کبھی تو رنگ میرے ہاتھ کا حنائی ہو - ام ہشام نوریہ

ہماری اجتماعی بےحسی سفاکی اور سنگدلی کی بھینٹ چڑھ چکے بہت سارے معاملات میں سے ایک معاملہ ہماری بچیوں کی شادی کا بھی ہے. بیٹیوں کی ڈھلتی ہوئی عمر, والدین کی روز افزوں فکریں , گھروں پر چھائی ہوئی اداسی ,مایوسی اور نا امیدی کے دائرے ,ایسے دائرے جنھوں نے آج ہر ماں باپ کی نہ صرف سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود کر رکھی ہے بلکہ والدین کے ساتھ بیٹیوں پر بھی موت کا شکنجہ کس رکھا ہے. ‌آس پاس کی حالت ہم سے چھپی ہوئی تو نہیں ، ہم سبھی ان حالات سے بخوبی واقف ہیں روزانہ والدین اور بیٹیوں کی اموات کی بڑھتی ہوئی شرح , بیٹیوں کی گمشدگی ,گھروں سے فرار ایسے سارے واقعات ہم صبح وشام اپنی آنکھوں اور کانوں سے اپنے اندر انڈیلتے ہیں اور سن کر اور پڑھ کر پھر سے بے حس مخلوق بن جاتے ہیں. سمجھ نہیں آتا لوگوں کو ہوا کیا ہے. وہ کونسے معیار ہیں جن پر لڑکی اور اسکے والدین پورے نہ اترنے کی سزا پاتے ہیں ۔ ‌لڑکے والوں کی جانب سے ایک دو معیار ہوں تو انسان ان پر پورا اترنے کی کوشش کرے ، لیکن یہاں تو ان گنت معیارات قائم کرلئے گئے ہیں اپنے روٹی کے توے کے پیندے جیسے بیٹے کے لئے سب سے پہلے تو لڑکے کا معیار ......لڑکی کا فیگر کسی بالی ووڈ ایکٹریس سے کم نہ ہو.....باتیں وہ کسی ائیر ہوسٹس کی طرح کرتی ہو .

اسکے علاوہ گھر کے تمام کاموں میں وہ مہارت رکھتی ہو ، اور کھانے پکانے میں ...کسی مشہور شیف کی اسسٹنٹ ثابت ہو اور اسکے علاوہ وہ گھر بھر کے کپڑے بھی سینا جانتی ہو. بس بس اور زیادہ کچھ نہیں ...خاندانی ہو جو انکے گھر کی عزت کو قائم رکھ سکے . یہ تو صرف لڑکے کی چند خواہشات کا ذکر ہے . ماں باپ نندوں کی خواہشوں کی لسٹ تو ابھی لائن میں ہے . والد کو ایسی بہو چاہئے جسکے باپ کو وہ کیش کرسکے ... آپ نہیں سمجھے ..

ایک منٹ!!!! اپنے لڑکے کی پیدائش سے لیکر اسکی تعلیم مکمل کرنے تک جتنےبھی اخراجات ہوئے ہیں ان سب کا بل لڑکی کے باپ کے اکاؤنٹ میں پھاڑا جائے ....بہت صحیح جارہے ہیں آخر کو آپ لڑ کے کے باپ ہیں اور ہاں ذرا یاد سے . بل میں اپنے بیٹے کو پلائے گئے ڈبے کے دودھ کی ساری قیمتیں بھی ایڈ کرئےگا کیونکہ اس بات کا پکا امکان ہے کہ آپکے بیٹے نے ماں کا دودھ پیا ہی نہیں ہوگا ورنہ ایسی ڈیمانڈ میں اپنے والدین کی بے غیرتی کا ساتھ ہرگز نہیں دیتا . اور ہاں اسکی نیپیزاور ڈائیپرز کی قیمت بھی جہیز کے پیسے میں شامل ضرور کرئےگا . باراتیوں کی تعداد سے لیکر انکی ضیافت میں استعمال ہونے والے چاول کا سائز بھی بتایا جاتا ہے کہ بھئی ہمارے باراتی مہمان نہایت اعلی قسم کا کھانا کھاتے ہیں لہذا باسمتی چاول کی لمبائی کم از کم ایک انچ سے نیچے نہ ہو .

حتی کہ دعوت کا مینو بھی لڑکے کا باپ ہی طے کرتا ہے. یہی نہیں ایسے ناہجاز...لڑکی کے باپ سے ولیمہ تک کا خرچ مانگ لیتے ہیں . ‌آئیےاب ذرا لڑکے کی ماں بہنوں کا معیار انکی بہو کے لئے دیکھتے ہیں ۔ ماں بیٹی مانگے کے زیورات اور کپڑے پہنے گھرگھر میں منہ ڈالے ایسی مہ وش ,پری وش لڑکی کی تلاش میں دندناتے پھرتی ہیں جو یہاں کی مخلوق نہ ہو .خوبصورت خوب سیرت ,امیر اسٹائلش,امور خانہ داری میں سب سے آگے ..صابر و شاکر تو ایسی کہ انکی لاکھ گالیوں کے بدلے لب کو جنبش بھی نہ دے .

اور وہ سب کچھ جہیز میں لائے جو سامان انکے گھر میں نہیں ہے یا انکے گھر میں بھنگار کی شکل اختیار کرچکا ہے .اسکے علاوہ زیادہ کچھ نہیں بس انکی خواتین رشتے دار کو شکایت کا موقعہ نہ دے .تو ظاہر ہے ایسی لڑکی دنیا میں تو نہیں ملیگی اسلئے مائیں بہنیں !!!ذرا مریخ ہوکر آجائیں .* ‌جی ہاں ایسے گھٹیا معیار جس قوم کے لوگوں کے ذہنوں میں پلتے ہوں وہاں لڑکی کی عزت وعصمت کی کیا گارنٹی ہوگی؟ ‌نکاح کے انتخاب میں جہاں لڑکی کی دینداری ,اسکی سمجھ بوجھ کی جگہ خال خال اسکی ظاہری شخصیت اور اسکے رکھ رکھاو کو ہی ترجیح دی جائے تو ذرا سوچئے ......اسکے کتنے بھیانک نتائج ہماری زندگیوںُ پر مرتب ہوں گے ....بلکہ ہورہے ہیں .. آئے دیکھیں کہ ہم اسکے کتنے سنگین نتائج بھگت رہے ہیں .

قوم کی بیٹیاں غیر مسلموں کیساتھ گھر سے بھاگ کر شادیاں کررہی ہیں , ,ماں باپ کا کلیجہ تھر تھرادینے والی انکی خود سوزی,اسکے علاوہ قحبہ خانوں پر یا جسم فروشی کے اڈوں پر بیچی جانے والی لڑکیاں بھی انھیں ساری باتوں کا نتیجہ ہیں . آئیے یاد کریں !!!!ایک دور وہ بھی گذرا ہے جب ایک محلہ میں کوئی بچی بالغ ہوجاتی تو اسکے گھر اور خاندان والوں کیساتھ ساتھ تقریبا سارا گاوں یا محلہ اسکے لئے ایک نیک اور سلجھا ہوا رشتہ تلاشنے کو اپنا اولین فریضہ سمجھتا تھا .

اور ایک آج کا دن ھے کہ ایک ہی خاندان میں کئی کئی لڑکیاں موجود ہے لیکن ...لڑکے اور اسکے گھر والوں کے معیار پر اترنے میں ناکام ہیں ..اس لئے بیچاری خالائیں ,پھوپھیاں چاچیاں اپنے پرس میں ناپ پٹی اور ایک عدد ویڈیو ریکارڈ والا موبائیل رکھ کر سارے شہر کا چکر کاٹ رہی ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر لڑکی کے قد کی پیمائش کرسکیں یا پھر اسکی ویڈیو بناسکیں اور چٹخارے دار لوازمات کھا پی کر ایسے غائب ہوجاتی ہیں گویا گدھے کے سر سے سینگ . اور لڑکی والے بیچارے انکے جواب کے منتظر یہ بات بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ شادی لڑکے کو کرنی ہوتی ہے لیکن لڑکے کے سوا لڑکی کو دیکھنے کے لئے گاڑیاں بھر بھر کر پورا قبیلہ اور خاندان آکر مزے سے دعوتیں اڑاتا ہے . سب سے اخیر میں لڑکے کو بلایا جاتا ہے تاکہ وہ آکر سین کا کلائمکس پورا کردے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا بیٹیاں صرف کسی ایک کے گھر میں ہے یا ہم سبھی کے گھروں میں ہیں ؟ کیا صحیح وقت پر انکی شادی ہم سب کی ذمہ داری نہیں کیا ..... دینی اور مذہبی ادارے یہ کام نہیں کرسکتے ...... معاشرے میں ایسے ادارے قائم کیے گئے ہیں جو لوگوں کو باہم متعارف کروانے کا کام کرتے ہیں لیکن اسکا کوئی خاطر وخواہ فائدہ نظر نہیں آرہا ۔ لوگ اسے تجارتی ادارے کے طور پر چلارہے ہیں ،جہاں خلوص اور اصول کی کوئی جگہ نہیں ضرورت ہے ایسے سنجیدہ ادارےاور تنظیم ہمیں اشد ضرورت ہے جو ایسے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوں اور دینی منھج پر رشتوں کا انتخاب کرتے ہوں ۔

اس کام کے لئے معقول رقم بھی لی جاسکتی ہے تاکہ تسلسل قائم رہے اسمیں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں۔ایک بات اور ذہن میں آتی ہے کہ کیوں ہم جہیز دیتے وقت لڑکی کے والدین اور جہیز لیتے وقت لڑکے کے والدین بن جاتے ہیں .لینے دینے کی متفقہ روش تو ہم نے ملکر قائم کی ہے .تواب دیتے وقت واویلا کیوں اور جب ہماری گھگھی بندھ جاتی ہےتو جہیز لیتے وقت ہماری بانچھیں کیوں کھل جاتی ہیں ایک جیسی کیفیت ہم پر دونوں وقتوں میں کیوں نہیں طاری ہوتی وہ اسلئے کہ ہم منافق ہوچکے ہیں۔ بالخصوص ہماری یوپی کی خواتین دوسروں کی بچیوں کے عیب گنوانے میں انھوں نے پی ایچ ڈی کررکھی ہوتی ہے بھیڑ بکریوں کی طرح لڑکیوں کی جانچ پڑتال کرتی ہیں .

‌لڑکیوں کی جسمانی ساخت کا معائینہ کرتے ہوئے تو ساری حدیں پار کر جاتی ہیں . اللہ ایسی خواتین کو ھدایت دے . جو خود عورت ہوکر کسی دوسرے نسوانی وجود کی ارزانی کرتیں ہیں . کس زخم پر مرہم لگاؤں ,اور کس زخم سے نظر پھیر لوں سمجھ نہیں آتا . آج ملت اسلامیہ کے ہر طبقہ کو بلا امتیاز یہ سمجھنا ہوگا کہ شادی محض صرف دو افراد کا ایک سماجی بندھن ,شخصی ضرورت,طبعی خواہش,اور صرف ایک ذاتی معاملہ نہیں بلکہ یہ دو خاندانوں میں باہمی الفت وملاپ کا ذریعہ ہے خدارا .........

چند لاکھ کے لئے اس پاکیزہ اور با برکت رشتے کو داغدار اور گھناونا مت بنائیے ، یہ بات یاد رہے کہ جو لڑکی اپنے والدین کے آنسو ,اور اپنے اہل خانہ پر قرض کا بوجھ دیکھ کر اپنی دہلیز عبور کر آپکے گھر لائی گئی ہوگی وہ تا عمر کبھی سسرال کو اپنا گھر نہیں سمجھے گی . نہ ہی شوہر اور اسکے والدین کو کبھی اپنا سمجھ کر عزت اور خدمت دیگی .ایسے کتنے معاملات جو صرف دنیاوی لالچ میں طے کئے گئے تھے ہم سب کے سامنے ایسے رشتوں کی بھیانک صورتحال آچکی ہے . ایسے رشتے صرف شادی ہال کی چمک دمک تک ہی قائم رہتے ہیں بعد میں تا عمر دونوں خاندان ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے . اسلئے دوسروں کے حال سے عبرت لیجئے اور بچیوں کو اپنانے میں فراخدلی اور وسعت سے کام لیں .

شادی کو آسان سے آسان تر بنائیں اور زنا کا راستہ روکیں.اسلام کے اس نظام نکاح کو سمجھیں جسمیں کوئی سقم یا نقص نہیں اور اگر اسمیں کوئی نقص پیدا ہوگیا تو اسکے برے اثرات و نتائج سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ اور آج ایک نقص نہیں بے شمار نقصانات اور کمیاں ہم نے بذات خود پیدا کرلی ہیں جبکہ اسلام میں جس قدر مفصل اور عمدہ طریقہ سے عورتوں کے حقوق کی مراعات امت کو بخشی گئی ہے اسکی کوئی نظیر ملنی نا ممکن ہے . تو آئیے بنت حوا کے گمشدہ مقام کو پھر سے وقار و احترام کی دولت سے مالا مال کریں اور انکے وجود کو آسان نکاح کے ذریعے پھر سے تحفظ بخشیں .