فہم ِ قرآن اہم اصول اورتقاضے - صاحبزادہ محمد امانت رسول

میرے آپریشن سے چار روز قبل، ایک خاتون کا مجھے فون آتا ہے کہ میرا بیٹا آپ سے اسلام سیکھنا چاہتا ہے میں نے پوچھا ،بیٹے کی عمر کتنی ہے ؟
خاتون نے بتایا 40 سال … میں نے عرض کی ماشاء اللہ بیٹا تو بڑا ہے۔ کہنے لگیں بیٹا جتنا بھی بڑا ہو جائے ماں کیلئے وہ چھوٹا ہی ہوتا ہے ۔ میں نے ان سے ملاقات کی حامی بھر لی۔ میری ان کے بیٹے سے ملاقات ہوئی ۔ملاقات میں معلوم ہوا، وہ تعلیم یافتہ اور ایک معتبر تعلیمی ادارے میں بطور استاذ فرائض بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ یورپ سے بھی تعلیم پا چکے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے قرآن مجید کا مطالعہ باترجمہ کرنا شروع کیا جس کے بعد وہ آہستہ آہستہ ڈپریشن میں چلے گئے ۔ ڈپریشن میں جانے کی ایک وجہ قرآن مجید کی وہ آیات کریمہ بھی ہیں جن میں عذاب گرفت اور جہنم کے حالات کا بیان ہے۔ پہلی ملاقات میں انہوں نے کہا کہ امانت صاحب! ’’میں شدید پکڑ میں ہوں۔ اللہ کی گرفت میں ہوں،مجھے نیند نہیں آتی، میں جسمانی طور پر بیمار اور کمزور ہوتا جا رہا ہوں ۔ کل آپ آئیں گے تو میں زندہ نہیں ہونگا ۔ میں نے ماضی میں بہت سے گناہ کیئے ہیں جس وجہ سے میں اس حال کو پہنچا ہوں ۔ میرا رب مجھ سے بہت ناراض ہے کیا میری بخشش ہو سکتی ہے؟‘‘

قرآن مجید میں اس حوالے سے جو کچھ انہوں نے پڑھا تھا وہ ایک ایک آیت میرے سامنے باترجمہ تلاوت کی ۔چند آیات میں یہاں بطور مثال لکھتا ہوں ،سورۃ المنافقون میں ہے " سواء علیھم استغفرت لھم ام لم تسغفرلھم لن یغفراللہ لھم ط ان اللہ لا یھدی القوم الفسقینo "اس میں فرمایا گیا ہے کہ منافقین کے لئے آپ ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا ۔سورۃ الملک میں فرمایا " فاعترفوا بذ نبھم فسحقا لا صحب السعیر o" اب انہوں نے اعتراف جرم کر لیا جہنمی ہیں دفع دور ہوں۔ اسی طرح سورۃ الرحمن کی بھی آیات کریمہ انہوں نے میرے سامنے تلاوت کی۔ میں نے فقط یہ تین مقامات ان کے کئی حوالوں سے پیش کئے ہیں جن سے ان کے مافی الضمیر کا ابلاغ ہو جاتا ہے میں نے ان سے ان آیات کے حوالے سے گزارش کی کہ یہ قیامت کا معاملہ ہے جب حساب وکتاب ہو گا۔ یہ آیات کریمہ ان لوگوں سے متعلق ہیں جنہوں نے پیغمبرؐ کی زندگی میں حق کو جھٹلایا ،انکار کیا اور اسی روش پہ رہے یہاں تک کہ انہیں موت نے آ لیا۔ انہیں توبہ اور ایمان نصیب نہ ہوا۔ پیغمبرﷺنے ان کے سامنے حق کو پہنچایا اور آخری حد تک حجت تمام کر دی لیکن یہ لوگ کفر، ظلم، فسق اورفجور پہ ڈٹے رہے اور حق کو جھٹلایا … یہاں تک کہ مدت ختم ہو گی۔جب کہ ہم اہل ایمان سے ہیں ۔ ہمارے لیئے توبہ کے دروازے کھلے ہیں ۔

سورۃ البقرہ دیکھیے " واذا سالک عبادی عنی فانی قریب ط اجیب دعوۃ الداع اذادعان لا فلیستجیبوا لی ولیومنو ابی لعلھم یرشدونO "
اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندو ں کو اپنے قرب اور تعلق کی خوشخبری دیتا ہے کہ پکارنے والا مجھے جب بھی پکارتا ہے میں اس کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ سورۃ النساء دیکھئے… " انما التوبۃ علی اللہ للذین یعملون السوء بجھا لۃ ثم یتوبون من قریب فاولئک یتوب اللہ علیھم ط وکان اللہ علیما حکیماO ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذ احضر احد ھم الموت قال انی تبت الن و لا الذین یموتون و ھم کفارط اولئک اعتدنا لھم عذابا الیماO "

ان دو آیات کے مطابق توبہ کا دروازہ آخری سانس تک کھلا ہوا ہے، بشرطیکہ انسان مومن ہو۔سورۃ یونس میں فرعون کی توبہ کو اس لئے رد کر دیا گیا کہ اس نے موت دیکھ کر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ سورۃ الزمر دیکھئے… قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ ط ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ط انہ ھوالغفور الرحیمO اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے ان بندوں کیلئے عام معافی کا اعلان کیا ہے جنہوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کیا کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کیونکہ اللہ سب گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ سورۃ الشوریٰ دیکھئے…" وھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفواعن السیات ویعلم ماتفعلونO "

اس آیت میں گناہگار بندوں کی توبہ کی قبولیت کا اعلان ہے۔ سورۃ یونس میں بیان ہے فرعون کو موت نے آ گھیرا تو پھر اس نے کہا میں اب ایمان لایا اللہ تعالی نے فرمایا نہیں اب تیرا ایمان قبول نہیں ہو گا۔

میں نے گزارش کی آپ کو اللہ تعالی نے توبہ و استغفار کا موقع دیا ہے جس وجہ سے آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ مسلمان بھی ہیں اور اپنے گناہوں پہ پشیمان بھی ہیں ۔ ابھی تک اس جوان سے سوال و جواب کی نشست کا سلسلہ جاری ہے۔ اب مسئلہ فقط نظریات کا نہیں ہے بلکہ ان کی پیوستگی کا ہے جس کا ظہور خوف ، ڈپریشن اور Anxietyکی صورت میں سامنے آ رہاہے ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ نوجوان ان پڑھ اورسادہ تعلیم یافتہ ہو ۔

آئیے! اس مسئلہ پر غور کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو ا؟ وہ قرآن مجید کی ان آیات کو پڑھ کر شدید ڈپریشن کا شکار کیوں ہو گیا؟ ممکن ہے ڈپریشن کے کئی دیگر اسباب ہوں جن سے مجھے متعارف نہ کرایا گیا ہو ۔ظاہر اً وہ جوان خوش حال اور آسودہ حال دکھتا ہے…لیکن مجھے اس مسئلہ کی ایک وجہ دکھائی دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس نے قرآن مجید کی آیات کی آیات کی تفسیر،تعبیر اوراطلاق ذاتی فہم اور علم سے کیا۔ اسے جو سمجھ آیا اس نے وہی مفہوم اخذ کر کے اپنے لئے مشکل کھڑی کر لی۔ اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں یہود و نصاری بھی تھے اور کفار و مشرکین بھی… یہ وہ گروہ تھے جنہوں نے علی الاعلان دشمنی اور عداوت کا راستہ اختیار کیا ۔ دین حق کو جھٹلایا ،اس کی اشاعت و تبلیغ میں رخنے ڈالے۔

اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی مخالفت کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ قرآن مجید میں ایسے طبقات کیلئے احکامات و معاملات دوسرے انسانوں سے بہت مختلف ہیں ۔ خاص طور پر اس مسلمان سے جو اسلام و ایمان سے بہرہ ور ہو چکا ہے ۔ اگر ماضی و حال میں گناہ ہوئے بھی ہیں تو اللہ تعالی توبہ کی شرط پہ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ ان صاحب کا مسئلہ ذاتی اور شخصی ہے لیکن ہم تاریخ کے صفحات کو پڑھیں تو قرآن مجید کی آیات کی اسی طرح تعبیرو تاویل نے مسلمانوں کو بہت سی مشکلات کا شکار کیئے رکھا۔ایک ایسا گروہ بھی تھا جس نے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کو ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرونO کی روشنی میں(نعوذباللہ) ’’کافر‘‘ قرار دے دیا تھا۔ امت میں قتل وغارت کا بازار اس فکر کے ہاتھوں برپا ہوا جس نے قرآن کی من مانی تفسیرکی روشنی میں توہین و اہانت کے فیصلے خود کیئے ۔ دوسرے فرقے کے علماء و عوام پرکفار و مشرکین اور یہود نصاریٰ والی آیات کا اطلاق کیا ۔

مخالف علمائے کرام کو گالیاں دیں کیونکہ ان کے نزدیک قرآن مجید میں ایک کافر کو حرامی کہا گیا۔ ماضی قریب میں قرآن مجید میں موجود جہاد و قتال کی آیات کا درس دے کر نوجوان نسل کو دہشتگرد ی اور تخریب کاری کا ایندھن بنایا گیا ۔ جہاد گروہی اور پرائیویٹ قرار پایا۔یہود و نصاریٰ سے عدمِ تعلقات ، غیر مسلموں کا قتل۔ تکفیر و تضلیل کے فتاویٰ یہ سب کچھ قرآن مجید سے ہی ثابت کر کے ایک دوسرے کو واجب القتل قرار دیا گیا۔

اندازہ کیجئے! اگر ایک شخص کا فکری انتشار اور سطحی مطالعہ اسے ڈپریشن میں لے کر جاسکتا ہے ۔ قوم کا ایک مخصوص طبقہ اگر اسی سطحیت اور فکری انتشار ِ کے ساتھ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیتا رہے گا تو کیا اس سے قوم کا نوجوان نفسیاتی مریض نہیں بنے گا؟قرآن کی تفہیم و تعلیم جہاں آیات کے باہمی ربط ونظم کا تقاضا کرتے ہیں وہاں اس کا تقاضا بھی کرتے ہیں کہ تدریس وتعلیم کا فریضہ ان کے ہاتھوں سرانجام پائے جو مسلکی فرقہ بندی اورسیاسی گروہ بندی سے علیحدہ ہوں۔جن کی نظر قرآن مجید پہ، ہاتھ حالات و زمانہ کی نبض پر ہو…جو امتِ مسلمہ کو روشنی کا سفیر بنا کر نور کے راستے پر چلائیں۔نہ کہ دنیا میں تاریکی اور ظلمت مذہب کا تعارف بن جائے…العیاذباللہ آپ کو معلوم ہے ہم پریشان کب ہوتے ہیں؟ اس نے کہا نہیں، ا س کی نہیں میں سوال پوشیدہ تھا۔ میں نے کہا جب ہم اپنی حدود سے نکل کر خدائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے وماتدری نفس ماذا تکسب غدًا وماتدری نفس بایّ ارضِ تموتکوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نفس نہیں جانتا وہ کس جگہ مرے گا۔اگر ہم یہ دونوں ذمہ داریاں اپنے سر لیں گے، پریشان تو ہوں گے، ناں۔ جب اس نے کہہ دیاکوئی نہیں جانتا ۔ اب مجھے جاننے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اس کی ٹوہ میں لگنے کی ضرورت ہے۔

میری ذمہ داری ہے کہ جو اس نے مجھے حکم دیا میں اس کی پیروی کروں۔اس نے مجھے محنت اور کوشش کرنے کا حکم دیا ہے میں محنت اور کوشش کروں۔ اگر میں کل کے بارے میں پریشان ہو ں گا تو گویا میںنے اس کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، جب ہم اپنی Limits crossکرتے ہیں ہم اسی طرح پریشانی میں گھومتے ہیں جیسے کوئی تنکا بھنور میں گھومتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں اپنی اوقات میں رہنا چاہئے، اگر ہم مطمئن ،خوش اور پرسکون رہنا چاہتے ہیں ۔آپ کو معلوم ہے اب کتاب ، نبیؐاور فرشتے کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اب فرشتہ آئے گا ، نہ کتاب آئے گی اور نہ ہی پیغمبر آئے گا۔ اب ہمیں اسی کتاب (قرآن مجید) پہ اعتمادکرناہے، اس میں جوکچھ لکھا ہے وہ حق ہے او ر اللہ کافرمان ہے ۔

اس پہ ہمارا پختہ ایمان ہونا چاہئے۔ اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے والوں کی عام معافی کا اعلان کیا ہے ۔ میں آپ کوپہلے ایک نشست میں قرآن مجید کی آیات باترجمہ پڑھ کر سناچکا ہوں ۔ اگر اب بھی ہم پریشان ہوتے یا شک میں مبتلا ہوتے ہیں تو کیا ہم کسی کی انتظار میں ہیں کہ وہ آ کر بتائے کہ اللہ نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے اور تمہارے سب گناہ معاف کر دیئے ہیں؟ اب ہمارے پاس اللہ تعالی کی پسند نا پسند ،رضا مندی ، ناراضگی اور غضب کو جاننے کافقط ایک ذریعہ ہے اور وہ قرآن مجید ہے ۔ قرآن مجید میں کیا لکھا ہے وہ میں نے آپ کو بتا دیا ہے۔ اللہ تعالی کے بارے میں فقط ’’خوف‘‘ کاتصور دل و دماغ میں بٹھائے رکھنا ہے یہ بھی فرسودہ مذہب کا تصور ہے۔

اسلام نے رب تعالی کاتعارف رحمن ، رحیم، غفارالذنوب او ر ستارا لعیوب بھی کروایا ہے ۔ رحمن میں رحمت کی شدت ہے اور رحیم میں رحمت کا تسلسل ہے۔ ہماری محبت اور مہربانی میں آج شدت ہے، ممکن ہے یہ شدت کل نہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کچھ دن بعد یہ رحمت اور مہربانی بھی نہ ہو لیکن اللہ تعالی کی ذات میں رحمت شدید بھی ہے اور اس رحمت کی شدت میں کبھی کمی نہیں آتی اور یہ شدت قائم اور مسلسل ہے ۔اللہ تعالی نے فرمایا ’’والذین امنوا اشد حبل للہ‘‘ ایمان والے اللہ سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں، کیا انسان ڈ رونی ذات سے محبت کر سکتا ہے؟ کیا انسان جس سے خوف زدہ رہتا ہو اس سے محبت کر سکتا ہے لیکن ہمیں اللہ سے شدید محبت کرنے کا حکم ہے ۔ یہی ہمارے ایمان کی علامت ہے کیونکہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ ایک ماں کے پاس سے گزرتے ہیں جو اپنے بچے کو چھاتی سے لگا کر دودھ پلا رہی تھی، آپ نے اپنے صحابہ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ اپنے بچے کو آگ میں پھینکے گی ؟ صحابہ نے متعجب ہوکر عرض کی، کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ماں اپنے بچے کو آگ میں ڈالے! فرمایا اللہ تعالی اپنی مخلوق سے ستر مائوں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے بھلا وہ کیسے اپنے بندوں کو آگ میں پھینکے گا؟

رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ تم لوگ آگ میں گرنا چاہتے ہو اور میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچاتا ہوں‘‘۔
اللہ تعالی نے جہاں ’’خوف‘‘ کی بات کی وہاں ’’طمع‘‘ کی بھی بات کی ہے ۔سورۃ السجدہ کی آیت نمبر 16 اور 17میں فرمایا : تتجافی جنو بھم عن المضا جع ید عون ربھم خوفا وطمعا ز ومما رزقنہم ینفقون o فلاتعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین ج جزاء بما کانو یعملونo ترجمہ:’’ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کیلئے چھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا‘‘۔ سورۃ رحمن میں جہاں خوف کی بات کی وہاں دو باغوں کا بھی وعدہ کیا ہے ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا’’ اللہ اپنے بندے سے ویسا معاملہ کرتا ہے جیسے بند ہ اس کے بارے میں گمان کرتا ہے‘‘ ۔ آپ اپنے گمان کو خوف ورجاء خشیت و طمع سے باندھ لیں اللہ تعالی آپ سے بہتر معاملہ فرمائے گا۔

دیکھئے ! جب سے آپ نے خدا کے خوف کا پہرادل و دماغ پہ بٹھایا ہے آپ کی تمام سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں ۔ آپ اپنے ماضی پہ پشیماں اور شرمندہ ہیں ۔ آپ کہتے ہیں مجھ سے بہت بڑے بڑے گناہ سرزد ہوئے ہیں اگر آپ میں یہ احساس پیدا ہوا ہے، اس احساس کے اثرات منفی کیوں دکھائی دے رہے ہیں… مثبت اثرات نظرکیوں نہیں آ تے ۔

مثبت اثرات تو یہ ہیں کہ آپ اللہ اوربندوں کے حقوق کی ادائیگی میں زیادہ سرگرم نظر آتے، نما ز پڑھتے ، قرآن مجید کی تلاوت کرتے، والدہ کی خدمت کرتے، اپنی بیگم کو وقت دیتے، آپ تو ایسی طرز ِ ندگی سے اپنی پشیمانی اور شرمندگی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں ۔ جب آپ کل اپنے ماضی کے بارے میں سوچیں گے آپ مزید پریشان ہو جائیں گے ۔ آپ کو چاہئے جن غلطیوں ،کوتاہیوں اوربیوقوفیوں پہ آپ شرمندہ اور خوف زدہ ہیں انہیں دوبارہ اپنی زندگی میں جگہ نہ دیں ۔

میری مسلسل توجہ اور سوالوں کے جواب دینے سے وہ مطمئن اور پرسکون نظر آئے۔ آج کل وہ جب بھی فرصت پاتے ہیں میرے ساتھ وقت گزرتے ہیں وہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ایک انسان کے کام آیا، اسے تاریکی سے اجالے میں لانے کا وسیلہ بنا۔ وہ قرآن مجید پڑھ اور سمجھ رہے ہیں۔ وہ زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتے ہیں فقط ایک اچھا انسان ہی نہیں بلکہ ایک اچھا مسلمان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’’من احیا ھا فکانما احیاالناس جمیعا ‘‘(سورۃ المائدہ) ترجمہ: جس نے ایک انسان کو زندگی دی گویا اس نے ساری انسانیت کو زندگی دی۔