تعلیم نسواں کے مسائل اور ان کا حل - تنویر احمداعوان

مشہور مقولہ ہے کہ ”مرد کو تعلیم دینا ایک فرد کو تعلیم دیناہے جب کہ ایک عورت کو تعلیم دینا پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے“۔عورتیںانسانی آبادی کا نصف ہیں جب کہ اسلام نے عورتوں کی تعلیم وتربیت کو بہت اہمیت دی ہے۔ یہی وجہ ہے رسول اللہ ﷺ نے بچیوں کی پرورش اور تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنے والے کے لیے جنت کی بشارت دی ہے ۔جب کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ،”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے“۔ اسی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی شق25.Aحکومت کو پابند کرتی ہے کہ وہ پانچ سے سولہ تک کے بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم کی سہولت دے۔ یعنی ہر پاکستانی بچے اور بچی کا یہ آئینی حق ہے کہ وہ اسکول جائے اور مفت تعلیم حاصل کرے، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیزمیں دوکروڑ پچاس لاکھ بچے سکول جانے سے محروم ہیں اوران میں 49فیصد بچیاں ہیں۔

پاکستان میں تعلیم ِنسواں کے حوالے سے درپیش مسائل کی دو جہتیں ہیں ۔ایک کا تعلق حکو مت اور انتظامی امور سے ہے جب کہ دوسرا پہلو سماجی اور عوامی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پرائمری کے بعد لڑکیوں کی اسکول جانے کی شرح نصف ہوجاتی ہے۔ جس کی بڑی وجہ مڈل اور ہائی سطح پر گرلزاسکولز کی کمی ہے کیونکہ یہ اسکولز پاکستان کے کل اسکولوں کاصرف 9فیصد ہیں۔ اس میںدورائے نہیں کہ”یکساں نصاب و نظام تعلیم کافقدان، سرکاری تعلیمی اداروں کا ناکافی وجوداورنجی تعلیمی اداروں کاالگ الگ نصاب، نظام اورترجیحات ،طلبہ وطالبات کاغیرمقیداورمخلوط ماحول، اداروں کے ذمہ داران کی اخلاقی تعلیم کی طرف عدم ِتوجہ اور تجارتی بنیادوں پرتعلیمی اداروں کاقیا م ہمارے تعلیمی نظام کے بنیادی سقم ہیں، جوتعلیم سب کے لیے میں اورباالخصوص طالبات کے حصولِ تعلیم میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں“۔

بلاشبہ تعلیم سے مقصود پاکیزگی، احترام، حسن معاشرت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی آبیاری اور نئی نسل تک اس کی منتقلی ہے مگر بدقسمتی سے موجودہ حالات کے تناظرمیں ہمارے تعلیمی اداروں کااندرونی اوربیرونی ماحول اس کے حصول میں بڑی رکاوٹ بناہوا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین، دوقومی نظریہ اورمشرقی اقدار کا تقاضایہ ہے کہ یہاں بنت ِحوا کو تعلیم کے آسان اور محفوظ مواقع میسر ہوں ۔طالبات کے لیے مڈل و ہائی اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کا ان کی تعداد کے تناسب سے قیام کیا جائے، نصاب اور نظام تعلیم میںاسلامی تعلیمات اورنظریہ پاکستان کی روشنی میں اصلاحات کی جائیں تاکہ تعلیم ِنسواں اور اس کے فوائد کا حصول ممکن ہوسکے۔

تعلیم ِنسواں کے حصول میں رکاوٹ کا سماجی پہلو یہ ہے کہ ہماری آبادی کا تقریبا 60فیصد حصہ دیہاتوں میں آباد ہے۔ تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے والدین کی اکثریت بچیوں کوا سکول نہیں بھیج پاتی یاصرف پرائمری یا میٹرک تک تعلیم دلواتی ہے۔ وہ اپنی بچیوں کو کالجز اور یونیورسٹیز کے مخلوط اور مادرپدرآزاد ماحول اور اس کے مضر اثرات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے گھر کے گوشہ عافیت میں امور خانہ داری اور دیگر گھریلوفنون سیکھانے پر اکتفا کرتے ہیں ۔معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے دینی اوربے راہ روی ،فحاشی اور اخلاقی گراوٹ نے بھی باصلاحیت بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم کیا ہوا ہے۔

ضرورت اس امرکی ہے بچیوں کی تعلیم کی اہمیت اورضرورت سے آگاہی اور شعورکو اجاگر کرنے کے لیے حکومت اور مقتدرطبقات اپنا کردار اداکریں، بچیوں کو گھر سے تعلیمی ادارے تک اور تعلیمی ادارے سے گھر تک پاکیزہ اورمحفوظ ماحول کی فراہمی میں حکومت اپنے فرائض پورے کرے جب کہ تعلیمی ادارے میں نظام و نصاب تعلیم کو اسلامی و مشرقی روایات سے ہم آہنگ کرکے طالبات کی اخلاقی اور دینی تعلیم وتربیت مہیا کی جائے تاکہ ایک بچی علم وہنر کے زیور سے آراستہ ہو نے کے ساتھ ساتھ اسلامی ومشرقی روایات اور اقدار کی امین بھی ہو ،اور والدین اپنی کلیوں کو تعلیمی اداروں میں بھیج کر عدم تحفظ کا شکار ہونے کے بجائے ان کی عفت، عصمت، اخلاق وکردار اور مستقبل کے حوالے سے مطمئن ہوں ۔