سکول سے اسلامی یونی ورسٹی تک - ڈاکٹر محمد مشتاق

مجھے سکول جانے کا شوق کبھی نہیں رہا۔ ابتدا سے ہی سکول جانے کو عذاب سمجھا۔ ہمیشہ نہ جانے کے بہانے ڈھونڈتا تھا۔ جب کبھی بارش کی وجہ سے سکول نہ جا پاتے یا سکول وین کا کوئی مسئلہ ہوجاتا تو اتنی خوشی ہوتی جو بیان سے باہر ہے۔ یہ باوجود اس کے کہ سکول میں ہمیشہ مجھے اچھا طالبعلم سمجھا گیا اور ہمیشہ میں نے کلاس میں پوزیشن لی۔ کلاس کے دوست بھی اچھے لگتے تھے اور اساتذہ اور استانیاں بھی لیکن اس کے باوجود سکول سے چھٹی ہوتی تو زیادہ خوشی ہوتی۔
ابتدائی تعلیم ایک اچھے انگریزی میڈیم سکول میں ہوئی۔ درمیان میں ایک مسیحی سکول میں چند مہینوں کےلیے گیا اور جلد ہی اس سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔ پھر ایک تیسرے سکول جانا پڑا جہاں کسی حد تک دل لگ گیا کیونکہ دوستیاں بن گئیں لیکن پانچویں جماعت کے بعد سرکاری سکول میں داخل کیا گیا تو پھر چند مہینوں تک معاملہ خراب رہا۔ سرکاری سکول ان دنوں بہت اچھے معیار کے ہوتے تھے۔ اساتذہ بہت زیاہ محنت کرتے تھے اور بہت شوق سے پڑھاتے تھے۔ چنانچہ کچھ ہی عرصے میں چند اساتذہ کی وجہ سے سکول جانے کا شوق پیدا ہوا۔ آٹھویں جماعت تک میں کسی حد تک ریگولر ہوگیا تھا، یعنی چھٹیاں کم کر لی تھیں اگرچہ اب بھی کبھی کبھار بہانے بنا کر چھٹیاں کر ہی لیتا تھا۔

آٹھویں جماعت کا امتحان دیا تو میرے ساتھ ایک بڑا سانحہ ہوا۔ ان دنوں آٹھویں جماعت کا امتحان بھی بورڈ لیا کرتا تھا اور اس کے بعد نتائج اور پھر نویں جماعت شروع ہونے کے درمیان میں تقریباً چار مہینوں کا گیپ ہوتا تھا۔ مجھے بڑی شدت سے ان چھٹیوں کا انتظار تھا لیکن جیسے ہی میں آٹھویں جماعت کے امتحانات سے فارغ ہوا تو والد صاحب نے ایئر فورس کے سکول میں نویں جماعت میں داخل کرادیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرا ذہن کیسے باغیانہ خیالات کی آماجگاہ بن گیا تھا۔
اچھا، ایسا بھی نہیں تھا کہ میں پڑھائی کا شوقین نہیں تھا۔ ان دنوں میں مظہر کلیم کی عمران سیریز سے اکتا کر ابن صفی کی عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کا متوالا بن چکا تھا اور خود بھی ایک ناول لکھ چکا تھا اور دوسرے ناول پر کام کررہا تھا۔ چھے پارے حفظ کرچکا تھا۔ معارف القرآن آدھی پڑھ چکا تھا۔ علامہ شبلی کی سیرت النبی کا تفصیلی مطالعہ کرچکا تھا۔ یہودیت اور مسیحیت کے متعلق کتب پڑھ رہا تھا۔ فقہ پر اردو میں کئی کتابیں پڑھ چکا تھا۔ میتھس میرا پسندیدہ ترین سبجیکٹ تھا۔ (ڈرائنگ اور ڈایاگرامز بنانے سے ہمیشہ دور بھاگتا تھا۔) اردو شعر و ادب سے بے حد لگاؤ تھا۔ غالب اور اقبال کا اردو کلام ازبر تھا۔ پشتو شعر اور نثر سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ تھا۔ کلیلہ و دمنہ پشتو میں پوری پڑھ چکا تھا۔ کئی چھوٹے قصے کہانیاں لکھ چکا تھا۔

بعض مقامی اخبارات کےلیے مضامین لکھ کر شائع کراچکا تھا۔ اور بھی بہت کچھ بس اس سب کچھ کے باوجود سکول جانے کو دل نہیں کرتا تھا، اور پھر یہ سلسلہ بھی شروع ہوا کہ میں گھر سے تو نکل پڑتا لیکن سکول جانے کے بجاے کسی پارک میں بیٹھ کر ناول پڑھتا، کوئی سنجیدہ کتاب پڑھتا، کچھ لکھتا، یا ویسے ہی سوچتا رہتا اور پھر سکول کا وقت گزرچکنے کے بعد واپس گھر آتا۔ ایک دن یہ راز کھلنا ہی تھا اور کھل ہی گیا۔ (یہ دلچسپ واقعہ کسی اور وقت لکھوں گا، ان شاء اللہ۔) اس کے بعد والد صاحب کی ناراضی جب ختم ہوئی تو انھوں نے مجھے واپس مردان کے سرکاری سکول میں داخل کرادیا۔ اتنی خوشی ہوئی جو بیان سے باہر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دو سال بعد میٹرک کیا تو پھر اسی ایئر فورس کے کالج میں ایف ایس سی کےلیے داخل کرایا گیا اور پھر مزاحمت کے باوجود مجھے دو سال وہاں گزارنے پڑے۔ یہ دو سال مسلسل میں کالج کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرتا رہا اور اس کے نتائج بھی بھگتتا رہا۔اس دوران میں خود بھی سوچتا رہا کہ یہ ہو کیا رہا ہے اور مجھے کرنا کیا ہے؟ بالآخر اسلامی یونی ورسٹی کو خط لکھا (اس کی تفصیل بھی کسی وقت عرض کروں گا، ان شاء اللہ، کہ اسلامی یونی ورسٹی کا خیال کہاں سے آیا)۔

ایف ایس سی کے رزلٹ سے قبل اسلامی یونی ورسٹی میں داخلہ ہوگیا تھا اور ایئر فورس میں بطور پائلٹ بھرتی کےلیے ابتدائی مراحل بھی پاس کرچکا تھا۔ آئی ایس ایس بی سے قبل رزلٹ آگیا تھا۔ آرمی میڈیکل کالج میں داخلہ ممکن تھا۔ والد صاحب نے بٹھایا اور تینوں آپشنز (اسلامی یونی ورسٹی، ایئر فورس اور میڈیکل کالج) پر میرے ساتھ اور میرے چچا کے ساتھ تفصیلی بحث کی اور بالآخر میرے چچا کی یہ بات انھوں نے مان لی کہ ایل ایل بی شریعہ اینڈ لا ہی بہتر ہے کیونکہ شریعہ اس کے دادا اور نانا کا ورثہ ہے اور لا میرا اور آپ کا (والد صاحب اور چچا دونوں وکیل ہیں)! یوں مجھے میرے خوابوں کی دنیا مل گئی۔اسلامی یونی ورسٹی آیا اور یہیں کا ہوگیا۔
اب اپنے بچوں کے بارے میں بھی میری کوشش یہی ہے کہ سکول کو ان کے اعصاب پر طاری نہ ہونے دوں۔ میرے نزدیک سکول کے بس دو ہی فوائد ہیں: ایک کسی حد تک سوشلائزیشن اور دوسرا کسی حد تک نظم و ضبط ۔ بس اس کے سوا کچھ نہیں ۔ سیکھنا سکھانا ، پڑھنا پڑھانا سکول میں نہیں گھر پر، حجرے میں، مسجد میں، گلی میں، محلے میں، بازار میں ہوتا ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.