امر یکہ کا جنگی آوارہ گردی کے بعد افغانستان سے فرار - ایس احمد پیرزادہ

ایک معروف امریکی تھنک ٹینک ، دانش وراور مصنف جارج فرائنڈ مین نے ایک دہائی لکھی گئی اپنی تصنیف’’اگلے سو سال‘‘میں امریکہ کے حوالے سے ایک اہم بات تحریر کی ہے کہ:’’ امریکہ نے کبھی کوئی جنگ جیتنے کے لئے شروع نہیں کی تھی بلکہ امریکہ جہاں بھی جنگ شروع کرتا ہے، وہ طاقتوں اور ممالک کو اْلجھانے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ ‘‘جارج فرائنڈ مین کے بقول’’ امریکہ عالمی طاقت کی پوزیشن پر قائم رہنے کے لیے دنیا کی اْبھرنے والی طاقتوں کا راستہ روکنے کے لیے اْنہیں مختلف طریقوں سے اْلجھائے رکھتا ہے ، اور اْن کو اس طرح مصروفِ عمل رکھتا ہے کہ وہ دیگر شعبوں کی ترقی کی جانب چاہتے ہوئے بھی توجہ نہیں دے پاتے ہیںاور اس طرح وہ ترقی اور طاقت کی خصولیابی کے شعبے میں امریکہ سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔‘‘

جارج فرائنڈ مین کی بات کا پہلا حصہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہو سکتا ہے ، کیونکہ جنگ لڑ کر جیتنا ہر طاقت کی خواہش ہوتی ہے اور امریکہ کی تاریخ میں اپنی ہی شروع کردہ مختلف جنگوں میں ہزیمت اْٹھانا اور شکست خوردہ ہوکر بھاگ جانا بھی رقم بھی ہوچکا ہے۔ جنگوں کو جیتنے کے لیے امریکہ کی جانب سے ایڑی چوٹی کا زور لگانا بھی کئی جگہوں پر دنیا نے دیکھ لیا ہے،البتہ اپنی مسلط کردہ جنگوں کے بہانے سے یہ ملک دوسری اْبھرنے والی اور بڑی طاقتوں کو اْلجھائے رکھتا ہے ، یہ بات صد فیصد صحیح ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں اور جس ملک میں بھی امریکہ جنگی جنون کے ساتھ وارد ہوا ، آس پاس کے ممالک اور دنیا کی اہم طاقتوںکو نہ صرف وہاں بری طرح پھنسا دیا ہے بلکہ اْنہیں مسائل اور مشکلات میں اس طرح اْلجھائے رکھ چھوڑا ہے کہ یا تو وہ دہائیوں تک اْن مسائل اور مشکلات میں ہی جھوجتے رہے یا پھر بہت بڑا خمیازہ بھگت کر بڑی مشکل سے اور کمزور حالت میںہی دلدل سے اپنی پنڈ چھڑا پائے ہیں۔ امریکی جنگی تاریخ کا ہر پنّااس حقیقت کی بزبان حال تصدیق کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

زیادہ دور جانے کے بجائے اگر ہم نوے کی دہائی سے ہی دیکھیں گے تو خلیجی جنگ میں عراق کی تباہی کا منظر آج بھی لاکھ بھولے بھلایا نہیں جاسکتا۔ کویت کی’’ آزادی‘‘ کے نام سے دو درجن سے زائد ممالک کا متحدہ لشکر جرار لے کر عراق پر چڑھ دوڑنا اور پھر وہاں لاکھوں لوگوں کا قتل عام کرکے بھی تسکین ِ قلب نہ پانا ،تاریخ کے سیاہ ترین ا بواب میں شامل ہے۔پھر اکیسویں صدی کی ابتداء میں امر یکہ نے’’ وسیع پیمانے پر لوگوں کے لئے ہلاکت خیز جنگی ہتھیار‘‘ کی موجودگی کا مفروضہ کھڑاکرکے ایک مرتبہ پھر عراق میں داخل ہوکر عرب کے اس خوشحال ترین ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور کبھی علم و ادب کا مرکز رہنے والا یہ ملک ابھی تک خانہ جنگی اور مسلکی تنازعات کی آگ سے باہر نہیں آرہا ہے۔ امریکہ نے عراق جیسے ملک کو صرف تباہیوں کے دلدل میں ہی نہ اْلجھایا بلکہ اس ملک کو تقسیم کے دہانے تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ دہائیوں تک خطہ میں اسرائیل کو من مانیاں کرنے کے لیے زمین بھی فراہم کی ہوئی ہے۔

دنیا کے اس شاطر و کم بخت سپر پاور نے عرب بہار کے بعد عرب ممالک کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بڑی چالاکی کے ساتھ اس طرح لاکھڑاکردیا ہے کہ کبھی فلسطین کے لیے یک جٹ ہوکر جنگ لڑنے والے عرب ممالک اب ایک دوسرے کے وجودکے دشمن بن بیٹھے ہیں، یہ ممالک کہیں اعلانیہ اور کہیں خفیہ طور اْسی اسرائیل کے ساتھ ساز باز کرکے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے منصوبہ بندیوں میں جٹ چکے ہیںجس اسرائیل کے وجود کو سات دہائیوں سے ناجائز قرار دیا جا تارہا ہے۔ داعش کی ہوا کھڑا کرنے کے بہانے ملک شام کو میدانِ جنگ میں بدل دیا گیا ہے اور اتنے سال سے وہاں بلاناغہ گردنیں کٹ رہی ہیں ، شہر و قصبہ جات بر باد ہورہے ہیں اور لاکھوں لوگ جائے پناہ کی تلاش میں بے خانماں ہو چکے ہیں۔ یوں انکل سام نے قریب قریب دنیا کی ہر بڑی طاقت کو عرب سرزمین پر ایسی خوفناک جنگ میں ملوث کردیا ہے کہ وہاں آئے روز آسمان سے برسائے جارہے قہر سے عرب کی شاداب سرزمین کھنڈرات اور قبرستان میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔جن عرب ممالک کے بھروسے پور اعالم اسلام خوبصورت مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا، وہی عالم عرب اب مسلم ممالک اور قوموں میں ایسا فساد برپا کرچکا ہے کہ ا س سے نکلنے کی ہر راہ مسدود نظر آرہی ہے۔ ابھی حال ہی میں دنیا کے امن کا ٹھیکہ لینے والے عالمی دہشت گرد ملک امر یکہ نے شام سے انخلاء کرنے کا اعلان کرکے خود وہاں سے راہ فرارکا عندیہ دیاہے مگر درجنوں ممالک تباہی کے بھنور میں پھنس چکے ہیں اور اُنہیں امریکہ کے شام سے نکلنے کے بعد بھی نہ جانے کب تک خونی کھیل کھیلنا پڑے گا۔ان ناقابل تردید حقائق سے جارج فرائیڈ مین کی یہ بات درست ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ اپنی تانا شاہی پوزیشن کو قائم رکھنے کے لیے دوسری طاقتوں کو جنگ وجدل میں اْلجھانے کا فن جانتا ہے۔

حال کے ایام میں افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے امن مذاکرات کی آڑ میں امریکہ کاخطہ سے مجوزّہ فوجی انخلا ء کے لیے پر تولنااور اس کے نتیجہ میں بھارتی انتظامیہ اور اداروں میں تشویش پیدا ہوجانا خطے میں زہر یلے امریکی منصوبوں کو ظاہر کرتاہے۔ افغانستان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ کوئی بھی بیرونی فوج یہاں زیادہ دیر تک قابض نہیں رہی ہے اور افغانیوں نے ہر زمانے میں بیرونی طاقتوں کا مقابلہ کرکے اْنہیں بے آبرو ہوکر بھاگ جانے پر مجبور کیا۔ افغانستان کے سنگلاخ چٹانوں میں کبھی عالمی چودھری رہنے والے برطانیہ کا غرور بھی خاک میں ملک چکا تھا اور پھر اس ملک کے کوہ و بیابان روسی افواج کے لیے بھی آدم خور ثابت ہوئے ہیں۔ دو عظیم طاقتوں کا شیرازہ بکھیرنے والے اس ملک کے سخت جاں عوام نے اب ایک اور عالمی طاقت کو دْم دبا کر بھاگ جانے پر مجبور کردیا ہے۔اس سے ایک جانب یہ بات برحق ثابت ہوتی ہے کہ زمینی حقائق اور فلک بوس سچائی کے سامنے بڑی بڑی طاقتیں بھی بالآخر کمزور پڑ جاتی ہیں اور کوئی قوم یا ملک کتنا بھی بڑا پاور کیوں نہ ہو ، کسی انسانی گروہ یا قوم کو زیادہ دیر تک ذہنی اورجسمانی طور پر غلام نہیں رکھ سکتا ہے۔ اس اعتبار سے طاقت کی زبان میں بات کرنے والے احمق ہی کہلائے جاسکتے ہیں۔

دوسری جانب جارج فرائنڈ مین کی بات کو ایک مرتبہ پھر تقویت حاصل ہوجاتی ہے کہ ہر جگہ امریکی پالیسی اورعزائم کے پس پردہ دیگر طاقتوں کو اْلجھانے کا نشانہ پنہاں ہوتا ہے۔ افغانستان سے خود راہ فرار اختیار کرلینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کرنے والا یہ ملک اپنے پیچھے اس ملک میں کئی طاقتوں کو کھینچ کھینچ کر لاچکا ہے اور اْنہیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے لاکھڑا کرکے نہ جانے اگلے کتنی دہائیوں تک وہاں ایک اور خونی کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی کرچکا ہے۔ سی پیک اور وی بیلٹ ون روڑ کے وسیع ترین پروجیکٹ کے خواب کو یقینی بنانے کے لیے چین کی افغانستان میں موجود گی یقینی بن چکی ہے، پاکستان اپنی ملکی سلامتی کے لیے پہلے سے ہی افغانستان کے ساتھ اس طرح جڑا ہوا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی یہ ملک اپنے آپ کو افغانستان سے الگ نہیں کرسکتا ہے، جب کہ بھارت امریکی کندھوں پر سوار ہوکر پاکستان کو’’ سبق‘‘ سکھانے کے لیے افغانستان میں پہلے سے ہی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرچکا ہے۔افغان انٹلیجنس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اْس میں نہ صرف بھارتی ذہنیت سرایت کرچکی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر بھارت کی فراہم کردہ افرادی قوت بھی افغان ایجنسیوں کے ساتھ کام کررہی ہے۔ ایران پہلے سے ہی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے افغانستان میںخفیہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جہاںایرانی مداخلت ہو وہاں سعودی عرب کی موجودگی لازمی اور یقینی بات ہے۔گویا امریکہ پانچ اہم طاقتوں کو افغانستان کی سرزمین میں لاکر خود تو فرار ہوجائے گا لیکن ساتھ ہی اگلی دہائی کے لیے ایجنسی وار کے لئے ایک بہت ہی بڑا اور خطرناک محاذ بھی کھول چکا ہے۔ اس میں باہم دگر دست وگریباں ممالک اور قومیں کس طرح افغانستان پر اثر انداز ہوجائیں گے، اس کا انداز لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

جارج فرائنڈ مین نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ آنے والی صدی میں طاقت کی پہلی پوزیشن پر امریکی موجودگی کو چین اور روس چیلنج دے سکتے ہیں، اس لیے ان ممالک کا راستہ روکنے کے لیے امریکہ نے بہت پہلے سے ہی پیش بندیاں شروع کردی ہیں۔ سوویت یونین کا شیرازہ بکھیر کر روس کے جسم پر ایسا گھاؤلگایا کہ اْس ملک کو سنبھلنے میں دو دہائیاں صرف کرنا پڑیں۔ چین جس نے اپنی ترقی کے لیے افہام و تفہیم کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے، کو اْلجھانے کے لیے بھی جال بچھائے جارہے ہیں۔ چین کو عالمی جنگی سیاست میں ملوث کیا جارہا ہے، افغانستان میں چین کافی دلچسپیاں لے رہا ہے، روس پہلے سے ہی وہاں پراپنی دلچسپی کو ظاہر کرچکا ہے، شام میں روس باضابطہ طور پرجنگ لڑ رہا ہے، اس طرح ان دو اہم ممالک کو مصروف رکھنے کی امریکی پلاننگ خوب کامیاب دکھائی دے رہی ہے۔

امریکہ کی اس پالیسی سے دیگر عالمی طاقتوں اور ممالک کو سبق سیکھ لینے کی ضرورت ہے۔ بھارت جو رواں دہائی کے ابتدا سے ہی امریکی خیمے میںجاکر بیٹھ چکا ہے، جو امریکہ کی مدد سے افغانستان میں بیٹھ کر اپنے دیر ینہ حریف پاکستان کو گھیرنے کی کوشش کررہا ہے ،کو بھی دیر سویر یہ جان لینا ہوگا کہ جو امریکہ کبھی افغانیوں اور پاکستانیوں کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی مغرورانہ دھمکیاں دے رہا تھا، وہی امریکہ آج افغانستان میں قیام ِامن کے نام سے اپنے لئے محفوظ راہداری اور پْر وقار انخلا ء کے لیے نہ صرف پاکستان کے سامنے ہاتھ پھیلارہا ہے بلکہ جن افغانوں کو وہ دہشت گردکہہ کر اْن کے خلاف آسمان سے آگ برسا رہا تھا، آج اْن ہی ’’دہشت گردوں‘‘ کو اپنے برابر میں روبرو بٹھاکر اْن کے ساتھ اْن کی شرائط کے مطابق دوحہ میں’’امن مذاکرات‘‘ کررہا ہے۔

امریکہ کا افغانستان سے انخلاء کا اعلان کیا گیا تو بھارت میں فورسز ایجنسیوں سے وابستہ لوگ کھلے عام اس بات کا اظہار کرنے لگے کہ امریکی انخلاء کے نتیجے میں کشمیر میں عسکریت کے حوصلے بڑ ھ جائیں گے اور زیادہ سے زیادہ لوگ کشمیر میں داخل ہوکر بھارتی فوج کے ساتھ دو دو ہاتھ کریں گے۔ بھارت کے خیرخواہوں کو ایسے خدشات کا اظہار کرنے کے بجائے حقائق کا ادراک ہونا چاہیے، جس طرح امریکہ دو دہائیوں کی ’’جنگی آوارہ گردی‘‘ کے بعد بالآخرمذاکرات کی میز پر آگیا ہے، اْسی طرح بھارت کو بھی کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات کرکے مسئلہ کا کوئی پْرامن حل نکال لینا چاہیے۔ جو طاقت کی بولی فی الوقت دلی کے حکمران بول رہے ہیں، اْس سے حالات سدھرنے کے بجائے بگڑتے ہی جارہے ہیں۔ جس کشمیرکاز کو ڈرا ؤدھمکا کرخاموش کرنے کی گزشتہ تیس برس سے مسلسل کوششیں کی گئیں ، نتیجتاً کشمیری قوم کی نئی نسل موت کے خوف سے آزاد ہوگئی ہے۔ یہ چیز ٹھیک ہے یا ناقدین کے الفاظ میں ناٹھیک ہے ،اس سے قطع نظر اس نوع کی مخصوص نفسیات نوجوانوں کے گرم لہو میں رچ بس چکی ہے۔ گویا مسلسل دھونس اور دباؤ کے نتیجے میںبالآخر سامنے والے کمزور سے کمزور تر انسان میں بھی جرأتِ مقاومت پیدا ہوکر رہتی ہے کہ ایک مرحلے پر وہ پیچھے ہٹ جانے کے بجائے مارو یا مرجاؤ کا علم بلند کر جاتا ہے۔ بہر صورت امریکہ نے بڑے ہی شاطرانہ انداز میں بھارت کو اپنی سرحدی حدود سے نکال کر افغانستان میں پانچ اہم طاقتوں کے درمیان لاکھڑا کردیا ہے، اب انڈیا جتنا وہاں اْلجھتا جائے گا اْتنا ہی اْس کی سرحدیں غیر محفوظ ہوجائیں گی، کیونکہ افغانی عوام کی روایت یہ رہی ہے کہ وہ اپنے دشمن کو بہت دیر تک یاد رکھتے ہیں۔بہتر یہ تھا کہ امریکی جال میں پھنس جانے کے بجائے براہ راست پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرکے برادارانہ تعلقات قائم کیے جاتے، اس طرح خطے میں قیامِ امن بھی یقینی بن جاتا اور دونوں ممالک ترقی کی منزلیں بھی طے کرلیتے، لیکن ایسا نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ کئی لوگوں کے مفادات برصغیر میں جنگ وجدل اور ماراماری سے جڑ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ اسی چیز سے ووٹ بنک سیاست اور اقتدارپر قابض ہونے کے فارمولے وضع کئے جاتے ہیں اور اس ضمن میں ملک کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جا تارہا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان دشمنی اور کشمیر میں سخت ترین پالیسی کو ۲۰۱۹ء؁ کے عام انتخابات میں ایجنڈا بنایا جارہا ہے، نیز تعمیروترقی کے شعبوں میں بری طرح کی ناکامی کو چھپانے کے لیے بی جے پی سرکار بھارتی عوام کا دھیان کشمیر میں اْن کی جانب سے طاقت کی زبان میں بات کرنے اور پاکستان کے تئیں سخت مؤقف اختیار کرنے کی جانب موڑرہی ہے۔ اس لیے عالمی سطح کے بڑے گیم پلان سے فی الوقت بھارت کے نکلنے کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں بلکہ آثار و قرائن سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارت امریکی جال میں مزید پھنستا چلا جائے گا اور جس طرح سودیت یونین کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد امریکیوں نے پاکستان کو سر راہ چھوڑ دیا تھا، اْسی طرح وہ وقت بھی دور نہیں جب افغانستان کے دلدل میں پھنسا کر امریکہ بھارت کے ساتھ اپنی روایتی بیگانگی اختیار کرلے گا۔اس کی ایک مثال سعودی عرب ہے۔ یمن کے خلاف سعودی عرب کو جنگ شروع کرنے کے لیے امر یکہ کی طرف سے اْکسایا گیا تاکہ وہاں ایرانی اثر رسوخ کو کم کرایا جاسکے۔ واشنگٹن کی جانب سے پہلے پہل سعودی عرب کا بھرپور ساتھ دیا گیا، اب امریکی کانگریس میں جلد ہی ایک بل پیش ہونے والا ہے جس میں یمن کی جنگ سے ہاتھ کھینچنے کا اعلان کیا جائے گا۔ گویا سعودی عرب کو آگ میں جھونک دیا گیا اور جنگ آزمائی کے لئے اْکسانے والی طاقت پیچھے سے بھاگ کھڑی ہوئی۔

اس لئے عقل ودانش کاضروری تقاضا یہ ہے کہ دنیا کی تمام طاقتیں بشمول ہندوپاک امریکی شاطرانہ پالیسیوں کو سمجھ جائیں اور امریکی دام فریب میں آنے سے بچ جائیں۔ دنیا کے امن پسند اور تر قی کا خواب دیکھنے والوں کو امریکہ کو چھوڑ کر الگ سے اپنے نئے اتحادی بلاک تشکیل دے کر مقامی و عالمی سطح کے مسائل کو حل کرنے میں یک جٹ ہوکر کام کرنا چاہیے۔ جس طرح افغانستان کے حوالے سے روس، پاکستان اور چین ایک بلاک کی حیثیت سے سامنے آرہے ہیں، اور ایک جاندار رول نبھا کر خطہ میں امریکی اثر ورسوخ کم کرنے میں بھی بڑی حد تک کامیاب دکھائی دے رہے ہیں ،اسی طرح باقی دنیا کے ممالک کو بھی امریکی اثر ورسوخ سے باہر اتحاد تشکیل دینے چاہیے۔ دنیا میں قائم ہونے والے طاقت کے یہ نئے سرچشمے اور اتحاد ہی آنے والے زمانے میں عالمی مسائل میں مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔ امریکہ بحیثیت سپرپاور اپنا مثبت کردار نبھانے میں بالکل ہی ناکام رہاہے، ایک ذمہ دار طاقت کی حیثیت سے کام کرنے کے بجائے اس ملک نے اپنی پوزیشن اور مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے دنیا کے مسائل حل کرنے کے بجائے اْن میں مزید الجھاؤپیدا کر نے کی تاریخ جابجا مر تب کرلی ہے۔ اب حقائق سے سبق سیکھنے اور حقیقی ذمہ داریاں نبھانے کا وقت آگیا ہے۔ اس سلسلے میں بھارت اور پاکستان کو خاص کر اپنی نئی ذمہ داریوں کے نبھانے کا آغاز کشمیر مسئلہ کو مستقل مگر پْرامن مذاکراتی حل نکالنے سے کرنا چاہیے۔ یہی ایک راستہ ہے جو ان دو ہمسایہ ملکوں کی پراپر جائی کی منزل پر منتج ہوگا اور کچھ بھی نہیں۔

Comments

ایس احمد پیرزادہ

ایس احمد پیرزادہ

ایس احمد پیرزادہ کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے، مقامی اخبارات میں کالم لکھنے کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کشمیر کے لیے مقدور بھر کوشش کر رہے ہیں۔ دلیل کےلیے وادی کے حالات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.