راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو - تزئین حسن

راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو ویزا کا حصول اور اللہ کے گھر کی دید اب آگے کی سنیں.ایک پاکستانی ڈاکٹر دوست کے تعاون سے حسن نے بدقّت تمام ہسپتال سے اپنی ذمداریوں سے رخصت تو لے لی اور ایگزٹ اینٹری بھی لگوا لیا مگراس سے قبل جدّہ جا کر ویزا لگوانے کے لئے مزید چھٹی لینے سے صاف انکار کر دیا. ہم نے بخوشی اس کام کی ذمہ داری اپنے ناتواں کندھوں پر لے لی. ہمارے شہر سے روز رات ساڑھےبارہ بجے ایک بس مکّہ جاتی اور ٹھیک دوپہر ساڑھےبارہ بجے مسجد الحرام کے عبدالعزیز گیٹ پر واقع سا پٹکوآفس پر اتارتی. ہم ایک دفعہ اکیلے یہ ایڈونچر کر چکے تھے مگر اس دفعہ ہماری اصل منزل جدّہ تھی جوضبا سے بارہ گھنٹے ہی کی مسافت پر تھا. ساپٹکویعنی سعودی روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن سے ہماری پرانی یاری تھی. اور سا پٹکو ہی پہ کیا موقوف ہم نے نظریہ ضرورت کے تحت دنیا بھر کے رکشا ٹیکسی بسوں ٹرینوں سے اچھی سلام دعا رکھی اور ہمیشہ انہیں اپنی ذاتی سواری سمجھ کر استعمال کیا. جمعہ کے دن تقریبا رات آٹھہ بجے جدّہ کے لیے رخت سفر بندھا . سفر سے پیشتر بچوں کے کپڑے وغیرہ تیار کئے، بنگالی ملازم اور بچوں کو ہدایات وغیرہ دے کر گھر سے نکلے. گو کوچ کے بارہ گھنٹے کے سفر کے مقابلے میں ہوائی سفر تقریبا سوا گھنٹے کا ہوتا مگر ضبا میں ائیرپورٹ نہ ہونے کےسبب حسن کو ہمیں ڈیڑھ دو سو کلومیٹر دورتبوک یا الوجہ ڈراپ کرنا پڑتا.

پھر فلائٹ کے اوقات اور دیگر پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ہم نے کوچ کا نسبتا لمبا سفر اختیار کیا. حسن نے ہمیں ضبا کے سیپٹکوآفس ڈراپ کر دیا. دل ہی دل میں ہم اپنے باحفاظت سفر اور ویزا کے باآسانی حصول کی دعا مانگتے رہے کیوںکہ مملکت کے ماحول کو دیکھتے ہوے کچھہ بعید نہیں تھا کہ ہمیں جدّہ سے یہ کہ کر واپس کر دیا جاتا کہ کسی مرد کو بلاؤ یا جس کا اقامہ ہے ویزا اسے ہی دیا جا سکتا ہے. سفر میں عرب نیوز کے جریدہ اردو میگزین میں اسکندریہ کی تاریخ اور سیاحت پر ہمارا مضمون ہمارے ہمرکاب تھا جو اسی روزچھپا تھا. ہم مضمون پڑھتے رہے اور اپنے آپ کو داد دیتے رہے. انشا جی بھی اپنی کتابیں پڑھ کر پڑھے لکھے ہوے تھے اور ہمارا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے کے جب سے خود لکھنا شروع کیا کسی دوسرے کی تحریر اچھی ہی نہیں لگتی. صبح آٹھہ بجے جدّہ پہنچ کر ہم نے سعودی روڈ ٹرانسپورٹ کے لیڈیز ویٹنگ روم میں اپنا حلیہ درست کیا اور شارع روضہ پر واقع مصر کونسلیٹ کے لئے ٹیکسی پکڑی. تقریبا ساڑھے نو بجے تک تمام کاروائی مکمل ہو چکی تھی تھے اور ویزا لگے پاسپورٹ ہمارے ہاتھ میں تھے. واپس سعودی روڈ ٹرانسپورٹ کی بلڈنگ پہنچے اور ضبا واپسی کا ٹکٹ لیا. چونکے بارہ بجے والی بس میں کچھ دیر تھی سوچا بلد (ڈاؤں ٹاون جدّہ کا مرکزی بازار) سے کچھ شاپنگ وغیرہ کر لیں.

شاپنگ سے فارغ ہو کر ہم واپس ساپٹکو آفس پہنچے تو معلوم ہوا بس قبل از وقت ہی بے وفا محبوب کی طرح ہمیں چھوڑ کر ضبا روانہ ہو گئی ہے.اللہ کے گھر کی دید ہمارے اس پروگرام میں شامل نہ تھی مگر کوچ نکلنے کے اس اتفاق کو ہم نے اللہ کا بلاوہ سمجھا اور جھٹ مکّہ کا ٹکٹ کٹوا لیا. مکّہ کا یہ شہر تمام عالم میں ہمارا محبوب ترین شہر ہے. گو یہاں نہ تو قدیم زمانے کے کھنڈرات ہیں نہ تاریخی یادگاروں سے مزیّن میوزیمز اور نہ قبل مسیح کی دیو ہیکل تعمیرات جو ہمیں عہد رفتہ کے انسانوں کے حیرت انگیز کمالات کی یاد دلائیں. یہاں قرب و جوار میں نہ تو سر سبز و شاداب وادیاں ہیں اور نہ پرسکون جھیلیں نہ بحر روم کے قدرتی حسن سے مالا مال جزیرہ مگر پھر بھی اس شہر میں موجود مکعب نما سادہ سی عمارت میں ایسی کشش ہے جو ہماری طرح تمام عالم کو اپنی طرف کھینچتی ہے. روے زمیں کی توحید پر مبنی اس قدیم ترین عبادت گاہ نے مسلمانوں کو ہی نہیں عرب کےمشرکین اور دیگر عقاید کے پیروکاروں کو بھی اس کے گرد دیوانہ وار چکّر لگانے پر مجبور کیا. اس کی کشش نے انگریزی زبان میں ایک محاورے کی شکل اختیار کر لی. مکّہ کا لفظ انگریزی زبان میں ایسی جگہ کے لیے مستعمل ہے جو اپنی طرف کھینچے اور جو کشش کا مرکز ہو. ایسا مقصد جسے انجام دینے کی شدّت سے خواہش ہو اور ہم ایک بار پھر کشش کے اس مرکز کی طرف گامزن تھے.

اللہ کے گھر سے جو عشق ہمیں پہلی نظر میں ہوا تھا وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا اور حجاز میں رہائش اختیار کرنے کے بعد تو اسکی تڑپ دو آتشہ ہو گئی تھی. اب تو ایسا لگتا تھا کہ یہ شہر بھی ہماری راہ تک رہا ہے. مکّہ پہنچے تو حج کی پہلی فلائٹ آنے میں تقریبا ایک ہفتہ تھا اور مسجد حرام جو سال کا بیشتر حصہ زائرین کے رش سے کھچاکھچ بھری رہتی ہے تقریبا خالی تھی. گو شمع کے گرد چکر لگانے والے نومبر کی تپتی دھوپ میں بھی کم نہ تھے. یہ موقع سال میں صرف دو مرتبہ آتا ہے جب مسجد الحرام میں توحید کے پروانوں کا رش کچھ کم ہوتا ہے ایک رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے بعد حج کی پہلی فلائٹ سے پہلے اور دوسرا حاجیوں کی واپسی کے بعد جب تک زائرین عمرہ کے ویزا نہیں کھولے جاتے. اس سونے پن میں مسجد الحرام پہلے سے زیادہ حسین دکھائی دیتی ہے اور عبادت میں بے حد مزہ آتا ہے. ہم نے اپنی شاپنگ حرم کے گرد لاکرزکے حوالے کی اور اللہ کے حضور حاضری کے لئے تیار ہوگئے. ساڑھے پانچ بجے ہم جدّہ پہنچے تو ضبا کے لئےبس پھر ہمیں چھوڑ کر روانہ ہونے والی تھی بد دقت تمام پکڑی اور دوسرے دن صبح ساڑھے پانچ بجے ہم تقریباً دو ہزار کلومیٹر کا کامیاب سفر کر کے واپس گھر پہنچ چکے تھے.
ع راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو

ٹیگز

Comments

تزئین حسن

تزئین حسن

تزئین حسن ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں صحافت کی طالبہ ہیں، نارتھ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ مشرق وسطی کے اخبارات و جزائد کےلیے لکھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.