کیا روح کی کوئی حقیقت ہے یا بس ہمارا واہمہ ہے؟ ابو محمد مصعب

اوّل روز سے روح، انسان کا موضوع رہا ہے اور اس پر آج بھی ہمارے یہاں گفتگو ہوتی رہتی ہے۔انسان یہ بارہا سوچتا ہے کہ روح دراصل ہے کیا چیز۔ظاہر ہے کہ روح ایسی چیز نہیں کہ جو مادی جسم رکھتی ہو، جسے چھوا جا سکتا ہو یا جس کو ہمارے حواسِ خمسہ محسوس کر سکیں، لیکن ان تمام باتوں کے باوجود انسان یہ ماننے پر مجبور ہے کہ روح ایک حقیقت ہے۔
مدینہ کے یہودیوں نے بھی حضورﷺ سے روح کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کی تھی جس کے جواب میں سورۃ الکہف نازل ہوئی جس میں اللہ نے اسے ’’امرِ ربی‘‘ (یعنی اللہ کا حکم) قرار دیا۔

انسانی روح ایک بار پیدا ہونے کے بعد کبھی فنا نہیں ہوتی بلکہ مختلف ادوار یا مرحلوں میں داخل ہوجاتی ہے۔ قرآن اور نبیﷺ کی تعلیمات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انسانی روح کے چار ادوار ہیں:
اول: جب پہلی بار اللہ نے تمام انسانوں کی ارواح کو پیدا کیا اور ان کو عالمِ ارواح میں جمع کرکے پوچھا: ’’الست بربکم‘‘۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ (اس کو عالمِ ارواح کہتے ہیں)۔
دوئم: جب ہم ماں کے پیٹ میں ہوتے ہیں تو وہی روح ہمارے جسموں میں آ جاتی ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتی ہے جب تک ہم دنیا میں زندہ رہتے ہیں۔
سوئم: موت واقع ہونے پر وہی روح ہمارے جسموں سے نکل کر آسمانوں کی طرف چلی جاتی ہے، جسم زمین ہی پر رہ جاتا ہے۔ (اسے عالمِ برزخ کہتے ہیں)۔
چہارم: وہ روح، جو موت کے وقت ہمارے جسموں سے علیحدہ ہوتی ہے، قیامت قائم ہونے پر ہمیں واپس کردی جائے گی تاکہ ہم ایک بار پھر زندہ ہو کر اپنے رب کے حضور حساب کتاب کے لیے پیش ہوں۔ (اسے آخرت کا زمانہ کہتے ہیں جو کہ ابدی ہے اور جس میں کوئی روح، چاہے نیک ہو یا بد، فنا نہیں ہوگی)۔

مندرجہ بالا تمام باتوں کی صراحت قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ آج، اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کے بجائے سائنس پر اندھا یقین رکھنے والے مسلمان جہاں ذات باری تعالیٰ، فرشتوں، جنت اور جہنم کے منکر بن چکے ہیں وہیں وہ روح کے بھی انکاری ہیں اور اس کی حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں دراں حالیکہ قرآن اور حدیث میں اس کی حقیقت کھول کر بیان کی جا چکی ہے۔
قرآن کہتا ہے:
اللَّهُ يَتَوَفَّى الأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُون (الزمر)
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے غور کرنے والوں کے لئے اس میں یقیناً بہت نشانیاں ہیں۔
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠ (الانعام) کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھارہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھاکر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ”لاوٴ، نِکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتون کی پاداش میں ذِلّت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے“۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ: ’’نکالو اپنی جان‘‘ سے کیا چیز مراد ہے؟ اور مرنے والے سے کیا چیز مانگی جا رہی ہے۔ یہ تو یقینی ہے کہ جسم نہیں مانگا جا رہا، کہ وہ تو لواحقین زمین میں دفن کرتے ہیں۔ پس جس چیز کو یہاں ’’جان‘‘ کہا جا رہا ہے وہ ’’روح‘‘ ہی ہے، جس کی صراحت سورۃ الواقعہ کی درج ذیل آیت سے بھی ہوتی ہے۔
فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ ۔ وَ اَنْتُمْ حِيْنَىِٕذٍ تَنْظُرُوْنَۙ ۔وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ۔ فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِيْنِيْنَۙ تَرْجِعُوْنَهَاۤ۠ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (الواقعہ آیات ۸۳ تا ۸۷)
پس جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے، اُس وقت اُس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟
یہاں بھی وہی سوال، کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے جو بقول باری تعالیٰ مرنے والے کے ’’حلق تک پہنچ جاتی‘‘ ہے؟
حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ۔لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْن (المومنون۹۹۔۱۰۰)
’’یہاں تک کہ جب اِن میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ” اے میرے ربّ، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں، اُمید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا “۔۔۔۔ ہر گز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بَک رہا ہے۔ اب ان سب(مرنے والوں)کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک‘‘
سوال: وہ کیا چیز ہے جو اس آیت میں اللہ سے کلام کر رہی ہے؟ جب کہ جسم تو پیچھے رہ گیا تھا؟

اب روح کے متعلق دو احادیث جن میں کھول کر بتا دیا گیا ہے کہ روح اپنا وجود رکھتی ہے۔ابو ہریرہ ؓ عنہ سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں: پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی، رحمت نازل فرمائے۔ پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت (قیامت) تک کے لیے لے جاؤ۔
آپﷺ نے فرمایا کہ کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اسے آخری وقت (قیامت) تک کے لیے لے جاؤ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگا لی تھی (کافر کی روح کی بدبو ظاہر کرنے کے لیے آپﷺ نے ایسا فرمایا)۔ (مسلم۔ کتاب الجنۃو صفتہ۔ باب:عرض مقعد المیت)
سوال: وہ کیا چیز ہوتی ہے جو فرشتے اوپر لے کر جاتے ہیں اور جس میں اعمال کے لحاظ سے خوشبو یا بدبو ہوتی ہے؟ ظاہر ہے کہ یہاں اسے محض ’’حکمِ ربی‘‘ نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو کوئی ساخت اور وجود رکھتی ہے۔

دوسری حدیث:
کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کی روح ایک اڑنے والے جسم کی صورت (بمثل پرندہ) جنت کے درخت سے وابستہ رہتی ہے یہاں تک اللہ جل شانہ دوبارہ اسے لوٹا دے گا، اس کے بدن کے اٹھائے جانے والےدن۔ (موطا، امام مالک، کتاب الجنائز، باب جامع الجنائز)
سوال: وہ کیا چیز ہے جو اڑنے والی چیز (پرندے وغیرہ) کی مانند جنت کے درختوں سے منسلک رہتی ہے اور جسے قیامت قائم ہونے پر دوبارہ ان کے سابقہ اجسام میں بھیجا جائے گا تاکہ اپنے جسموں کے ساتھ جڑ کر وہ دوبارہ زندہ ہوسکیں اور پھر اللہ کے سامنے حساب کتاب کے لیے جیتے جاگتے انسان کی صورت پیش ہوں؟

اگر روح کی کوئی حقیقت یا وجود نہ ہوتا بلکہ وہ محض ’’حکمِ ربی‘‘ ہوتا جسے آج ہمارے کچھ دانشور انکارِ روح کی دلیل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تو پھر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ موت کا وقت آنے پر اللہ اپنے فرشتے نہ بھیجتا بلکہ وہیں اپنے عرش پر جلوہ افروز رہتے ہوئے بس حکم کر دیتا تو انسان جہاں بھی ہوتا وہیں بجھ کر رہ جاتا لیکن قرآن اور حدیث بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ اللہ اپنے فرشتے بھیجتا ہے تاکہ وہ اس روح کو وصول کرکے اس کی جناب میں پیش کریں جو کسی انسان کے جسم میں داخل کی گئی تھی تاکہ حکمِ ربی کے مطابق اس کے ساتھ آئندہ کا معاملہ کیا جائے۔