نبی اکرم ﷺ کے ننھیال، ایک شبہے کا ازالہ - اکرام الحق چوہدری

آپ سیرۃ النبیﷺ سے تھوڑی بہت معلومات رکھنے والے کسی عام شخص، یا اہل علم سے سوال کریں کہ : آپ ﷺ کے ننھیال کہاں تھے؟ اکثریت کا فوری جواب ہوگا۔”نبی اکرم ﷺ کے ننھیال مدینہ منورہ میں تھے“ مگر جب اس جواب کی تصدیق کتب سیر سے ڈھونڈنے کی کوشش کریں، تو اکثرکتب سیر کے مطالعہ کے دوران
دو متضاد بیانیے سامنے آتے ہیں۔

اول : آپ ﷺ کے والد سید عبداللہ کی شادی کے باب میں آپ ﷺ کے والدسید عبداللہ کی شادی کے لئے عبد المطلب نے قریش کے بنو زہرہ خاندان کے سردار وہب کی بیٹی ”آمنہ“ کا انتخاب کیا۔ نکاح مکہ میں ہوا اور خطبہ نکاح عبدالمطلب نے پڑھا۔ سیدہ آمنہ کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے۔ آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب۔کلاب پر نبی اکرم ﷺ کے والد اور والدہ کا سلسلہ نسب مل جاتا ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ سیدہ آمنہ کا قبیلہ بنو زہرہ اور سید عبداللہ کا بنو ہاشم دونوں قریش کی ہی دو شاخیں اورمکہ کے ہی رہائشی تھے۔
مذکورہ بالا بیانیہ کے مطابق سیدہ آمنہ کا میکا اور آپ ﷺ کا ننھیال مکہ میں بنتا ہے۔
دوم:۔سیدہ آمنہ کا آپ ﷺ کے ہمراہ سفر مدینہ کے باب میں۔۔آپ ﷺ کی عمر چھ سال ہوئی تو والدہ آپ ﷺ کو ننھیال سے ملانے اپنے میکے مدینہ منورہ لے گئیں۔آپ ﷺ کے ننھیال مدینہ میں بنو عدی بن نجارمیں سے تھے۔اسی سفر سے واپسی میں ابواء کے مقام پر سیدہ آمنہ کا انتقال ہوا۔

دوسرے بیانے سے آپ ﷺ کا ننھیال مدینہ میں ثابت ہوتا ہے۔توسیرۃ النبیﷺ کاطالب علم ایک شبہ کا شکار ہوتا ہے کہ، آپ ﷺ کاننھیال اور سیدہ آمنہ کا میکہ مکہ مکرمہ میں بنو زہرہ بن قریش ہے؟۔ یا مدینہ منورہ میں بنو عدی بن نجارہے؟
مذکورہ بالا دونوں بیانیوں کی صحت کے لئے کتب سیرپر ایک نظر ڈالتیں ہیں۔
بیانیہ اول:۔آپ ﷺکے ننھیال مدینہ میں اور آپ ﷺ بنو زہرہ کے نواسے تھے کی تائید کتب سیر سے۔
1:۔زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر نو جوانوں نے مظلوموں کی مدد کے لئے ”حلف الفضول“کے نام معاہدہ کیا۔اس معاہدہ میں بنوہاشم،بنوتیم بن مرہ کے ساتھ بنوزہرہ بھی شریک تھے۔رحمت عالم ﷺ کی عمر اس وقت بیس سال تھی،آپ ﷺنے معاہدہ میں شرکت فرمائی۔بعثت کے بعد بھی حضورﷺ اس معاہدہ میں شرکت پر اظہار مسرت فرما یا کرتے تھے۔اس سے ثابت ہوا کہ بنو زہرہ بنوہاشم کے حلیف اور مکہ میں ہی رہائش پزیر تھے۔
2:۔سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ بھی بنوزہرہ ہی سے تھے۔اسی لئے وہ نبیﷺ کے ماموں کہلاتے تھے۔ان کے علاوہ عشرہ مبشرہ کے عبدالرحمان بن عوف بھی بنوزہرہ کے تھے۔کسے معلوم نہیں کہ یہ حضرات مہاجریں اور ”سابقون الاولوں“میں سے تھے۔یعنی مکہ ہی کے رہنے والے تھے۔

3:۔غزہ بدر سے کچھ پہلے کا ایک واقعہ کتب تاریخ و سیر میں ملتاہے کہ آپ ﷺ کی پھوپھی سیدہ عاتکہ نے خواب دیکھا کہ ایک گھڑ سوار نے جبل ابو قبیس کی جانب سے ایک پتھر کھینچ مارا جس کے ٹکڑے تمام قریش قبائل کے گھروں میں گرے ۔بس دو شاخیں بنوزہرہ اور بنوعدی اس پتھر سے محفوظ رہے۔اس خواب کی تعبیر اس طرح سامنے آئی۔۔۔۔۔غزوہ بدر پیش آگیااور بنوزہرہ اور بنوعدی نے جنگ میں شرکت نہ کی۔ان دونوں کے سوا تمام قبائل قریش کے چوٹی کے سردار مقتول ہوئے۔یعنی بنو زہرہ ہجرت کے بعد بھی مکہ ہی میں رہائش پزیر تھے۔

بیانیہ دوم:۔آپ ﷺ کے ننھیال مدینہ میں اور آپ ﷺ بنو عدی بن نجار کے نواسے تھے،کی تائید میں کتب سیر و کتب احادیث کوئی روایت یا وقعہ ہمیں نہیں ملا۔بلکہ ہجرت مدینہ کے بعد متعدد واقعات سے اس کی تردید ثابت ہوتی ہے۔
1:۔صحیح مسلم میں حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ہجرت کے وقت مدینہ میں ہر کوئی جھگڑا کر رہا تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ اس کے گھر میں قدم رنجہ فر مائیں۔یہ منظر دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا ”میں بنو نجار کے محلہ میں سواری سے اتروں گا، جو عبد المطلب کے ننھیال ہیں۔“یعنی مدینہ آپ ﷺ کا نہیں بلکہ آپ ﷺ کے دادا عبد المطلب کا ننھیال اور بنو عدی بن نجار کے نواسے تھے۔

2:۔مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کی دس سالہ زندگی کوئی ایک ایسا واقعہ نظر نہیں آتاجس سے دوسرے بیانیے کے ثبوت کا شبہ بھی پیدا ہوتا ہو۔ پھر سیرت کی کتابوں میں اس مغالطہ کی آخر وجہ کیا ہے؟۔ نبی ﷺ کے والد سید عبداللہ کے دادا ہاشم اپنے بیرون ملک تجارتی سفروں میں شام جاتے ہوئے مدینہ میں ٹھیرا کرتے تھے۔ یہیں پر انہوں نے بنو عدی بن نجار کی ایک باوقار خاتوں سلمیٰ بنت عمرو بن زید نجاری سے شادی کر لی،اور جن سے ایک بیٹا شیبہ پیدا ہوا۔ہاشم تو ایک سفر کے دوران شام میں فوت ہوگئے۔ہاشم کے بھائی مطلب کوجب پتا چلا کہ بنو نجار کی خاتون سے ان کا بھتیجا مدینہ میں غریب الوطنی کی زندگی گذار رہا ہے۔تو وہ آکر ان کو مکہ لے گئے۔لوگوں نے مطلب کے پیچھے سوار خوبصورت بچہ دیکھا تورواج کے مطابق سمجھے کہ۔۔۔۔مطلب غلام خرید لائے ہیں۔تو پکار اُٹھے ”عبدالمطلب، عبدالمطلب“مطلب کا غلام، مطلب کاغلام۔ مطلب نے بتایا کہ یہ غلام نہیں میرے بھائی ہاشم کا بیٹا شیبہ ہے۔ اور بڑے نازو نعم سے آقائے دوعالم کے دادا کی پرورش کی۔ پھر باوفا بھتیجے نے بھی چچا کی شکر گزاری میں اپنا نام ہی عبد المطلب کرلیا۔ قارئیں! اب سمجھے کہ مدینہ کے انصار بنو عدی بن نجار عبد المطلب کے ماموں اور انہی کے ننھیال تھے۔

اور عبدالمطلب ان کے بھانجے اور نواسے۔۔۔۔آپ ﷺ کے والد تو بنو مخزوم کے اور نبی اکرم ﷺ بنو زہرہ کے نواسے تھے۔اسی لئے مدینہ داخلے کے وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”ہم عبدالمطلب کے ماموؤں کے ہاں قیام کریں گے۔ غالباًسیدہ آمنہ کا بیٹے کے ہمراہ یثرب(مدینہ)کے سفر کا مقصدبے وطن متوفی شوہر کی قبر مبارک کی بیٹے کو زیارت کروانا تھا ۔ورنہ عبد الملطب کے ننھیالی رشتہ داری کے سوا وہاں ان کی اورکوئی رشتہ داری نہ تھی۔ سیدہ آمنہ ایک ماہ یثرب میں قیام کے بعد مکہ کو واپس ہوئیں تو مقام ابوأ پہنچ کر انتقال ہوگیا۔غالباًپیارے شوہر کی مفارقت کا وہ اندوہ جو قبر دیکھنے سے بڑھ گیا اور قلب پر چھاگیا تھا،اپنا کام کرگیا۔۔۔حضور اکرم ﷺ خادمہ ام ایمن ؓ کے ہمراہ واپس مکہ پہنچے تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے ننھیال مدینہ میں ہونے کے شبہے کی واحد وجہ سیرۃالنبی از شبلی نعمانی میں ابن سحاق کے حوالے سے ہے کہ عرب میں دادے کے ننھیال کو پوتے کا ننھیال بھی کہہ دیا جا تا ہے۔

آج جو حضرات مدینہ کے بنو نجار کوآپ ﷺکے ننھیال کہتے ہیں، جوغلط ہے۔۔۔آپ ﷺکے ننھیال تو مکہ کے بنو زہرہ ہی تھے۔البتہ دادا کے ماموؤں کو پوتے کے ماموں بھی کہلایا جاتا ہے۔یہ اکثر ہوتا ہے،لیکن اس سے مذکورہ بالا غلط فہمی نہیں پیدا ہونی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب اگر کوئی صاحب بنو زہرہ کو مدینہ کے باشندے، یا بنو عدی بن نجار کو آپ ﷺ کے ننھیال ثابت کر دے تو ہمیں بھی مطلع کرے ۔ احسان ہوگا۔