وحی، عقل، رُباب، سگار- وجاہت حسین الحنفی

فرقان ایک سائنس کا طالبِ علم تھا اور مدرسہ میں دینی تعلیم بھی حاصل کر رہا تھا۔ فلکیات کی ایک کلاس میں پروفیسر صاحب نے مفصل دلائل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زمین کم و بیش گول ہے۔ اِس پر فرقان نے حیرانگی سے پروفیسر صاحب سے پوچھا ’’سر مگر قرآن میں تو لکھا ہے کہ زمین گول نہیں بلکہ سیدھی ہے۔‘‘ پروفیسر صاحب بعض مولوی صاحبان کے ساتھ تلخ تجربے کے باعث دین سےکچھ باغی ہو چکے تھے اور دین اور سائنس کو ایک دوسرے سے جدا سمجھتے تھے۔ فرقان کے سوال پر وہ غصہ میں کہنے لگے ’’یہ سائنس کی کلاس چل رہی ہے مذہب کی نہیں، مذہب کو سائنس سے دور رکھو‘‘۔ فرقان کو خاموشی اختیار کرنا پڑی مگر اس کے اندر سوچوں کا طوفان چل رہا تھا۔ شام کو جب فرقان مدرسہ میں حدیث کا سبق لینے گیا تو اس نے مولوی صاحب کو آج کلاس والا قصہ سنا دیا۔ اس پر مولوی صاحب کا ایمان جاگ اٹھا اور خوب جلال میں آکر کہنے لگے’’اِن سائنس دانوں کو سلف صالحین سے زیادہ علم ہے کیا؟ میں تمہیں ابھی ’قرآن و سنت‘ سے دلائل دیتا ہوں کہ زمین گول نہیں‘‘۔ مولوی صاحب نے اپنی کتابوں کی الماری کھولی اور اس میں سے کچھ کتابیں نکالیں اور پھر وہ فرقان کو شیخ الفلان ، امام الفلان، اور محدثِ فلان کی کتابوں سے حوالے دیتے رہے۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ زمین سیدھی ہے اور جو نہ مانے وہ قرآن، سنت اور اجماعِ آئمہ کا نکار کر رہا ہے۔اور اِن کا منکر کافر ہوتا ہے۔

رات بھر فرقان کو نیند نہیں آئی اور وہ یہ سوچتا رہا کہ کس کی بات مانے۔ عقلی دلائل اور سیٹلائٹس سے لی جانے والی تصاویر کو مانے یا پھر مولوی صاحب کے ’قرآن و سنت‘ کو مانے؟ عقل کی سنتا ہے تو ایمان سے جاتا ہے اور دین کی سنتا ہے تو ان چیزوں کا منکر ہوتا ہے جو اُسے تجربات اور مشاہدات سے حاصل ہوئی ہیں۔ اس کے تصورات میں مذہب عقل کا ماتم کر رہا تھا اور سائنس مذہب کا مرثیہ سنا رہی تھی۔ اسے اپنے ظاہر و باطن میں تضاد محسوس ہو رہا تھا۔اُسے نظر کچھ آرہا تھا اور منوایا کچھ اور جا رہا تھا۔ اب اسے مذہب سے دوری محسوس ہو رہی تھی اور چند دنوں سے اس کا نماز میں بھی دل نہیں لگ رہا تھا۔ آخر کب تک کوئی اپنے دیکھے پر یقن کرنے سے بھاگ سکتا ہے؟ آخر وہ سائنس کا طالب علم تھا۔ اس نے مدرسہ جانا بھی چھوڑ دیا اور اب تو اُس کے دل میں خدا کو لے کر بھی شکوک و شبہات پیدا ہو رہے تھے۔ دماغ بغاوت پر اُکسا رہا تھا مگر معاشرے کے خوف سے یہ باتیں زبان تک نہیں آرہی تھیں۔ خیالات کی یہ جنگ ابھی کسی ختمی نتیجے تک نہیں پہنچی تھی۔ کچھ ہی دنوں بعد ایک اتوار کی شام فرقان چہل قدمی کرنے اپنے گھر کے قریبی پارک میں گیا۔ اس کے دماغ میں ابھی بھی مولوی صاحب اور پروفیسر صاحب کی باتوں کو لے کر کئی سوال اُبھر رہے تھے اور پریشانی چہرے پر عیاں تھی۔

وہ ابھی پارک میں داخل ہوا کہ اچانک اس کی نظر قریب ہی بینچ پر بیٹھے ایک شخص پر پڑی جس کے بال کندھوں تک لمبے مگر بکھرے ہوئے تھے اور چہرے پر ہلکی سی داڑھی تھی۔ وہ نظر کا چشمہ لگائے، سگار منہ میں اور رُباب گود میں لئے بیٹھا تھا۔ کبھی وہ دونوں ہاتھوں سے رباب بجاتا اور پھر کچھ وقت کے لئے بائیاں ہاتھ روک کر سگار کا کش لگاتا اور دائیاں ہاتھ رباب کی تاروں پر چلتا رہتا۔فرقان کو اس کا چہرہ دیکھا دیکھا سا لگ رہا تھا۔وہ تھوڑا قریب ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ اُس کی یونیورسٹی کے ہی ایک استاد پروفیسر عبد العلیم صاحب ہیں جو فلسفہ اور اسلامیات پڑھاتے ہیں۔ سائنس اور مذہب کے موضوع پر کئی تحقیقی مقالات کی سر پرستی بھی کر چکے ہیں۔ فرقان ان سے اجازت لے کر ان کے پاس بیٹھ گیا اور خاموشی سے اپنی سوچوں میں گم رُباب سنتا رہا۔ رباب پر بھوپالی راگ کے سُروں کی ہلکی آواز میں انہوں نے فرقان کا تعارف لیا۔ کچھ لمحوں بعد علیم صاحب نے رباب روکا اور اسے اپنی بائیں جانب رکھ دیا۔ فرقان کو دیکھتے ہوئے بولے ’’بچے تم کچھ پریشان پریشان سے لگ رہے ہو‘‘۔ فرقان نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی مگر علیم صاحب کے کچھ اسرار کے بعد اُس نے پروفیسر صاحب اور مولوی صاحب والی پوری داستان سنا ڈالی۔ علیم صاحب اس کی بات سن کر مسکراتے رہے۔

آخر میں بولے’’ یہ کوئی پریشانی والی بات ہے؟‘‘ ’’تو کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کو دونوں میں سے کون صحیح ہے؟‘‘ فرقان نے پوچھا۔ وہ بولے ’’کوئی بھی نہیں‘‘۔ فرقان ان کا منہ تکتا رہ گیا اور اُس کی آنکھیں علیم صاحب سے مزید تفصیل مانگ رہی تھیں۔انہوں نے سگار کا کش لگایا اور بولے ’’دیکھو بیٹا اللہ تعالیٰ نے ہمیں تین ذرائع علم دیئے ہیں۔ حواسِ خمسہ، عقل، اور وحی۔ اِن تینوں کا کام ہمیں علم دینا ہے۔ کیا تم بتا سکتے ہو کہ ہماری عقلوں میں علم کون ڈالتا ہے؟‘‘ فرقان نے کچھ دیر سوچا اور پھر وہ ہچکچاتے ہوئے سائلانہ انداز میں بولا: ’’اللہ؟‘‘۔ وہ ہنستے ہوئے پُر اعتماد لہجے میں سگار منہ میں ڈالے موٹی آواز میں کہنے لگے’’ارے میاں اب شیطان تو نہیں ڈالتا نا!!‘‘ انہوں نے اپنا کش پورا کیا اور بولے ’’جب وحی میں علم بھی خدا نے ڈالا، اور عقل میں علم بھی اُسی خدا نے ڈالا تو اس کا مطلب ہے کہ عقل اور وحی کے درمیان تضاد ممکن نہیں کیونکہ دونوں کی اصل ایک ہے۔‘‘فرقان نے کچھ سوچا اور بولا ’’اگر دونوں میں علم خدا نے ہی ڈالا ہے تو پھر وحی کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ وہ اس سوال پر خوش ہوتے ہوئے بولے ’’اِن تین ذرائع علم کا دائرہ کار مختلف ہے۔ وہ باتیں جو ہم حواسِ خمسہ سے نہیں جان سکتے، انہیں ہم سوچ کر عقل کے ذریعے مانتے ہیں۔ اور وہ باتیں جہاں پر عقل غلطی کھا سکتی ہے وہاں وحیِ الٰہی ہماری مدد کرتی ہے۔ اگر عقل کہے کہ دو جمع دو چار ہیں، وحی آکر یہ نہیں کہے گی کہ نہیں دو جمع دو پانچ ہیں۔ وحی کا کام حواس اور عقل سے حاصل شدہ علم سے ٹکر لینا نہیں بلکہ ان کی مزید رہنمائی کرنا ہے۔

‘‘ ’’سائنس تو پھر حسی اور عقلی علم کا نتیجہ ہے۔ اِس میں اور اسلام میں تضاد کیوں ہو رہا ہے؟‘‘ فرقان نے فوراً حیرانگی سے پوچھا۔ علیم صاحب نے سگار کا آخری کش پورے زور سے لگا کر اسے اپنے پیروں کے درمیان پھینکا اور اپنے جوتوں سے اسے بجھانے لگے۔ پھر سگار کے گاڑھے دُھویں میں مسکراتے ہوئے بولے ’’ وحی اور عقل میں تضاد کبھی نہیں ہوتا بلکہ ہماری وحی کی سمجھ بوجھ اور عقل میں تضاد ہوجاتا ہے۔یہ ذرائع علم ایک دوسرے سے براہ راست منسلک ہیں۔ جب ایک کاعلم بڑھتا ہے تو دوسرے کا علم بھی بڑھتا ہے۔ جن حقائق تک عقل کی رسائی ممکن نہیں تھی انہیں وحی نے آکر واضح کر دیا جیسے کہ فرشتوں کا ہونا وغیرہ۔ اسی طرح جب عقلی علم (سائنس وغیرہ) میں ترقی ہوتی ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہم اپنے وحی کے علم کو بھی upgrade کریں۔ کیونکہ وحی صرف صحابہ اکرام یا سلف صالحین کو ہدایت دینے کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک رہنمائی کے لئے ہے ۔ اس لئے زمان و مکان کے بدلنے سے اسکی تفسیر بدل جاتی ہے ۔ اور ہر نیا آنے والا زمانہ قرآن کو نئے انداز سے دیکھتا، سمجھتا اور اس سے ہدایت حاصل کرتا ہے۔ جب ہم اپنے زمانے کی علمی ترقی کے اعتبار سے قرآن کی تفسیر نہیں کرتے اور وحی کی وہی تفسیر مانتے چلے آتے ہیں جو کسی امام نے صدیوں پہلے اپنے زمانے کے موجودہ علم کی روشنی میں کی تھی تو اس کے نتیجے میں ہمارے موجودہ علم اور وحی میں تضاد پیدا ہوتا ہے۔‘‘ اِس بات نے فرقان کو کافی سوچ میں ڈال دیا۔

اپنی سوچوں میں ہی گم فرقان نے سوال کیا ’’کیا اسلام میں عقل کو واقعی اتنی اہمیت حاصل ہے کہ اِس سے حاصل کردہ علم کو بنیاد بنا کر ہم قرآن کی ہر زمانے میں ایک نئی تفسیر کریں؟‘‘ علیم صاحب بولے ’’بیٹا کیا آپ نے قرآن میں جگہ جگہ نہیں پڑھا کہ قرآن غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اِس میں عقل رکھنے والوں، سوچنے والوں، تدبر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کہ ہدایت کی نوید سناتا ہے؟ امام ابو حنیفہ کا ماننا تھا کہ اللہ تعالیٰ اگر کوئی نبی نہ بھی مبعوث فرماتا تو پھر بھی کائنات کی کمال درجہ تخلیق دیکھ کر انسان پر لازم ہوتا کہ اِس کے خالق پر اپنی عقل کے ذریعے ایمان رکھے۔ امام فخر الدین رازی سورۃ ۱۷آیت نمبر ۱۵ کی تفسیر میں تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ الْعَقْلُ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الْخَلْقِ یعنی عقل (بھی) اللہ کی طرف سے اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہوا رسول ہے۔ ‘‘ فرقان کی سوچ کے گنجل کھل رہے تھے۔ اُس نے سوال کیا ’’کوئی مثال دے کر یہ معاملہ سمجھا سکتے ہیں؟‘‘علیم صاحب پر اعتماد لہجے میں بولے ’’ کیوں نہیں۔ وہی زمین کی گولائی والی مثال لے لیتے ہیں۔ جب ہمارا عقلی علم اس مقام تک نہیں پہنچا تھا کہ ہم زمین کو خلا سے دیکھ سکیں تو ہم قرآن کی سورہ غاشیہ کی آیتِ مبارکہ کا اُس کے ظاہر پر رکھتے ہوئے یہ ترجمہ کرتے رہے ’’ اور (کیا وہ) زمین کو (نہیں دیکھتے) کہ وہ کس طرح سیدھی بچھائی گئی ہے۔‘‘

مگر جب ہمارا علم بڑھا اور ہم نے دیکھ لیا کہ زمین کم و بیش گول ہے تو ہم نے اپنے وحی کے علم کو upgrade کرتے ہوئے اِس کا ترجمہ یوں کیا ’’اور (کیا وہ) زمین کو (نہیں دیکھتے) کہ وہ کس طرح (گولائی کے باوجود) بچھائی گئی ہے۔‘‘ اور یوں ہم نے وحی اور سائنس کے مابین ظاہری تضاد کو ختم کر دیا۔ اسی طرح لفظ ’الفلق‘ کا ترجمہ صبح کا وقت ہے۔ اسکا ایک اور ترجمہ’ کسی چیز کا دھماکے سے وجود میں آنا‘ بھی ہے۔ پہلے ہم قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کا ترجمہ ’آپ عرض کیجئے کہ میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں‘ کرتے رہے۔ مگر جب ۱۹۲۵ میں Big Bang Theory دی گئی تو ہم نے اِس عقلی علم کی مشعل سے وحی پر دوبارہ روشنی ڈالی تو ہم نے اسی آیت کا یہ ترجمہ بھی کیا : ’آپ عرض کیجئے کہ میں (ایک) دھماکے سے انتہائی تیزی کے ساتھ (کائنات کو) وجود میں لانے والے رب کی پناہ مانگتا ہوں‘۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ ’فلان چیز جو آج سائنس نے دریافت کی وہ قرآن میں ۱۴۰۰ سال پہلے لکھی ہوئی تھی‘ وہ جانے انجانے میں یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جو بات آج سائنس ہمیں بتا رہی ہے وہ ہمارے بڑے بڑے امام نہیں بتا سکے کیونکہ ہمارا عقلی علم بڑھتا جا رہا ہے جس سے وحی کا علم بھی بڑھ رہا ہے۔‘‘ فرقان نے حیرانگی سے سوال کیا ’’تو کیا اس کا مطلب ہے کہ ہماری آنے والی نسل قرآن کے وہ معانی اخذ کرے گی جو آج ہم سوچ بھی نہیں سکتے؟‘‘ علیم صاحب نے اپنا سر ہلاتے ہوئے اثبات میں جواب دیا اور اپنے کوٹ کی جیب سے ایک اور سگار نکالا اور اسے سلگھانے لگے۔ اِدھر فرقان کی سوچ پر سے جیسے بادل چھٹ رہے تھے۔ برسوں سے پیاسے کو آبِ حیات مل گیا تھا۔ اور وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے سوچے جا رہا تھا۔