سائیکل - اراشدالزماں

کسی نے کہا کہ "حیرت ہے کہ نون لیگ نے ملک کو جو دو وزیر اعظم دیے ان میں سے ایک اسٹیل کی صنعت کا ماہر اور ایسا ماہر کہ اسکے بچے چلنا بعد میں سیکھے اور فیکٹری لگانا پہلے. دوسرا ایئر لائن کا ماہر. اور نتیجہ ...... ملک کے سب سے بڑے صنعتی ادارے کی تباہی اور قومی ایئر لائن کی بربادی، جبکہ "معجزانہ" طور پر دونو ں کے اپنے کاروبار (اتفاق اسٹیل اور ایئر بلیو) دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے جا رہے ہیں". اب یہ معمولی سی بات کون سمجھاۓ کہ ایسا ہونے پر نہیں بلکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو حیرت ہونی چاہیے تھی. لوہار اپنی بھٹی نہیں جھونکے گا تو کیا آپکی جھونکے گا. اور مزید یہ کہ یہاں ایسا ہی ہے اور ایسے ہی چلے گا.

سیدھاسا نسخہ ہے .... چار سال خوب مزے کرو، آخری سال سے رونا شروع کردو کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا... الیکشن سے پہلے چھ مہینے "آنے والی" کو فل ٹاس بال کرواؤ کہ وہ خوب چھکے مارے اور اپنی اگلی باری پکّی کر لے. اسکے بعدد پھر وہی.... چار سال خوب مزے کرو، آخری سال سے رونا شروع کردو کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا... الیکشن سے چھ مہینے پہلے "پھر آنے والی" کو فل ٹاس بال کرواؤ کہ وہ خوب چھکے مارے اور اگلی باری پکّی کرلے. اسکے بعدد پھر وہی....... کیونکہ عوام کا حافظہ تو کمزور ہے ہی اور یہ سائیکل مضبوط .

سرکاری ٹور اور عیاشیوں میں کوئی کمی نہ آے تو اسکے لیے دونوں ادوار کے بیچ سینیٹ موجود. دولت میں کمی نہ آے تو اسکے لیے کارخانے موجود. ملکی حالات خراب ہوں تو اسکے لئے دوہری شہریت موجود. "اس وقت" عوام کو عقل نہ آ جائے تو اسکے لئے ذرائع ابلاغ موجود. "آئندہ" عوام کو عقل نہ آ جائے تو اسکے لئے تعلیمی ادارے موجود. "اپنے" بندوں پر کوئی آنچ نہ آ جائے تو اسکے لئے سرکاری اداروں میں آپکے نوازے گئے "احسان مند" موجود. اور سب سے ضروری، ہر قسم کے مسائل سے نمٹنے کے لئے بے انتہا پیسہ، اندرو باہر موجود. اور اگر خدانخواستہ پھر بھی پکڑے جاؤ تو بچنے کے لیے جعلی میڈیکل دینے والے ڈاکٹر اور بکاؤ وکیل موجود. کوئی تیسرا فریق اپنی باری لینا چاہے تو وہ یا تو آمر یا ایجنسیوں کا بندہ اور ہم مظلوم.
جنہوں نے اس پورے نظام کو تلپٹ کرنا ہے وہ جمہوریت کا لولی پاپ چوستے ہوئے کبھی ایک کی گود میں بیٹھیں اور کبھی دوسرے، تیسرے کی اور کبھی چوتھے وردی پوش کی. گالیاں ہر طرف سے، جسکی گود سے اترو وہ بھی دے اور جسکی گود میں نہ بیٹھو وہ بھی، وہ عوام بھی دیں جنکے غم میں آپ دن رات گھلیں. اور میڈیا تو ہے ہی خون کا پیاسا.

ستر سالوں میں نائیوں کو بھی عقل آ گئی کہ خود کو نائی نہیں ہیئرڈریسر کہنا ہے اور "سیلون" کھولتا ہے پر ہمیں نہیں. یہ ملک بھی ایک منڈی بن چکا ہے جہاں سب کچھ بکاؤ ہے. اور آپ ایک تاجر ہیں، سب سے بہتر تاجر پر آپ ناکام ہیں، آپکی دکان پر کوئی نہیں آتا، آپکی مصنوعات معیاری اور سستی ہیں، پر کوئی نہیں لیتا... وجہ ..... وجہ یہ کہ آپکو مارکیٹنگ نہیں آتی. آپ نے کبھی اپنا SWOT انالیسس نہیں کیا کہ آپکی طاقت کیا ہے، آپکی کمزوری کیا ہے، آپکے لئے کیا مواقع موجود ہیں، خطرات کیا ہیں.... وغیرہ وغیرہ.

آپکی کارنر کی سب سے بہتر دکان ہے. آپکی دکان پر سب کچھ دستیاب ہے، ہر پروڈکٹ آپکا ہے، مثلاً رشوت ستانی کے خلاف سب سے پہلے آپ نے بات کی، آپکا یہ پروڈکٹ کوئی اور لے اڑا، کراچی کو سب سے زیادہ آپ نے سنوارا، یہ پروڈکٹ بھی آپکا نہیں رہا، ملکی سالمیت آپکی انفرادیت (USP) تھا، جو آپکے لئے گالی بنا دیا گیا، روزگار جتنا بہتر آپ دے سکتے ہیں کوئی اور نہیں دے سکتا، کھلاڑی کا تھلّہ آپ نے اپنی دکان کے سامنے لگوایا اور آج وہ آپکو ملازم سمجھ رہا ہے. اب ملازمین کو انسانی وسائل (Human Resource) سمجھا جاتا ہے اور آپ انہیں خادم سمجھتے ہیں، پرانے ملازم اب ٹھنڈے ہو گیۓ ہیں، نۓ کو ٹھیک سے استمعال کرتے نہیں، اور آنے والوں کے لئے بھرتی کا پراسیس اتنا لمبا ہے کہ انہیں کہیں اور نوکری مل جاتی ہے. ٹریننگ و ڈویلپمنٹ کا شعبہ سرے سے ہے ہی نہیں. اور تنگ آکر جب آپکا بندہ کہیں اور نوکری کرلے یا اپنی دکان بنا لے تو آپ فخر سے بتاتے بھرتے ہیں کہ اپنا بھائی ہے.
بقول اقبال ؛
"ایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرار،
ذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج روزگار

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.