سوہانجنا بہترین ٹانک - چوہدری دلاور حسین

موسم سرما قدرت کی طرف سے انسان و جانور دونوں کے لیے بہترین تحفہ ہے۔یوں تو سال میں چار موسم اپنی افادیت کے ساتھ سفر طے کرتے رہتے ہیں۔ موسم گرما کی تیز تپتپاتی لو جہاں پسینے سے جینا دوبھر کردیتی ہے وہاں لیموں پانی و کچی لسی شدید گرمی کا توڑ تصور کی جاتی ہے۔ اس شدید گرمی میں جب ٹھنڈے ٹھنڈے میٹھے میٹھے آم کھانے کو ملتے ہیں وہاں منہ کا ذائقہ آم کی مٹھاس سے اس قدر لطف حاصل کرتا ہے کہ یکدم گرمی کی شدت بھول کر آموں کی تعریفیں شروع ہو جاتی ہیں۔

گرمی، لْو اور پسینہ جہاں صحت پر غلبہ پاتے ہیں وہاں کوئی بھی غذا وہ لطف مہیا نہیں کرتی جو سرما کی سبزیاں دیتی ہیں۔یوں تو دور جدید کی بے پناہ ترقی نے فاسٹ فوڈ کا غلبہ ہر ذی روح پر طاری کر رکھا ہے ۔بروسٹ ، پیزا ، پیٹیزاور یخ کولڈ ڈرنکس نے انسانی صحت و معدہ کے نظام کو بے ترتیب کر دیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اچھی صحت و خوبصورت جسم قدرت کا بہت بڑا تحفہ ہے ۔لیکن جسم کی درست سمت میں نگہداشت اور زودہضم غذاؤں کا استعمال صحت کیلئے کسی انمول ٹانک سے کم نہیں ہے۔ سرما میں بزرگ خواتین نہ صرف بچوں ، بڑوں کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھتی ہیں بلکہ دْختران کی تربیت و معاونت میں نہایت سختی کا مظاہرہ کرتی ہیں بلکہ یہاں تک کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں کہ اچھا کھانا پکانا سیکھ جاؤ گی تو سسرال میں ہماری ناک نہیں کٹے گی۔ اگر سسرال میں راج کرنا ہے تو پھر میرے ساتھ مل کر اچھے اچھے کھانے پکانا سیکھ لو۔

موسم سرما کی تعطیلات میں بچیوں کے ساتھ رم جھم کرتی دھوپ میں بیٹھ کر آلو، گاجر، بھی‘ کا اچار تیار کرنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔بزرگوں کی محنت کا یہ نچوڑ سارا سال مرد حضرات کے منہ کا ذائقہ دوبالا کئے رکھتا ہے خواہ وہ گھر میں کھانے کی میز ہو یا سفر میں دوستوں کے ساتھ ۔عموماً موسم سرما کی ٹھنڈ دسمبر و جنوری میں اپنا اثر دکھاتی ہے ۔اس شدت کی سردی میں "سوہانجنا " جسے بچوں و بڑوں کیلئے صحت کا ٹانک تصورکیا جاتا ہے اپنے اندر کمال کی افادیت محفوظ رکھتا ہے ۔راقم یہ رقم کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے کہ مائیں گھروں کا نور اور اولاد کیلئے باعث راحت۔ یہ وہ جنت ہے جو قارئین کے پاس اعلیٰ پایہ کے طور پر موجود ہے۔ ان کے نرم و نازک ہاتھوں سے تیار کیا گیا "سوہانجنا" پکنے کے بعد اپنی دلکش مہک کے ساتھ دسترخوان پر وہ لطف و مزادیتا ہے جس کی تعریف یہاں رقم کرنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

سوہانجنا کو انگریزی میںMoringa Oliefera کہا جاتا ہے جبکہ مقامی زبان میں اس کا نام سوہانجنا ہی مشہور ہے۔یہ ارض پاک کے صوبہ سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقہ جات میں پایا جاتا ہے ۔ موسم سرما میں اسے سرائیکی گھروں کا موسمی میوہ گردانا جاتا ہے ۔یہ اپنے اندر بے پناہ طبی خواص محفوظ کئے ہے۔اس کی پھلیوں کا اچار صحت کیلئے ایک خزانہ ہے ۔اس کی کونپلیں و پھول سبزی کے طور پر پکائی جاتی ہیں ۔جو بیماریوں کے خلاف زبردست قوت مدافعت کا کردار ادا کرتی ہیں۔گذشتہ ادوار میں خواتین اگرچہ زیادہ پڑھی لکھی نہ تھیں لیکن اْن کے ہاتھوں سے تیار کردہ سالن اپنی مثال آپ تھا۔گذشتہ جمعتہ المبارک کو والدہ ماجدہ اور ہمشیرگان کی کی اْلفت شیرینی و انتھک محنت کی بدولت دسترخوان پر سوہانجنا کی ڈش نے تمام افراد کے دل جیت لئے۔کاش یہ لمحات صدا قائم رہیں۔اللہ کریم سے لب دْعا ہوں کہ وہ ہر گھر میں ایسے ہی رونقیں دوبالا رکھے۔

ماضی میں سوہانجنے کے پتوں کو کْنڈی ڈنڈے میں پیس کر مصالہ جات کی آمیزش سے چٹنی تیار کی جاتی تھی جو ہاضمے کیلئے تیر بہدف کی حیثیت رکھتی تھی۔ اگر موسم کے مطابق اس کا استعمال کیا جائے تو اس سے چہرے کی جھریاں اور بڑھاپا کوسوں دور رہتا ہے ۔یہ پروٹین کا مرکب اور ذہانت کا زیور ہے ۔طبیب اس کے بیجوں کو کشید کرکے تیل حاصل کرتے ہیں جو صحت کیلئے ایک نایاب چیز ہے گھروں میں عموماً زیتون کے تیل کو اہمیت دی جاتی ہے اور اگر اس کے تیل کا استعمال کیا جائے تو یہ کسی بھی طرح سے کم نہیں ہے۔سوہانجنا "بلڈپریشر، یرقان، کینسر، ایڈز کے جراثیم کے خاتمے کیلئے اپنے اندر وہ افادیت رکھتا ہے ۔جس کا ادویات بھی مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ماضی میں مرد و خواتین اس کے بیجوں کو جوڑوں اور کمر درد کیلئے استعمال کیا کرتے تھے چنانچہ اس کی مدافعتی حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے ۔قارئین کرام !مرغن غذاؤں کا کم سے کم استعمال اور اچھی صحت کیلئے موسمی سبزیاں ہی دراصل انسانی صحت کو چاک وچوبند رکھنے اور چہرے کی تازگی کیلئے نہایت اہم ہیں۔