کو-ایجوکیشن میں پڑھنا اور پڑھانا کیسا ہے؟ حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ کو-ایجوکیشن میں پڑھنے اور پڑھانے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ جواب: اصولی طور یہ کہنا درست ہے کہ شریعت نے مردوں اور عورتوں کے ایک مقام، ایک پلیٹ فارم اور ایک چھت کے نیچے جمع ہونے کو حرام نہیں کہا ہے۔ اگر ایسا حرام ہوتا تو عورتوں کو مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی جاتی۔ آج بھی عورتیں حرم میں ایک چھت کے نیچے مردوں کے ساتھ نماز ادا کر رہی ہیں اور ایک صحن میں طواف کر رہی ہیں۔

آپ مرد اور عورت کا انٹرایکشن اور ایک جگہ جمع ہونے کو اوائڈ نہیں کر سکتے۔ آپ لاہور سے اسلام آباد سفر کر رہے ہیں، آپ بس میں ایک چھت کے نیچے عورتوں کے ساتھ موجود ہیں۔ آپ مارکیٹ میں کپڑا خریدنے گئے ہیں، ایک چھت کے نیچے عورتیں بھی موجود ہیں اور آپ بھی۔ آپ حج اور عمرہ کے لیے سعودیہ گئے ہیں تو ایک ہی ہوٹل میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی۔ آپ پارک میں سیر کے لیے نکلے ہیں تو وہاں عورتیں بھی ہیں اور مرد بھی۔ آپ یہاں فیس بک پر ہیں تو یہاں مرد اور عورتیں دونوں ہیں۔ اب کیا کسی فی۔میل کی فرینڈ ریکوئیسٹ قبول کرنا گناہ کا کام ہے؟

مرد باہر نکلے اور اسے عورت نظر ہی نہ آئے، تو یہ اسی صورت ممکن ہے جبکہ عورت کو زمین میں دفن کر دو اور اس فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دو۔ مطلب ہم کس چیز سے لڑنا چاہ رہے ہیں، وہ جو ہماری تقدیر ہے؟ عورت اگر فتنہ ہے اور واقعی میں ہے تو اس فتنے کو خود خدا نے پیدا کیا ہے نا تا کہ میری اور آپ کی آزمائش کر سکے۔ جب ہر جگہ عورت کے ساتھ انٹرایکشن سے بچنا مشکل ہے تو ہم تعلیمی اداروں میں اس بات پر زور کیوں دیتے ہیں کہ مخلوط تعلیم سارے فساد کی جڑ ہے۔ دوسری طرف مدارس میں بچیاں مرد اساتذہ سے دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور کوئی ایشو نہیں ہے۔

باقی کو۔ایجوکیشن کے نقصانات ہیں تو بھئی بہت زیادہ ہیں، تمہاری سوچ سے بھی زیادہ۔ لیکن ہم اس وقت بات یہ کر رہے ہیں کہ شریعت نے ایسے مسائل کو حل کیسے کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک خاتون فجر کی نماز کے لیے گھر سے نکلیں تو کسی نے ان کا ریپ کر دیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو منع نہیں کیا کہ آئندہ کوئی مسجد میں نماز کے لیے نہ آئے بلکہ ایسی ہدایات جاری فرمائیں کہ جن سے اس قسم کے فساد کا ازالہ ہو سکے۔ آپ نے نماز میں عورتوں کی صفیں علیحدہ سے بنوائیں۔ مسجد میں ان کا داخلہ علیحدہ دروازے سے کروایا۔

مسجد سے نکلتے وقت انہیں پہلے نکلنے کا کہا۔ اور رستے میں چلتے وقت انہیں ہدایت دی کہ دیوار کے ساتھ لگ کر چلیں تا کہ مردوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں وغیرہ وغیرہ۔ تو عورت کو چھپانے کی بجائے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مرد اور عورت کے انٹرایکشن میں شرعی اصولوں کے نفاذ کی بات کی جائے۔ کلاس روم میں بچے ایک طرف ہوں اور بچیاں دوسری طرف۔ نکلتے وقت بچیاں کلاس سے پہلے نکلیں۔ بچے اور بچیاں تنہائی میں ایک ساتھ نہ بیٹھیں، نہ کلاس روم میں اور نہ کلاس روم سے باہر۔ لڑکیاں حجاب میں ہوں اور لڑکے اپنی نظروں کی حفاظت کریں۔ اور سب سے اہم یہ کہ یہ سب باتیں ان کے نصاب تعلیم کا حصہ ہوں۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس سب کچھ کے باوجود خرابی نہیں ہو گی لیکن بہت کم ہو جائے گی۔ تو مرد اور عورت کے انٹرایکشن میں وقار، سنجیدگی اور حیاء پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ باقی یہ بات درست ہے کہ جس طرح فقہاء کی ایک جماعت کے نزدیک عورت کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے، اسی طرح مرد وزن کے تعلیمی ادارے علیحدہ ہوں، یہی افضل ہے لیکن ہم جواز اور موجودہ صورت حال میں قابل عمل حل کی بات کر رہے ہیں۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.