مغرب اور عالمگير شناخت کا مسئلہ - ناصر فاروق

مغرب میں اسلام سے مکمل خوف کا تاثر ہے۔ يہ گویا گرما گرم خبر ہے، ہاتھوں ہاتھ بک رہي ہے، لمحہ بہ لمحہ بیچي جارہي ہے، اور ہر ذہن میں بٹھائي جارہي ہے۔ 'اسلام سے جنگ' مشہور سیاسی نعرہ بن چکا ہے۔ یہ سب ہرگز بے بس اکثریت کے سبب نہیں۔ مغربی پروپیگنڈسٹ تصادم کا نیا ماحول ترتیب دے رہے ہیں، نئے سپاہی ہیں، نئی وردیاں ہیں، نئے ہتھیار ہیں، اور نئے نعرے ہیں۔ عنوان مگر مغرب کا ہے، صفات بھی مغرب ہی کی ہیں۔مسئلہ کیا ہے؟ خوف اسلامي تہذيب کي عالمگيريت کے امکان سے ہے، اورمسئلہ مغرب کي عالمگيرشناخت کا ہے۔ مغرب مشکل میں ہے۔ یہی مشکل مدعا مضمون ہے۔عالمگيرشناخت کے مسئلہ کی حالیہ کیفیت سمجھنے کیلئے لازم ہے کہ تاریخی تناظرمیں اسے دیکھا جائے، صورتحال کی تفہیم آسان ہوجائے گی۔ مغرب ميں تاريخ جديد کي ابتدا عيسائي مذہب سے ہوئي، مذہبي پيشواؤں نے عزت وکريم کا ناجائز فائدہ اٹھايا۔ يہ لوگ نيک لوگ نہ رہے۔ يہ جاگيردار بن گئے۔ يہ ہرحکم کے اجارہ دار بن گئے۔ جنگ ساز بن گئے۔مصائب اور مظالم حد سے بڑھ گئے. لوگ متنفر ہوئے۔ مذہبي پيشواؤں کے ساتھ ساتھ مذہب ديس نکالا دیا گيا۔ آزادي، انفراديت پسندي، روشن خيالي، اورسائنس نے اہل مغرب کو خودسر کرديا۔ يہ لوگ مظلوم لوگ نہ رہے۔ يہ سرمايہ دار بن گئے۔

يہ ہرحکم کے اجارہ دار بن گئے۔ يہ جنگ ساز بن گئے۔ مصائب اورمظالم حد سے بڑھ گئے۔ لوگ متنفر ہوئے۔ روشن خيالوں کے ساتھ ساتھ جديديت ديس نکالا دی گئي۔ نئي اصطلاحات نے فکر پر قبضے جمائے۔ لبرلزم، ڈيموکريسي، نيولبرلزم، اشتراکيت،اور ٹيکنالوجي نئے نظام کے پیوندکار بن گئے۔یہ لوگ تضادات میں الجھ گئے۔عالمگیریت کے دعویدار تھے، مگر آفاقی نہ بن سکے۔ انسانیت کے ٹھیکیدار تھے، مگرانسان نہ بن سکے۔ مال ہی کو مشکل کشا سمجھے۔ سو یہ بھی ظالم بن گئے۔ جنگ ساز بن گئے۔ سرمایہ داربن گئے۔ فیشن ایبل بائیں بازووالے بن گئے۔ نا انصافیاں، منافقتیں، اور تضادات حد سے بڑھ گئے۔ لوگ بیزار ہوئے۔ لبرلزم، نیولبرلزم، ڈیموکریسی،اور عالمگیریت کے دعوے دیس نکالا دیے گئے۔ اب مغرب مذہبی انتہا پسند ہوگیا، دائیں بازو کا ہوگیا۔ یہ لوگ قوم پرست ہوگئے۔ یہ نسل پرست ہوگئے۔ یہ قدامت پرست ہوگئے، خدا پرست ہوگئے۔ مال ہی مگر مشکل کشا ٹھہرا۔ قتل وغارت ہی ہتھیار بنا۔ منافقتیں، تضادات، اور نا انصافیاں زوروں پر ہیں۔ مصائب اورمظالم حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔ مغرب نے عالمگير شناخت کی تراش اور تلاش میں انسانوں کی دنیا کا بڑا نقصان کیا ہے، اورآج بھی یہی ارادے ہیں۔ بات خدا سے چل کر خدا پرآ پہنچی ہے۔ مغرب کو یاد آیا کہ کبھی وہ بھی خدا رکھتا تھا۔

یہ یاد بے سبب نہیں، حالات کی سچائیاں اعترافات کی دہلیزتک کھینچ لائی ہیں۔مگرمغرب کي عالمگيرشناخت کا مسئلہ جوں کا توں ہے، بلکہ گھمبير تر ہوگیا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ شناخت کا مسئلہ کائنات میں انسان کے مقام کا تعين کرتا ہے۔ تعین جس نوعیت کا ہوگا، شناخت طے کرے گا۔ کائنات اور زندگی کے بنيادی سوالات آئینہ ہیں، جوابات کي نوعيتيں شناختوں کا عکس ہيں۔ مغرب کی عالمگير شناخت کا المیہ بھی اسی کلیہ کی زد میں ہے۔

مغربی فکرکے خطرناک ذہن نے مغرب کا يہ مسئلہ چندجملوں میں سمیٹ دیا ہے۔ جرمن فلسفی فریدرش نتشے نے جوکچھ صدی اوپر پیچھے کہا، آج بھي مغرب پر صادق آتا ہے۔ نتشے کے شہرہ افاق جملے ہیں، ''خدا مرچکا ہے۔ ہم نے اسے قتل کیا۔ ہم خود کو کس طرح مطمئن کرپائیں گے جبکہ ہم قاتلوں کے قاتل ہیں؟ ہم نے مذہب کے تقدس اور طاقت کے ذریعہ بہت خون بہایا، یہ خون کیسے ہمارے ہاتھوں سے صاف ہوگا؟ کون کرے گا؟ کون سا پاک پاني ہے، جوہمارے ہاتھوں سے ان جرائم (پاپائيت کا اندھير راج) کو دھو ڈالے گا؟ کب تک نجات کے ميلے اور مقدس کھيل رچانے ہوں گے؟ مذہب کي مکروہ مسخ شدہ شکل سے خائف نتشے کے ان سلگتے سوالات کو دہرانے سے پہلے مغرب کي عالمگيرشناخت کا مسئلہ سادہ الفاظ ميں دہرانا مفيد ہوگا۔

چند مستقل صفات واعمال نے ہر دور ميں مغرب کيلئے عالمگيرشناخت کا تعين ممکن نہ ہونے ديا۔ منافقت، دورنگي، ظلم، کفر، مال کي محبت، اورعدل اجتماعي کي پامالي مغرب کے خاصے رہے ہيں۔ مغرب نہ مذہب سے مخلص رہا۔ روشن خيالي مغرب ميں خواب ہي رہي۔ مغرب عالمگير معاشرہ بھي تشکيل نہ دے سکا۔ مغرب عالمي امن کا کوئي سامان نہ کرسکا۔ مغرب معاشي مساوات کا کوئي عالمي نظام وضع نہ کرسکا۔ مغرب خدا کے انکارسے، اور طاقت کے ہراظہار سے بھي دنيا کو اپنا نہ بناسکا۔ مغرب خدا کے نام پر جنگ سے بھي کچھ حاصل نہ کرسکا۔ مغرب لالچي، ظالم، اورمتکبرہي رہا۔ مغرب فساد في الارض کا سبب ہي رہا۔ دوبارہ نتشے کے وہ جملے، جومغرب کے مذہب عيسائيت پرنوحہ تھے، پاپائيت کي صفات اور اعمال پرگواہ تھے۔ وہي آج پھر دائيں بازو، نسل پرست، اورنوقدامت پرستوں کے مغرب پر صادق آرہے ہيں۔ اسلام سے تصادم اور مسلمانوں سے نا انصافيوں ميں مغرب نے خدا کي تعليمات کا استحصال کيا ہے۔ خدا کي اخلاقيات کا قتل عام کيا ہے۔ مذہبي مغرب کے ہاتھ ناحق خون سے رنگے ہيں۔ يہ خون صہيونيت اور صليبيت کے نام پر بہايا جارہا ہے۔ کيا صليبيت يا صہيونيت مذہب کي مقدس توجيحات سے خود کو مطمئن کرپائيں گي؟

کيا معصوم انسانوں کے خون سے لتھڑے ہاتھ کسي مقدس پاني سے پاک ہوپائيں گے؟ کيا مسلمانوں پرمظالم سے، اسلام کي کردارکشي سے مغرب کي تہذيب کوئي عالمگير شناخت حاصل کر پائے گي؟ کيا اس ظلم اجتماعي سے مغرب کي عالمگير شناخت کا مسئلہ حل ہوپائے گا؟ واشنگٹن سے پيرس اور دلي سے ماسکو تک اسلام سے خوف ودہشت کا کالا دھندہ مغربي تہذيب کي کوئي قابل قبول شناخت متعين کرسکے گا، يا عالمگير حيثيت طے کرسکے گا؟ ہرگز نہيں،ايسا کچھ نہيں ہوگا۔عالمگير شناخت کا حصول يوں ممکن نہ ہوگا۔ مغرب کي تہذيب تيزي سے زوال پذير ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے فرانس کے اسلام دشمن اميدواروں تک اور دلي کي مسلمان دشمن حکومت سے تل ابيب کي غاصب حاکميت تک مغرب کو عالمگيرشناخت کا سنگين مسئلہ درپيش ہے۔ يہ سب اسلام دشمني ميں ايک ہيں ، مگرکسي قابل قبول عالمگير شناخت تشکيل دينے کے اہل نہيں۔ مغرب کوبالآخرتسليم کرنا ہوگا کہ سورج مشرق ہي سے طلوع ہونا تھا، اورتادم حشرمشرق ہي سے طلوع ہوگا۔ عالمگيرشناخت کيلئے آفاقيت کي صفات واعمال کا ہي حامل ہونا ہوگا۔ دين و دنيا دونوں معاملات ميں مغرب کو اسلام کي آفاقي تہذيب سے ہي رجوع کرنا ہوگا۔ يہي واحد طريقہ ہے، جومغرب کونتشے کے سوالات سے نجات دلاسکتا ہے۔