ختم نبوت معنی و مفہوم اوراطلاق و انطباق - خضریاسین

1 - ختم نبوت" نظریہ ہے اور نہ نظریاتی موقف ideological standing ہے۔ نظریہ اور نظریاتی موقف کی اصلاح جاری رہتی ہے، وقت بدل جائے یا علاقہ بدل جائے ،نظریہ اور نظریاتی موقف بدل جاتا ہے یا بدلا جا سکتا ہے۔ "نظریہ" حالات کی پیدا وار ہوتا ہے اور حالات "نظریاتی موقف" کا نتیجہ ہوتے ہیں۔نظریہ،حالات اور نظریاتی موقف ایک ہی مثلث کے تین کونے ہیں۔ حالات بدلتے ہیں، نظریات بدل جاتے ہیں اور نظریاتی موقف میں تغیر آ جاتا ہے۔ حالات جہاں نہیں بدلتے، وہاں نظریات نہیں بدلتے اور جہاں حالات بدلیں اور نہ نظریات بدلیں وہاں نظریاتی موقفات پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے ۔ اسی سمجحوتے کی وجہ سے ہرگروہ دوسرے کے نظریاتی موقف اور نظریات کے بارے اس حد تک اپنے اندر قبولیت پیدا کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے " میرا نظریہ اور نظریاتی موقف درست ہے، اگر چہ غلط ہو سکتا ہے اور دوسرے کا نظریہ اور نظریاتی موقف غلط ہے اگر چہ درست ہو سکتا ہے" نظریات اور نظریاتی موقف میں سمجھوتا حالات کے جبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔گونگے اور بہرے ماحول کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھا جا سکتا، اگر چہ اس ماحول میں آسودہ قوتیں یہی چاہتی ہیں۔ گونگے اور بہرے ماحول میں آسودہ قوتیں تغیر اور تبدیلی کی راہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں تو نظریے کو "ایمانی اعتقاد" اور "ایمانی اعتقاد" کو نظریاتی موقف بنا لیتی ہیں ۔

"ایمانی اعتقاد" کو نظریے اور نظریاتی موقف کے درجے پر گرا لیا جائے تو ایک طرف حالات کے مطابق اس میں تبدیلی آسان ہوجاتی ہےاور دوسری طرف نظریے اور نظریاتی موقف کو "ایمانی اعتقاد" کے درجے پر فائز کرنے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ اس وقت ہم اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں، لوگوں نے اپنے نظریوں اور نظریاتی موقفوں کو "ایمانی اعتقاد" بنا لیا ہے اور اپنے "ایمانی اعتقاد" کو نظریہ اور نظریاتی موقف کا درجہ دے رکھا ہے۔

2 - نبوت" اور "ختم نبوت" ایمانی اعتقاد ہے، انسانی شعور کی پیدا وار نہیں ہے، آسمانی حقیقت ہے، منزل من اللہ ہے۔ اس ایمانی اعتقاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم امت کے ساتھ شریک ہیں۔ ایمان اور اس کا محتوی یا content پہلے رسول اللہ پر اور پھر امت پر واجب ہے۔ نبوت اور ختم نبوت پر پہلا ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور آپ علیہ السلام کی اتباع میں امت کا ایمان ہے۔ نبی کا ایمان متبوع ہے اور امتی کا ایمان تابع ہے، نبی کے ایمان میں جو شامل نہیں، وہ امتی کے ایمان کا حصہ نہیں ہے۔امتی کا ایمان مستقل بالذات independent ایمان نہیں ہے، وہ محتویات ایمان contents of Emaan خود سے طے کر سکتا اور نہ ان میں کمی بیشی یا ترمیم و تنسیخ کا حق رکھتا ہے۔ محتویات ایمان نظریہ یا نظریاتی موقف کی طرح وقت اور حالات کے جبر کا نتیجہ ہیں اور نہ وقت اور حالات کی تبدیلی سے تبدیل ہوتے ہیں۔

محتویات ایمان نبی علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں وحی کے ذریعے طے ہوئے ہیں، کسی انسان نے اپنی پسند سے انہیں بنایا ہے اور نہ کوئی انسان آیندہ اس میں دخل اندازی کر سکتا ہے۔ محتویات ایمان نبوت ہیں اور نبوت محتویات ایمان ہیں۔"ختم نبوت" ہو چکا ہے، محتویات نبوت طے ہو چکے ہیں، نہیں "ختم نبوت" اس سے کچھ سوا نہیں ہے، "محتویات نبوت میں آیندہ کسی زمینی اجماع و اجتہاد سے یا آسمانی ذریعے القاء و الہام سے ترمیم و تنسیخ نہیں کی جا سکتی۔ "محتویات نبوت" ہی طے نہیں ہوئے، یہ بھی طے ہو چکا ہے کہ ان میں کمی بیشی نہیں کی جا سکتی۔ "محتویات نبوت" اخبار، احکام اور اعمال کی صورت میں نازل ہوئے ہیں، یہ منزل اخبار، احکام اور اعمال کہلاتے ہیں۔

3 - نبوت اور مابعد نبوت دور میں منزل اخبار، احکام اور اعمال ہی "نبوت" سمجھے گئے ہیں، as it is کی تبلیغ گئی ہے اور قیامت تک نبوت as it is کی تبلیغ ہی کی جائے گی۔ منزل اخبار، احکام اور اعمال کو خالص رکھنا اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی مداخلت سے بچانا اسی طرح فرض ہے جس طرح ان پر ایمان لانا فرض ہے۔ منزل اخبار کو اصطلاح میں "عقائد"، منزل احکام کو "شریعت" اور منزل اعمال کو "سنت" کہا گیا ہے، لہذا "نبوت" "کتاب و سنت" یا "منزل اخبار، منزل احکام اور منزل اعمال" کا نام ہے، یہ ایک ہی حقیقت کے مختلف نام ہیں۔

"دین" کتاب و سنت ہے، دین "نبوت" ہے یا دین "منزل من اللہ اخبار، احکام اور اعمال" ہیں اور اس کے سوا "دین" کسی شے کا نام نہیں ہے۔ نبوت اور محتویات نبوت کی حدود متعین ہیں، واضح ہیں اور ہر نوع کے ابہام و ایہام سے پاک ہیں۔ نبوت کی تشکیل جدید کی جا سکتی ہے اور نہ محتویات نبوت کو از سرنو وضع کیا جا سکتا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کے متعلق وحی نے جو کچھ بیان کر دیا ہے، وہ سب عقائد ہیں اور ان کو اسی طرح قبول کرنا فرض ہے جس طرح تنزیل میں بیان ہوئے ہیں۔ آدم و ابلیس کا واقعہ، موسی و فرعون کا واقعہ اور اہل جنت کے انعام و اکرام اور اہل جہنم کے عذاب و آلام کا تذکرہ سب کے سب ایمانی عقائد ہیں۔ قرآن میں مذکور آدم و ابلیس کے واقعے کا منکر اور موسی و فرعون کے واقعہ کا منکر اسی طرح کافر ہے جس طرح وجود باری تعالی کا منکر کافر ہے۔ وحی میں مذکور واقعات کو تاریخ نے اگر نقل کیا ہے، تو یہ دونوں ایک جیسے وسائل علم نہیں ہیں۔ انسان کی مرتب کردہ تاریخ "وحی" کے بیان کی تصدیق ہے اور نہ معیار ہے، اسی طرح وحی کی بیان کردہ تاریخ انسان کی مرتب کردہ تاریخ کی تفصیل ہے اور نہ اجمال ہے۔ وحی میں بیان شدہ تاریخ کی تفصیل انسان کی مرتب کردہ تاریخ سے حاصل کی جا سکتی اور نہ ہی منزل اخبار میں کسی انسانی وسیلے سے کمی بیشی کی جا سکتی۔

ماضی کے ایک واقعہ کو وحی نے بیان کیا ہے اور اسی واقعہ کی تفصیل تاریخ میں بھی آ چکی ہےتو وحی کا بیان اور انسان کی بیان کردہ تاریخ میں فرق ہے۔ یہ فرق وہی ہے جو "علم اللہ" اور انسانی علم میں ہے۔ وحی کا بیان اور تاریخ کا انسانی بیان ایک دوسرے کی تصدیق و تکذیب اور ترمیم و تنسیخ کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ ٹاٹ میں مخمل کا پیوند لگانا فقط بے ذوقی اور پھوہڑ پن ہے مگر انسانی علم کو علم اللہ کے ساتھ نتھی کرنا فقط بے ذوقی یا پھوہڑ پن نہیں یہ ایمانی کور پن اور کفر بھی ہے۔

4 - مستنبط احکام "منزل احکام" میں شامل ہیں اور نہ "نبوت" کا حصہ ہیں۔ شریعت فقط "منزل احکام" میں مقید و محدد ہے۔ "منزل احکام" کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ ہیں جن کی تعمیلی ہیئت منزل من اللہ اور دوسرے وہ ہیں جن کی تعمیلی ہیئت متعارف و مروج ہے۔ اقیموا الصلوۃ "منزل حکم" ہے تعمیلی ہیئت منزل ہے، لاتقربوا الزنا "منزل حکم" تعمیلی ہیئت متعارف و مروج ہے۔ و انکحوا ما طاب لکم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔منزل حکم ہے تعمیلی ہیئت متعارف و مروج ہے، لا تاکلوا الربوا "منزل حکم" ہےتعمیلی ہیئت مروج و متعارف ہے۔ کتب علیکم الصیام "منزل حکم" ہے تعمیلی ہیئت منزل ہے وغیرہ۔ "منزل حکم" مستنط ہے اور نہ "مستنبط حکم" منزل ہے۔

استنباط کا مبداء عقل ہے اور تنزیل کا مبداء وحی ہے، دونوں میں نامی رشتہ ہے اور نہ غیرنامی تعلق ہے، "وحی" عقل نہیں ہے اور "عقل" وحی نہیں ہے۔ منزل اخبارو احکام سے عقلی استنباط ممکن ہے مگر ایسا استنباط عقل کی کارکردگی کو وحی کا درجہ دے سکتا ہے اور نہ وحی کے قریب تر کر سکتا ۔ شریعت کے دائرے کو وسیع تر کرنے کی تمنا چاہے کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، منزل احکام کی فہرست میں استنباط کے ذریعے سے کمی بیشی اور ترمیم و تنسیخ "نبوت" اور "ختم نبوت" کا واضح انکار ہے۔ استنباط و اجتہاد مسلم معاشرت کا خاصہ نہیں ہے، دنیا کی ہر معاشرت سماج کے قیام و بقا کے لیے استنباط و اجتہاد کرتی ہے اور استنباط و اجتہاد سے کام لیتی ہے۔ مسلم معاشرت کا خاصہ "نبوت" اور "ختم نبوت" ہے۔ مسلم اور غیرمسلم معاشرت کے وضعی احکام "غیروحی" ہیں، منوسمرتی کے سماجی قوانین ہوں یا ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے موضوعہ سماجی قوانین ہوں دونوں غیروحی ہیں اور بالکل ایک ہی معنی میں "غیروحی" ہیں، دونوں وضعی اور خالص انسانی قوانین ہیں، نبوت اور وحی سے دونوں کی قربت اور دوری ایک جیسی ہے۔ مسلم معاشرت کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ خالص انسانی قوانین کو الوہی قانون کا درجہ دے، مسلم معاشرت حدود نبوت کے آس پاس مشکوک و مبہم مورچے بنا سکتی ہے اور نہ چھوڑ سکتی ہے۔

5 - "نبوت" اور "ختم نبوت" الوہی اعلان ہے، انسانی اشتہار نہیں ہے، اس کی وضع و تشکیل میں انسان کے فہم و ادراک کو دخل نہیں ہے۔ اس اعلان کا تقاضا ہے کہ منزل اخبار، احکام اور اعمال میں قیامت تک ترمیم و تنسیخ نہیں ہوسکتی، زمینی ذریعے یعنی اجماع و اجتہاد سے ایسا کیا جا سکتا ہے اور نہ آسمانی وسیلے القاء و الہام سے منزل من اللہ اخبار، احکام اور اعمال کمی و بیشی ہو سکتی۔ وہ اخبار، احکام اور اعمال جن کی وضع و تشکیل انسانی عمل یا جدوجہد کا نتیجہ ہیں، نبوت کے محتویات میں شامل نہیں ہیں اور نہ کیے جا سکتے ہیں۔

نبوت اور ختم نبوت کے مقام و منصب سے مسلم معاشرت بے خبر ہو سکتی ہے اور نہ رہ سکتی ہے۔ غیرمسلم سماج سے مسلمانوں کے تعامل نے بعض علما کے ذہن میں غلط فہمیاں پیدا کی ہیں۔مسلم معاشرت میں شعوری یا غیرشعوری طور پر ایک تصور پروان چڑھا ہے، جسے احتیاط سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ تصور اجماع و اجتہاد کے متعلق ہے، سمجھا جاتا ہے کہ اجماع و اجتہاد "نبوت" کا تسلسل اور توسیع ہیں، ان سے میسر آنے والا قانون "منزل حکم" ہے۔ یہ خیال درحقیقت "نبوت" اور "ختم نبوت" کے عملی اطلاق و علمی انطباق سے صرف نظر کا نتیجہ تھا۔ غیرالوہی امور کو الوہی دائرے میں لاکھڑا کرنا، ایمان کی رو سے شرک ہے۔ اجماع و اجتہاد خالص انسانی ادارے ہیں، "نبوت" خالص الوہی ادارہ ہے، "ختم نبوت" الوہی اعلان ہے۔

اس الوہی اعلان کی تنسیخ مسلم معاشرت میں ممکن نہ تھی، مگر غیرقوموں کی دیکھا دیکھی میں ایک ایسا ادارہ وضع کر لیا گیا نبوت محمدیہ میں جس کا کوئی امکان نہیں تھا، یہ "امامت" کا ادارہ ہے۔"ختم نبوت" کی رو سے منزل اخبار ، احکام اور اعمال میں کمی بیشی کا کوئی ذریعہ باقی ہے اور نہ وسیلہ ممکن ہے، امامت جدید ادارہ ہے جسے " نبوت" کا جانشین فرض کر لیا گیا ہے۔ اجماع و اجتہاد سے منزل اخبار، احکام اور اعمال میں کمی بیشی کی جا سکتی اور نہ ہی منزل اخبار، احکام اور اعمال منسوخ کیے جا سکتے ہے مگر امامت نے چونکہ نبوت کی جانشین تھی اس لیے اب "منزل اخبار" میں امامت کے میڈیم سے کمی بیشی کی جانے لگی اور عقائد میں ایسی باتیں شامل کر دی گئیں جو "منزل اخبار"نہ تھیں۔ "منزل احکام" میں مستنبط احکام شامل کر دیے گئے اور منزل و مستنبط احکام کے مجموعے کو "شریعت" کا نام
دے دیا گیا، یہی صورت حال "منزل اعمال" کے ساتھ کی گئی اور وضعی اعمال کو "منزل اعمال" کا درجہ دے کر دینی اعمال قرار دے دیا گیا۔

6- نبی اور غیرنبی فرداً فرداً منزل اخبار، احکام اور اعمال میں تصرف کا حق رکھتے ہیں اور نہ مشترکہ لائحہ عمل سے ایسا کر سکتے ہیں۔تمام انبیاء جمع ہو کر ایک فیصلہ کریں اور تمام اس فیصلے پر صاد کریں تو بھی وہ فیصلہ منزل من اللہ ہو گا اور نہ منزل من اللہ میں ترمیم و تنسیخ کا اہل ہوگا۔

منزل من اللہ اخبار، احکام اور اعمال میں ترمیم و تنسیخ ممکن نہیں ہے ،یہ ایک ایمانی قضیہ ہے، جسے پورے شعور سے قبول کرنا ضروری ہے۔ انسان چاہے یا نہ چاہے بہرحال "تنزیل" میں کسی نوع کی علمی و عملی مداخلت ممکن نہیں ہے۔ نبوت یا تنزیل انسان کے تقوے و تدین سے مشروط ہے اور نہ انسان کے نیک مزاجی پر منحصر ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انبیاء سیرت و کردار کے اعتبار سے ہر نوع کے ابتذال سے پاک اور مبراء ہوتے ہیں مگر تنزیل کا تعلق انبیاء کے انسانی کردار کے ابتذال و ارتفاع سے نہیں ہے۔ عقلی اعتبار سے عالی دماغ تنزیل کی اہلیت کی شرط ہے اور نہ ہی سیرت و کردار کے اعتبار سے معصوم عن الخطا لازمی عنصر ہے۔ "تنزیل" خدائی فیصلہ ہے، انسانی سیرت و کرادر یا انسانی اہلیت و استعداد کے طے شدہ معیارکا محتاج ہے اور نہ پابند ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمام انبیاء علیہم السلام کامل ترین انسان تھے اور بہترین انسانی صلاحیتوں کے نمونے تھے۔ جن افراد انسانی کو نبوت عطا کی جا چکی ہے، ان کی انسانیت متاثر ہوئی ہے اور نہ ان میں الوہیت در آئی ہے۔ "نبوت" انبیاء و رسل کی انسانیت میں کمی بیشی کرتی ہے اور نہ ان کے ذہن کو غیرمعمولی بناتی ہے۔ حصول نبوت اور ابلاغ نبوت کے دوران میں ان کی ہستی الوہی حصار میں رہتی ہے اور ہوتی ہے۔ نبی اپنے پر نازل ہونے والی وحی کا اسی طرح پابند ہے جس امتی پابند ہے۔

نبوت میں کمی بیشی کا جس طرح امتی اہل نہیں ہے اسی طرح نبی اہل نہیں ہے۔ "وحی" نبی کا دائمی حال permanent state نہیں ہے کہ ہر وقت اور ہر حال میں وہ وحی بیان کر رہا ہو یا وحی پر عمل کر رہا ہو۔ غیرنبی کی سند پر قابل اعتبار ہونے والے مروی اخبار، احکام اور اعمال جن کو "احادیث" سے تعبیر کیا جاتا ہے، نبوت میں شامل ہیں اور نہ شامل کیے جا سکتے ہیں۔ غیرنبی کی سند پر محتویات نبوت میں ترمیم کرنا ختم نبوت کا صراحتا انکار ہے۔تنزیل اور روایت کا فرق دراصل نبوت اور ختم نبوت کے تحفظ کا حصار ہے جسے گرانے کی کو شش دنیا و آخرت کی ذلت و مسکنت ہے۔

7- "ختم نبوت" کی وجہ سے نبوت محمدیہ کے محتویات "معدد" numbered ہیں۔ تکمیل دین اور ختم نبوت ایک ہی شے ہے، تکمیل دین اس لیے ہےکہ ختم نبوت ہو چکی ہے اور ختم نبوت اس لیے ہے کہ تکمیل دین ہو چکی ہے۔ محتویات نبوت "معدد" نہ ہوں تو تکمیل دین کسی شے کا نام ہے اور نہ ختم نبوت کے کوئی معنی ہیں۔"دین" یقینا ضابطہ حیات ہے، مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے۔ مکمل ضابطہ حیات کے غلط تصور نے"غیرمنصوص" مسائل کا "منصوص" حل تلاش کرنے کی جانب متوجہ کیا تو ایک طرف محتویات نبوت کو معدد نہیں رہنے دیا اور دوسری طرف تکمیل دین کا دعوی لغو ہو کر رہ گیا ۔

اجماع و اجتہاد معاشرت کی عمرانی ضرورت نہیں رہے بلکہ نبوت محمدیہ کا تسلسل اور توسیع بن گئے۔ غیرمنصوس احوال و ظروف کے لیے "منزل حکم" وضع کرنے اور پہلے سے موجود "منزل حکم" کو حالات کے مطابق بنانے کا قبیح اور گمراہ کن اقدام کو"دین محمدیہ" کی خوبی اور فقہ اسلامی کا طرہ امتیاز بنا دیا گیا ہے۔ منصوص احوال و ظروف میں "منزل حکم" پر عمل کرنا دین و ایمان ہے اور غیرمنصوص احوال و ظروف کے لیے "منزل احکام" وضع کرنا کفر و طغیان ہے۔ پروہتی کلچر کی یہ چال نئی ہے اور نہ ایمان کی یہ آزمائش جدید ہے، پروہتی کلچر میں مترافین اپنے کیے کو خدا کا کیا قرار دیتے ہیں۔ شریعت اسلامی جو فقط نبوت کے منزل احکام پر مشتمل ہے، پروہتی کلچر میں مروی اور مجتہد احکام بھی منزل احکام کی صف میں کر دیے گئے ہیں۔

ختم نبوت کا انکار فقط یہ نہیں کہ کوئی شخص نبی ہونے کا دعوی کرے اور لوگ اسے مان لیں، محتویات نبوت کو معدد نہ ماننا بھی ویسا ہی انکار ہے۔ محتویات نبوت میں احادیث کے ذریعے ترمیم کرنا بھی ختم نبوت کا انکار ہے جیسا غیرنبی کے دعوی نبوت کو ماننا انکار ہے۔ اجماع و اجتہاد کو نبوت محمدیہ کا تسلسل یا توسیع ماننا یا قرار دینا بھی غیرنبی کو نبی ماننے جیسا کفر ہے۔ کسی امام کو مبعوث من اللہ ماننا ختم نبوت کا انکار ہے۔ نبوت پر قناعت ایمان ہے اور ایمان کی علامت ہے، تکمیل دین اور ختم نبوت کے باوجود دور نبوت اور مابعد دور نبوت میں کسی صحابی یا چند صحابہ کو دین کی سند بنانا اور ان کے کسی اقدام کو نبوت محمدیہ کی توسیع سمجھنا ایمان کی علامت نہیں ہے۔