خلع اور فسخِ نکاح، شریعت کے احکام کیا ہیں؟ مفتی منیب الرحمن

آج کل بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماضی کے مقابلے میں طلاق کی شرح ویسے بھی زیادہ ہوچکی ہے، اسی تناسب سے ’’عدالتی فسخِ نکاح‘‘ کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، جسے عرف عام میں ’’خلع‘‘ کہا جاتا ہے، حالانکہ یہ شرعی ’’خُلع‘‘ نہیں ہے۔ شرعی خلع یہ ہے: ’’اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ یہ زوجین اللہ کی حدودکو قائم نہ رکھ سکیں گے، تو عورت نے جو بدلِ خلع دیا ہے (شوہر کے اسے لینے میں) تم دونوں پرکوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ:229)‘‘۔ اس ارشاد باری تعالیٰ کی رو سے ’’خلع‘‘ یہ ہے کہ زوجین جب اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ وہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی قائم نہیں رکھ سکیں گے اور شوہر بلا عوض طلاق دینے پر آمادہ نہیں ہے، تو پھر بیوی نے نکاح کے موقع پر جو ’’حقِ مہر‘‘ لیا ہے، وہ شوہر کو واپس کر دے اور شوہر اُس کے عوض اُسے طلاق دے دے۔ یہ ’’طلاق بائن‘‘ ہوتی ہے، اس کے بعد شوہر کو عدت کے اندر بھی یک طرفہ رجوع کا حق نہیں رہتا، البتہ دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، بشرطیکہ ایک ہی طلاق دی ہو۔

’’خلع‘‘ قاضی کے یکطرفہ حکم سے نافذ نہیں ہوتا، اس پر زوجین کی رضامندی ضروری ہے اور قاضی کو چاہیے کہ ترغیب یا ترہیب سے شوہر کو آمادہ کرے۔ فیملی کورٹس کے جج صاحبان عام طور پر شرعی حدود کی رعایت نہیں کرتے، بس صرف قانونی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ضابطۂ قانون کو اور آسان بنا دیا گیا ہے۔ اس لیے آئے دن لوگ عدالت سے ’’فسخ ِنکاح‘‘ کی ڈگری لے کر دارالافتاء میں آتے ہیں کہ یہ شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟، کسی بھی مفتی کے لیے ہر فیصلے کی توثیق دشوار ہوتی ہے، بلکہ ’’عدالتی ڈگری‘‘ کے باوجود اسے معاشرہ بھی آنکھیں بند کر کے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اور معاشرتی اخلاقی اقدار اور معاشرتی مزاحمت کی بھی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے۔ بیشتر فیصلے’’ قضا علی الغائب‘‘ ہوتے ہیں۔ ہمارے جج صاحبان بھی ماشاء اللہ مسلمان ہیں اور انہیں یہ معلوم ہے کہ مجرَّد دعویٰ ثبوتِ جرم کے لیے کافی نہیں ہوتا، بلکہ ہر مقدے میں مُدَّعی سے اس کے دعوے کے حق میں ثبوت مانگا جاتا ہے، ’’مُدّعیٰ علیہ‘‘ کو اپنی صفائی اور وضاحت کا موقع دیا جاتا ہے کہ یا تو وہ بیوی کی طرف سے عائد کیے ہوئے الزامات کو تسلیم کرے ورنہ اپنی برات پیش کرے۔

آج کل بالعموم یہ ہوتا ہے کہ ’’مُدّعیٰ علیہ‘‘ نہ تو اصالتاً اور نہ وکالتاًً عدالت میں حاضر ہوتا ہے، اس کو عدالت کی جانب سے رسمی طور پر سمن جاری ہو جاتا ہے، بیلف چلاجاتا ہے، اس کے دروازے پر نوٹس چسپاں کر آتا ہے یا کسی غیر معروف اخبار میں اشتہار دے دیا جاتا ہے۔ عام لوگ شاید ہی اطلاعِ عام کے اِن روزہ مرّہ اشتہارات کو پڑھتے ہوں، یہاں تو حال یہ ہے کہ بڑے قومی اخبارات کے صفحۂ اول یا آخر کے اشتہارات پر بھی کوئی توجہ نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ کسی کا اس سے مفاد وابستہ ہو۔ جج کے منصب کو قوت سربراہِ مملکت کی طرف سے حاصل ہوتی ہے، پس جج پر لازم ہے کہ وہ پولیس کو اس امر کا پابند بنائے کہ وہ ’’مُدّعیٰ علیہ‘‘ کو عدالت میں پیش کرے، کیونکہ یہ محض دادرسی اور حق طلبی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ حلال وحرام کا بھی مسئلہ ہے۔ چنانچہ جب ہم معلوم کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اکثر صورتوں میں ’’مُدّعیٰ علیہ‘‘ ملک میں موجود ہوتا ہے اور اس کا صحیح پتا بھی فریق ِمخالف کو معلوم ہوتا ہے۔ یہ استثنا صرف ان مقدمات میں معتبر ہو سکتا ہے، جہاں ’’مُدّعیٰ علیہ‘‘یا تو بالکل لاپتا ہو یا ملک سے باہر ہو، تاہم وہاں بھی ممکنہ طور پر پاکستانی سفارت خانے کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

جج کو اس بات کا پابند ہونا چاہیے کہ وہ ان وجوہ کو باقاعدہ قلمبندکرے، جن کی رو سے اس کے اطمینان اور پیش کردہ ثبوت وشواہد کے مطابق عورت کے لیے عملاً ممکن نہیں رہا کہ وہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے رشتۂ ازدواج کو قائم رکھ سکے یا اس کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، ان میں سے بعض وجوہ کا تذکرہ ہم آگے چل کر کریں گے۔ الغرض ’’فسخِ نکاح‘‘ اور خُلع کے معاملات کو الگ کردینا چاہیے۔ ’’فسخِ نکاح‘‘ کے مقدّمے میں صرف اتنی بات کافی نہیں کہ عورت کہے: ’’میں شوہر کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی، جبکہ شرعی معیار پر اس کی قابلِ قبول وجوہ موجود نہ ہوں‘‘۔ اگر خدانخواستہ قانون میں سقم ہے تو جج صاحبان کو پھر بھی شریعت کی رعایت اور حلال وحرام کی نزاکت اور حسّاسیّت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ بعض حضرات درجِ ذیل حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ قاضی کو معقول وجوہ کے بغیر بھی ’’فسخِ نکاح‘‘ کا اختیار حاصل ہے: ’’حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں: ثابت بن قیس بن شَمّاس کی بیوی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: یارسول اللہ! ثابت کے دین اور اخلاق کے بارے میں مجھے کوئی شکایت نہیں ہے، مگر یہ کہ میں اسلام میں رہتے ہوئے کفر (ناشکری اور شوہر کی نافرمانی) سے ڈرتی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم وہ باغ (جو ثابت نے نکاح کے وقت مہر میں دیاتھا) اسے واپس کر دوگی، اس نے عرض کی: جی ہاں! چنانچہ اس نے (مہر میں لیا ہوا) وہ (باغ) شوہر کو واپس کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے (ثابت سے) فرمایا: باغ قبول کر لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔ ( بخاری : 5273)‘‘۔ بخاری میں اس سے اگلی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے (ثابت کو) طلاق کا حکم فرمایا اور ثابت نے طلاق دے دی، اس سے آگے ایک اور روایت میں ہے: نبی کریم ﷺ نے ثابت کو حکم فرمایا تو انہوں نے بیوی سے (بذریعہ طلاق) علیحدگی اختیار کر لی۔

یہ حدیث ’’فسخِ نکاح‘‘ سے متعلق نہیں ہے، یعنی یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بحیثیت ِحاکم و قاضی نکاح فسخ فرمایا بلکہ آپ نے بیوی کو مہر واپس کرنے اور شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ فرمایا اور یہی خلع ہے۔ شریعت کا تقاضا ہے کہ جج صاحبان فسخِ نکاح کو آخری اور ناگزیر امکانی صورت کے طور پر اختیار کریں۔ جج کی پہلی ترجیح زوجین میں مصالحت، دوسری شوہر کو رضا کارانہ طلاق پر آمادہ کرنا اور تیسری دونوں کو خلع پر آمادہ کرنا ہونی چاہیے، کیونکہ اگرچہ شریعت نے انتہائی ناگزیر صورتِ حال میں زوجین میں طلاق یا تفریق کی گنجائش رکھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام حلال امور میں یہ سب سے زیادہ اس کے غضب کا باعث ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو قاضی یا حاکم سے زیادہ تصرف کا حق حاصل ہے۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:’’ نبی کو مؤمنوں پر اس سے زیادہ تصرف کاحق حاصل ہے، جتنا خود ان کو اپنی ذات پر ہے۔ (الاحزاب: 6)‘‘۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ بہرحال نافذ ہے اورآپ ﷺ وجوہ کو بتانے کے پابند بھی نہیں ہیں، جبکہ عام جج اور حاکم کی ولایت شرعی حدود کی پابند ہے۔ فقہِ حنفی میں ’’عدالتی فسخِ نکاح‘‘ کے بارے میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور احتیاط میں یہ شدّت اس لیے اختیار کی گئی ہے کہ یہ حلال و حرام کا مسئلہ ہے، تاہم ائِمّۂ ثلاثہ کے نزدیک بعض قیود کے ساتھ اس کی گنجائش موجود ہے اور فقہِ حنفی میں بھی یہ اصول مُسَلّم ہے کہ شدید ضرورت کی بنا پر فسخِ نکاح کے لیے دوسرے ائِمّہ کے قول پر فیصلہ دیا جاسکتا ہے۔

ان میں سے چند صورتیں یہ ہیں: شوہر بےانتہا مارپیٹ کرتا ہے، جسمانی و ذہنی اذِیّت میں مبتلا رکھتا ہے، نہ حقوق ادا کرتا ہے نہ طلاق دے کر گلوخلاصی کرتا ہے، بس اسے معَّلق رکھنا چاہتا ہے یاشوہر نان نفقہ نہیں دیتا اور بیوی کے پاس کفالت کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں ہے، عجز کی بنا پر بیوی کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، یا شوہر کسی مُوذِی مرض میں مبتلا ہے، جیسے برص و جذام یا کینسر وغیرہ اور نکاح کے وقت بیوی کو معلوم نہیں تھا، اسے دھوکے میں رکھا گیا تھا، بعد میں اس پر یہ حقیقت ظاہر ہوئی، اگر وہ اس کے باوجود رشتۂ ازدواج کو قائم رکھنا چاہے تو یہ اس کے لیے سعادت کی بات ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں اجر پائے گی، لیکن اگر وہ کسی طور پر بھی آمادہ نہ ہو تو جج نکاح فسخ کر سکتا ہے، یاشوہر کو خدانخوستہ طویل قید (جیسے پندرہ سال یا عمر قید) ہوگئی ہے اور بیوی جواں عمر ہے، اس کے لیے اپنے فطری جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے حدودِ شرع میں رہنا ممکن نہیں ہے، اور گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، یا کوئی اس کا کفیل نہیں ہے، یا شوہر بلاسبب طویل عرصے تک حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرتا، یا شوہر مجنون ہوگیا، مناسب وقت گزرنے پر بھی علاج سے صحت یاب نہ ہوسکا، اس کے جنون سے بیوی کے جسم و جاں کو خطرہ لاحق ہے یا وہ اب حقوقِ زوجیت کی ادائیگی اور بیوی کی کفالت کا اہل ہی نہیں رہا وغیرہ۔ لیکن ان تمام صورتوں میں جج صاحب کو وجوہ ریکارڈ پر لانی ہوں گی اور یہ کہ عدالت میں مدعیہ کے یہ الزامات درست ثابت ہوں۔ بعض امور میں ماہرین کی رائے درکار ہوتی ہے۔ فسخ نکاح اور خلع میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ خلع میں عورت مہر کی معافی یا کسی اور شے کے عوض میں مرد سے طلاق لیتی ہے، جبکہ فسخِ نکاح میں اگر قاضی مذکورہ وجوہات میں سے کسی سبب نکاح ختم کرتا ہے تو اس میں مہر کی معافی نہیں ہوتی، مرد پر مہر کی ادائیگی لازم ہی رہے گی۔

آخر میں میری دردمندانہ گذارش ہے کہ اگر کوئی عورت خدانخواستہ خوفِ خدا سے عاری ہے، اس پر نفسانی خواہشات یا ہوسِ زر کا غلبہ ہے یا عشرتوں کی دلدادہ ہے، اور کسی بھی قابلِ قبول سبب کے بغیر شوہر کے ساتھ بہرصورت رہنے کے لیے تیار نہیں ہے، تو ایسی صورتِ حال میں شوہر کو چاہیے کہ وہ رضاکارانہ طور پر خُلع پر آمادہ ہوجائے یا یک طرفہ طور پر طلاق دے دے، اس پر وہ عنداللہ اجر کا حق دار ہوگا اور عورت فتنہ اور گناہ میں مبتلا ہونے سے بچ جائے گی، اور اگر شوہر رضاکارانہ طور پر اس پر آمادہ نہ ہو تو عدالت مناسب دباؤ ڈال کر اس سے طلاق دلوائے۔ اپنی رائے کو عینِ اسلام اور غالب اکثریت کے فقہی مؤقف کو مسلکی عصبیت قرار دینا قرینِ انصاف نہیں ہے، اِمرأۃ ناشزہ (نافرمان عورت) اور زوجِ متعنِّت (اذیت رساں مرد) دونوں معاشرے کے ناسور ہیں۔ شہری زندگی میں برادریوں کی گرفت اور معاشرتی دباؤ بھی بے اثر ہوچکا ہے، بعض اوقات مظلوم عورت کے احوال سن کر دکھ ہوتا ہے، اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو مذہبی حدود کے اندر رہتے ہوئے جامع قانونی مسودہ مرتب کرنا چاہیے۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.