کیا عورت مرد کی ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی- راجہ احسان

دیکھنے میں آیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم لوگ اسلام کے نظریات پر بحث و مباحث کر رہے ہوتے ہیں اور کم علمی کی بناء پر ہم اپنی عقلی دلیلوں اور قیاس سے کام لے رہے ہوتے ہیں اور بہت سی ایسی باتوں کی تکذیب کر دیتے جو قرآنی خبریں ہوتی ہیں اسی طرح کے موضوعات میں سے اکثر یہ بات سوشل میڈیا کی خواتین سے سننے میں آئی کہ عورت کا ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہونا کہاں ثابت ہے. میرے لئے بھی یہ بات سنی سنائی میں سے ہی تھی مگر جب اسطرح اسکا ثبوت مانگا گیا تو تھوڑی سی تحقیق کرنے پر جو معلومات سامنے آئیں وہ آپکے ساتھ شئیر کر رہا ہوں میں پہلے قرآن کی چند آیات بمع ترجمہ پیش کروں گا جس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے ایک جان یعنی آدم علیہ السلام کو پیدا کیا پھر انہی سے انکا جوڑا بنایا پھر اسکے بعد ایک حدیث پیش کروں گا جس سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کی پیدائش پسلی سے ہوئی. باقی اللہ اپنے رازوں کو بہتر جانتا ہے.

سورۃ النساء آیت نمبر 1 ترجمہ: اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے، .

سورۃ الانعام آیت نمبر: 6 ترجمہ: اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے اور کہیں امانت رہنا بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لیے.
سورۃ الاعراف آیت نمبر: 7 ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا کہ اس سے چین پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا تو اسے لیے پھری پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بیشک ہم شکر گزار ہوں گے .

یہ بھی پڑھیں:   چار دیواری اور عقیدۂ پراگریس - انس اسلام

سورۃ الزمر آیت نمبر : 39 ترجمہ : اس نے تمہیں ایک جان سے بنایا پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے تھے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک طرح کے بعد اور طرح تین اندھیریوں میں یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، پھر کہیں پھیرے جاتے ہو مندرجہ بالا آیات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اللہ نے ایک جان یعنی آدم علیہ السلام سے ان کا جوڑا یعنی حوا علیہما السلام کو انہی میں سے پیدا کر کے باقی انسانیت کی پیدائش کا ذریعہ بنایا اب ذیل میں ایک حدیث پیش کی جا رہی ہے جس سے معلوم ہو گا کہ عورت یعنی حوا علیہما السلام کو آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا.

صحیح البخاری حدیث نمبر 3331 حدثنا أبو كريب ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وموسى بن حزام ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قالا حدثنا حسين بن علي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن زائدة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ميسرة الأشجعي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي حازم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ استوصوا بالنساء ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإن المرأة خلقت من ضلع ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن أعوج شىء في الضلع أعلاه ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإن ذهبت تقيمه كسرته ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن تركته لم يزل أعوج ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاستوصوا بالنساء ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا ہمیشہ خیال رکھنا، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اسے بالکل سیدھی کرنے کی کوشش کرے تو انجام کار توڑ کے رہے گا اور اگر اسے وہ یونہی چھوڑ دے گا تو پھر ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہ جائے گی۔ پس عورتوں کے بارے میں میری نصیحت مانو، عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔“ دوستو ہم لوگ انجانے میں کچھ باتیں ایسی کہہ جاتے ہیں جو قرآنی تعلیمات اور احادیث کی نفی کر رہی ہوتی ہیں کم علمی کی بناء پر ہمیں تکذیب کی بجائے تحقیق کی راہ اختیار کرنی چاہیے. میں نہ عالم ہوں نہ مفتی میں نے اپنی تحقیق سے اس مسلئے پر ایک راہنمائی دینے کی کوشش کی ہے اس موضوع پر مزید معلومات کے لئے کسی عالم سے رجوع کیجئیے

ٹیگز