھی۔اور وحی پر مبنی تائید ربانی الگ سے۔بردباری، قوت برداشت، قوت پاکردرگزر اور مشکلات پر صبر ایسے اوصاف تھے جن کے ذریعے اﷲ نے آپؐ کی تربیت کی تھی۔ہر حلیم وبردبار کی کوئی نہ کوئی لغزش اور کوئی نہ کوئی ہفوات جانی جاتی ہے۔مگر نبی اکرمﷺ کی بلندی کردار کا عالم یہ تھا کہ آپؐ کے خلاف دشمنوں کی ایزا رسانی اور بدمعاشوں کی خودسری وزیادتی جس قدر بڑھتی گئی آپ ؐکے صبر و حلم میں اسی قدر اضافہ ہوتاگیا۔حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ کو جب بھی دوکاموں کے درمیان اختیار دیاجاتا۔تو آپ ؐوہی کام اختیار فرماتے جو آسان ہوتا۔اگرگناہ کاکام ہوتا تو آپؐ سب سے بڑھ کر اس سے دوررہتے۔

آپؐ نے کبھی اپنے نفس کے لئے انتقام نہ لیا۔البتہ اگر اﷲ کی حرمت پاک کی جاتی تو آپؐ اﷲ کے لئے انتقام لیتے۔آپؐ سب سے بڑھ کر غیظ وغضب سے دور تھے۔اور سب سے جلد راضی ہوجاتے تھے۔جو د وکرم کا وصف ایسا تھا کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیاجاسکتا۔آپؐ اس شخص کی طرح بخشش و نوازش فرماتے تھے ۔جسے فقر کا اندیشہ ہی نہ ہو۔ابن عباس ؓکا بیان ہے کہ نبی اکرمﷺ سب سے بڑھ کر پیکر جو دوسخا تھے۔شجاعت،بہادری،اور دلیری میں بھی آپؐ کا مقام سب سے بلند اور معروف تھا۔آپؐ سب سے زیادہ دلیر تھے۔نہایت کٹھن اور مشکل مواقع پر جبکہ اچھے اچھے جانبازوں اور بہادروں کے پاؤں اکھٹر گئے آپؐ اپنی جگہ برقرار رہے اور پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے ہی بڑھتے گئے۔پائے ثبات میں ذرا الغزش نہ آئی۔بڑے بڑے بہادر بھی کبھی نہ کبھی بھاگے اور پسپا ہوئے۔مگر آپؐ میں یہ بات کبھی نہ پائی گئی۔حضرت علیؓ کا بیان ہے جب زور کا ان پڑتا اور جنگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اﷲ کی آڑ لیاکرتے تھے۔آپ ؐسے بڑھ کر کوئی شخص دشمن کے قریب نہ ہوتا۔حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا۔لوگ شور کی طرف دوڑے تو راستے میں رسول اﷲ واپس آتے ہوئے ملے۔آپؐ لوگوں سے پہلے ہی آواز کی جانب پہنچ کر خطرے کے مقام کا جائزہ لے چکے تھے۔

اس وقت آپﷺ ابوطلحہ کے بغیر زین کے گھوڑے پر سوار تھے۔گردن میں تلوار حمائل کررکھی تھی۔اور فرما رہے تھے ۔ڈرو نہیں ۔ڈرو نہیں۔کوئی خطرہ نہیں۔آپ ؐسب سے زیادہ حیادار اور پست نگا ہ تھے۔ ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آپؐ پردہ نشین کنواری عورت سے بھی زیادہ حیادار تھے ۔ جب آپ ؐ کو کوئی بات ناگوار گزرتی تو چہرے سے پتہ چل جاتا۔اپنی نظریں کسی کے چہرے پر گاڑتے نہ تھے ۔نگاہ پست رکھتے تھے۔اور آسمان کی بہ نسبت زمین کی طرف نظر زیادہ دیر تک رہتی تھی۔عموماً نیچی نگاہ سے تاکتے ۔حیا اور کرم نفس کا یہ عالم تھا کہ کسی سے ناگوار بات رو در رو نہ کہتے۔اور کسی کی کوئی ناگوار بات آپ ؐ تک پہنچتی تو نام لیکر اس کا ذکر نہ کرتے۔بلکہ یوں فرماتے کہ کیا بات ہے؟ کہ کچھ لوگ ایسا کررہے ہیں۔آپؐ سب سے زیادہ عادل،پاک دامن،صادق اللہجہ اور عظیم الامانت تھے۔اس کااعتراف آپ ؐکے سب دوست ودشمن کو ہے۔

نبوت سے پہلے آپ ؐ کو امین کہا جاتا تھا ۔اور دور جاہلیت میں آپؐ کے پاس فیصلے کے لئے مقدمات لائے جاتے تھے۔جامع ترمذی میں حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ایک بار ابو جہل نے آپؐ سے کہا۔ہم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے۔البتہ آپ ؐجو کچھ لیکر آئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں۔اسی وقت آیت نازل ہوئی جس کا ترجمعہ یہ ہے"یہ لوگ آپ ؐ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں.

"ہر قل نے ابو سفیانؓ سے دریافت کیا آپ کے نبیﷺ نے جو بات کہی ہے اس کے کہنے سے پہلے تم لوگ اسے جھوٹ بولتے دیکھا کرتے تھے۔تو ابو سفیانؓ نے جواب دیا کہ" نہیں" آپؐ سب سے زیادہ متواضح اور تکبر سے دور تھے ۔جس طرح بادشاہوں کے لئے ان کے خدام و حاشیہ بردار کھڑے رہتے ہیں اسی طرح آپ ؐاپنے لئے صحابہ کرام ؓکو کھڑا ہونے سے منع فرماتے تھے۔مسکینوں کی عیادت کرتے تھے۔ فقراء کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔غلام کی دعوت منظور فرماتے تھے۔صحابہ کرامؓ میں کسی امتیاز کے بغیر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے تھے۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ اپنے جوتے خود ٹانکتے تھے۔اپنے کپڑے خود سیتے تھے۔اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر کے کام کاج کرتا ہے۔آپ ؐ بھی انسانوں میں سے انسان تھے۔اپنی بکری دھوتے تھے اور اپنا کام خود کرتے تھے۔آپؐ سب سے بڑھ کر صلہ رحمی اور عہد کی پابندی فرماتے تھے۔لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ شفقت رحم ومروت سے پیش آتے تھے۔رہائش اور ادب میں سب سے اچھے تھے۔آپؐ کا اخلاق سب سے زیادہ کشادہ تھا۔بدخلقی سے دور تھے۔نہ عادتاً فحش گو تھے نہ بہ تکلف فحش کہتے تھے۔نہ لعنت کرتے تھے نہ بازار میں چیختے چلاتے تھے۔نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے۔

بلکہ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔کسی کو اپنے پیچھے چلتا ہوا نہ چھوڑتے تھے۔اور نہ کھانے پینے میں اپنے غلاموں پر ترفع فرماتے تھے۔اپنے خادم کا کام خود ہی کردیتے تھے۔بلکہ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔کبھی اپنے خادم کو اف نہیں کہا۔مسکینوں سے محبت کرتے تھے۔ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے جنازوں میں حاضر ہوتے تھے۔ایک بار آپؐ سفر میں تھے ایک بکری ذبح کرنے اور پکانے کا مشورہ ہوا۔ایک نے کہا ذبح کرنا میرے ذمہ،دوسرے نے کہا کہ کھال اتارنا میرے ذمہ ،تیسرے نے کہا کہ پکانا میرے ذمہ،نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ ایندھن کی لکڑیاں جمع کرنا میرے ذمہ۔صحابہؓ نے عرض کیا ہم آپؐ کا کام کردیں گے آپؐ نے فرمایا کی میں پسند نہیں کرتا کہ تم پر امتیاز حاصل کروں۔اس کے بعد آپؐ نے اٹھ کر لکڑیاں جمع کیں۔قارئین کرام میں نے کوشش ناتمام کی ہے کہ ایک کالم میں اخلاق واوصاف نبویؐ سے متعلق چند باتیں بیان کی ہیں ورنہ سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لئے۔